• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا عَمَّا أُنذِرُ‌وا مُعْرِ‌ضُونَ ﴿٣﴾
ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو بہترین تدبیر کے ساتھ ہی ایک مدت معین کے لیے پیدا کیا ہے، (١) اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں منہ موڑ لیتے ہیں۔ (۲)
٣۔١ یعنی آسمان و زمین کی پیدائش کا ایک خاص مقصد بھی ہے اور وہ ہے انسانوں کی آزمائش۔ دوسرا، اس کے لیے ایک وقت بھی مقرر ہے۔ جب وہ وقت موعود آجائے گا تو آسمان و زمین کا یہ موجودہ نظام سارا بکھر جائے گا۔ نہ آسمان، یہ آسمان ہو گا، نہ زمین، یہ زمین ہو گی۔ ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ﴾ (سورة إبراهيم: ۴۸)
۳۔۲ یعنی عدم ایمان کی صورت میں بعث، حساب اور جزا سے جو انہیں ڈرایا جاتا ہے، وہ اس کی پروا ہی نہیں کرتے، اس پر ایمان لاتے ہیں، نہ عذاب اخروی سے بچنے کی تیاری کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ أَرَ‌أَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ أَرُ‌ونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْ‌ضِ أَمْ لَهُمْ شِرْ‌كٌ فِي السَّمَاوَاتِ ۖ ائْتُونِي بِكِتَابٍ مِّن قَبْلِ هَـٰذَا أَوْ أَثَارَ‌ةٍ مِّنْ عِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٤﴾
آپ کہہ دیجئے! بھلا دیکھو تو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا ٹکڑا بنایا ہے یا آسمانوں میں ان کا کون سا حصہ ہے؟ (۱) اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے ہی کی کوئی کتاب یا کوئی علم ہی جو نقل کیا جاتا ہو، میرے پاس لاؤ۔ (۲)
٤۔۱ أَرَأَيْتُمْ بمعنی أَخْبِرُونِي یا أَرُونِي یعنی اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں یا شخصیات کی تم عبادت کرتے ہو، مجھے بتلاؤ یا دکھلاؤ کہ انہوں نے زمین و آسمان کی پیدائش میں کیا حصہ لیا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جب آسمان و زمین کی پیدائش میں بھی ان کا کوئی حصہ نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر ان سب کا خالق صرف ایک اللہ ہے تو پھر تم ان غیر حق معبودوں کو اللہ کی عبادت میں کیوں شریک کرتے ہو؟
٤۔۲ یعنی کسی نبی پر نازل شدہ کتاب میں یا کسی منقول روایت میں یہ بات لکھی ہو تو وہ لا کر دکھاؤ تاکہ تمہاری صداقت واضح ہو سکے۔ بعض نے ﴿أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ﴾ کے معنی واضح علمی دلیل کے کئے ہیں، اس صورت میں کتاب سے نقلی دلیل اور ﴿أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ ﴾ سے عقلی دلیل مراد ہو گی۔ یعنی کوئی عقلی اور نقلی دلیل پیش کرو۔ پہلے معنی اس کے اثر سے ماخوذ ہونے کی بنیاد پر روایت کے کیے گئے ہیں یا بَقِيَّةٍ مِنْ عِلْمٍ پہلے انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کا باقی ماندہ حصہ جو قابل اعتماد ذریعے سے نقل ہوتا آیا ہو، اس میں یہ بات ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ ﴿٥﴾
اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہو گا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اسکی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بے خبر ہوں۔ (١)
٥۔١ یعنی یہی سب سے بڑے گمراہ ہیں جو پتھر کی مورتیوں کو یا فوت شدہ اشخاص کو مدد کے لیے پکارتے ہیں جو قیامت تک جواب دینے سے قاصر ہیں۔ اور قاصر ہی نہیں، بلکہ بالکل بے خبر ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا حُشِرَ‌ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِ‌ينَ ﴿٦﴾
اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کر جائیں گے۔ (۱)
