• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴿٣٨﴾
یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ (١) (اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے۔
٣٨۔١ یعنی کیا یہ ان کا دعویٰ ہے کہ سیڑھی کے ذریعے سے یہ بھی محمد ﷺ کی طرح آسمانوں پر جا کر ملائکہ کی باتیں یا ان کی طرف جو وحی کی جاتی ہے، وہ سن آئے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ لَهُ الْبَنَاتُ وَلَكُمُ الْبَنُونَ ﴿٣٩﴾
کیا اللہ کے تو سب لڑکیاں ہیں اور تمہارے ہاں لڑکے ہیں؟

أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرً‌ا فَهُم مِّن مَّغْرَ‌مٍ مُّثْقَلُونَ ﴿٤٠﴾
کیا تو ان سے کوئی اجرت طلب کرتا ہے کہ یہ اس کے تاوان سے بو جھل ہو رہے ہیں۔ (١)
٤٠۔١ یعنی اس کی ادائیگی ان کے لیے مشکل ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ ﴿٤١﴾
کیا انکے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں؟ (١)
٤١۔١ کہ ضرور ان سے پہلے محمد ﷺ مر جائیں گے اور ان کو موت اس کے بعد آئے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ يُرِ‌يدُونَ كَيْدًا ۖ فَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا هُمُ الْمَكِيدُونَ ﴿٤٢﴾
کیا یہ لوگ کوئی فریب کرنا چاہتے ہیں؟ (١) تو یقین کر لیں کہ فریب خوردہ کافر ہی ہیں۔ (۲)
٤٢۔١ یعنی ہمارے پیغمبر کے ساتھ، جس سے اس کی ہلاکت واقع ہو جائے۔
٤٢۔۲ یعنی کید و مکر ان ہی پرالٹ پڑے گا اور سارا نقصان انہی کو ہو گا۔ جیسا فرمایا: ﴿وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلا بِأَهْلِهِ﴾ (فاطر: ۴۳) چنانچہ بدر میں یہ کافر مارے گئے اور بھی بہت سی جگہوں پر ذلت و رسوائی سے دوچار ہوئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ لَهُمْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ‌ اللَّـهِ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِ‌كُونَ ﴿٤٣﴾
کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے؟ (ہرگز نہیں) اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے۔

وَإِن يَرَ‌وْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاءِ سَاقِطًا يَقُولُوا سَحَابٌ مَّرْ‌كُومٌ ﴿٤٤﴾
اگر یہ لوگ آسمان کے کسی ٹکڑے کو گرتا ہوا دیکھ لیں تب بھی کہہ دیں کہ یہ تہ بہ تہ بادل ہے۔ (١)
٤٤۔١ مطلب ہے کہ اپنے کفر وعناد سے پھر بھی باز نہ آئیں گے، بلکہ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ عذاب نہیں، بلکہ ایک پر ایک بادل چڑھا آرہا ہے، جیسا کہ بعض موقعوں پر ایسا ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَذَرْ‌هُمْ حَتَّىٰ يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي فِيهِ يُصْعَقُونَ ﴿٤٥﴾
تو انہیں چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑے جس میں یہ بے ہوش کر دیئے جائیں گے۔

يَوْمَ لَا يُغْنِي عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنصَرُ‌ونَ ﴿٤٦﴾
جس دن انہیں ان کا مکر کچھ کام نہ دے گا اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔

وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا عَذَابًا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌هُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٤٧﴾
بیشک ظالموں کے لیے اس کے علاوہ اور عذاب بھی ہیں (١) لیکن ان لوگوں میں سے اکثر بےعلم ہیں۔ (۲)
٤٧۔۱ یعنی دنیا میں، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ (الم السجدة: ۲۱)
٤٧۔۲ اس بات سے کہ دنیا کے یہ عذاب اور مصائب، اس لیے ہیں تاکہ انسان اللہ کی طرف رجوع کریں۔ یہ نکتہ چونکہ نہیں سمجھتے اس لیے گناہوں سے تائب نہیں ہوتے بلکہ بعض دفعہ پہلے سے بھی زیادہ گناہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ جس طرح ایک حدیث میں فرمایا کہ ”منافق جب بیمار ہو کر صحت مند ہو جاتا ہے تو اس کی مثال اونٹ کی سی ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اسے کیوں رسیوں سے باندھا گیا۔ اور کیوں کھلا چھوڑ دیا گیا؟“ (أبو داود: ۳۰۸۹)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاصْبِرْ‌ لِحُكْمِ رَ‌بِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا ۖ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَ‌بِّكَ حِينَ تَقُومُ ﴿٤٨﴾
تو اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر سے کام لے، بیشک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ صبح کو جب تو اٹھے (١) اپنے رب کی پاکی اور حمد بیان کر۔
٤٨۔١ اس کھڑے ہونے سے کون سا کھڑا ہونا مراد ہے؟ بعض کہتےہیں جب نماز کے لیے کھڑے ہوں۔ جیسا کہ آغاز نماز میں سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ۔۔۔ پڑھی جاتی ہے۔ بعض کہتے ہیں، جب نیند سے بیدار ہو کر کھڑے ہوں۔ اس وقت بھی اللہ کی تسبیح و تحمید مسنون ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب کسی مجلس سے کھڑے ہوں۔ جیسے حدیث میں آتا ہے۔ جو شخص کسی مجلس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھ لے گا تو یہ اس کی مجلس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔ [سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ] (سنن الترمذی، أبواب الدعوات، باب ما يقول إذا قام من مجلسه)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ‌ النُّجُومِ ﴿٤٩﴾
اور رات کو بھی اس کی تسبیح پڑھ (١) اور ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی (۲)
٤٩۔١ اس سے مراد قیام اللیل۔ یعنی نماز تہجد ہے، جو عمر بھر نبی ﷺ کا معمول رہا۔
٤٩۔۲ أَيْ: (وَقْت إِدْبَارِهَا مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ )اس سے مراد فجر کی دو سنتیں ہیں، نوافل میں سب سے زیادہ اس کی نبی ﷺ حفاظت فرماتے تھے۔ اور ایک روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا ”فجر کی دو سنتیں دنیا و مافیہا سے بہترہے“ (صحيح بخاری، كتاب التهجد، باب تعاهد ركعتي الفجر ومن سماها تطوعا، وصحيح مسلم، كتاب الصلاة باب استحباب ركعتي الفجر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة النجم

(سورة النجم مکی ہے اور اس میں باسٹھ آیتیں اور تین رکوع ہیں۔ یہ پہلی سورت ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے کفار کے مجمع عام میں تلاوت کیا، تلاوت کے بعد آپ ﷺ نے اور آپ ﷺ کے پیچھے جتنے لوگ تھے، سب نے سجدہ کیا، ماسوائے امیہ بن خلف کے، اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اس پر سجدہ کیا۔ چنانچہ یہ کفر کی حالت میں ہی مارا گیا (صحیح بخاری، تفسیر سورہ نجم) بعض طریق میں اس شخص کا نام عتبہ بن ربیعہ بتلایا گیا ہے (تفسیر ابن کثیر) واللہ اعلم ۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس سورت کی تلاوت آپ ﷺ کے سامنے کی، آپ ﷺ نے اس میں سجدہ نہیں کیا (صحیح بخاری، باب مذکور) اس کا مطلب یہ ہوا کہ سجدہ کرنا مستحب ہے، فرض نہیں۔ اگر کبھی چھوڑ بھی دیا جائے تو جائز ہے۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ ﴿١﴾
قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے۔ (١)
١۔١ بعض مفسرین نے ستارے سے ثریا ستارہ اور بعض نے زہرہ ستارہ مراد لیا ہے۔ اور بعض نے جنس نجوم هَوَى، اوپر سے نیچے گرنا، یعنی جب رات کے اختتام پر فجر کے وقت وہ گرتا ہے، یا شیاطین کو مارنے کے لیے گرتا ہے یا بقول بعض قیامت والے دن گریں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ ﴿٢﴾
کہ تمہارے ساتھی نے نہ راہ گم کی ہے اور نہ ٹیڑھی راہ پر ہے۔ (١)
٢۔١ یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبُكُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی ﷺ کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمھارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہو سکتا ہے؟ چنانچہ واقعہ یہ ہے کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوایت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کی گمراہیوں سے اپنے پیغمبر کی تنزیہ بیان فرمائی۔
 
Top