• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٢٩﴾
پوچھتے ہیں کہ وہ وعدہ ہے کب؟ سچے ہو تو بتا دو۔ (١)
٢٩۔١ یہ بطور استہزا کے پوچھتے ہیں، کیوں کہ اس کا وقوع ان کے نزدیک مستبعد اور ناممکن تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُ‌ونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ ﴿٣٠﴾
جواب دیجئے کہ وعدے کا دن ٹھیک معین ہے جس سے ایک ساعت نہ تم پیچھے ہٹ سکتے ہو نہ آگے بڑھ سکتے ہو۔ (١)
٣٠۔١ یعنی اللہ نے قیامت کا ایک دن مقرر کر رکھا ہے جس کا علم صرف اسی کو ہے، تاہم جب وہ وقت موعود آ جائے گا تو ایک ساعت بھی آگے، پیچھے نہیں ہو گا۔ ﴿إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاءَ لا يُؤَخَّرُ﴾ (نوح: ۴)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَن نُّؤْمِنَ بِهَـٰذَا الْقُرْ‌آنِ وَلَا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ وَلَوْ تَرَ‌ىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَ‌بِّهِمْ يَرْ‌جِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُ‌وا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ ﴿٣١﴾
اور کافروں نے کہا ہم ہرگز نہ تو اس قرآن کو مانیں نہ اس سے پہلے کی کتابوں کو! (١) اے دیکھنے والے کاش کہ تو ان ظالموں کو اس وقت دیکھتا جبکہ یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے ایک دوسرے کو الزام لگا رہے ہوں گے (٢) کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (٣) اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومنوں میں سے ہوتے۔ (٤)
٣١۔١ جیسے تورات، زبور اور انجیل وغیرہ، بعض نے ﴿بَيْنَ يَدَيْهِ﴾ سے مراد دار آخرت لیا ہے۔ اس میں کافروں کے عناد و طغیان کا بیان ہے کہ وہ تمام تر دلائل کے باوجود قرآن کریم اور دار آخرت پر ایمان لانے سے گریزاں ہیں۔
٣١۔٢ یعنی دنیا میں یہ کفر و شرک میں ایک دوسرے کے ساتھی اور اس ناطے سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے تھے، لیکن آخرت میں یہ ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے کو مور دالزام بنائیں گے۔
٣١۔٣ یعنی دنیا میں یہ لوگ، جو سوچے سمجھے بغیر، روش عام پر چلنے والے ہوتے ہیں، اپنے ان لیڈروں سے کہیں گے جن کے وہ دنیا میں پیروکار بنے رہے تھے۔
٣١۔٤ یعنی تم ہی نے ہمیں پیغمبروں اور داعیان حق کے پیچھے چلنے سے روکے رکھا تھا، اگر تم اس طرح نہ کرتے تو ہم یقیناً ایمان والے ہوتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُ‌وا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم ۖ بَلْ كُنتُم مُّجْرِ‌مِينَ ﴿٣٢﴾
یہ بڑے لوگ ان کمزورں کو جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس ہدایت آچکنے کے بعد ہم نے تمہیں اس سے روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم (خود) ہی مجرم تھے۔ (١)
٣٢۔١ یعنی ہمارے پاس کون سی طاقت تھی کہ ہم تمہیں ہدایت کے راستے سے روکتے، تم نے خود ہی اس پر غور نہیں کیا اور اپنی خواہشات کی وجہ سے ہی اسے قبول کرنے سے گریزاں رہے، اور آج مجرم ہمیں بنا رہے ہو؟ حالانکہ سب کچھ تم نے خود ہی اپنی مرضی سے کیا، اس لیے مجرم بھی تم خود ہی ہو نہ کہ ہم۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُ‌وا بَلْ مَكْرُ‌ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ‌ إِذْ تَأْمُرُ‌ونَنَا أَن نَّكْفُرَ‌ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا ۚ وَأَسَرُّ‌وا النَّدَامَةَ لَمَّا رَ‌أَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٣٣﴾
(اس کے جواب میں) یہ کمزور لوگ ان متکبروں سے کہیں گے، (نہیں نہیں) بلکہ دن رات مکر و فریب سے ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے شریک مقرر کرنے کا تمہارا حکم دینا ہماری بے ایمانی کا باعث ہوا، (۱) اور عذاب کو دیکھتے ہی سب کے سب دل میں پشیمان ہو رہے ہوں گے، (۲) اور کافروں کی گردنوں میں ہم طوق ڈال دیں گے (۳) انہیں صرف ان کے کیے کرائے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ (٤)