٦ ۔۱ یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ یونس: ۲۹، سورۂ مریم: ۸۱-۸۲، سورۂ عنکبوت: ۲۵ وغیرھا من الآیات۔ دنیا میں ان معبودوں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو غیر ذی روح جمادات و نباتات اور مظاہر قدرت (سورج، آگ وغیرہ) ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو زندگی اور قوت گویائی عطا فرمائے گا، اور یہ چیزیں بول کر بتلائیں گی کہ ہمیں قطعاً اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ ہماری عبادت کرتے اور ہمیں تیری خدائی میں شریک گردانتے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ زبان قال سے نہیں، زبان حال سے وہ اپنے جذبات کا اظہار کریں گی۔ واللہ اعلم۔ معبودوں کی دوسری قسم وہ ہے جو انبیاء علیہم السلام، ملائکہ اور صالحین میں سے ہیں۔ جیسے حضرت عیسیٰ، حضرت عزیر علیہما السلام اور دیگر عباد اللہ الصالحین ہیں، یہ اللہ کی بارگاہ میں اسی طرح کا جواب دیں گے جیسے حضرت عیسیٰ عليہ السلام کا جواب قرآن کریم میں منقول ہے۔ علاوہ ازیں شیطان بھی انکار کریں گے۔ جیسے قرآن میں ان کا قول نقل کیا گیا ہے۔ ﴿تَبَرَّأْنَا إِلَيْكَ مَا كَانُوا إِيَّانَا يَعْبُدُونَ﴾ (القصص: ۶۳) ”ہم تیرے سامنے (اپنے عابدین سے) اظہار براءت کرتے ہیں، یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ هَـٰذَا سِحْرٌ‌ مُّبِينٌ ﴿٧﴾
اور انہیں جب ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو منکر لوگ سچی بات کو جب کہ ان کے پاس آچکی، کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَ‌اهُ ۖ قُلْ إِنِ افْتَرَ‌يْتُهُ فَلَا تَمْلِكُونَ لِي مِنَ اللَّـهِ شَيْئًا ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ ۖ كَفَىٰ بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۖ وَهُوَ الْغَفُورُ‌ الرَّ‌حِيمُ ﴿٨﴾
کیا وہ کہتے ہیں کہ اسے تو اس نے خود گھڑ لیا (۱) ہے آپ کہہ دیجئے! کہ اگر میں ہی اسے بنا لایا ہوں تو میرے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے، (۲) تم اس (قرآن) کے بارے میں جو کچھ سن رہے ہو اسے اللہ خوب جانتا ہے، (۳) میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے وہی کافی ہے، (٤) اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (۵)
۸۔۱ اس حق سے مراد، جو ان کے پاس آیا، قرآن کریم ہے، اس کے اعجاز اور قوت تاثیر کو دیکھ کر وہ اسے جادو سے تعبیر کرتے، پھر اس سے بھی انحراف کرکے یا اس سے بھی بات نہ بنتی تو کہتے کہ یہ تو محمد ﷺ کا اپنا گھڑا ہوا کلام ہے۔
۸۔۲ یعنی اگر تمہاری یہ بات صحیح ہو کہ میں اللہ کا بنایا ہوا رسول نہیں ہوں اور یہ کلام بھی میرا اپنا گھڑا ہوا ہے، پھر تو یقیناً میں بڑا مجرم ہوں، اللہ تعالیٰ اتنے بڑے جھوٹ پر مجھے پکڑے بغیر تو نہیں چھوڑے گا۔ اور اگر ایسی کوئی گرفت ہوئی تو پھر سمجھ لینا کہ میں جھوٹا ہوں اور میری کوئی مدد بھی مت کرنا۔ بلکہ ایسی حالت میں مجھے مواخذہ الٰہی سے بچانے کا تمہیں کوئی اختیار ہی نہیں ہو گا۔ اسی مضمون کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ﴿وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأَقَاوِيلِ، لأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ، ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ، فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ﴾ (الحاقہ: ۴۴-۴۷)
٨۔۳ یعنی جس جس انداز سے بھی تم قرآن کی تکذیب کرتے ہو، کبھی اسے جادو، کبھی کہانت اور کبھی گھڑا ہوا کہتے ہو، اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ یعنی وہی تمہاری ان مذموم حرکتوں کا تمہیں بدلہ دے گا۔
٨۔٤ وہ اس بات کی گواہی کے لیے کافی ہے کہ یہ قرآن اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے اور وہی تمہاری تکذیب و مخالفت کا بھی گواہ ہے۔ اس میں بھی ان کے لیے سخت وعید ہے۔
