• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّـهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَ‌زَقْنَاهُمْ سِرًّ‌ا وَعَلَانِيَةً يَرْ‌جُونَ تِجَارَ‌ةً لَّن تَبُورَ‌ ﴿٢٩﴾
جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں (١) اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں (٢) اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں (٣) وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارہ میں نہ ہو گی۔ (٤)
٢٩۔١ کتاب اللہ سے مراد قرآن کریم ہے (تلاوت کرتے ہیں) یعنی پابندی سے اس کا اہتمام کرتے ہیں۔
٢٩۔٢ اقامت صلوٰۃ کا مطلب ہوتا ہے، نماز کی اس طرح ادائیگی جو مطلوب ہے، یعنی وقت کی پابندی، اعتدال ارکان اور خشوع و خضوع کے اہتمام کے ساتھ پڑھنا۔
٢٩۔٣ یعنی رات دن، علانیہ اور پوشیدہ دونوں طریقوں سے حسب ضرورت خرچ کرتے ہیں، بعض کے نزدیک پوشیدہ سے نفلی صدقہ اور علانیہ سے صدقۂ واجبہ (زکوٰۃ) مراد ہے۔
٩٢۔٤ یعنی ایسے لوگوں کا اجر اللہ کے ہاں یقینی ہے، جس میں مندے اور کمی کا امکان نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَ‌هُمْ وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ غَفُورٌ‌ شَكُورٌ‌ ﴿٣٠﴾
تاکہ ان کو ان کی اجرتیں پوری دے اور ان کو اپنے فضل سے زیادہ دے (١) بیشک وہ بڑا بخشنے والا قدر دان ہے۔ (٢)
٣٠۔١ لِيُوَفِّيَهُمْ، متعلق ہے۔ لَنْ تَبُورَ کے، یعنی یہ تجارت مندے سے اس لیے محفوظ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال صالحہ پر پورا اجر عطا فرمائے گا۔ یا پھر فعل محذوف کے متعلق ہے کہ وہ یہ نیک اعمال اس لیے کرتے ہیں یا اللہ نے انہیں ان کی طرف ہدایت کی تاکہ وہ انہیں اجر دے۔
٣٠۔٢ یہ تَوْفِيَة اور زیادت کی علت ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کے گناہ معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ خلوص دل سے وہ توبہ کریں، ان کے جذبۂ اطاعت و عمل صالح کا قدردان ہے، اس لیے وہ صرف اجر نہیں دے گا بلکہ اپنے فضل و کرم سے مزید بھی دے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ‌ بَصِيرٌ‌ ﴿٣١﴾
اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے طور پر بھیجی ہے یہ بالکل ٹھیک (١) ہے جو کہ اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (٢) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا خوب دیکھنے والا ہے۔ (٣)
٣١۔١ یعنی جس پر تیرے لیے اور تیری امت کے لیے عمل کرنا ضروری ہے۔
٣١۔٢ تورات اور انجیل وغیرہ کی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم اس اللہ کا نازل کردہ ہے جس نے پچھلی کتابیں نازل کی تھیں، جب ہی تو دونوں ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔
٣١۔٣ یہ اس کے علم و خبر ہی کا نتیجہ ہے کہ اس نے نئی کتاب نازل فرما دی، کیونکہ وہ جانتا ہے، پچھلی کتابیں تحریف و تغیر کا شکار ہو گئی ہیں اور اب وہ ہدایت کے قابل نہیں رہی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ أَوْرَ‌ثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَ‌اتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ‌ ﴿٣٢﴾
پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب (١) کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں (۲) اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں (۳) اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کیے چلے جاتے ہیں۔ (٤) یہ بڑا فضل ہے۔ (۵)
٣٢۔١ کتاب سے مراد قرآن اور چنے ہوئے بندوں سے مراد امت محمدیہ ہے۔ یعنی اس قرآن کا وارث ہم نے امت محمدیہ کو بنایا ہے جسے ہم نے دوسری امتوں کے مقابلے میں چن لیا اور اسے شرف و فضل سے نوازا۔ یہ تقریباً وہی مفہوم ہے جو آیت ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ﴾ (البقرة: ۱۴۳) کا ہے۔