۳۳۔۱ یعنی ہم مجرم تو تب ہوتے، جب ہم اپنی مرضی سے پیغمبروں کی تکذیب کرتے، جب کہ واقعہ یہ ہے کہ تم رات دن ہمیں گمراہ کرنے پر اور اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کا شریک ٹھہرانے پر آمادہ کرتے رہے، جس سے بالآخر ہم تمہارے پیچھے لگ کر ایمان سے محروم رہے۔
۳۳۔۲ یعنی ایک دوسرے پر الزام تراشی تو کریں گے لیکن دل میں دونوں ہی فریق اپنے اپنے کفر پر شرمندہ ہوں گے۔ لیکن شماتت اعدا کی وجہ سے ظاہر کرنے سے گریز کریں گے۔
٣٣۔۳ یعنی ایک دوسرے پر الزام تراشی تو کریں گے لیکن دل میں دونوں ہی فریق اپنے اپنے کفر پر شرمندہ ہوں گے۔ لیکن شماتت اعدا کی وجہ سے ظاہر کرنے سے گریز کریں گے۔
۳۳۔٤ یعنی دونوں کو ان کے عملوں کی سزا ملے گی، لیڈروں کو ان کے مطابق، اور ان کے پیچھے چلنے والوں کو ان کے مطابق، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لا تَعْلَمُونَ﴾ (الأعراف: ۳۸) یعنی ”ہر ایک کو دگنا عذاب ہو گا“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَرْ‌سَلْنَا فِي قَرْ‌يَةٍ مِّن نَّذِيرٍ‌ إِلَّا قَالَ مُتْرَ‌فُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْ‌سِلْتُم بِهِ كَافِرُ‌ونَ ﴿٣٤﴾
اور ہم نے جس بستی میں جو بھی آگاہ کرنے والا بھیجا وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کیا کہ جس چیز کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو، ہم اس کے ساتھ کفر کرنے (١) والے ہیں۔
۳٤۔۱ یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ مکے کے روساء اور چودھری آپ ﷺ پر ایمان نہیں لا رہے ہیں اور آپ ﷺ کو ایذائیں پہنچا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر دور کے اکثر خوشحال لوگوں نے پیغمبروں کی تکذیب ہی کی ہے اور ہر پیغمبر پر ایمان لانے والے پہلے پہل معاشرے کے غریب اور نادار قسم کے لوگ ہی ہوتے تھے۔ جیسے حضرت نوح عليہ السلام کی قوم نے اپنے پیغمبر سے کہا ﴿أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الأَرْذَلُونَ﴾ (الشعراء: ۱۱۱) ”کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں جب کہ تیرے پیروکار کمینے لوگ ہیں“۔ ﴿وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ﴾ (هود: ۲۷) دوسرے پیغمبروں کو بھی ان کی قوم نے یہی کہا، ملاحظہ ہو، سورۃ الاعراف: ۷۵، الانعام: ۱۳۳،۵۳۔ سورۂ بنی اسرائیل: ۱۶ وغیرھا۔ مُتْرَفُونَ کے معنی ہیں، اصحاب ثروت و ریاست۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ‌ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ ﴿٣٥﴾
اور کہا ہم مال و اولاد میں بہت بڑھے ہوئے ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم عذاب دیئے جائیں۔ (١)
٣٥۔١ یعنی جب اللہ نے ہمیں دنیا میں مال و اولاد کی کثرت سے نوازا ہے، تو قیامت بھی اگر برپا ہوئی تو ہمیں عذاب نہیں ہو گا۔ گویا انہوں نے دار آخرت کو بھی دنیا پر قیاس کیا کہ جس طرح دنیا میں کافر و مومن سب کو اللہ کی نعمتیں مل رہی ہیں، آخرت میں بھی اسی طرح ہو گا، حالانکہ آخرت تو دار الجزاء ہے، وہاں تو دنیا میں کیے گئے عملوں کی جزا ملنی ہے، اچھے عملوں کی جزا اچھی اور برے عملوں کی بری۔ جب کہ دنیا دارالامتحان ہے، یہاں اللہ تعالیٰ بطور آزمائش سب کو دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے، یا انہوں نے دنیاوی مال و اسباب کی فراوانی کو رضائے الٰہی کا مظہر سمجھا، حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنے فرماں بردار بندوں کو سب سے زیادہ مال و اولاد سے نوازتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ إِنَّ رَ‌بِّي يَبْسُطُ الرِّ‌زْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ‌ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٣٦﴾
کہہ دیجئے! کہ میرا رب جس کے لیے چاہے روزی کشادہ کر کر دیتا ہے اور تنگ بھی کر دیتا ہے، (٢) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
