• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ ﴿١٦﴾
اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کر دے اور ایک نئی مخلوق پیدا کر دے۔ (١)
١٦۔١ یہ بھی اس کی شان بے نیازی ہی کی ایک مثال ہے کہ اگر وہ چاہے تو تمہیں فنا کے گھاٹ اتار کے تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کر دے، جو اس کی اطاعت گزار ہو، اس کی نافرمان نہیں یا یہ مطلب ہے کہ ایک نئی مخلوق اور نیا عالم پیدا کر دے جس سے تم نا آشنا ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ ﴿١٧﴾
اور یہ بات اللہ کو کچھ مشکل نہیں۔

وَلَا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ةٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ ۚ وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْ‌بَىٰ ۗ إِنَّمَا تُنذِرُ‌ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَ‌بَّهُم بِالْغَيْبِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ ۚ وَمَن تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفْسِهِ ۚ وَإِلَى اللَّـهِ الْمَصِيرُ‌ ﴿١٨﴾
کوئی بھی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، (١) اگر کوئی گراں بار دوسرے کو اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے بلائے گا تو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھائے گا گو قرابت دار ہی ہو۔ (۲) تو صرف انہی کو آگاہ کر سکتا ہے جو غائبانہ طور پر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں (۳) اور جو بھی پاک ہو جائے وہ اپنے نفع کے لیے پاک ہو گا۔ (٤) لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے۔
١٨۔١ ہاں جس نے دوسروں کو گمراہ کیا ہو گا، وہ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ان کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائے گا، جیسا کہ آیت ﴿وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالا مَعَ أَثْقَالِهِمْ﴾ (العنكبوت: ۱۳) اور حدیث [مَنْ سَنَّ سُنّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ] (صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب الحث على الصدقة) سے واضح ہے لیکن یہ دوسروں کا بوجھ بھی درحقیقت ان کا اپنا ہی بوجھ ہے کہ ان ہی نے ان دوسروں کو گمراہ کیا تھا۔
١٨۔٢ مُثْقَلَةٌ أَيْ نَفْسٌ مُثْقَلَةٌ، ایسا شخص جو گناہوں کے بوجھ سے لدا ہو گا، وہ اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے اپنے رشتے دار کو بھی بلائے گا تو وہ آمادہ نہیں ہو گا۔
۱۸۔۳ یعنی تیرے انذار و تبلیغ کا فائدہ ان ہی لوگوں کو ہو سکتا ہے، گویا تو ان ہی کو ڈراتا ہے، ان کو نہیں جن کو انذار سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا، ﴿إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَخْشَاهَا﴾ (النازعات: ۴۵) اور ﴿إِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ﴾ (يٰس: ۱۱)
۱۸۔٤ تَطَهُّرٌ اور تَزَكِّي کے معنی ہیں شرک اور فواحش کی آلودگیوں سے پاک ہونا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ‌ ﴿١٩﴾
اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں۔

وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ‌ ﴿٢٠﴾
اور نہ تاریکی اور نہ روشنی۔ (١)
٢٠۔١ اندھے سے مراد کافر اور آنکھوں والا سے مومن، اندھیروں سے باطل اور روشنی سے حق مراد ہے، باطل کے بے شمار انواع ہیں، اس لیے اس کے لیے جمع کا اور حق چونکہ متعدد نہیں، ایک ہے، اس لیے اس کے لیے واحد کا صیغہ استعمال کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُ‌ورُ‌ ﴿٢١﴾
اور نہ چھاؤں اور نہ دھوپ۔ (١)
٢١۔١ یہ ثواب و عقاب یا جنت و دوزخ کی تمثیل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ ۖ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ‌ ﴿٢٢﴾
اور زندے اور مردے برابر نہیں ہو سکتے، (١) اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے، (٢) اور آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔ (۳)
٢٢۔١ أَحْيَاءٌ سے مومن اور أَمْوَاتٌ سے کافر یا علما اور جاہل یا عقل مند اور غیر عقل مند مراد ہیں۔
٢٢۔٢ یعنی جسے اللہ ہدایت سے نوازنے والا ہوتا ہے اور جنت اس کے لیے مقدر ہوتی ہے، اسے حجت و دلیل سننے اور پھر اسے قبول کرنے کی توفیق دے دیتا ہے۔
۲۲۔۳ یعنی جس طرح قبروں میں مردہ اشخاص کو کوئی بات نہیں سنائی جا سکتی، اسی طرح جن کے دلوں کو کفر نے موت سے ہمکنار کر دیا ہے، اے پیغمبر ﷺ تو انہیں حق کی بات نہیں سنا سکتا۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح مرنے اور قبرمیں دفن ہونے کے بعد مردہ کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اسی طرح کافر و مشرک جن کی قسمت میں بدبختی لکھی ہے، دعوت و تبلیغ سے انہیں فائدہ نہیں ہوتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنْ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ‌ ﴿٢٣﴾
آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔
٢٣۔١ یعنی آپ ﷺ کا کام صرف دعوت و تبلیغ ہے۔ ہدایت اور ضلالت یہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا أَرْ‌سَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرً‌ا وَنَذِيرً‌ا ۚ وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ‌ ﴿٢٤﴾
ہم نے ہی آپ کو حق دے کر خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈر سنانے والا نہ گزرا ہو۔

وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ جَاءَتْهُمْ رُ‌سُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالزُّبُرِ‌ وَبِالْكِتَابِ الْمُنِيرِ‌ ﴿٢٥﴾
اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا دیں تو جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بھی جھٹلایا تھا ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر معجزے اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آئے تھے۔ (١)
٢٥۔١ تاکہ کوئی قوم یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو ایمان و کفر کا پتہ ہی نہیں، اس لیے کہ ہمارے پاس کوئی پیغمبر ہی نہیں آیا۔ بنا بریں اللہ نے ہر امت میں نبی بھیجا، جس طرح دوسرے مقام پر بھی فرمایا ﴿وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ﴾ (الرعد: ۷) ﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا﴾ الآیۃ (النحل: ۲۶)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ‌ ﴿٢٦﴾
پھر میں نے ان کافروں کو پکڑ لیا سو میرا عذاب کیسا ہوا۔ (١)
٢٦۔١ یعنی کیسے سخت عذاب کے ساتھ میں نے ان کی گرفت کی اور انہیں تباہ و برباد کر دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ تَرَ‌ أَنَّ اللَّـهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَ‌جْنَا بِهِ ثَمَرَ‌اتٍ مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا ۚ وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ‌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَ‌ابِيبُ سُودٌ ﴿٢٧﴾
کیا آپ نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگتوں کے پھل نکالے (۱) اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ۔ (۲)
٢٧۔١ یعنی جس طرح مومن اور کافر، صالح اور فاسد دونوں قسم کے لوگ ہیں، اسی طرح دیگر مخلوقات میں بھی تفاوت اور اختلاف ہے۔ مثلاً پھلوں کے رنگ بھی مختلف ہیں اور ذائقے، لذت اور خوشبو میں بھی ایک دوسرے سے مختلف۔ حتیٰ کہ ایک ایک پھل کے بھی کئی کئی رنگ اور ذائقے ہیں جیسے کھجور ہے، انگور ہے، سیب ہے اور دیگر بعض پھل ہیں۔
٢٧۔٢ اسی طرح پہاڑ اور اس کے حصے یا راستے اور خطوط مختلف رنگوں کے ہیں، سفید، سرخ اور بہت گہرے سیاہ، جُدَدٌ جُدَّةٌ کی جمع ہے، راستہ یا لکیر۔ غَرَابِيبُ، غِرْبِيبٌ کی جمع اور سُودٌ، أَسْوَدُ (سیاہ) کی جمع ہے۔ جب سیاہ رنگ کے گہرے پن کو ظاہر کرنا ہو تو اسود کے ساتھ غربیب کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسود غربیب، جس کے معنی ہوتے ہیں، بہت گہرا سیاہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَٰلِكَ ۗ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ‌ ﴿٢٨﴾
اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض ایسے ہیں ان کی رنگتیں مختلف ہیں، (١) اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں (۲) واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بڑا بخشنے والا ہے۔ (۳)
٢٨۔١ یعنی انسان اور جانور بھی سفید، سرخ، سیاہ اور زرد رنگ کے ہوتے ہیں۔
۲۸۔۲ یعنی اللہ کی ان قدرتوں اور اس کے کمال صناعی کو وہی جان اور سمجھ سکتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں، اس علم سے مراد کتاب و سنت اور اسرار الہیٰہ کا علم ہے اور جتنی انہیں رب کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اتنا ہی وہ رب سے ڈرتے ہیں، گویا جن کے اندر خشیت الٰہی نہیں ہے، سمجھ لو کہ علم صحیح سے بھی محروم ہیں۔ سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ علما کی تین قسمیں ہیں۔ عالم باللہ اور عالم بامراللہ، یہ وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا اور اس کے حدود و فرائض کو جانتا ہے۔ دوسرا صرف عالم باللہ، جو اللہ سے تو ڈرتا ہے لیکن اس کے حدود و فرائض سے بے علم ہے۔ تیسرا، صرف عالم بامراللہ، جو حدود و فرائض سے باخبر ہے لیکن خشیت الٰہی سے عاری ہے (ابن کثیر)۔
٢٨۔۳ یہ رب سے ڈرنے کی علت ہے کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ نافرمان کو سزا دے اور توبہ کرنے والے کے گناہ معاف فرما دے۔
 
Top