• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّـهِ لَهُمُ الْبُشْرَ‌ىٰ ۚ فَبَشِّرْ‌ عِبَادِ ﴿١٧﴾
اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وہ خوش خبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔

الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ ﴿١٨﴾
جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو (١) اس کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی اور یہی عقلمند بھی ہیں (٢)
١٨۔١ أَحْسَنُ سے مراد محکم اور پختہ بات، یا مامورات میں سے سب سے اچھی بات، یا عزیمت و رخصت میں سے عزیمت یا عقوبت کے مقابلے میں عفو و درگزر اختیار کرتے ہیں۔
١٨۔٢ کیوں کہ انہوں نے اپنی عقل سے فائدہ اٹھایا ہے، جب کہ دوسروں نے اپنی عقلوں سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِي النَّارِ‌ ﴿١٩﴾
بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ثابت ہو چکی ہے، (١) تو کیا آپ اسے جو دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں۔ (٢)
١٩۔١ یعنی قضا وتقدیر کی رو سے اس کا استحقاق عذاب ثابت ہو چکا ہے، اس طرح کہ کفر و ظلم اور جرم وعدوان میں وہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا، جہاں سے اس کی واپسی ممکن نہیں رہی۔ جیسے ابو جہل اور عاص بن وائل وغیرہ۔ اور گناہوں نے اس کو پوری طرح گھیر لیا اور وہ جہنمی ہو گیا۔
١٩۔٢ نبی ﷺ چونکہ اس بات کی شدید خواہش رکھتے تھے کہ آپ کی قوم کے سب لوگ ایمان لے آئیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو تسلی دی اور آپ کو بتلایا کہ آپ کی خواہش اپنی جگہ بالکل صحیح اور بجا ہے لیکن جس پر اس کی تقدیر غالب آگئی اور اللہ کا کلمہ اس کے حق میں ثابت ہو گیا، اسے آپ جہنم کی آگ سے بچانے پر قادر نہیں ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَـٰكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَ‌بَّهُمْ لَهُمْ غُرَ‌فٌ مِّن فَوْقِهَا غُرَ‌فٌ مَّبْنِيَّةٌ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ ۖ وَعْدَ اللَّـهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللَّـهُ الْمِيعَادَ ﴿٢٠﴾
ہاں وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے بالا خانے ہیں جن کے اوپر بھی بنے بنائے بالا خانے ہیں (١) (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ رب کا وعدہ ہے (٢) اور وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
٢٠۔١ اس کا مطلب ہے کہ جنت میں درجات ہوں گے، ایک کے اوپر ایک۔ جس طرح یہاں کثیرالمنازل عمارتیں ہیں، جنت میں بھی درجات کے حساب سے ایک دوسرے کے اوپر بالا خانے ہوں گے، جن کے درمیان سے اہل جنت کی خواہش کے مطابق دودھ، شہد، پانی اور شراب کی نہریں چل رہی ہوں گی۔
٢٠۔٢ جو اس نے اپنے مومن بندوں سے کیا ہے اور جو یقیناً پورا ہو گا، کہ اللہ سے وعدہ خلافی ممکن نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ تَرَ‌ أَنَّ اللَّـهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْ‌ضِ ثُمَّ يُخْرِ‌جُ بِهِ زَرْ‌عًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَ‌اهُ مُصْفَرًّ‌ا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَ‌ىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ﴿٢١﴾
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا ہے (١) ہے، پھر اسی کے ذریعے مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا (٢) ہے پھر وہ خشک ہو جاتی ہیں اور آپ انہیں زرد رنگ میں دیکھتے ہیں پھر انہیں ریزہ ریزہ کر دیتا ہے (٣) اس میں عقل مندوں کے لیے بہت زیادہ نصیحت ہے۔ (٤)
٢١۔١ يَنَابِيعُ يَنْبُوعٌ کی جمع ہے، سوتے، چشمے، یعنی بارش کے ذریعے سے پانی آسمان سے اترتا ہے، پھر وہ زمین میں جذب ہو جاتا ہے اور پھر چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا تالابوں اور نہروں میں جمع ہو جاتا ہے۔
٢١۔٢ یعنی اس پانی سے، جو ایک ہوتا ہے، انواع و اقسام کی چیزیں پیدا فرماتا ہے، جن کا رنگ، ذائقہ، خوشبو ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔
٢١۔٣ یعنی شادابی اور تر و تازگی کے بعد وہ کھیتیاں سوکھ جاتی اور زرد ہو جاتی ہیں اور پھر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں۔ جس طرح لکڑی کی ٹہنیاں خشک ہو کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔
