- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ﴿٣٠﴾
یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔
ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِندَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ ﴿٣١﴾
پھر تم سب کے سب قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے۔ (١)
٣١۔١ یعنی اے پیغمبر ﷺ آپ بھی اور آپ کے مخالف بھی، سب موت سے ہم کنار ہو کر اس دنیا سے ہمارے پاس آخرت میں آئیں گے۔ دنیا میں تو توحید اور شرک کا فیصلہ تمہارے درمیان نہیں ہو سکا اور تم اس بارے میں جھگڑتے ہی رہے۔ لیکن یہاں میں اس کا فیصلہ کروں گا اور مخلص موحدین کو جنت میں اور مشرکین و جاحدین اور مکذبین کو جہنم میں داخل کروں گا۔ اس آیت سے بھی وفات النبی ﷺ کا اثبات ہوتا ہے، جس طرح کہ سورۃ آل عمران کی آیت ۱۴۴ سے بھی ہوتا ہے اور انہی آیات سے استدلال کرتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے بھی لوگوں میں آپ ﷺ کی موت کا تحقق فرمایا تھا۔ اس لیے نبی ﷺ کی بابت یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ کو برزخ میں بالکل اسی طرح زندگی حاصل ہے جس طرح دنیا میں حاصل تھی، قرآن کی نصوص کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ پر بھی دیگر انسانوں ہی کی طرح موت طاری ہوئی، اسی لیے آپ کو دفن کیا گیا، قبر میں آپ کو برزخی زندگی تو یقیناً حاصل ہے، جس کی کیفیت کا ہمیں علم نہیں، لیکن دوبارہ قبر میں آپ کو دنیاوی زندگی عطا نہیں کی گئی۔ ﷺ
یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔
ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِندَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ ﴿٣١﴾
پھر تم سب کے سب قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے۔ (١)
٣١۔١ یعنی اے پیغمبر ﷺ آپ بھی اور آپ کے مخالف بھی، سب موت سے ہم کنار ہو کر اس دنیا سے ہمارے پاس آخرت میں آئیں گے۔ دنیا میں تو توحید اور شرک کا فیصلہ تمہارے درمیان نہیں ہو سکا اور تم اس بارے میں جھگڑتے ہی رہے۔ لیکن یہاں میں اس کا فیصلہ کروں گا اور مخلص موحدین کو جنت میں اور مشرکین و جاحدین اور مکذبین کو جہنم میں داخل کروں گا۔ اس آیت سے بھی وفات النبی ﷺ کا اثبات ہوتا ہے، جس طرح کہ سورۃ آل عمران کی آیت ۱۴۴ سے بھی ہوتا ہے اور انہی آیات سے استدلال کرتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے بھی لوگوں میں آپ ﷺ کی موت کا تحقق فرمایا تھا۔ اس لیے نبی ﷺ کی بابت یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ کو برزخ میں بالکل اسی طرح زندگی حاصل ہے جس طرح دنیا میں حاصل تھی، قرآن کی نصوص کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ پر بھی دیگر انسانوں ہی کی طرح موت طاری ہوئی، اسی لیے آپ کو دفن کیا گیا، قبر میں آپ کو برزخی زندگی تو یقیناً حاصل ہے، جس کی کیفیت کا ہمیں علم نہیں، لیکن دوبارہ قبر میں آپ کو دنیاوی زندگی عطا نہیں کی گئی۔ ﷺ