۳۲۔۲ امت محمدیہ کی تین قسمیں بیان فرمائیں۔ یہ پہلی قسم ہے، جس سے مراد ایسے لوگ ہیں جو بعض فرائض میں کوتاہی اور بعض محرمات کا ارتکاب کر لیتے ہیں یا بعض کے نزدیک وہ ہیں جو صغائر کا ارتکاب کرتے ہیں۔ انہیں اپنے نفس پر ظلم کرنے والا اس لیے کہا کہ وہ اپنی کچھ کوتاہیوں کی وجہ سے اپنے کو اس اعلیٰ درجے سے محروم کر لیں گے جو باقی دو قسموں کو حاصل ہوں گے۔
٣٢۔۳ یہ دوسری قسم ہے، یعنی ملے جلے عمل کرتے ہیں یا بعض کے نزدیک وہ ہیں جو فرائض کے پابند، محرمات کے تارک تو ہیں لیکن کبھی مستحبات کا ترک اور بعض محرمات کا ارتکاب بھی ان سے ہو جاتا ہے یا وہ ہیں جو نیک تو ہیں لیکن پیش پیش نہیں ہیں۔
٣٢۔٣ یہ وہ ہیں جو دین کے معاملے میں پچھلے دونوں سے سبقت کرنے والے ہیں۔
٣٢۔٤ یعنی کتاب کا وارث کرنا اور شرف و فضل میں ممتاز (مصطفیٰ) کرنا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ‌ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا ۖ وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِ‌يرٌ‌ ﴿٣٣﴾
وہ باغات میں ہمیشہ رہنے کے جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے سونے کے (۱) کنگن اور موتی پہنائے جاویں گے۔ اور پوشاک ان کی وہاں ریشم کی ہو گی۔ (۲)
۳۳۔۱ بعض کہتے ہیں کہ جنت میں صرف سابقون جائیں گے، لیکن یہ صحیح نہیں۔ قرآن کا سیاق اس امر کا متقاضی ہے کہ تینوں قسمیں جنتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ سابقین بغیر حساب کتاب کے اور مقتصدین آسان حساب کے بعد اور ظالمین شفاعت سے یا سزا بھگتنے کے بعد جنت میں جائیں گے۔ جیسا کہ احادیث سے واضح ہے۔ محمد بن حنفیہ کا قول ہے یہ امت مرحومہ ہے، ظالم یعنی گناہگار کی مغفرت ہو جائے گی، مقتصد، اللہ کے ہاں جنت میں ہو گا اور سباق بالخیرات درجات عالیہ پر فائز ہو گا۔ (ابن کثیر)
٣٣۔۲ حدیث میں آتا ہے کہ (ریشم اور دیباج دنیا میں مت پہنو، اس لیے کہ جو اسے دنیا میں پہنے گا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا)۔ (صحيح بخاری، وصحيح مسلم، كتاب اللباس)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ۖ إِنَّ رَ‌بَّنَا لَغَفُورٌ‌ شَكُورٌ‌ ﴿٣٤﴾
اور کہیں گے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا۔ بیشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا بڑا قدردان ہے۔

الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ‌ الْمُقَامَةِ مِن فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ ﴿٣٥﴾
جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے مقام میں لا اتارا جہاں نہ ہم کو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہم کو کوئی خستگی پہنچے گی۔

وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَهُمْ نَارُ‌ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ‌ ﴿٣٦﴾
اور جو لوگ کافر ہیں ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے نہ تو انکی قضا ہی آئے گی کہ مر ہی جائیں اور نہ دوزخ کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

وَهُمْ يَصْطَرِ‌خُونَ فِيهَا رَ‌بَّنَا أَخْرِ‌جْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ‌ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ أَوَلَمْ نُعَمِّرْ‌كُم مَّا يَتَذَكَّرُ‌ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ‌ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ‌ ۖ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ‌ ﴿٣٧﴾
