• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْ‌ضِ يَخْلُفُونَ ﴿٦٠﴾
اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کر دیتے جو زمین میں جانشینی کرتے۔ (١)
٦٠۔١ یعنی تمہیں ختم کرکے تمہاری جگہ زمین پر فرشتوں کو آباد کر دیتے، جو تمہاری ہی طرح ایک دوسرے کی جانشینی کرتے، مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کا آسمان پر رہنا ایسا شرف نہیں ہے کہ ان کی عبادت کی جائے یہ تو ہماری مشیت اور قضا ہے کہ فرشتوں کو آسمان پر اور انسانوں کو زمین پر آباد کیا، ہم چاہیں تو فرشتوں کو زمین پر بھی آباد کر سکتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُ‌نَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ۚ هَـٰذَا صِرَ‌اطٌ مُّسْتَقِيمٌ ﴿٦١﴾
اور یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی علامت ہے (١) پس تم (قیامت) کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔
٦١۔١ عِلْمٌ بمعنی علامت ہے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نزول ہو گا، جیسا کہ صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے۔ یہ نزول اس بات کی علامت ہو گا کہ اب قیامت قریب ہے اسی لیے بعض نے اسے عین اور لام کے زبر کے ساتھ (عَلَمٌ) پڑھا ہے، جس کے معنی ہی نشانی اور علامت کے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک انہیں قیامت کی نشانی قرار دینا، ان کی معجزانہ ولادت کی بنیاد پر ہے۔ یعنی جس طرح اللہ نے ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔ ان کی یہ پیدائش اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ فرما دے گا، اس لیے قدرت الٰہی کو دیکھتے ہوئے وقوع قیامت میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ إِنَّهُ میں ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ عليہ السلام ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ ۖ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿٦٢﴾
اور شیطان تمہیں روک نہ دے، یقیناً وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔

وَلَمَّا جَاءَ عِيسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُم بِالْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُونِ ﴿٦٣﴾
اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) معجزے لائے تو کہا۔ کہ میں تمہارے پاس حکمت لایا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ جن بعض چیزوں میں تم مختلف ہو، انہیں واضح کر دوں، (١) پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
٦٣۔١ اس کے لیے دیکھئے آل عمران، آیت: ۵ کا حاشیہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ اللَّـهَ هُوَ رَ‌بِّي وَرَ‌بُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ هَـٰذَا صِرَ‌اطٌ مُّسْتَقِيمٌ ﴿٦٤﴾
میرا اور تمہارا رب فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس تم سب اس کی عبادت کرو۔ راہ راست (یہی) ہے۔

فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِن بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيمٍ ﴿٦٥﴾
پھر (بنی اسرائیل) کی جماعتوں نے آپس میں اختلاف کیا، (١) پس ظالموں کے لیے خرابی ہے دکھ والے دن کی آفت سے۔
٦٥۔١ اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں، یہودیوں نے حضرت عیسیٰ عليہ السلام کی تنقیص کی اور انہیں نعوذ باللہ ولد الزنا قرار دیا، جب کہ عیسائیوں نے غلو سے کام لے کر انہیں معبود بنا لیا۔ یا مراد عیسائیوں ہی کے مختلف فرقے ہیں جو حضرت عیسیٰ عليہ السلام کے بارے میں ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ ایک انہیں ابن اللہ، دوسرا اللہ اور ثالث ثلاثہ کہتا ہے اور ایک فرقہ مسلمانوں کی طرح انہیں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تسلیم کرتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَلْ يَنظُرُ‌ونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُ‌ونَ ﴿٦٦﴾
یہ لوگ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آپڑے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔

الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ ﴿٦٧﴾
اس دن (گہرے) دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔ (١)
٦٧۔١ کیوں کہ کافروں کی دوستی، کفر و فسق کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے اور یہی کفر و فسق ان کے عذاب کا باعث ہوں گے، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے اور ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس اہل ایمان و تقویٰ کی باہمی محبت، چونکہ دین اور رضائے الٰہی کی بنیاد پر ہوتی ہے اور یہی دین و ایمان خیر و ثواب کا باعث ہے۔ ان سے ان کی دوستی میں کوئی انقطاع نہیں ہو گا۔ وہ اسی طرح برقرار رہے گی جس طرح دنیا میں تھی۔

يَا عِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ ﴿٦٨﴾
میرے بندو! آج تم پر کوئی خوف (و ہراس) ہے اور نہ تم (بد دل اور) غمزدہ ہو گے۔ (١)
٦٨۔٢ یہ قیامت والے دن ان متقین کو کہا جائے گا جو دنیا میں صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے سے محبت رکھتے تھے۔ جیسا کہ احادیث میں بھی اس کی فضیلت وارد ہے۔ بلکہ اللہ کے لیے بغض اور اللہ کے لیے محبت کو کمال ایمان کی بنیاد بتلایا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِينَ آمَنُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا مُسْلِمِينَ ﴿٦٩﴾
جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور تھے بھی وہ (فرماں بردار) مسلمان۔

ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنتُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُ‌ونَ ﴿٧٠﴾
تم اور تمہاری بیویاں ہشاش بشاش (راضی خوشی) جنت میں چلے جاؤ۔ (١)
٧٠۔١ أَزْوَاجُكُمْ سے بعض نے مومن بیویاں، بعض نے مومن ساتھی اور بعض نے جنت میں ملنے والی حورعین بیویاں مراد لی ہے۔ یہ سارے ہی مفہوم صحیح ہیں کیونکہ جنت میں یہ سب کچھ ہی ہو گا۔ تُحْبَرُونَ حَبْرٌ سے ماخوذ ہے یعنی وہ فرحت و مسرت جو انہیں جنت کی نعمت و عزت کی وجہ سے ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يُطَافُ عَلَيْهِم بِصِحَافٍ مِّن ذَهَبٍ وَأَكْوَابٍ ۖ وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ ۖ وَأَنتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٧١﴾
ان کے چاروں طرف سے سونے کی رکابیاں اور سونے کے گلاسوں کا دور چلایا جائے گا، (١) ان کے جی جس چیز کی خواہش کریں اور جس سے ان کی آنکھیں لذت پائیں، سب وہاں ہو گا اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ (٢)
٧١۔١ صِحَافٌ ، صَحْفَةٌ کی جمع ہے۔ رکابی۔ سب سے بڑے برتن کو جَفْنَةٌ کہا جاتا ہے، اس سے چھوٹا قَصْعَةٌ (جس سے دس آدمی شکم سیر ہو جاتے ہیں) پھر صَحْفَةٌ (قَصْعَةٌ سے نصف) پھر مِكِيلَةٌ ہے۔ مطلب ہے کہ اہل جنت کو جو کھانے ملیں گے، وہ سونے کی رکابیوں میں ہوں گے۔ (فتح القدیر)
٧١۔٢ یعنی جس طرح ایک وارث، میراث کا مالک ہوتا ہے، اسی طرح جنت بھی ایک میراث ہے جس کے وارث وہ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں ایمان اور عمل صالح کی زندگی گزاری ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِ‌ثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٧٢﴾
یہی وہ بہشت ہے کہ تم اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث بنائے گئے ہو۔

لَكُمْ فِيهَا فَاكِهَةٌ كَثِيرَ‌ةٌ مِّنْهَا تَأْكُلُونَ ﴿٧٣﴾
یہاں تمہارے لیے بکثرت میوے ہیں جنہیں تم کھاتے رہو گے۔

إِنَّ الْمُجْرِ‌مِينَ فِي عَذَابِ جَهَنَّمَ خَالِدُونَ ﴿٧٤﴾
بیشک گنہگار لوگ عذاب دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔

لَا يُفَتَّرُ‌ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ ﴿٧٥﴾
یہ عذاب کبھی بھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اسی میں مایوس پڑے رہیں گے۔ (١)
٧٥۔١ یعنی نجات سے مایوس۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوا هُمُ الظَّالِمِينَ ﴿٧٦﴾
اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی ظالم تھے۔

وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَ‌بُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُم مَّاكِثُونَ ﴿٧٧﴾
اور پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک! (١) تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے، (٢) وہ کہے گا کہ تمہیں تو (ہمیشہ) رہنا ہے۔ (٣)
٧٧۔١ مالک، دروغہ جہنم کا نام ہے۔
٧٧۔٢ یعنی ہمیں موت ہی دے دے تاکہ عذاب سے جان چھوٹ جائے۔
٧٧۔٣ یعنی وہاں موت کہاں؟ لیکن یہ عذاب کی زندگی موت سے بھی بدتر ہو گی، تاہم اس کے بغیر بھی چارہ نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَقَدْ جِئْنَاكُم بِالْحَقِّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌كُمْ لِلْحَقِّ كَارِ‌هُونَ ﴿٧٨﴾
ہم تو تمہارے پاس حق لے آئے لیکن تم میں اکثر لوگ حق (١) سے نفرت رکھنے والے تھے۔
٧٨۔١ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یا فرشتوں کا ہی قول بطور نیابت الٰہی ہے۔ جیسے کوئی افسر مجاز (ہم) کا استعمال حکومت کے مفہوم میں کرتا ہے۔ اکثر سے مراد کل ہے، یعنی سارے ہی جہنمی، یا پھر اکثر سے مراد رؤسا اور لیڈر ہیں۔ باقی جہنمی ان کے پیروکار ہونے کی حیثیت سے اس میں شامل ہوں گے۔ حق سے مراد، اللہ کا وہ دین اور پیغام ہے جو وہ پیغمبروں کے ذریعے سے ارسال کرتا رہا۔ آخری حق قرآن اور دین اسلام ہے۔
 
Top