٢١۔٤ یعنی اہل دانش اس سے سمجھ لیتے ہیں کہ دنیا کی مثال بھی اسی طرح ہے، وہ بہت جلد زوال و فنا سے ہمکنار ہو جائے گی۔ اس کی رونق و بہجت، اس کی شادابی و زینت اور اس کی لذتیں اور آسائشیں عارضی ہیں، جن سے انسان کو دل نہیں لگانا چاہئے۔ بلکہ اس موت کی تیاری میں مشغول رہنا چاہئے جس کے بعد کی زندگی دائمی ہے، جسے زوال نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ قرآن اور اہل ایمان کے سینوں کی مثال ہے اور مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے قرآن اتارا، جسے وہ مومنوں کے دلوں میں داخل فرماتا ہے، پھر اس کے ذریعے سے دین باہر نکلتا ہے جو ایک دوسرے سے بہتر ہوتا ہے، پس مومن تو ایمان و یقین میں زیادہ ہو جاتا ہے اور جس کے دل میں روگ ہوتا ہے، وہ اس طرح خشک ہو جاتا ہے جس طرح کھیتی خشک ہو جاتی ہے۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَمَن شَرَ‌حَ اللَّـهُ صَدْرَ‌هُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ‌ مِّن رَّ‌بِّهِ ۚ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ‌ اللَّـهِ ۚ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢٢﴾
کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے ایک نور ہے (١) اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل یاد الٰہی سے (اثر نہیں لیتے بلکہ) سخت ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں۔
٢٢۔١ یعنی جس کو قبول حق اور خیر کا راستہ اپنانے کی توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل جائے پس وہ اس شرح صدر کی وجہ سے رب کی روشنی پر ہو، کیا یہ اس جیسا ہو سکتا ہے جس کا دل اسلام کے لیے سخت اور اس کا سینہ تنگ ہو اور وہ گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ‌ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَ‌بَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ‌ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى اللَّـهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ﴿٢٣﴾
اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے، (١) جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں (٢) آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں، (٣) یہ ہے اللہ تعالیٰ کہ ہدایت جس کے ذریعے جسے چاہے راہ راست پر لگا دیتا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ ہی راہ بھلا دے اس کا ہادی کوئی نہیں۔
٢٣۔١ ﴿أَحْسَنُ الْحَدِيثِ﴾ سے مراد قرآن مجید ہے، ملتی جلتی کا مطلب، اس کے سارے حصے حسن کلام، اعجاز و بلاغت، صحت معانی وغیرہ خوبیوں میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یا یہ بھی سابقہ کتب آسمانی سے ملتا ہے یعنی ان کی مشابہ ہے۔ مثانی، جس میں قصص و واقعات اور مواعظ و احکام کو بار بار دہرایا گیا ہے۔
٢٣۔٢ کیونکہ وہ ان وعیدوں کو اور تخویف و تہدید کو سمجھتے ہیں جو نافرمانوں کے لیے اس میں ہے۔
٢٣۔٣ یعنی جب اللہ کی رحمت اور اس کے لطف و کرم کی امید ان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے تو ان کے اندر سوز و گداز پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کے ذکر میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ حضرت قتادہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ اس میں اولیاء اللہ کی صفت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے خوف سے ان کے دل کانپ اٹھتے، ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں اور ان کے دلوں کو اللہ کے ذکر سے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ وہ مدہوش اور حواس باختہ ہو جائیں اور عقل و ہوش باقی نہ رہے، کیونکہ یہ بدعتیوں کی صفت ہے اور اس میں شیطان کا دخل ہوتا ہے۔ (ابن کثیر) جیسے آج بھی بدعتیوں کی قوالی میں اس طرح کی شیطانی حرکتیں عام ہیں، جسے وہ وجد و حال یا سکر و مستی سے تعبیر کرتے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں، اہل ایمان کا معاملہ اس بارے میں کافروں سے بوجوہ مختلف ہے۔ ایک یہ کہ اہل ایمان کا سماع، قرآن کریم کی تلاوت ہے، جب کہ کفار کا سماع، بے حیا مغنیات کی آوازوں میں گانا بجانا، سننا ہے۔ (جیسے اہل بدعت کا سماع مشرکانہ غلو پر مبنی قوالیاں اور نعتیں ہیں) دوسرے، یہ کہ اہل ایمان قرآن سن کر ادب و خشیت سے رجا و محبت سے اور علم و فہم سے رو پڑتے ہیں اور سجدہ ریز ہو جاتے ہیں، جب کہ کفار شور کرتے اور کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں۔ تیسرے، اہل ایمان سماع قرآن کے وقت ادب و تواضع اختیار کرتے ہیں، جیسے صحابہ کرام کی عادت مبارکہ تھی، جس سے ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور ان کے دل اللہ کی طرف جھک جاتے تھے۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَمَن يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ وَقِيلَ لِلظَّالِمِينَ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ ﴿٢٤﴾
