• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلِلَّـهِ الْآخِرَ‌ةُ وَالْأُولَىٰ ﴿٢٥﴾
اللہ ہی کے ہاتھ ہے یہ جہان اور وہ جہان۔ (١)
٢٥۔١ یعنی وہی ہو گا، جو وہ چاہے گا، کیونکہ تمام اختیارات اسی کے پاس ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّـهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْ‌ضَىٰ ﴿٢٦﴾
اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لیے چاہے اجازت دے دے۔ (١)
٢٦۔١ یعنی فرشتے، جو اللہ کی مقرب ترین مخلوق ہیں، ان کو بھی شفاعت کا حق صرف انہی لوگوں کے لیے ملے گا جن کے لیے اللہ پسند کرے گا، جب یہ بات ہے تو پھر پتھر کی مورتیاں کس طرح کسی کی سفارش کر سکیں گی؟ جن سےتم آس لگائے بیٹھے ہو، نیز اللہ تعالیٰ مشرکوں کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کا حق بھی کب دے گا، جب کہ شرک اس کے نزدیک ناقابل معافی ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَ‌ةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنثَىٰ ﴿٢٧﴾
بیشک لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کا زنانہ نام مقرر کرتے ہیں۔

وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ﴿٢٨﴾
حالانکہ انہیں اس کا علم نہیں وہ صرف اپنے گمان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور بیشک وہم (و گمان) حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں دیتا۔

فَأَعْرِ‌ضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِ‌نَا وَلَمْ يُرِ‌دْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ﴿٢٩﴾
تو آپ اس سے منہ موڑ لیں جو ہماری یاد سے منہ موڑے اور جن کا ارادہ بجز زندگانیء دنیا کے اور کچھ نہ ہو۔

ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ الْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَ‌بَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَىٰ ﴿٣٠﴾
یہی ان کے علم کی انتہا ہے۔ آپ کا رب اس سے خوب واقف ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہی خوب واقف ہے اس سے بھی جو راہ یافتہ ہے۔

وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى ﴿٣١﴾
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے۔ (١)
٣١۔١ یعنی ہدایت اور گمراہی اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے، گمراہی کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے، تاکہ نیکوکار کو اس کی نیکیوں کا صلہ اور بدکار کو اس کی برائیوں کا بدلہ دے ﴿وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ﴾ یہ جملہ متعرضہ ہے اور لِيَجْزِيَ کاتعلق گزشتہ گفتگو سے ہے۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ‌ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَ‌بَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَ‌ةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْ‌ضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ ﴿٣٢﴾
اور ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی (١) سوائے کسی چھوٹے گناہ کے۔ (٢) بیشک تیرا رب بہت کشادہ مغفرت والا ہے، وہ تمہیں بخوبی جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے (٣) پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو، (٤) وہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔
٣٢۔١ كَبَائِرُ، كَبِيرَةٌ کی جمع ہے۔ کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔ زیادہ اہل علم کے نزدیک ہر وہ گناہ کبیرہ ہے جس پر جہنم کی وعید ہے، یا جس کے مرتکب کی سخت مذمت قرآن و حدیث میں مذکور ہے اور اہل علم یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹے گناہ پر اصرار و دوام بھی اسے کبیرہ گناہ بنا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے معنی اور ماہیت کی تحقیق میں اختلاف کی طرح، اس کی تعداد میں بھی بھی بہت اختلاف ہے۔ بعض علماء نے انہیں کتابوں میں جمع بھی کیا ہے۔ جیسے کتاب الکبائر للذہبی اور الزواجر وغیرہ۔
فَوَاحِشُ، فَاحِشَةٌ کی جمع ہے، بے حیائی پر مبنی کام، جیسے زنا، لواطت وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں، جن گناہوں میں حد ہے، وہ سب فواحش میں داخل ہیں۔ آج کل بے حیائی کے مظاہر چونکہ بہت عام ہو گئے ہیں، اس لیے بے حیائی کو تہذیب سمجھ لیا گیا ہے، حتیٰ کہ اب مسلمانوں نے بھی اس "تہذیب بے حیائی" کو اپنا لیا ہے۔ چنانچہ گھروں میں ٹی وی، وی سی آر وغیرہ عام ہیں، عورتوں نے نہ صرف پردے کو خیرباد کہہ دیا ہے، بلکہ بن سنور کر اور حسن و جمال کا مجسم اشتہار بن کر باہر نکلنے کو اپنا شعار اور وطیرہ بنا لیا ہے۔ مخلوط تعلیم، مخلوط ادارے، مخلوط مجلسیں اور دیگر بہت سے موقعوں پر مرد و زن کا بے باکانہ اختلاط اور بے محابا گفتگو روز افزوں ہے، دراں حالیکہ یہ سب "فواحش" میں داخل ہیں۔ جن کی بابت یہاں بتلایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کی مغفرت ہونی ہے، وہ کبائر و فواحش سے اجتناب کرنے والے ہوں گے نہ کہ ان میں مبتلا۔
٣٢۔٢ لَمَمٌ کے لغوی معنی ہیں، کم اور چھوٹا ہونا، اسی سے اس کے یہ استعمالات ہیں أَلَمَّ بِالْمَكَانِ (مکان میں تھوڑی دیر ٹھہرا) أَلَمَّ بِالطَّعَامِ (تھوڑسا کھایا)، اسی طرح کسی چیز کو محض چھو لینا، یا اس کے قریب ہونا، یا کسی کام کو ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کرنا، اس پر دوام و استمرار نہ کرنا، یا محض دل میں خیال کا گزرنا، یہ سب صورتیں لَمَمٌ کہلاتی ہیں، (فتح القدیر) اس کے اس مفہوم اور استعمال کی رو سے اس کے معنی صغیرہ گناہ کیے جاتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بڑے گناہ کے مبادیات کا ارتکاب، لیکن بڑے گناہ سے اجتناب کرنا، یا کسی گناہ کا ایک دو مرتبہ کرنا پھر ہمیشہ کے لیے اسے چھوڑ دینا، یا کسی گناہ کا محض دل میں خیال کرنا لیکن عملاً اس کے قریب نہ جانا، یہ سارے صغیرہ گناہ ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ کبائر سے اجتناب کی برکت سے معاف فرمادے گا۔
٣٢۔٣ أَجِنَّةٌ، جَنِينٌ کی جمع ہے جو پیٹ کے بچے کو کہا جاتا ہے، اس لیے کہ یہ لوگوں کی نظروں سے مستور ہوتا ہے۔
٣٢۔٤ یعنی جب اس سے تمہاری کوئی کیفیت اور حرکت مخفی نہیں، حتیٰ کہ جب تم ماں کے پیٹ میں تھے، جہاں تمہیں کوئی دیکھنے پر قادر نہیں تھا، وہاں بھی تمہارے تمام احوال سے وہ واقف تھا، تو پھر اپنی پاکیزگی بیان کرنے کی اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کیا ضرورت ہے؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرو تاکہ ریاکاری سے تم بچو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَرَ‌أَيْتَ الَّذِي تَوَلَّىٰ ﴿٣٣﴾
کیا آپ نے اسے دیکھا جس نے منہ موڑ لیا۔

