• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَوْمَ يَحْشُرُ‌هُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَـٰؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ ﴿٤٠﴾
اور ان سب کو اللہ اس دن جمع کرکے فرشتوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے۔ (١)
٤٠۔١ یہ مشرکین کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا، جیسے حضرت عیسیٰ عليہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بھی پوچھے گا ” کیا تونے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں (مریم) کو، اللہ کے سوا، معبود بنا لینا؟“ (المائدۃ: ۱۱۶) حضرت عیسیٰ عليہ السلام فرمائیں گے ”یا اللہ تو پاک ہے، جس کا مجھے حق نہیں تھا، وہ بات میں کیوں کر کہہ سکتا تھا؟“ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں سے بھی پوچھے گا، جیسا کہ سورۃ الفرقان (آیت ۱۷) میں بھی گزرا کہ کیا یہ تمہارے کہنے پر تمہاری عبادت کرتے تھے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِم ۖ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ ۖ أَكْثَرُ‌هُم بِهِم مُّؤْمِنُونَ ﴿٤١﴾
وہ کہیں گے تیری ذات پاک ہے اور ہمارا ولی تو تو ہے نہ کہ یہ (١) بلکہ یہ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے، (۲) ان میں کے اکثر کا انہی پر ایمان تھا۔
٤١۔١ یعنی فرشتے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کی طرح اللہ تعالی کی پاکیزگی بیان کر کے اظہار براءت کریں گے اور کہیں گے کہ ہم تو تیرے بندے ہیں اور تو ہمارا ولی ہے ہمارا ان سے کیا تعلق۔
٤١۔۲ جن سے مراد شیاطین ہیں، یعنی یہ اصل میں شیطانوں کے پجاری ہیں کیونکہ وہی ان کو بتوں کی عبادت پر لگاتے اور انہیں گمراہ کرتے تھے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ﴿إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلا إِنَاثًا وَإِنْ يَدْعُونَ إِلا شَيْطَانًا مَرِيدًا﴾ (النساء: ۱۱۷)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَلَا ضَرًّ‌ا وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ‌ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ ﴿٤٢﴾
پس آج تم میں سے کوئی (بھی) کسی کے لیے (بھی کسی قسم کے) نفع نقصان کا مالک نہ ہو گا (۱) اور ہم ظالموں (۲) سے کہہ دے گے کہ اس آگ کا عذاب چکھو جو جسے تم جھٹلاتے رہے۔
٤۲۔۱ یعنی دنیا میں تم یہ سمجھ کر ان کی عبادت کرتے تھے کہ یہ تمہیں فائدہ پہنچائیں گے، تمہاری سفارش کریں گے اور اللہ کے عذاب سے تمہیں نجات دلوائیں گے۔ جیسے آج بھی پیر پرستوں اور قبر پرستوں کا حال ہے لیکن، آج دیکھ لو کہ یہ لوگ کسی بات پر قادر نہیں۔
٤٢۔۲ ظالموں سے مراد، غیر اللہ کے پجاری ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے اور مشرکین سب سے بڑے ظالم۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَـٰذَا إِلَّا رَ‌جُلٌ يُرِ‌يدُ أَن يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ وَقَالُوا مَا هَـٰذَا إِلَّا إِفْكٌ مُّفْتَرً‌ى ۚ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ‌ مُّبِينٌ ﴿٤٣﴾
اور جب ان کے سامنے ہماری صاف صاف آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایسا شخص ہے (١) جو تمہیں تمہارے باپ دادا کے معبودوں سے روک دینا چاہتا ہے (اس کے سوا کوئی بات نہیں)، اور کہتے ہیں کہ یہ تو گھڑا ہوا جھوٹ ہے (٢) اور حق ان کے پاس آچکا ہے پھر بھی کافر یہی کہتے رہے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ (٣)
٤٣۔١ شخص سے مراد، حضرت نبی کریم ﷺ ہیں۔ باپ دادا کا دین، ان کے نزدیک صحیح تھا، اس لئے انہوں نے آپ ﷺ کا (جرم) یہ بیان کیا کہ یہ تمہیں ان معبودوں سے روکنا چاہتا ہے جن کی تمہارے آبا عبادت کرتے رہے۔
٤٣۔٢ اس دوسرے هذَا سے مراد قرآن کریم ہے، اسے انہوں نے تراشا ہوا بہتان یا گھڑا ہوا جھوٹ قرار دیا۔
٣٤۔٣ قرآن کو پہلے گھڑا ہوا جھوٹ کہا اور یہاں کھلا جادو۔ پہلے کا تعلق قرآن کے مفہوم و مطالب سے ہے اور دوسرے کا تعلق قرآن کے معجزانہ نظم و اسلوب اور اعجاز و بلاغت سے۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا آتَيْنَاهُم مِّن كُتُبٍ يَدْرُ‌سُونَهَا ۖ وَمَا أَرْ‌سَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلَكَ مِن نَّذِيرٍ‌ ﴿٤٤﴾
اور ان (مکہ والوں) کو نہ تو ہم نے کتابیں دے رکھی ہیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں نہ ان کے پاس آپ سے پہلے کوئی آگاہ کرنے والا آیا۔ (١)
٤٤۔۱ اس لیے وہ آرزو کرتے تھے کہ ان کے پاس بھی کوئی پیغمبر آئے اور کوئی صحیفہ آسمانی نازل ہو۔ لیکن جب یہ چیزیں آئیں تو انکار کر دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَمَا بَلَغُوا مِعْشَارَ‌ مَا آتَيْنَاهُمْ فَكَذَّبُوا رُ‌سُلِي ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ‌ ﴿٤٥﴾
اور ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی ہماری باتوں کو جھٹلایا تھا اور انہیں ہم نے جو دے رکھا تھا یہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے، پس انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا، (پھر دیکھ کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا۔ (۱)