بھلا جو شخص قیامت کے دن کے بدترین عذاب کی سپر (ڈھال) اپنے منہ کو بنائے گا۔ (ایسے) ظالموں سے کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا (وبال) چکھو۔ (١)
٢٤۔١ یعنی کیا یہ شخص، اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو قیامت والے دن بالکل بے خوف اور امن میں ہو گا؟ یعنی محذوف عبارت ملا کر اس کا یہ مفہوم ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُ‌ونَ ﴿٢٥﴾
ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا، پھر ان پر وہاں سے عذاب آپڑا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا۔ (١)
٢٥۔١ اور انہیں ان عذابوں سے کوئی نہیں بچا سکا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَذَاقَهُمُ اللَّـهُ الْخِزْيَ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَ‌ةِ أَكْبَرُ‌ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿٢٦﴾
اور اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگانی دنیا میں رسوائی کا مزہ چکھایا (١) اور ابھی آخرت کا تو بڑا بھاری عذاب ہے کاش کہ یہ لوگ سمجھ لیں۔
٢٦۔١ یہ کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ گزشتہ قوموں نے پیغمبروں کو جھٹلایا، تو ان کا یہ حال ہوا، اور تم اشرف الرسل اور افضل الناس کی تکذیب کر رہے ہو، تمہیں بھی اس تکذیب کےانجام سے ڈرنا چاہئے۔

وَلَقَدْ ضَرَ‌بْنَا لِلنَّاسِ فِي هَـٰذَا الْقُرْ‌آنِ مِن كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُ‌ونَ ﴿٢٧﴾
اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کر دی ہیں کیا عجب کہ وہ نصیحت حاصل کر لیں۔ (١)
٢٧۔١ یعنی لوگوں کو سمجھانے کے لیے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں باتیں بیٹھ جائیں اور وہ نصیحت حاصل کریں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُرْ‌آنًا عَرَ‌بِيًّا غَيْرَ‌ ذِي عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿٢٨﴾
قرآن ہے عربی میں جس میں کوئی کجی نہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ پرہیزگاری اختیار کر لیں۔ (١)
٢٨۔١ یعنی قرآن واضح عربی زبان میں ہے، جس میں کوئی کجی، انحراف اور التباس نہیں ہے تاکہ لوگ اس میں بیان کردہ وعیدوں سے ڈریں اور اس میں بیان کیے گئے وعدوں کا مصداق بننے کے لیے عمل کریں۔

ضَرَ‌بَ اللَّـهُ مَثَلًا رَّ‌جُلًا فِيهِ شُرَ‌كَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَرَ‌جُلًا سَلَمًا لِّرَ‌جُلٍ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ الْحَمْدُ لِلَّـهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُ‌هُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٢٩﴾
اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے کہ ایک وہ شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں، اور دوسرا وہ شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے، کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں؟ (١) اللہ تعالیٰ ہی کے لیے سب تعریف ہے۔ (٢) بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔ (٣)
٢٩۔١ اس میں مشرک (اللہ کا شریک ٹھہرانے والے) اور مخلص (صرف ایک اللہ کے لیے عبادت کرنے والے) کی مثال بیان کی گئی ہے۔ یعنی ایک غلام ہے جو کئی شخصوں کے درمیان مشترکہ ہے، چنانچہ وہ آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں اور ایک غلام ہے، جس کا مالک صرف ایک ہی شخص ہے، اس کی ملکیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں غلام برابر ہو سکتے ہیں؟ نہیں، یقیناً نہیں۔ اسی طرح وہ مشرک جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کرتا ہے۔ اور وہ مخلص مومن، جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ برابر نہیں ہو سکتے۔
٢٩۔٢ اس بات پر کہ اس نے حجت قائم کر دی۔
٢٩۔٣ اسی لیے اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔
 
Top