٣٦۔١ اس میں کفار کے مذکورہ مغالطے اور شبہے کا ازالہ کیا جا رہا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ کی رضا یا عدم رضا کی مظہر نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اللہ کی حکمت و مشیت سے ہے۔ اس لیے وہ مال اس کو بھی دیتا ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے اور اس کو بھی جس کو ناپسند کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے غنی کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے فقیر رکھتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُم بِالَّتِي تُقَرِّ‌بُكُمْ عِندَنَا زُلْفَىٰ إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُ‌فَاتِ آمِنُونَ ﴿٣٧﴾
اور تمہارے مال اور اولاد ایسے نہیں کہ تمہیں ہمارے پاس (مرتبوں سے) قریب کر دیں (١) ہاں جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں (٢) ان کے لیے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے (٣) اور وہ نڈر و بے خوف ہو کر بالا خانوں میں رہیں گے۔
٣٧۔١ یعنی یہ مال اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہمیں تم سے محبت ہے اور ہماری بارگاہ میں تمہیں خاص مقام حاصل ہے۔
٣٧۔٢ یعنی ہماری محبت اور قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تو صرف ایمان اور عمل صالح ہے جس طرح حدیث میں فرمایا ”اللہ تعالیٰ تمہاری شکلیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا، وہ تو تمہارے دلوں اورعملوں کو دیکھتا ہے“۔ (صحيح مسلم، كتاب البر، باب تحريم ظلم النفس)
٣٧۔٣ بلکہ کئی کئی گنا، ایک نیکی کا اجر کم از کم دس گنا مزید سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ يَسْعَوْنَ فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَـٰئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُ‌ونَ ﴿٣٨﴾
اور جو لوگ ہماری آیتوں کے مقابلے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں یہی ہیں جو عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے۔

قُلْ إِنَّ رَ‌بِّي يَبْسُطُ الرِّ‌زْقَ لِمَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ‌ لَهُ ۚ وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ‌ الرَّ‌ازِقِينَ ﴿٣٩﴾
کہہ دیجئے! کہ میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے روزی کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کر دیتا (١) ہے، تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا (۲) اور سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ (۳)
٣٩۔١ پس وہ کبھی کافر کو بھی خوب مال دیتا ہے، لیکن کس لیے؟ استدراج کے طور پر، اور کبھی مومن کو تنگ دست رکھتا ہے، کس لیے؟ اس کے اجر و ثواب میں اضافے کے لئے۔ اس لیے مجرد مال کی فراوانی اس کی رضا کی اور اس کی کمی، اس کی ناراضی کی دلیل نہیں ہے۔ یہ تکرار بطور تاکید کے ہے۔
۳۹۔۲ إِخْلافٌ کے معنی ہیں، عوض اور بدلہ دینا۔ یہ بدلہ دنیا میں بھی ممکن ہے اور آخرت میں تو یقینی ہے۔ حدیث قدسی میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ (صحيح بخاری سورة هود) ”تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“ (یعنی بدلہ دوں گا) دو فرشتے ہر روز اعلان کرتے ہیں، ایک کہتا ہے [اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا] اے اللہ! نہ خرچ کرنے والے کے مال کو ضائع کر دے“ دوسرا کہتا ہے [اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا] ”اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما۔ (البخاری، كتاب الزكاة، باب، ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى﴾]
۳۹۔۳ کیونکہ ایک بندہ اگر کسی کو کچھ دیتا ہے تو اس کا یہ دینا اللہ تعالیٰ کی توفیق و تیسیر اور اس کی تقدیر سے ہی ہے۔ حقیقت میں دینے والا اس کا رازق نہیں ہے، جس طرح بچوں کا باپ، بچوں کا، یا بادشاہ اپنے لشکر کا کفیل کہلاتا ہے حالانکہ امیر اور مامور بچے اور بڑے سب کا رازق حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب کا خالق بھی ہے۔ اس لیے جو شخص اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے کسی کو کچھ دیتا ہے تو وہ ایسے مال میں تصرف کرتا ہے جو اللہ ہی نے اسے دیا ہے، پس درحقیقت رازق بھی اللہ ہی ہوا۔ تاہم یہ اس کا مزید فضل و کرم ہے کہ اس کے دیئے ہوئے مال میں اس کی مرضی کے مطابق تصرف (خرچ کرنے) پر وہ اجر و ثواب بھی عطا فرماتا ہے۔
 
Top