• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَـٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ‌ مَآبٍ ﴿٥٥﴾
یہ تو ہوئی جزا، (١) (یاد رکھو کہ) سرکشوں کے لیے (٢) بڑی بری جگہ ہے۔
٥٥۔١ هَذَا مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی الأَمْرُ هَذَا یا ھذا مبتدا ہے، اس کی خبر محذوف ہے یعنی هَذَا كَمَا ذُكِرَ یعنی مذکور اہل خیر کا معاملہ ہوا۔ اس کے بعد اہل شر کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔
٥٥۔٢ طَاغِينَ، جنہوں نے اللہ کے احکام سے سرکشی اور رسولوں کی تکذیب کی۔ يَصْلُونَ کے معنی ہیں يَدْخُلُونَ، داخل ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ ﴿٥٦﴾
دوزخ ہے جس میں وہ جائیں گے (آہ) کیا ہی برا بچھونا ہے۔

هَـٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ ﴿٥٧﴾
یہ ہے، پس اسے چکھیں، گرم پانی اور پیپ۔ (١)
٥٧۔١ ﴿حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ فَليَذُوقُوه﴾، هَذَا کی خبر ہے یعنی هَذَا حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ فَلْيَذُوقُوهُ یہ ہے گرم پانی اور پیپ، اسے چکھو۔ حَمِيمٌ، گرم کھولتا ہوا پانی، جو ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ غَسَّاقٌ، جہنمیوں کی کھالوں سے جو پیپ اور گندا لہو نکلے گا۔ یا سخت ٹھنڈا پانی، جس کا پینا نہایت مشکل ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَآخَرُ‌ مِن شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ ﴿٥٨﴾
اس کے علاوہ اور طرح طرح کے عذاب۔
٥٨۔١ شَكْلِه، اس جیسے أَزْوَاجٌ، انواع واقسام یعنی حمیم و غساق جیسے اور بہت سی قسم کے دوسرےعذاب ہوں گے۔

هَـٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ ۖ لَا مَرْ‌حَبًا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ‌ ﴿٥٩﴾
یہ ایک قوم ہے جو تمہارے ساتھ (آگ میں) جانی والی ہے، (١) کوئی خوش آمدید ان کے لیے نہیں ہے (٢) یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں۔ (٣)
٥٩۔١ جہنم کے دروازوں پر کھڑے فرشتے، ائمۂ کفر اور پیشوایان ضلالت سے کہیں گے، جب پیروکار قسم کے کافر جہنم میں جائیں گے۔ یا ائمۂ کفر و ضلالت آپس میں یہ بات، پیرو کاروں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے۔
٥٩۔٢ یہ لیڈر، جہنم میں داخل ہونے والے کافروں کے لیے، فرشتوں کے جواب میں یا آپس میں کہیں گے۔ رَحْبَةٌ کے معنی وسعت وفراخی کے ہیں۔ مرحبا یہ كَلِمَةُ تَرْحِيبٍ یعنی خیر مقدمی الفاظ ہیں جو آنے والے مہمان کے استقبال کے وقت کہے جاتے ہیں۔ لا مَرْحَبًا اس کے برعکس ہے۔
٥٩۔٣ یہ ان کا خیر مقدم نہ کرنے کی علت ہے۔ یعنی ان کے اور ہمارے مابین کوئی وجہ امتیاز نہیں ہے، یہ بھی ہماری طرح جہنم میں داخل ہو رہے ہیں اور جس طرح ہم عذاب کے مستحق ٹھہرے ہیں، یہ بھی عذاب جہنم کے مستحق قرار پائے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالُوا بَلْ أَنتُمْ لَا مَرْ‌حَبًا بِكُمْ ۖ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا ۖ فَبِئْسَ الْقَرَ‌ارُ‌ ﴿٦٠﴾
وہ کہیں گے بلکہ تم ہی ہو جن کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں ہے تم ہی نے تو اسے پہلے ہی سے ہمارے سامنے لا رکھا تھا، (١) پس رہنے کی بڑی بری جگہ ہے۔
٦٠۔١ یعنی تم ہی کفر و ضلالت کے راستے ہمارے سامنے مزین کرکے پیش کرتے تھے، یوں گویا اس عذاب جہنم کے پیش کار تو تم ہی ہو۔ یہ پیروکار، اپنے مقتداؤں کو کہیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالُوا رَ‌بَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ‌ ﴿٦١﴾
وہ کہیں گے اے ہمارے رب! جس نے (کفر کی رسم) ہمارے لیے پہلے سے نکالی ہو (١) اس کے حق میں جہنم کی دگنی سزا کر دے۔ (٢)
٦١۔١ یعنی جنہوں نے ہمیں کفر کی دعوت دی اور اسے حق و صواب باور کرایا۔ یا جنہوں نے ہمیں کفر کی طرف بلا کر ہمارے لیے یہ عذاب آگے بھیجا۔
٦١۔٢ یہ وہی بات ہے جسے اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۃ الاعراف: ۳۸، سورۃ الاحزاب: ۶۸۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَ‌ىٰ رِ‌جَالًا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ الْأَشْرَ‌ارِ‌ ﴿٦٢﴾
اور جہنمی کہیں گے کیا یہ بات ہے کہ وہ لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے۔ (١)
٦٢۔١ أَشْرَارٌ سے مراد فقراء مومنین ہیں۔ جیسے عمار، خباب، صہیب، بلال و سلیمان وغیرہم۔ (رضی الله عنہم)، انہیں روسائے مکہ ازراہ خبث (برے لوگ) کہتے تھے اور اب بھی اہل باطل حق پر چلنے والوں کو بنیاد پرست، دہشت گرد، انتہا پسند وغیرہ القاب سے نوازتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِ‌يًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ‌ ﴿٦٣﴾
کیا ہم نے ان کا مذاق بنا رکھا تھا (١) یا ہماری نگاہیں ان سے ہٹ گئی ہیں۔ (٢)
٦٣۔١ یعنی دنیا میں، جہاں ہم غلطی پر تھے؟
٦٣۔٢ یا وہ بھی ہمارے ساتھ ہی یہیں کہیں ہیں، ہماری نظریں انہیں نہیں دیکھ پا رہی ہیں؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ‌ ﴿٦٤﴾
یقین جانو کہ دوزخیوں کا یہ جھگڑا ضرور ہی ہو گا۔ (١)
٦٤۔١ یعنی آپس میں ان کی تکرار اور ایک دوسرے کو مورد طعن بنانا، ایک ایسی حقیقت ہے، جس میں تخلف نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنذِرٌ‌ ۖ وَمَا مِنْ إِلَـٰهٍ إِلَّا اللَّـهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ‌ ﴿٦٥﴾
کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف خبردار کرنے والا ہوں (١) اور بجز اللہ واحد غالب کے کوئی لائق عبادت نہیں۔
٦٥۔١ یعنی جو تم گمان کرتے ہو، میں وہ نہیں ہوں بلکہ تمہیں اللہ کے عذاب اور اس کےعتاب سے ڈرانے والا ہوں۔

رَ‌بُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ‌ ﴿٦٦﴾
جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وہ زبردست اور بڑا بخشنے والا ہے۔

قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ ﴿٦٧﴾
آپ کہہ دیجئے کہ یہ بہت بڑی خبر ہے۔ (١)
٦٧۔١ یعنی میں تمہیں جس عذاب اخروی سے ڈرا رہا اور توحید کی دعوت دے رہا ہوں یہ بڑی خبر ہے، جس سے اعراض و غفلت نہ برتو، بلکہ اس پر توجہ دینے اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَنتُمْ عَنْهُ مُعْرِ‌ضُونَ ﴿٦٨﴾
جس سے تم بے پروا ہو رہے ہو۔

مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ إِذْ يَخْتَصِمُونَ ﴿٦٩﴾
مجھے ان بلند قدر فرشتوں کی (بات چیت کا) کوئی علم ہی نہیں جبکہ وہ تکرار کر رہے تھے۔ (١)
٦٩۔١ ملأ اعلیٰ سے مراد فرشتے ہیں، یعنی وہ کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟ میں نہیں جانتا۔ ممکن ہے، اس اختصام (بحث و تکرار) سے مراد وہ گفتگو ہو جو تخلیق آدم عليہ السلام کے وقت ہوئی۔ جیسا کہ آگے اس کا ذکر آرہا ہے۔
 
Top