• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اتَّبِعُوا مَن لَّا يَسْأَلُكُمْ أَجْرً‌ا وَهُم مُّهْتَدُونَ ﴿٢١﴾
ایسے لوگوں کی راہ پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ راہ راست پر ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پارہ 23
وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَ‌نِي وَإِلَيْهِ تُرْ‌جَعُونَ ﴿٢٢﴾
اور مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (١)
٢٢۔١ اپنے مسلک توحید کی وضاحت کی، جس سے مقصد اپنی قوم کی خیر خواہی اور ان کی صحیح رہنمائی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی قوم نے اس سے کہا ہو کہ کیا تو بھی اس معبود کی عبادت کرتا ہے، جس کی طرف یہ مرسلین ہمیں بلا رہے ہیں اور ہمارے معبودوں کو تو بھی چھوڑ بیٹھا ہے؟ جس کے جواب میں اس نے یہ کہا۔ مفسرین نے اس شخص کا نام حبیب نجار بتلایا ہے، واللہ اعلم۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَأَتَّخِذُ مِن دُونِهِ آلِهَةً إِن يُرِ‌دْنِ الرَّ‌حْمَـٰنُ بِضُرٍّ‌ لَّا تُغْنِ عَنِّي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا وَلَا يُنقِذُونِ ﴿٢٣﴾
کیا میں اسے چھوڑ کر ایسوں کو معبود بناؤں کہ اگر (اللہ) رحمٰن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ وہ مجھے بچا سکیں۔ (١)
٢٣۔١ یہ ان معبودان باطلہ کی بے بسی کی وضاحت ہے جن کی عبادت اس کی قوم کرتی تھی اور شرک کی اس گمراہی سے نکالنے کے لیے رسول ان کی طرف بھیجے گئے تھے۔ نہ بچا سکیں کا مطلب ہے کہ اللہ اگر مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو یہ بچا نہیں سکتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنِّي إِذًا لَّفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢٤﴾
پھر تو یقیناً کھلی گمراہی میں ہوں۔ (١)
٢٤۔١ یعنی اگر میں بھی تمہاری طرح، اللہ کو چھوڑ کر ایسے بے اختیار اور بے بس معبودوں کی عبادت شروع کر دوں، تو میں بھی کھلی گمراہی میں جا گروں گا۔ یا ضلال، یہاں خسران کے معنی میں ہے، یعنی یہ تو نہایت واضح خسارے کا سودا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنِّي آمَنتُ بِرَ‌بِّكُمْ فَاسْمَعُونِ ﴿٢٥﴾
میری سنو! میں تو (سچے دل سے) تم سب کے رب پر ایمان لا چکا ہوں۔ (١)
٢٥۔١ اس کی دعوت توحید اور اقرار توحید کے جواب میں قوم نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے پیغمبروں سے خطاب کرکے یہ کہا، مقصد اپنے ایمان پر ان پیغمبروں کو گواہ بنانا تھا۔ یا اپنی قوم سے خطاب کرکے کہا جس سے مقصود دین حق پر اپنی صلابت اور استقامت کا اظہار تھا کہ تم جو چاہو کر لو، لیکن اچھی طرح سن لو کہ میرا ایمان اسی رب پر ہے، جو تمہارا بھی رب ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کو مار ڈالا اور کسی نے ان کو اس سے نہیں روکا۔ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۖ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ ﴿٢٦﴾
(اس سے) کہا گیا کہ جنت میں چلا جا، کہنے لگا کاش! میری قوم کو بھی علم ہو جاتا۔

بِمَا غَفَرَ‌ لِي رَ‌بِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَ‌مِينَ ﴿٢٧﴾
کہ مجھے میرے رب نے بخش دیا اور مجھے با عزت لوگوں میں سے کر دیا۔ (١)
٢٧۔١ یعنی جس ایمان اور توحید کی وجہ سے مجھے رب نے بخش دیا، کاش میری قوم اس بات کو جان لے تاکہ وہ بھی ایمان و توحید کو اپنا کر اللہ کی مغفرت اور اس کی نعمتوں کی مستحق ہو جائے۔ اس طرح اس شخص نے مرنے کے بعد بھی اپنی قوم کی خیر خواہی کی۔ ایک مومن صادق کو ایسا ہی ہونا چاہئے کہ وہ ہر وقت لوگوں کی خیر خواہی ہی کرے، بدخواہی نہ کرے۔ ان کی صحیح رہنمائی کرے، گمراہ نہ کرے، بیشک لوگ اسے جو چاہے کہیں اور جس قسم کا سلوک چاہیں کریں، حتیٰ کہ اسے مار ڈالیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِ مِن بَعْدِهِ مِن جُندٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ ﴿٢٨﴾
اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہ اتارا، (١) اور نہ اس طرح ہم اتارا کرتے ہیں۔ (٢)
۲۸۔١ یعنی حبیب نجار کے قتل کے بعد ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا۔ یہ اس قوم کی تحقیر شان کی طرف اشارہ ہے۔
٢٨۔٢ یعنی جس قوم کی ہلاکت کسی دوسرے طریقے سے لکھی جاتی ہے تو وہاں ہم فرشتے نازل بھی نہیں کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَامِدُونَ ﴿٢٩﴾
وہ تو صرف ایک زور کی چیخ تھی کہ یکایک وہ سب کے سب بجھ بھجا گئے۔ (١)
٢٩۔١ کہتے ہیں کہ جبرائیل عليہ السلام نے ایک چیخ ماری، جس سے سب کے جسموں سے روحیں نکل گئیں اور وہ بجھی آگ کی طرح ہو گئے۔ گویا زندگی، شعلۂ فروزاں ہے اور موت، اس کا بجھ کر راکھ کا ڈھیر ہو جانا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا حَسْرَ‌ةً عَلَى الْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّ‌سُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ﴿٣٠﴾
(ایسے) بندوں پر افسوس! (١) کبھی بھی کوئی رسول ان کے پاس نہیں آیا جس کی ہنسی انہوں نے نہ اڑائی ہو۔
٣٠۔١ حسرت و ندامت کا یہ اظہار خود اپنے نفسوں پر، قیامت والے دن، عذاب دیکھنے کے بعد کریں گے کہ کاش انہوں نے اللہ کے بارے میں کوتاہی نہ کی ہوتی یا اللہ تعالیٰ بندوں کے رویے پر افسوس کر رہا ہے کہ ان کے پاس جب بھی کوئی رسول آیا انہوں نے اس کے ساتھ استہزا ہی کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ يَرَ‌وْا كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ الْقُرُ‌ونِ أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لَا يَرْ‌جِعُونَ ﴿٣١﴾
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہم نے غارت کر دیا کہ وہ ان (١) کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔
٣١۔١ اس میں اہل مکہ کے لیے تنبیہ ہے کہ تکذیب رسالت کی وجہ سے جس طرح پچھلی قومیں تباہ ہوئیں یہ بھی تباہ ہو سکتے ہیں۔
 
Top