۸۔۵ اس کے لیے جو توبہ کرلے، ایمان لے آئے اور قرآن کو اللہ تعالیٰ کا سچا کلام مان لے۔ مطلب ہے کہ ابھی بھی وقت ہے کہ توبہ کرکے اللہ کی مغفرت و رحمت کے مستحق بن جاؤ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّ‌سُلِ وَمَا أَدْرِ‌ي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ‌ مُّبِينٌ ﴿٩﴾
آپ کہہ دیجئے! کہ میں کوئی بالکل انو کھا پیغمبر تو نہیں (١) نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ (۲) میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو صرف علی الاعلان آگاہ کر دینے والا ہوں۔
٩۔١ یعنی پہلا اور انوکھا رسول تو نہیں ہوں، بلکہ مجھ سے پہلے بھی متعدد رسول آچکے ہیں۔
٩۔٢ یعنی دنیا میں۔ میں مکے میں ہی رہوں گا یا یہاں سے نکلنے پر مجھے مجبور ہونا پڑے گا۔ مجھے موت طبعی آئے گی یا تمہارے ہاتھوں میرا قتل ہو گا؟ تم جلد ہی سزا سے دوچار ہو گے یا لمبی مہلت تمہیں دی جائے گی؟ ان تمام باتوں کا علم صرف اللہ کو ہے، مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ یا تمہارے ساتھ کل کیا ہو گا؟ تاہم آخرت کے بارے میں یقینی علم ہے کہ اہل ایمان جنت میں اور کافر جہنم میں جائیں گے۔ اور حدیث میں جو آتا ہے کہ نبی ﷺ نے بعض صحابہ رضی الله عنہم کی وفات پر، جب ان کے بارے میں حسن ظن کا اظہار کیا گیا، تو فرمایا [وَاللهِ مَا أَدْرِي - وَأَنَا رَسُولُ اللهِ- مَا يُفْعَلُ بِي وَلا بِكُمْ ](صحيح بخاری، مناقب الأنصار، باب مقدم النبي وأصحابه إلى المدينة) اللہ کی قسم، مجھے اللہ کا رسول ہونے کے باوجود علم نہیں کہ قیامت کو میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ اس سے کسی ایک معین شخص کے قطعی انجام کے علم کی نفی ہے۔ الا یہ کہ ان کی بابت بھی نص موجود ہو۔ جیسے عشرہ مبشرہ اور اصحاب بدر وغیرہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ أَرَ‌أَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ اللَّـهِ وَكَفَرْ‌تُم بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّن بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْ‌تُمْ ۖ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿١٠﴾
آپ کہہ دیجئے! اگر یہ (قرآن) اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اسے نہ مانا ہو اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس جیسی کی گواہی بھی دے چکا ہو اور ایمان بھی لا چکا ہو اور تم نے سرکشی کی ہو، (١) تو بیشک اللہ تعالیٰ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا۔
١٠۔١ اس شاہد بنی اسرائیل سے کون مراد ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ یہ بطور جنس کے ہے۔ بنی اسرائیل میں سے ہر ایمان لانے والا اس کا مصداق ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مکے میں رہنے والا کوئی بنی اسرائیلی مراد ہے، کیونکہ یہ سورت مکی ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد عبد اللہ بن سلام ہیں اور وہ اس آیت کو مدنی قرار دیتے ہیں۔ صحیحین کی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (صحيح بخاری، مناقب الأنصار، باب مناقب عبد الله بن سلام - مسلم ، فضائل الصحابة) اسی لیے امام شوکانی نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔ عَلَى مِثْلِهِ (اسی جیسی کتاب کی گواہی) کا مطلب ہے تورات کی گواہی جو قرآن کے منزل من اللہ ہونے کو مستلزم ہے۔ کیونکہ قرآن بھی توحید و معاد کے اثبات میں تورات ہی کی مثل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب کی گواہی اور ان کے ایمان لانے کے بعد اس کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بعد تمہارے انکار و استکبار کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔ تمہیں اپنے اس رویے کا انجام سوچ لینا چاہئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرً‌ا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ ۚ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَـٰذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ ﴿١١﴾