اور وہ لوگ جو اس طرح چلائیں گے کہ اے ہمارے رب! ہم کو نکال لے ہم اچھے کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے، (١) (اللہ کہے گا) کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا (۲) وہ سمجھ سکتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچا تھا، (۳) سو مزہ چکھو کہ (ایسے) ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
٣٧۔١ یعنی غیروں کی بجائے تیری عبادت اور معصیت کی بجائے اطاعت کریں گے۔
۳۷۔۲ اس سے مراد کتنی عمر ہے؟ مفسرین نے مختلف عمریں بیان کی ہیں۔ بعض نے احادیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ ۶۰ سال کی عمر مراد ہے۔ (ابن کثیر) لیکن ہمارے خیال میں عمر کی تعیین صحیح نہیں، اس لیے کہ عمریں مختلف ہوتی ہیں، کوئی جوانی میں، کوئی کہولت میں اور کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے، پھر یہ ادوار بھی لمحۂ گزراں کی طرح مختصر نہیں ہوتے، بلکہ ہر دور خاصا ممتد (لمبا) ہوتا ہے۔ مثلاً جوانی کا دور، بلوغت سے کہولت تک اور کہولت کا دور شیخوخت بڑھاپے تک اور بڑھاپے کا دور موت تک رہتا ہے۔ کسی کو سوچ بچار، نصیحت خیزی اور اثر پذیری کے لیے چند سال، کسی کو اس سے زیادہ اور کسی کو اس سے بھی زیادہ سال ملتے ہیں اور سب سے یہ سوال کرنا صحیح ہو گا کہ ہم نے تجھے اتنی عمر دی تھی کہ اگر تو حق کو سمجھنا چاہتا تو سمجھ سکتا تھا، پھر تو نے حق کو سمجھنے اور اسے اختیار کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟
٣٧۔۳ اس سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ یعنی یاددہانی اور نصیحت کے لیے پیغمبر ﷺ اور اس کے منبر و محراب کے وارث علما اور دعاۃ تیرے پاس آئے، لیکن تو نے اپنی عقل و فہم سے کام لیا نہ داعیان حق کی باتوں کی طرف دھیان کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ اللَّـهَ عَالِمُ غَيْبِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ‌ ﴿٣٨﴾
بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا، (١) بیشک وہی جاننے والا ہے سینوں کی باتوں کا۔ (٢)
٣٨۔١ یہاں یہ بیان کرنے کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم دوبارہ دنیا میں جانے کی آرزو کر رہے ہو اور دعویٰ کر رہے ہو کہ اب نافرمانی کی جگہ اطاعت اور شرک کی جگہ توحید اختیار کرو گے۔ لیکن ہمیں علم ہے کہ تم ایسا نہیں کرو گے۔ تمہیں اگر دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے، تو تم وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے ہو۔ جیسے دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا ﴿وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ﴾ (الأنعام: ۲۸) ”اگر انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہی کام کریں گے جن سے انہیں منع کیا گیا تھا“۔
٣٨۔٢ یہ پچھلی بات کی تعلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو آسمان اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا علم کیوں نہ ہو، جب کہ وہ سینوں کی باتوں اور رازوں سے بھی واقف ہے جو سب سے زیادہ مخفی ہوتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْ‌ضِ ۚ فَمَن كَفَرَ‌ فَعَلَيْهِ كُفْرُ‌هُ ۖ وَلَا يَزِيدُ الْكَافِرِ‌ينَ كُفْرُ‌هُمْ عِندَ رَ‌بِّهِمْ إِلَّا مَقْتًا ۖ وَلَا يَزِيدُ الْكَافِرِ‌ينَ كُفْرُ‌هُمْ إِلَّا خَسَارً‌ا ﴿٣٩﴾
وہی ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں آباد کیا، سو جو شخص کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور کافروں کے لیے ان کے کفر ان کے پروردگار کے نزدیک ناراضی ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے، اور کافروں کے لیے ان کا کفر خسارہ ہی بڑھنے کا باعث ہوتا ہے۔ (١)
