• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ أَفَغَيْرَ‌ اللَّـهِ تَأْمُرُ‌ونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ ﴿٦٤﴾
آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو۔ (١)
٦٤۔١ یہ کفار کی اس دعوت کے جواب میں ہے جو پیغمبراسلام حضرت محمد ﷺ کو دیا کرتے تھے کہ اپنے آبائی دین کو اختیار کر لیں، جس میں بتوں کی عبادت تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَ‌كْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِ‌ينَ ﴿٦٥﴾
یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا۔ (١)
٦٥۔١ (اگر تو نے شرک کیا) کا مطلب ہے، اگر موت شرک پر آئی اور اس سے توبہ نہ کی۔ خطاب اگرچہ نبی ﷺ سے ہے جو شرک سے پاک بھی تھے اور آئندہ کے لیے محفوظ بھی۔ کیونکہ پیغمبر اللہ کی حفاظت و عصمت میں ہوتا ہے، ان سے ارتکاب شرک کا کوئی امکان نہیں تھا، لیکن یہ دراصل امت کے لیے تعریض اور اس کو سمجھانا مقصود ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلِ اللَّـهَ فَاعْبُدْ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِ‌ينَ ﴿٦٦﴾
بلکہ تو اللہ ہی کی عبادت کر (١) اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا۔
٦٦۔١ ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ کی طرح یہاں بھی مفعول (اللہ) کو مقدم کر کے حصر کا مفہوم پیدا کر دیا گیا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو!
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا قَدَرُ‌وا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِ‌هِ وَالْأَرْ‌ضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِ‌كُونَ ﴿٦٧﴾
اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی، (١) ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے، (۲) وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔
٦٧۔١ کیونکہ اس کی بات بھی نہیں مانی، جو اس نے پیغمبروں کے ذریعے ان تک پہنچائی تھی اور عبادت بھی اس کے لیے خالص نہیں کی بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شریک کر لیا۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک یہودی عالم نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ ہم اللہ کی بابت (کتابوں میں) یہ بات پاتے ہیں کہ وہ (قیامت والے دن) آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور ثری (تری) کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور فرمائے گا، میں بادشاہ ہوں۔ آپ ﷺ نے مسکرا کر اس کی تصدیق فرمائی اور آیت ﴿وَمَا قَدَرُوا اللهَ﴾ کی تلاوت فرمائی۔ (صحیح بخاری تفسیر سورۂ زمر) محدثین اور سلف کا عقیدہ ہے کہ اللہ کی جن صفات کا ذکر قرآن اور احادیث صحیحہ میں ہے، (جس طرح اس آیت میں ہاتھ اور حدیث میں انگلیوں کا اثبات ہے) ان پر بلا کیف و تشبیہ اور بغیر تاویل و تحریف کے ایمان رکھنا ضروری ہے۔ اس لیے یہاں بیان کردہ حقیقت کو مجرد غلبہ و قوت کے مفہوم میں لینا صحیح نہیں ہے۔
٦٧۔۲ اس کی بابت بھی حدیث میں آتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ [أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الأَرْض] "میں بادشاہ ہوں۔ زمین کے بادشاہ (آج) کہاں ہیں؟" (حوالۂ مذکورہ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ‌ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْ‌ضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّـهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَ‌ىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُ‌ونَ ﴿٦٨﴾
اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے (١) مگر جسے اللہ چاہے، (۲) پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا پس وہ ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے۔ (۳)
٦٨۔۱ بعض کےنزدیک (نفخۂ فزع کے بعد) یہ نفخۂ ثانیہ یعنی نفخۂ صعق ہے، جس سے سب کی موت واقع ہو جائے گی۔ بعض کے نزدیک یہ نفخۂ اولیٰ ہی ہے، اس سے اولاً سخت گھبراہٹ طاری ہو گی اور پھر سب کی موت واقع ہو جائے گی۔ بعض نے ان نفخات کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے۔ پہلا نَفْخَةُ الفَنَاءِ۔ دوسرا نَفْخَةُ الْبَعْثِ۔ تیسرا نَفْخَةُ الصَّعْقِ۔ چوتھا نَفْخَةُ الْقِيَامِ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ۔ (ایسر التفاسیر) بعض کے نزدیک صرف دو ہی نفخے ہیں نَفْخَةُ الْمَوْتِ اور نَفْخَةُ الْبَعْثِ اور بعض کے نزدیک تین۔ وَاللهُ أَعْلَمُ۔