اور کافروں نے ایمان داروں کی نسبت کہا کہ اگر یہ (دین) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کرنے نہ پاتے، اور چونکہ انہوں نے اس قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس یہ کہہ دیں گے کہ قدیمی جھوٹ ہے۔ (١)
١١۔١ کفار مکہ، حضرت بلال، عمار، صہیب اور خباب رضی الله عنہم جیسے مسلمانوں کو، جو غریب و قلاش قسم کے لوگ تھے، لیکن اسلام قبول کرنے سے انہیں سابقیت کا شرف حاصل ہوا، دیکھ کر کہتے کہ اگر اس دین میں بہتری ہوتی تو ہم جیسے ذی عزت و ذی مرتبہ لوگ سب سے پہلے اسے قبول کرتے نہ کہ یہ لوگ پہلے ایمان لاتے۔ یعنی اپنے طور پر انہوں نے اپنی بابت یہ فرض کر لیا کہ اللہ کے ہاں ان کا بڑا مقام ہے، اس لیے اگر یہ دین بھی اللہ کی طرف سے ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے قبول کرنے میں پیچھے نہ چھوڑتا، اور جب ہم نے اسے نہیں اپنایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک پرانا جھوٹ ہے۔ یعنی قرآن کو انہوں نے پرانا جھوٹ قرار دیا ہے۔ جیسے وہ اسے ﴿أَسَاِطِيرُ الأوَّلِينَ﴾ بھی کہتے تھے، حالانکہ دنیوی مال و دولت میں ممتاز ہونا، عند اللہ مقبولیت کی دلیل نہیں۔ ”جیسے ان کو مغالطہ ہوا یا شیطان نے مغالطے میں ڈالا“ عند اللہ مقبولیت کے لیے تو ایمان و اخلاص کی ضرورت ہے۔ اور اس دولت ایمان و اخلاص سے وہ جس کو چاہتا ہے، نوازتا ہے، جیسے وہ مال و دولت آزمائش کے طور پر جس کو چاہتا ہے، دیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَ‌حْمَةً ۚ وَهَـٰذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَ‌بِيًّا لِّيُنذِرَ‌ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَبُشْرَ‌ىٰ لِلْمُحْسِنِينَ ﴿١٢﴾
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی۔ اور یہ کتاب ہے تصدیق کرنے والی عربی زبان میں تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیک کاروں کو بشارت ہو۔

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَ‌بُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿١٣﴾
بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر نہ کوئی خوف ہو گا نہ غمگین ہوں گے۔

أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٤﴾
یہ تو اہل جنت ہیں جو سدا اسی میں رہیں گے، ان اعمال کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْ‌هًا وَوَضَعَتْهُ كُرْ‌هًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرً‌ا ۚ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْ‌بَعِينَ سَنَةً قَالَ رَ‌بِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ‌ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْ‌ضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّ‌يَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿١٥﴾
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔ (١) اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔ (٢) یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا (۳) تو کہنے لگا اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے (٤) کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد بھی صالح بنا۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