٤٥۔١ یہ کفار مکہ کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم نے تکذیب و انکار کا جو راستہ اختیار کیا ہے۔ وہ نہایت خطرناک ہے۔ تم سے پچھلی امتیں بھی، اس راستے پر چل کر تباہ و برباد ہو چکی ہیں۔ حالانکہ یہ امتیں مال و دولت، قوت و طاقت اور عمروں کے لحاظ سے تم سے بڑھ کر تھیں، تم تو ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچتے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں۔ اسی مضمون کو سورۂ احقاف کی آیت ۲۶ میں بیان فرمایا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ ۖ أَن تَقُومُوا لِلَّـهِ مَثْنَىٰ وَفُرَ‌ادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُ‌وا ۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ‌ لَّكُم بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ ﴿٤٦﴾
کہہ دیجئے! کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر سوچو تو سہی، تمہارے اس رفیق کو کوئی جنون تو نہیں، (١) وہ تو تمہیں ایک بڑے (سخت) عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے۔ (٢)
٤٦۔١ یعنی میں تمہیں تمہارے موجودہ طرزعمل سے ڈراتا ہوں اور ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم ضد، اور انانیت چھوڑ کر صرف اللہ کے لیے ایک ایک دو دو ہو کر میری بابت سوچو کہ میری زندگی تمہارے اندر گزری ہے اوراب بھی جو دعوت میں دے رہا ہوں کیا اس میں کوئی ایسی بات ہے کہ جس سے اس بات کی نشاندہی ہو کہ میرے اندر دیوانگی ہے؟ تم اگر عصبیت اور خواہش نفس سے بالا ہو کر سوچو گے تو یقیناً تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے رفیق کے اندر کوئی دیوانگی نہیں ہے۔
٤٦۔٢ یعنی وہ تو صرف تمہاری ہدایت کے لیے آیا ہے تاکہ تم اس عذاب شدید سے بچ جاؤ جو ہدایت کا راستہ نہ اپنانے کی وجہ سے تمہیں بھگتنا پڑے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک دن صفا پہاڑی پرچڑھ گئے اور فرمایا (یا صباحاہ) جسے سن کر قریش جمع ہو گئے، آپ ﷺ نے فرمایا ”بتلاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن صبح یا شام کو تم پر حملہ آور ہونے والا ہے، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟“ انہوں نے کہا (کیوں نہیں) آپ ﷺ نے فرمایا ”تو پھر سن لو کہ میں تمہیں سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں“ یہ سن کر ابو لہب نے کہا (تَبًّا لَكَ! أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا) (تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا اس لیے تو نے ہمیں جمع کیا تھا؟) جس پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ﴾ نازل فرمائی۔ (صحيح بخاری، تفسير سورة سبأ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ‌ فَهُوَ لَكُمْ ۖ إِنْ أَجْرِ‌يَ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ﴿٤٧﴾
کہہ دیجئے! کہ جو بدلہ تم سے مانگوں وہ تمہارے لیے ہے (١) میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے۔ وہ ہر چیز سے باخبر (اور مطلع) ہے۔
٤٧۔١ اس میں اپنی بے غرضی اور دنیا کے مال و متاع سے بے رغبتی کا مزید اظہار فرما دیا تاکہ ان کے دلوں میں اگر یہ شک و شبہ پیدا ہو کہ اس دعوائے نبوت سے اس کا مقصد کہیں دنیا کمانا تو نہیں، تو وہ دور ہو جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ إِنَّ رَ‌بِّي يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ﴿٤٨﴾
کہہ دیجئے! کہ میرا رب حق (سچی وحی) نازل فرماتا ہے وہ ہر غیب کا جاننے والا ہے۔ (۱)
٤۸۔۱ قَذَفَ کے معنی، تیر اندازی اور خشت باری کے بھی ہیں اور کلام کرنے کے بھی۔ یہاں اس کے دوسرے معنی ہی ہیں یعنی وہ حق کے ساتھ گفتگو فرماتا، اپنے رسولوں پر وحی نازل فرماتا اور ان کے ذریعے سے لوگوں کے لیے حق واضح فرماتا ہے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ﴿يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ﴾ (المؤمن: ۱۵) یعنی ”اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، فرشتے کے ذریعے سے اپنی وحی سے نوازتا ہے“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ ﴿٤٩﴾
کہہ دیجئے! کہ حق آچکا باطل نہ تو پہلے کچھ کر سکا ہے اور نہ کرسکے گا۔ (١)
٤٩۔١ حق سے مراد قرآن اور باطل سے مراد کفر و شرک ہے۔ مطلب ہے اللہ کی طرف سے اللہ کا دین اور اس کا قرآن آگیا ہے، جس سے باطل مضمحل اور ختم ہو گیا ہے، اب وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا، جس طرح فرمایا ﴿بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾ (سورة الأنبياء: ۱۸) حدیث میں آتا ہے کہ جس دن مکہ فتح ہوا، نبی ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، چاروں طرف بت نصب تھے، آپ ﷺ کمان کی نوک سے ان بتوں کو مارتے جاتے اور یہ آیت اور سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ﴾ پڑھتے جاتے۔ (صحيح بخاری، كتاب الجهاد، باب إزالة الأصنام من حول الكعبة)۔
 
Top