• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فِيهَا يُفْرَ‌قُ كُلُّ أَمْرٍ‌ حَكِيمٍ ﴿٤﴾
اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ (١)
٤۔١ يُفْرَقُ، يُفَصَّلُ وَيُبَيَّنُ، فیصلہ کر دیا جاتا اور یہ کام کو اس سے متعلق فرشتے کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ حکیم بمعنی پر حکمت کہ اللہ کا ہر کام ہی باحکمت ہوتا ہے یا بمعنی مُحْكَمٍ (مضبوط، پختہ) جس میں تغیر و تبدیلی کا امکان نہیں۔ صحابہ و تابعین سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس رات میں آنے والے سال کی بابت موت و حیات اور وسائل زندگی کے فیصلے لوح محفوظ سے اتار کر فرشتوں کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں۔ (ابن کثیر)

أَمْرً‌ا مِّنْ عِندِنَا ۚ إِنَّا كُنَّا مُرْ‌سِلِينَ ﴿٥﴾
ہمارے پاس سے حکم ہو کر، (١) ہم ہی ہیں رسول بنا کر بھیجنے والے۔
٥۔١ یعنی سارے فیصلے ہمارے حکم و اذن اور ہماری تقدیر و مشیت سے ہوتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رَ‌حْمَةً مِّن رَّ‌بِّكَ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿٦﴾
آپ کے رب کی مہربانی سے۔ (١) وہ ہی ہے سننے والا جاننے والا۔
٦۔١ یعنی انزال کتب کے ساتھ إِرْسَالُ رُسُلٍ (رسولوں کا بھیجنا) یہ بھی ہماری رحمت ہی کا ایک حصہ ہے تاکہ وہ ہماری نازل کردہ کتابوں کو کھول کر بیان کریں اور ہمارے احکام لوگوں تک پہنچائیں۔ اس طرح مادی ضرورتوں کی فراہمی کے ساتھ ہم نے اپنی رحمت سے لوگوں کے روحانی تقاضوں کی تکمیل کا بھی سامان مہیا کر دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رَ‌بِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ ﴿٧﴾
جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو۔

لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ رَ‌بُّكُمْ وَرَ‌بُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ ﴿٨﴾
کوئی معبود نہیں اسکے سوا وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے، وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا۔ (١)
٨۔١ یہ آیات بھی سورۂ اعراف کی آیت کی طرح ہیں، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لا إِلَهَ إِلا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ﴾ (سورۃ الاعراف:۔ ۱۵۸)

بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ يَلْعَبُونَ ﴿٩﴾
بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں۔ (١)
٩۔١ یعنی حق اور اس کے دلائل ان کے سامنے آگئے۔ لیکن وہ اس پر ایمان لانے کے بجائے شک میں مبتلا ہیں اور اس شک کے ساتھ استہزا اور کھیل کود میں پڑے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَارْ‌تَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ ﴿١٠﴾
آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔ (١)
١٠۔١ یہ ان کفار کے لیے تہدید ہے کہ اچھا آپ اس دن کا انتظار فرمائیں جب کہ آسمان پر دھوئیں کا ظہور ہو گا۔ اس کے سبب نزول میں بتلایا گیا ہے کہ اہل مکہ کے معاندانہ رویئے سے تنگ آ کر نبی ﷺ نے ان کے لیے قحط سالی کی بد دعا فرمائی، جس کے نتیجے میں ان پر قحط کا عذاب نازل کر دیا گیا حتیٰ کہ وہ ہڈیاں، کھالیں، اور مردار وغیرہ تک کھانے پر مجبور ہو گئے، آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک اور کمزوری کی شدت کی وجہ سے انہیں دھواں سا نظر آتا۔ بالآخر تنگ آ کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عذاب ٹلنے پر ایمان لانے کا وعدہ کیا، لیکن یہ کیفیت دور ہوتے ہی ان کا کفر و عناد پھر اسی طرح عود کر آیا۔ چنانچہ پھر جنگ بدر میں ان کی سخت گرفت کی گئی۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر) بعض کہتے ہیں کہ قرب قیامت کی دس بڑی بڑی علامات میں سے ایک علامت دھواں بھی ہے جس سے کافر زیادہ متاثر ہوں گے اور مومن بہت کم۔ آیت میں اسی دھوئیں کا ذکر ہے۔ اس تفسیر کی رو سے یہ علامت قیامت کے قریب ظاہر ہو گی جب کہ پہلی تفسیر کی رو سے یہ ظاہر ہو چکی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں، دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں، اس کی شان نزول کے اعتبار سے یہ واقعہ ظہور پذیر ہو چکا ہے جو صحیح سند سے ثابت ہے۔ تاہم علامات قیامت میں بھی اس کا ذکر صحیح احادیث میں آیا ہے، اس لیے وہ بھی اس کے منافی نہیں ہے، اس وقت بھی اس کا ظہور ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَغْشَى النَّاسَ ۖ هَـٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١١﴾
جو لوگوں کو گھیر لے گا، یہ دردناک عذاب ہے۔