۱۵۔۱ اس مشقت و تکلیف کا ذکر، والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم میں مزید تاکید کے لیے ہے۔ جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماں، اس حکم احسان میں، باپ سے مقدم ہے، کیونکہ نوماہ تک مسلسل حمل کی تکلیف اور پھر زچگی (وضع حمل) کی تکلیف، صرف تنہا ماں ہی اٹھاتی ہے، باپ کی اس میں شرکت نہیں، اسی لیے حدیث میں بھی ماں کے ساتھ حسن سلوک کو اولیت دی گئی ہے اور باپ کا درجہ اس کے بعد بتلایا گیا ہے۔ ایک صحابی رضی الله عنہ نے نبی ﷺ سے پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری ماں، اس نے پھر یہی پوچھا، آپ ﷺ نے یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیا۔ چوتھی مرتبہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا، پھر تمہارا باپ (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب أول)۔
١٥۔۲ فِصَالٌ کے معنی، دودھ چھڑانا ہیں۔ اس سے بعض صحابہ رضی الله عنہم نے استدلال کیا ہے کہ کم از کم مدت حمل چھ مہینے یعنی چھ مہینے کے بعد اگر کسی عورت کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے تو وہ بچہ حلال ہی کا ہو گا، حرام کا نہیں۔ اس لیے کہ قرآن نے مدت رضاعت دو سال (۲۴ مہینے) بتلائی ہے (سورۂ لقمان: ۱۴، سورۂ بقرۃ: ۲۳۳) اس حساب سے مدت حمل صرف چھ مہینے ہی باقی رہ جاتی ہے۔
١٥۔۳ کمال قدرت (أَشُدَّهُ) کے زمانے سے مراد جوانی ہے، بعض نے اسے ۱۸ سال سے تعبیر کیا ہے، حتیٰ کہ پھر بڑھتے بڑھتے چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا۔ یہ عمر قوائے عقلی کے مکمل بلوغ کی عمر ہے۔ اسی لیے مفسرین کی رائے ہے کہ ہر نبی کو چالیس سال کے بعد ہی نبوت سے سرفراز کیا گیا (فتح القدیر)
١٥۔٤ أَوْزِعْنِي بمعنی أَلْهِمْنِي ہے، مجھے توفیق دے، اس سے استدلال کرتے ہوئے علما نے کہا ہے کہ اس عمر کے بعد انسان کو یہ دعا کثرت سے پڑھتے رہنا چاہئے۔ یعنی ﴿رَبِّ أَوْزِعْنِي﴾ سے ﴿مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ تک۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ ۖ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ ﴿١٦﴾
یہی وہ لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بعض اعمال سے درگزر کر لیتے ہیں، (یہ) جنتی لوگوں میں ہیں۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا ہے۔

وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَّكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَ‌جَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُ‌ونُ مِن قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ اللَّـهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ‌ الْأَوَّلِينَ ﴿١٧﴾
اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم سے میں تنگ آگیا، (١) تم مجھ سے یہی کہتے رہو گے کہ میں مرنے کے بعد زندہ ہو جاؤں گا مجھ سے پہلے بھی امتیں گزر چکی ہیں، (۲) وہ دونوں جناب باری میں فریاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں تجھے خرابی ہو تو ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے، وہ جواب دیتا ہے کہ یہ تو صرف اگلوں کے افسانے ہیں۔ (۳)
۱۷۔۱ مذکورہ آیت میں سعادت مند اولاد کا تذکرہ تھا، جو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک بھی کرتی ہے اور ان کے حق میں دعائے خیر بھی۔ اب اس کے مقابلے میں بدبخت اور نافرمان اولاد کا ذکر کیا جا رہا ہے جو ماں باپ کے ساتھ گستاخی سے پیش آتی ہے۔ ﴿أُفٍّ لَكُمَا﴾ افسوس ہے تم پر، اف کا کلمہ، ناگواری کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یعنی نافرمان اولاد، باپ کی ناصحانہ باتوں پر یا دعوت ایمان و عمل صالح پر ناگواری اور شدت غیظ کا اظہار کرتی ہے جس کی اولاد کو قطعاً اجازت نہیں ہے۔ یہ آیت عام ہے، ہر نافرمان اولاد اس کی مصداق ہے۔
١٧۔۲ مطلب ہے کہ وہ تو دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں نہیں آئے۔ حالانکہ دوبارہ زندہ ہونے کا مطلب قیامت والے دن زندہ ہونا ہے جس کے بعد حساب ہو گا۔
١٧۔۳ ماں باپ مسلمان ہوں اور اولاد کافر، تو وہاں اولاد اور والدین کے درمیان اسی طرح تکرار اور بحث ہوتی ہے جس کا ایک نمونہ اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔
 
Top