• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ أَبْرَ‌مُوا أَمْرً‌ا فَإِنَّا مُبْرِ‌مُونَ ﴿٧٩﴾
کیا انہوں نے کسی کام کا پختہ ارادہ کر لیا ہے تو یقین مانو کہ ہم بھی پختہ کام کرنے والے ہیں۔ (١)
٧٩۔١ إِبْرَامٌ کے معنی ہیں، اتقان و احکام۔ پختہ اور مضبوط کرنا۔ أَمْ اضراب کے لیے ہے بَلْ کے معنی میں۔ یعنی ان جہنمیوں نے حق کو ناپسند ہی نہیں کیا بلکہ یہ اس کے خلاف منظم تدبیریں اور سازشیں کرتے رہے۔ جس کے مقابلے میں پھر ہم نے بھی اپنی تدبیر کی اور ہم سے زیادہ مضبوط تدبیر کس کی ہو سکتی ہے؟ اس کے ہم معنی یہ آیت ہے۔ ﴿أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدًا فَالَّذِينَ كَفَرُوا هُمُ الْمَكِيدُونَ﴾ (الطور: ۴۲)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّ‌هُمْ وَنَجْوَاهُم ۚ بَلَىٰ وَرُ‌سُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ ﴿٨٠﴾
کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سن سکتے، (یقیناً ہم برابر سن رہے ہیں) (١) بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں۔ (٢)
٨٠۔١ یعنی جو پوشیدہ باتیں وہ اپنے نفسوں میں چھپائے پھرتے ہیں یا خلوت میں آہستگی سے کرتے ہیں یا آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں، کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم وہ نہیں سنتے؟ مطلب ہے ہم سب سنتے اور جانتے ہیں۔
٨٠۔٢ یعنی یقیناً سنتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے الگ ان کی ساری باتیں نوٹ کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّ‌حْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ ﴿٨١﴾
آپ کہہ دیجئے! اگر بالفرض رحمٰن کی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا۔ (١)
٨١۔١ کیونکہ میں اللہ کا مطیع اور فرماں بردار ہوں۔ اگر واقعی اس کی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں ان کی عبادت کرنے والا ہوتا۔ مطلب مشرکین کے عقیدے کا ابطال اور رد ہے جو اللہ کی اولاد ثابت کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سُبْحَانَ رَ‌بِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ رَ‌بِّ الْعَرْ‌شِ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿٨٢﴾
آسمانوں اور زمین اور عرش کا رب جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں اس (سے) بہت پاک ہے۔ (١)
٨٢۔١ یہ اللہ کا کلام ہے جس میں اس نے اپنی تنزیہ و تقدیس بیان کی ہے، یا رسول ﷺ کا کلام ہے اور آپ ﷺ نے بھی اللہ کے حکم سے اللہ کی ان چیزوں سے تنزیہ و تقدیس بیان کی جن کا انتساب مشرکین اللہ کی طرف کرتے تھے۔

فَذَرْ‌هُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا حَتَّىٰ يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ ﴿٨٣﴾
اب آپ انہیں اس بحث مباحثہ اور کھیل کود میں چھوڑ دیجئے، (١) یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑ جائے جن کا یہ وعدہ دیئے جاتے ہیں۔ (٢)
٨٣۔١ یعنی اگر یہ ہدایت کا راستہ نہیں اپناتے تو اب انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں اور دنیا کے کھیل کود میں لگا رہنے دیں۔ یہ تہدید و تنبیہ ہے۔
٨٣۔٢ ان کی آنکھیں اسی دن کھلیں گی جب ان کے اس روئیے کا انجام ان کے سامنے آئے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَـٰهٌ وَفِي الْأَرْ‌ضِ إِلَـٰهٌ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ ﴿٨٤﴾
وہی آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی وہی قابل عبادت ہے (١) اور وہ بڑی حکمت والا اور پورے علم والا ہے۔
٨٤۔١ یہ نہیں ہے کہ آسمانوں کا معبود کوئی اور ہو اور زمین کا کوئی اور۔ بلکہ جس طرح ان دونوں کا خالق ایک ہے، معبود بھی ایک ہی ہے۔ اسی کے ہم معنی یہ آیت ہے۔ ﴿وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ﴾ (سورة الأنعام: ۳) ”آسمان و زمین میں وہی اللہ ہے، وہ تمہاری پوشیدہ اور جہری باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، وہ بھی اس کے علم میں ہے“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَتَبَارَ‌كَ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْ‌جَعُونَ ﴿٨٥﴾
اور وہ بہت برکتوں والا ہے جس کے پاس آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی بادشاہت، (١) اور قیامت کا علم بھی اس کے پاس ہے (٢) اور اسی کی جانب تم سب لوٹائے جاؤ گے۔ (٣)
٨٥۔١ ایسی ذات کو، جس کے پاس سارے اختیارات اور زمین و آسمان کی بادشاہت ہو، اسے بھلا اولاد کی کیا ضرورت؟
٨٥۔٢ جس کو وہ اپنے وقت پر ظاہر فرمائے گا۔
٨٥۔٣ جہاں وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿٨٦﴾
جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، (١) ہاں (مستحق شفاعت وہ ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو۔ (٢)
٨٦۔١ یعنی دنیا میں جن بتوں کی یہ عبادت کرتے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے۔ ان معبودوں کو شفاعت کا قطعاً کوئی اختیار نہیں ہو گا۔
٨٦۔٢ حق بات سے مراد کلمہ توحید (لا الٰہ الا اللہ) ہے اور یہ اقرار بھی علم و بصیرت کی بنیاد پر ہو، محض رسمی اور تقلیدی نہ ہو۔ یعنی زبان سے کلمۂ توحید ادا کرنے والے کو پتہ ہو کہ اس میں صرف ایک اللہ کا اثبات اور دیگر تمام معبودوں کی نفی ہے، پھر اس کے مطابق اس کا عمل ہو۔ ایسے لوگوں کے حق میں اہل شفاعت کی شفاعت مفید ہو گی۔ یا مطلب ہے کہ شفاعت کرنے کا حق صرف ایسے لوگوں کو ملے گا جو حق کا اقرار کرنے والے ہوں گے، یعنی انبیا و صالحین اور فرشتے۔ نہ کہ معبود ان باطل کو، جنہیں مشرکین اپنا شفاعت کنندہ خیال کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ﴿٨٧﴾
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً جواب دیں گے اللہ نے، پھر یہ کہاں الٹے جاتے ہیں؟