٦٨۔۲ یعنی جن کو اللہ چاہے گا، ان کو موت نہیں آئے گی، جیسے جبرائیل، میکائل اور اسرافیل۔ بعض کہتے ہیں رضوان فرشتہ، حَمَلَةُ الْعَرْشِ (عرش اٹھانے والے فرشتے) اور جنت و جہنم پر مقرر داروغے۔ (فتح القدیر)
٦٨۔۳ چار نفخوں کے قائلین کے نزدیک یہ چوتھا، تین کے قائلین کے نزدیک تیسرا اور دو کے قائلین کے نزدیک یہ دوسرا نفخہ ہے۔ بہرحال اس نفخے سے سب زندہ ہو کر میدان محشر میں رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں گے، جہاں حساب کتاب ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَشْرَ‌قَتِ الْأَرْ‌ضُ بِنُورِ‌ رَ‌بِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴿٦٩﴾
اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی، (١) نامہ اعمال حاضر کیے جائیں گے نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا (۲) اور لوگوں کے درمیان حق حق فیصلے کر دیئے جائیں گے اور وہ ظلم نہ کیے جائیں گے۔ (۳)
٦٩۔١ اس نور سے بعض نے عدل اور بعض نے حکم مراد لیا ہے لیکن اسے حقیقی معنوں پر محمول کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے، کیونکہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (قَالَهُ الشَّوْكَانِيُّ فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ)۔
٦٩۔۲ نبیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے میرا پیغام اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا دیا تھا؟ یا یہ پوچھا جائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا، اسے قبول کیا یا اس کا انکار کیا؟ امت محمدیہ کو بطور گواہ لایا جائے گا جو اس بات کی گواہی دے گی کہ تیرے پیغمبروں نے تیرا پیغام اپنی اپنی قوم یا امت کو پہنچا دیا تھا، جیسا کہ تو نے ہمیں اپنے قرآن کے ذریعے سے ان امور پر مطلع فرمایا تھا۔
٦٩۔۳ یعنی کسی اجر و ثواب میں کمی نہیں ہو گی اور کسی کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُونَ ﴿٧٠﴾
اور جس شخص نے جو کچھ کیا ہے بھرپور دے دیا جائے گا، جو کچھ لوگ کر رہے ہیں وہ بخوبی جاننے والا ہے۔ (١)
۷۰۔۱ یعنی اس کو کسی کاتب، حاسب اور گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اعمال نامے اور گواہ صرف بطور حجت اور قطع معذرت کے ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرً‌ا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُ‌سُلٌ مِّنكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَ‌بِّكُمْ وَيُنذِرُ‌ونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا ۚ قَالُوا بَلَىٰ وَلَـٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِ‌ينَ ﴿٧١﴾
کافروں کے غول کے غول جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے، (١) جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے اس کے دروازے ان کے لیے کھول دیئے جائیں گے، (٢) اور وہاں کے نگہبان ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے رہتے؟ یہ جواب دیں گے ہاں درست ہے (۳) لیکن عذاب کا حکم کافروں پر ثابت ہو گیا۔ (٤)
٧١۔١ زُمَرٌ زَمْرٌ سے مشتق ہے بمعنی آواز، ہر گروہ یا جماعت میں شور اور آوازیں ضرور ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ جماعت اور گروہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، مطلب ہے کہ کافروں کو جہنم کی طرف گروہوں کی شکل میں لے جایا جائے گا، ایک گروہ کے پیچھے ایک گروہ۔ علاوہ ازیں انہیں مار دھکیل کر جانوروں کے ریوڑ کی طرح ہنکایا جائے گا۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا، ﴿يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ (الطور: ۱۳) یعنی انہیں جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جائے گا۔
٧١۔۲ یعنی ان کے پہنچتے ہی فوراً جہنم کے ساتوں دروازے کھول دیئے جائیں گے تاکہ سزا میں تاخیر نہ ہو۔
٧١۔۳ یعنی جس طرح دنیا میں بحث و تکرار اور جدل و مناظرہ کرتے تھے، وہاں سب کچھ آنکھوں کے سامنے آجانے کے بعد، بحث و جدال کی گنجائش ہی باقی نہ رہے گی، اس لیے اعتراف کیے بغیر چارہ نہیں ہو گا۔
٧١۔٤ یعنی ہم نے پیغمبروں کی تکذیب اور مخالفت کی، اس شقاوت کی وجہ سے جس کے ہم مستحق تھے، جب کہ ہم نے حق سے گریز کر کے باطل کو اختیار کیا، اس مضمون کو سورۃ الملک: ۸-۱۰ میں زیادہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قِيلَ ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِ‌ينَ ﴿٧٢﴾
