- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
اللَّـهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿٤٢﴾
اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت (١) اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے، (٢) پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے (٣) اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ (٤) غور کرنے والوں کے لیے اس میں یقیناً بہت نشانیاں ہیں۔ (٥)
٤٢۔١ یہ وفات کبریٰ ہے کہ روح قبض کر لی جاتی ہے، واپس نہیں آتی۔
٤٢۔٢ یعنی جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا، تو سونے کے وقت ان کی روح بھی قبض کر کے انہیں وفات صغریٰ سے دوچارکر دیا جاتا ہے۔
٤٢۔٣ یہ وہی وفات کبریٰ ہے، جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں روح روک لی جاتی ہے۔
٤٢۔٤ یعنی جب تک ان کا وقت موعود نہیں آتا، اس وقت تک کے لیے ان کی روحیں واپس ہوتی رہتی ہیں، یہ وفات صغریٰ ہے، یہی مضمون سورۃ الانعام: ۶۰-۶۱ میں بیان کیا گیا ہے، تاہم وہاں وفات صغری کا ذکر پہلے اور وفات کبریٰ کا بعد میں ہے۔ جب کہ یہاں اس کے برعکس ہے۔
٤٢۔٥ یعنی یہ روح کا قبض اور اس کا ارسال اور توفی اور احیاء، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور قیامت والے دن وہ مردوں کو بھی یقیناً زندہ فرمائے گا۔
اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت (١) اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے، (٢) پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے (٣) اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ (٤) غور کرنے والوں کے لیے اس میں یقیناً بہت نشانیاں ہیں۔ (٥)
٤٢۔١ یہ وفات کبریٰ ہے کہ روح قبض کر لی جاتی ہے، واپس نہیں آتی۔
٤٢۔٢ یعنی جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا، تو سونے کے وقت ان کی روح بھی قبض کر کے انہیں وفات صغریٰ سے دوچارکر دیا جاتا ہے۔
٤٢۔٣ یہ وہی وفات کبریٰ ہے، جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں روح روک لی جاتی ہے۔
٤٢۔٤ یعنی جب تک ان کا وقت موعود نہیں آتا، اس وقت تک کے لیے ان کی روحیں واپس ہوتی رہتی ہیں، یہ وفات صغریٰ ہے، یہی مضمون سورۃ الانعام: ۶۰-۶۱ میں بیان کیا گیا ہے، تاہم وہاں وفات صغری کا ذکر پہلے اور وفات کبریٰ کا بعد میں ہے۔ جب کہ یہاں اس کے برعکس ہے۔
٤٢۔٥ یعنی یہ روح کا قبض اور اس کا ارسال اور توفی اور احیاء، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور قیامت والے دن وہ مردوں کو بھی یقیناً زندہ فرمائے گا۔