وَقِيلِهِ يَا رَ‌بِّ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُونَ ﴿٨٨﴾
اور ان کا (پیغمبر کا اکثر) یہ کہنا (١) کہ اے میرے رب! یقیناً یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔
٨٨۔١ وَقِيلِهِ اس کا عطف وَعِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ پر ہے یعنی وَعِلمُ قِيلِهِ، اللہ کے پاس ہی قیامت اور اپنے پیغمبر کے شکوے کا علم کا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ﴿٨٩﴾
پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور کہہ دیں۔ (اچھا بھائی) سلام! (١) انہیں عنقریب (خود ہی) معلوم ہو جائے گا۔
٨٩۔١ یہ سلام متارکہ ہے، جیسے۔ ﴿سَلامٌ عَلَيْكُمْ لا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ﴾ (القصص: ۵۵) ﴿قَالُوا سَلامًا﴾ (الفرقان: ۶۳) میں ہے۔ یعنی دین کے معاملے میں میری اور تمہاری راہ الگ الگ ہے، تم اگر باز نہیں آتے تو اپنا عمل کیے جاؤ، میں اپنا کام کیے جا رہا ہوں، عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الدخان

(سورة الدخان مکی ہے اور اس میں انسٹھ آیتیں اور تین رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

حم ﴿١﴾ وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢﴾
حم - قسم ہے اس وضاحت والی کتاب کی۔

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَ‌كَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِ‌ينَ ﴿٣﴾
یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات (١) میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں۔ (٢)
٣۔١ بابرکت رات ﴿لَيْلَةٌ مُبَارَكَةٌ﴾ سے مراد شب قدر [لَيْلَةُ الْقَدْرِ] ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر صراحت ہے ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾ (البقرة: ۱۸۵) ”رمضان کے مہینے میں قرآن نازل کیا گیا“ ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ (سورة القدر) ”ہم نے یہ قرآن شب قدر میں نازل فرمایا“۔ یہ شب قدر رمضان کے عشرۂ اخیر کی طاق راتوں میں سے ہی کوئی ایک رات ہوتی ہے۔ یہاں قدر کی اس رات کو بابرکت رات قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بابرکت ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے کہ ایک تو اس میں قرآن کا نزول ہوا۔ دوسرے، اس میں فرشتوں اور روح الامین کا نزول ہوتا ہے۔ تیسرے اس میں سارے سال میں ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے، (جیسا کہ آگے آرہا ہے) چوتھے، اس رات کی عبادت ہزار مہینے (یعنی ۸۳ سال ۴ ماہ) کی عبادت سے بہتر ہے شب قدر یا لیلۂ مبارکہ میں قرآن کے نزول کا مطلب یہ ہے کہ اسی رات سے نبی ﷺ پر قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ یعنی پہلے پہل اسی رات آپ پر قرآن نازل ہوا۔ یا یہ مطلب ہے کہ لوح محفوظ سے اسی رات قرآن بیت العزت میں اتارا گیا جو آسمان دنیا پر ہے۔ پھر وہاں سے حسب ضرورت و مصلحت ۲۳ سالوں تک مختلف اوقات میں نبی ﷺ پر اترتا رہا۔ بعض لوگوں نے لیلۂ مبارکہ سے شعبان کی پندرھویں رات مراد لی ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے، جب قرآن کی نص صریح سے قرآن کا نزول شب قدر میں ثابت ہے تو اس سے شب براءت مراد لینا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ علاوہ ازیں شب براءت (شعبان کی پندرھویں رات) کی بابت جتنی بھی روایات آتی ہیں، جن میں اس کی فضیلت کا بیان ہے یا ان میں اسے فیصلے کی رات کہا گیا ہے، تو یہ سب روایات سنداً ضعیف ہیں۔ یہ قرآن کی نص صریح کا مقابلہ کس طرح کر سکتی ہیں؟
٣۔٢ یعنی نزول قرآن کا مقصد لوگوں کو نفع و ضرر شرعی سے آگاہ کرنا ہے تا کہ ان پر حجت قائم ہو جائے۔
 
Top