٣٩۔١ یعنی اللہ کے ہاں کفر کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا، بلکہ اس سے اللہ کے غضب اور ناراضی میں بھی اضافہ ہو گا اور انسان کے اپنے نفس کا خسارہ بھی زیادہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ أَرَ‌أَيْتُمْ شُرَ‌كَاءَكُمُ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ أَرُ‌ونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْ‌ضِ أَمْ لَهُمْ شِرْ‌كٌ فِي السَّمَاوَاتِ أَمْ آتَيْنَاهُمْ كِتَابًا فَهُمْ عَلَىٰ بَيِّنَتٍ مِّنْهُ ۚ بَلْ إِن يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُم بَعْضًا إِلَّا غُرُ‌ورً‌ا ﴿٤٠﴾
آپ کہیئے! کہ تم اپنے قرار داد شریکوں کا حال تو بتاؤ جن کو تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو۔ یعنی مجھ کو یہ بتلاؤ کہ انہوں نے زمین میں کون سا (جزو) بنایا ہے یا ان کا آسمانوں میں کچھ ساجھا ہے یا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس کی دلیل پر قائم ہوں، (١) بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے سے نرے دھوکے کی باتوں کا وعدہ کرتے آتے ہیں۔ (٢)
٤٠۔١ یعنی ہم نے ان پر کوئی کتاب نازل کی ہو، جس میں یہ درج ہو کہ میرے بھی کچھ شریک ہیں جو آسمان و زمین کی تخلیق میں حصے دار اور شریک ہیں۔
٤٠۔٢ یعنی ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے۔ بلکہ یہ آپس میں ہی ایک دوسرے کو گمراہ کرتے آئے ہیں۔ ان کے لیڈر اور پیر کہتے تھے کہ یہ معبود انہیں نفع پہنچائیں گے، انہیں اللہ کے قریب کر دیں گے اور ان کی شفاعت کریں گے۔ یا یہ باتیں شیاطین مشرکین سے کہتے تھے۔ یا اس سے وہ وعدہ مراد ہے جس کا اظہار وہ ایک دوسرے کے سامنے کرتے تھے کہ وہ مسلمانوں پر غالب آئیں گے جس سے ان کو اپنے کفر پر جمے رہنے کا حوصلہ ملتا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ اللَّـهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورً‌ا ﴿٤١﴾
یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں (۱) اور اگر وہ ٹل جائیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا۔ (۲) وہ حلیم غفور ہے۔ (۳)
٤۱۔۱ كَرَاهَةَ أَنْ تَزُولا لِئَلا تَزُولا یہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و صنعت کا بیان ہے۔ بعض نے کہا، مطلب یہ ہے کہ ان کے شرک کا اقتضا ہے کہ آسمان و زمین اپنی حالت پر برقرار نہ رہیں بلکہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں۔ جیسے آیت۔ ﴿تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا، أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا﴾ (مريم: ۹۰-۹۱) کا مفہوم ہے۔
٤۱۔۲ یعنی یہ اللہ کے کمال قدرت کے ساتھ اس کی کمال مہربانی بھی ہے کہ وہ آسمان و زمین کو تھامے ہوئے ہے اور انہیں اپنی جگہ سے ہلنے اور ڈولنے نہیں دیتا ہے، ورنہ پلک جھپکتے میں دنیا کا نظام تباہ ہو جائے۔ کیونکہ اگر وہ انہیں تھامے نہ رکھے اور انہیں اپنی جگہ سے پھیر دے تو اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان کو تھام لے إِنْ أَمْسَكَهُمَا میں إِنْ نافیہ ہے۔ اللہ نے اپنے اس احسان اور نشانی کا تذکرہ دوسرے مقامات پر بھی فرمایا ہے مثلاً ﴿وَيُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الأَرْضِ إِلا بِإِذْنِهِ﴾ (الحج: ۶۵) اور ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ بِأَمْرِهِ﴾ (الروم: ۲۵) ”اسی نے آسمان کو زمین پر گرنے سے روکا ہوا ہے، مگر جب اس کا حکم ہو گا“۔ ”اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں“۔
٤۱۔۳ اتنی قدرتوں کے باوجود وہ حلیم ہے۔ اپنے بندوں کو دیکھتا ہے کہ وہ کفر و شرک اور نافرمانی کر رہے ہیں، پھر بھی وہ ان کی گرفت میں جلدی نہیں کرتا، بلکہ ڈھیل دیتا ہے اور غفور بھی ہے، کوئی تائب ہو کر اس کی بارگاہ میں جھک جاتا ہے، توبہ و استغفار و ندامت کا اظہار کرتا ہے تو وہ معاف فرما دیتا ہے۔
 
Top