وَأَعْطَىٰ قَلِيلًا وَأَكْدَىٰ ﴿٣٤﴾
اور بہت کم دیا اور ہاتھ روک لیا۔ (١)
٣٤۔١ یعنی تھوڑا سا دے کر ہاتھ روک لیا۔ یا تھوڑی سی اطاعت کی اور پیچھے ہٹ گیا أَكْدَى کے اصل معنی ہیں کہ زمین کھودتے کھودتے سخت پتھر آجائے اور کھدائی ممکن نہ رہے بالآخر وہ کھدائی چھوڑ دے تو کہتے ہیں أَكْدَى یہیں سے اس کا استعمال اس شخص کے لیے کیا جانے لگا جو کسی کو کچھ دے لیکن پورا نہ دے، کوئی کام شروع کرے لیکن اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَعِندَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَ‌ىٰ ﴿٣٥﴾
کیا اسے علم غیب ہے کہ وہ (سب کچھ) دیکھ رہا ہے؟ (١)
٣٥۔١ یعنی کیا وہ دیکھ رہا ہے کہ اس نے فی سبیل اللہ خرچ کیا تواس کا مال ختم ہو جائے گا؟ نہیں، غیب کا یہ علم اس کے پاس نہیں ہے بلکہ وہ خرچ کرنے سے گریز محض بخل، دنیا کی محبت اور آخرت پر عدم یقین کی وجہ سے کر رہا ہے اور اطاعت الٰہی سے انحراف کی وجوہات بھی یہی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ ﴿٣٦﴾
کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے۔

وَإِبْرَ‌اهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ ﴿٣٧﴾
اور وفادار ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں تھا۔

أَلَّا تَزِرُ‌ وَازِرَ‌ةٌ وِزْرَ‌ أُخْرَ‌ىٰ ﴿٣٨﴾
کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔

وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ﴿٣٩﴾
اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی۔ (١)
٣٩۔١ یعنی جس طرح کوئی کسی دوسرے کے گناہ کا ذمے دار نہیں ہو گا، اسی طرح اسے آخرت میں اجر بھی انہی چیزوں کا ملے گا، جن میں اس کی اپنی محنت ہو گی۔ (اس جزا کا تعلق آخرت سے ہے، دنیا سے نہیں۔ جیسا کہ بعض سوشلسٹ قسم کے اہل علم اس کا یہ مفہوم باور کرا کے غیر حاضر زمینداری اور کرایہ داری کو ناجائز قرار دیتے ہیں) البتہ اس آیت سے ان علماء کا استدلال صحیح ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن خوانی کا ثواب میت کو نہیں پہنچتا۔ اس لیے کہ یہ مردہ کا عمل ہے نہ اس کی محنت۔ اسی لیے رسول ﷺ نے اپنی امت کو مردوں کے لیے قرآن خوانی کی ترغیب دی نہ کسی نص یا اشارہ النص سے اس کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اسی طرح صحابہ کرام رضی الله عنہم سے یہ بھی عمل منقول نہیں۔ اگر یہ عمل، عمل خیر ہوتا تو صحابہ رضی الله عنہم اسے ضرور اختیار کرتے۔ اور عبادات و قربات کے لیے نص کا ہونا ضروری ہے، اس میں رائے اور قیاس نہیں چل سکتا۔ البتہ دعا اور صدقہ خیرات کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے، اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے، کیونکہ یہ شارع کی طرف سے منصوص ہے۔ اور وہ جو حدیث ہے کہ مرنے کے بعد تین چیزوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو وہ بھی دراصل انسان کے اپنے عمل ہیں جو کسی نہ کسی انداز سے اس کی موت کے بعد بھی جاری رہتے ہیں۔ اولاد کو نبی ﷺ نے خود انسان کی اپنی کمائی قرار دیا ہے۔ (سنن النسائی، كتاب البيوع، باب الحث على الكسب) صدقۂ جاریہ، وقف کی طرح انسان کے اپنے آثارعمل ہیں۔ ﴿وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ﴾ (یٰس: ۱۲) اسی طرح وہ علم، جس کی اس نے لوگوں میں نشر و اشاعت کی اور لوگوں نے اس کی اقتدا کی، تو یہ اس کی سعی اور اس کا عمل ہے اور بمصداق حدیث نبوی [مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى، كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْل أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا] (سنن أبي داود كتاب السنة، باب لزوم السنة) اقتدا کرنے والوں کا اجر بھی اسے پہنچتا رہے گا۔ اس لیے یہ حدیث، آیت کے منافی نہیں ہے۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَ‌ىٰ ﴿٤٠﴾
اور یہ کہ بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی۔ (۱)
٤٠۔١ یعنی دنیا میں اس نے اچھا یا برا جو بھی کیا، چھپ کر کیا یا علانیہ کیا، قیامت والے دن سامنے آ جائے گا اور اس پر اسے پوری جزا دی جائے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ ﴿٤١﴾
پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

وَأَنَّ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ الْمُنتَهَىٰ ﴿٤٢﴾
اور یہ کہ آپ کے رب ہی کی طرف پہنچنا ہے۔

وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ ﴿٤٣﴾
اور یہ کہ وہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے۔

وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا ﴿٤٤﴾
اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جلاتا ہے۔

وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ‌ وَالْأُنثَىٰ ﴿٤٥﴾
اور یہ کہ اسی نے جوڑا یعنی نر مادہ پیدا کیا ہے۔

مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ ﴿٤٦﴾
نطفہ سے جبکہ وہ ٹپکایا جاتا ہے۔

وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الْأُخْرَ‌ىٰ ﴿٤٧﴾
اور یہ کہ اسی کے ذمہ دوبارہ پیدا کرنا ہے۔

وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ ﴿٤٨﴾
اور یہ کہ وہی مالدار بناتا ہے اور سرمایہ دیتا ہے۔ (١)
٤٨۔١ یعنی کسی کو اتنی تونگری دیتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہوتا اور اس کی تمام حاجتیں پوری ہو جاتی ہیں اور کسی کو اتنا سرمایہ دے دیتا ہے کہ اس کے پاس ضرورت سے زائد بچ رہتا ہے اور وہ اس کو جمع کر کے رکھتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّهُ هُوَ رَ‌بُّ الشِّعْرَ‌ىٰ ﴿٤٩﴾
اور یہ کہ وہی شعریٰ (ستارے) کا رب ہے۔ (١)
٤٩۔١ رب تو وہ ہر چیز کا ہے، یہاں اس ستارے کا نام اس لیے لیا ہے کہ بعض عرب قبائل اس کو پوجا کرتے تھے۔
 
Top