رَّ‌بَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ ﴿١٢﴾
کہیں گے اے ہمارے رب! یہ آفت ہم سے دور کر ہم ایمان قبول کرتے ہیں۔ (١)
١٢۔١ پہلی تفسیر کی رو سے یہ کفار مکہ نے کہا اور دوسری تفسیر کی رو سے قیامت کے قریب کافر کہیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَنَّىٰ لَهُمُ الذِّكْرَ‌ىٰ وَقَدْ جَاءَهُمْ رَ‌سُولٌ مُّبِينٌ ﴿١٣﴾
ان کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ کھول کھول کر بیان کرنے والے پیغمبر ان کے پاس آچکے۔

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ ﴿١٤﴾
پھر بھی انہوں نے منہ پھیرا اور کہہ دیا کہ سکھایا پڑھایا ہوا باؤلا ہے۔

إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا ۚ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ ﴿١٥﴾
ہم عذاب کو تھوڑا دور کر دیں گے تو تم پھر اپنی اسی حالت پر آجاؤ گے۔

يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَ‌ىٰ إِنَّا مُنتَقِمُونَ ﴿١٦﴾
جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے، (١) بالیقین ہم بدلہ لینے والے ہیں۔
١٦۔١ اس سے مراد جنگ بدر کی گرفت ہے، جس میں ستر کافر مارے گئے اور ستر قیدی بنا لیے گئے۔ دوسری تفسیر کی رو سے یہ سخت گرفت قیامت والے دن ہو گی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ یہ اس گرفت خاص کا ذکر ہے جو جنگ بدر میں ہوئی، کیونکہ قریش کے سیاق میں ہی اس کا ذکر ہے۔ اگرچہ قیامت والے دن بھی اللہ تعالیٰ سخت گرفت فرمائے گا تاہم وہ گرفت عام ہو گی، ہر نافرمان اس میں شامل ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْ‌عَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَ‌سُولٌ كَرِ‌يمٌ ﴿١٧﴾
یقیناً ان سے پہلے ہم قوم فرعون کو (بھی) آزما چکے ہیں (١) جن کے پاس (اللہ) کا باعزت رسول آیا۔
١٧۔١ آزمانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے انہیں دنیوی خوشی، خوشحالی وفراغت سے نوازا اور پھر اپنا جلیل القدر پیغمبر بھی ان کی طرف ارسال کیا لیکن انہوں نے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کیا اور نہ پیغمبر پر ایمان لائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللَّـهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ رَ‌سُولٌ أَمِينٌ ﴿١٨﴾
کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو، (١) یقین مانو کہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں۔ (٢)
١٨۔١ عِبَادَ اللهِ سے مراد یہاں موسیٰ عليہ السلام کی قوم بنی اسرائیل ہے جسے فرعون نے غلام بنارکھا تھا۔ حضرت موسیٰ عليہ السلام نے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔
١٨۔٢ اللہ کا پیغام پہنچانے میں امانت دار ہوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَن لَّا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ ۖ إِنِّي آتِيكُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ‎﴿١٩﴾‏
اور تم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی نہ کرو، (١) میں تمہارے پاس کھلی دلیل لانے والا ہوں۔ (٢)
١٩۔١ یعنی اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کرکے اللہ کے سامنے اپنی بڑائی اور سرکشی کا اظہار نہ کرو۔
١٩۔٢ یہ ماقبل کی علت ہے کہ میں ایسی حجت واضحہ ساتھ لایا ہوں جس کے انکار کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

وَإِنِّي عُذْتُ بِرَ‌بِّي وَرَ‌بِّكُمْ أَن تَرْ‌جُمُونِ ﴿٢٠﴾
اور میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ تم مجھے سنگسار کر دو۔ (١)
٢٠۔١ اس دعوت و تبلیغ کے جواب میں فرعون نے موسیٰ عليہ السلام کو قتل کی دھمکی دی، جس پر انہوں نے اپنے رب سے پناہ طلب کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ ﴿٢١﴾
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہی رہو۔ (١)
٢١۔١ یعنی اگر مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو نہ لاؤ، لیکن مجھے قتل کرنے کی یا اذیت پہنچانے کی کوشش نہ کرو۔
 
Top