کہا جائے گا کہ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ جہاں ہمیشہ رہیں گے، پس سرکشوں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے۔

وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَ‌بَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرً‌ا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ ﴿٧٣﴾
اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کے گروہ کے گروہ جنت کی طرف روانہ کیے جائیں گے (۱) یہاں تک کہ جب اس کے پاس آجائیں گے اور دروازے کھول دیئے جائیں گے (٢) اور وہاں کے نگہبان ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم خوش حال رہو تم اس میں ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ۔
٧٢۔١ اہل ایمان و تقویٰ بھی گروہوں کی شکل میں جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، پہلے مقربین، پھر ابرار، اس طرح درجہ بدرجہ، ہر گروہ ہم مرتبہ لوگوں پر مشتمل ہو گا۔ مثلاً انبیاء علیہم السلام، انبیاء علیہم السلام کے ساتھ صدیقین شہداء اپنے ہم جنسوں کے ساتھ، علماء اپنے اقران کے ساتھ، یعنی ہر صنف اپنی ہی صنف یا اس کی مثل کے ساتھ ہو گی۔ (ابن کثیر)
٧٢۔٢ حدیث میں آتا ہے، جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک ریان ہے، جس سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔ (صحیح بخاری: ۲۲۵۷، مسلم: ۸۰۸) اسی طرح دوسرے دروازوں کے نام بھی ہوں گے، جیسے باب الصلوٰۃ، باب الصدقہ، باب الجھاد وغیرہ (صحيح بخاری، كتاب الصيام، مسلم، كتاب الزكاة) ہر دروازے کی چوڑائی چالیس سال کی مسافت کے برابرہو گی، اس کے باوجود یہ بھرے ہوئے ہوں گے۔ (صحيح مسلم كتاب الزهد) سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے نبی ﷺ ہوں گے۔ (مسلم كتاب الإيمان، باب أنا أول الناس يشفع) جنت میں سب سے پہلے جانے والے گروہ کے چہرے پر چودھویں رات کے چاند کی طرح اور دوسرے گروہ کے چہرے پر آسمان پر چمکنے والے ستاروں میں سے روشن ترین ستارے کی طرح چمکتے ہوں گے۔ جنت میں وہ بول و براز اور تھوک، بلغم سے پاک ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی اور پسینہ کستوری ہو گا، ان کی انگیٹھیوں میں خوشبودار لکڑی ہو گی، ان کی بیویاں الحور العین ہوں گی، ان کا قد آدم عليہ السلام کی طرح ساٹھ ہاتھ ہو گا۔ (صحيح بخاری، أول كتاب الأنبياء) صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کو دو بیویاں ملیں گی، ان کے حسن و جمال کا یہ حال ہو گا کہ ان کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا۔ (كتاب بدء الخلق، باب ما جاء في صفة الجنة) بعض نے کہا یہ دو بیویاں حوروں کے علاوہ، دنیا کی عورتوں میں سے ہوں گی۔ لیکن چونکہ ۷۲ حوروں والی روایت سنداً صحیح نہیں۔ اس لیے بظاہر یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ ہر جنتی کی کم از کم حور سمیت دو بیویاں ہو گی۔ تاہم ﴿وَلَهُمْ فِيهَا مَا يَشْتَهُونَ﴾ کے تحت زیادہ بھی ممکن ہیں۔ واللہ اعلم (مزید دیکھئے فتح الباری۔ باب مذکور)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَ‌ثَنَا الْأَرْ‌ضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ ۖ فَنِعْمَ أَجْرُ‌ الْعَامِلِينَ ﴿٧٤﴾
یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں پس عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا بدلہ ہے۔

وَتَرَ‌ى الْمَلَائِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْ‌شِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَ‌بِّهِمْ ۖ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٧٥﴾
اور تو فرشتوں کو اللہ کے عرش کے ارد گرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوئے دیکھے گا (١) اور ان میں انصاف کا فیصلہ کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ساری خوبی اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے۔ (٢)
٧٥۔١ قضائے الٰہی کے بعد جب اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے، آیت میں اس کے بعد کا نقشہ بیان کیا گیا ہے کہ فرشتے عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے تسبیح و تحمید میں مصروف ہوں گے۔
٧٥۔٢ یہاں حمد کی نسبت کسی ایک مخلوق کی طرف نہیں کی گئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز (ناطق و غیر ناطق) کی زبان پر حمد الٰہی کے ترانے ہوں گے۔
 
Top