• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِن يُوحَىٰ إِلَيَّ إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ‌ مُّبِينٌ ﴿٧٠﴾
میری طرف فقط یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں تو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں۔ (١)
٧٠۔١ یعنی میری ذمے داری یہی ہے کہ میں وہ فرائض و سنن تمہیں بتا دوں جن کے اختیار کرنے سے تم عذاب الٰہی سے بچ جاؤ گے اور ان محرکات و معاصی کی وضاحت کر دوں جن کے اجتناب سے تم رضائے الٰہی کے اور بصورت دیگر اس کے غضب و عقاب کے مستحق قرار پاؤ گے۔ یہی وہ انذار ہے جس کی وحی میری طرف کی جاتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِذْ قَالَ رَ‌بُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرً‌ا مِّن طِينٍ ﴿٧١﴾
جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا (١) میں مٹی سے انسان کو پیدا (٢) کرنے والا ہوں۔
٧١۔١ یہ قصہ اس سے قبل سورۂ بقرہ، سورۂ اعراف، سورۂ حجر، سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ کہف میں بیان ہو چکا ہے۔ اب اسے یہاں بھی اجمالاً بیان کیا جا رہا ہے۔
٧١۔٢ یعنی ایک جسم، جنس بشر سے بنانے والا ہوں۔ انسان کو بشر، زمین سے اس کی مباشرت کی وجہ سے کہا۔ یعنی زمین سے ہی اس کی ساری وابستگی ہے اور وہ سب کچھ اسی زمین پر کرتا ہے۔ یا اس کے لیے وہ بادی البشرۃ ہے۔ یعنی اس کا جسم یا چہرہ ظاہر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّ‌وحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ ﴿٧٢﴾
سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کر لوں (١) اور اس میں اپنی روح پھونک دوں، (٢) تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔ (٣)
٧٢۔١ یعنی اسے انسانی پیکر میں ڈھال لوں اور اس کےتمام اجزا درست اور برابر کر لوں۔
٧٢۔٢ یعنی وہ روح، جس کا میں ہی مالک ہوں، میرے سوا اس کا کوئی اختیار نہیں رکھتا اور جس کے پھونکتے ہی یہ پیکر خاکی، زندگی، حرکت اور توانائی سے بہرہ یاب ہو جائے گا۔ انسان کے شرف و عظمت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس میں وہ روح پھونکی گئی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح قرار دیا ہے۔
٧٢۔٣ یہ سجدۂ تحیہ یا سجدۂ تعظیم ہے، سجدۂ عبادت نہیں۔ یہ تعظیمی سجدہ پہلے جائز تھا، اسی لیے اللہ نے آدم عليہ السلام کے لیے فرشتوں کو اس کا حکم دیا۔ اب اسلام میں تعظیمی سجدہ بھی کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی ﷺ نے فرمایا ”اگر یہ جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے“۔ (مشكاة كتاب النكاح، باب عشرة النساء، بحوالہ ترمذی وقال الألباني، وهو حديث صحيح لشواهده)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ ﴿٧٣﴾
چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ (١)
٧٣۔١ یہ انسان کا دوسرا شرف ہے کہ اسے مسجود ملائک بنایا۔ یعنی فرشتے جیسی مقدس مخلوق نے اسے تعظیماً سجدہ کیا۔ كُلُّهُمْ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے میں پیچھے نہیں رہا۔ اس کے بعد أَجْمَعُونَ کہہ کر یہ واضح کر دیا کہ سجدہ بھی سب نے بیک وقت ہی کیا ہے۔ مختلف اوقات میں نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ تاکید در تاکید تعمیم میں مبالغے کے لیے ہے۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ‌ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِ‌ينَ ﴿٧٤﴾
مگر ابلیس نے (نہ کیا)، اس نے تکبر کیا (١) اور وہ تھا کافروں میں سے۔ (٢)
٧٤۔١ اگر ابلیس کو صفات ملائکہ سے متصف مانا جائے تو یہ استثنا متصل ہو گا یعنی ابلیس اس حکم سجدہ میں داخل ہو گا، بصورت دیگر یہ استثنا منقطع ہے یعنی وہ اس حکم میں داخل نہیں تھا لیکن آسمان پر رہنے کی وجہ سے اسے بھی حکم دیا گیا۔ مگر اس نے تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا۔
٧٤۔٢ یہ کان صَارَ کے معنی میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت اور اس کی اطاعت سے استکبار کی وجہ سے وہ کافر ہو گیا۔ یا اللہ کے علم میں وہ کافر تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ۖ أَسْتَكْبَرْ‌تَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْعَالِينَ ﴿٧٥﴾
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ (١) کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے۔
٧٥۔١ یہ بھی انسان کے شرف و عظمت کے اظہار ہی کے لیے فرمایا، ورنہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ أَنَا خَيْرٌ‌ مِّنْهُ ۖ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ‌ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ ﴿٧٦﴾
اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا، اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔ (١)
٧٦۔١ یعنی شیطان نے اپنے زعم فاسد میں یہ سمجھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ حالانکہ یہ سب جواہر متجانس (ہم جنس یا قریب قریب ایک درجے میں) ہیں۔ ان میں سے کسی کو، دوسرے پر شرف کسی عارض (خارجی سبب) ہی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ عارض، آگ کے مقابلے میں، مٹی کے حصے میں آیا، کہ اللہ نے اسی سے آدم عليہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے بنایا، پھر اس میں اپنی روح پھونکی۔ اس لحاظ سے مٹی ہی کو آگ کے مقابلے میں شرف و عظمت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آگ کا کام جلا کر خاکستر کر دینا ہے، جبکہ مٹی اس کے برعکس انواع و اقسام کی پیداوار کا موخذ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ فَاخْرُ‌جْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَ‌جِيمٌ ﴿٧٧﴾
ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہوا۔

وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِي إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ ﴿٧٨﴾
اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت و پھٹکار ہے۔

قَالَ رَ‌بِّ فَأَنظِرْ‌نِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴿٧٩﴾
کہنے لگا میرے رب مجھے لوگوں کے اٹھ کھڑے ہونے کے دن تک مہلت دے۔

قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِ‌ينَ ﴿٨٠﴾
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا تو مہلت والوں میں سے ہے۔

إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ﴿٨١﴾
متعین وقت کے دن تک۔

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٨٢﴾
کہنے لگا پھر تو تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو یقیناً بہکا دوں گا۔

إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ﴿٨٣﴾
بجز تیرے ان بندوں کے جو چیدہ اور پسندیدہ ہوں۔

قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ ﴿٨٤﴾
فرمایا سچ تو یہ ہے، اور میں سچ ہی کہا کرتا ہوں۔

لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٨٥﴾
کہ تجھ سے اور تیرے تمام ماننے والوں سے میں (بھی) جہنم کو بھر دوں گا۔

قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ‌ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ﴿٨٦﴾
کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا (١) اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں۔ (٢)
٨٦۔١ یعنی اس دعوت و تبلیغ سے میرا مقصد صرف امتثال امر الٰہی ہے، دنیا کمانا نہیں۔
٨٦۔٢ یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کر دوں جو اس نے نہ کہی ہو یا میں تمہیں ایسی بات کی طرف دعوت دوں جس کا حکم اللہ نے مجھے نہ دیا ہو۔ بلکہ کوئی کمی بیشی کیے بغیر اللہ کے احکام تم تک پہنچا رہا ہوں۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے، جس کو کسی بات کا علم نہ ہو، اس کی بابت اسے کہہ دینا چاہئیے، اللہ اعلم یہ کہنا بھی علم ہی ہے، اس لیے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو کہا، فرما دیجئے ﴿وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ (ابن کثیر) علاوہ ازیں اس سے عام معاملات زندگی میں بھی تکلف و تصنع سے اجتناب کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ جیسے نبی ﷺ نے فرمایا [نُهِينَا عَنِ التَّكَلُّف] (صحيح بخاری: ۷۲۹۳) ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں [نَهَانَا رَسُولُ اللهِ (ﷺ) أَنَّ نَتَكَلَّفَ لِلضَّيْف] (صحيح الجامع الصغير: ۹۸۷۱) ہمیں رسول اللہ ﷺ نے مہمان کے لیے تکلف کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ لباس، خوراک، رہائش اور دیگر معاملات میں تکلفات، جو آج کل معیار زندگی بلند کرنے کے عنوان سے، اصحاب حیثیت کا شعار اور وطیرہ بن چکا ہے، اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام میں سادگی اور بے تکلفی اختیار کرنے کی تلقین و ترغیب ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ‌ لِّلْعَالَمِينَ ﴿٨٧﴾
یہ تو تمام جہان والوں کے لیے سرا سر نصیحت (و عبرت) ہے۔ (١)
٨٧۔١ یعنی یہ قرآن، یا وحی یا وہ دعوت، جو میں پیش کر رہا ہوں، دنیا بھر کے انسان اور جنات کے لیے نصیحت ہے۔ بشرطیکہ کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے کا قصد کرے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ ﴿٨٨﴾
یقیناً تم اس کی حقیقت کو کچھ ہی وقت کے بعد (صحیح طور پر) جان لو گے۔ (١)
٨٨۔١ یعنی قرآن نے جن چیزوں کو بیان کیا ہے، جو وعدہ وعید ذکر کیے ہیں، ان کی حقیقت و صداقت بہت جلد تمہارے سامنے آجائے گی۔ چنانچہ اس کی صداقت یوم بدر کو واضح ہوئی، فتح مکہ کے دن ہوئی یا پھر موت کے وقت تو سب پر ہی واضح ہو جاتی ہے۔
 
Top