• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَ‌بِّكَ بِمَجْنُونٍ ﴿٢﴾
تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے۔ (١)
٢۔١ یہ جواب قسم ہے، جس میں کفار کے قول کا رد ہے، وہ آپ کو مجنون (دیوانہ) کہتے تھے۔ (يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ) ‎(الحجر٦)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرً‌ا غَيْرَ‌ مَمْنُونٍ ﴿٣﴾
اور بے شک تیرے لیے بے انتہاء اجر ہے۔ (١)
٣۔١ فریضہء نبوت کی ادائیگی میں جتنی زیادہ تکلیفیں برداشت کیں اور دشمنوں کی باتیں سنی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ مَن کے معنی قطع کرنے کے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ﴿٤﴾
اور بیشک تو بہت بڑے (عمدہ) اخلاق پر ہے۔ (۱)
٤۔۱ خُلُقٍ عَظِيمٍ سے مراد اسلام، دین یا قرآن ہے مطلب ہے کہ تو اس خلق پر ہے جس کا حکم اللہ نے تجھے قرآن میں یا دین اسلام میں دیا ہے۔ یا اس سے مراد وہ تہذیب و شائستگی، نرمی اور شفقت، امانت و صداقت، حلم و کرم اور دیگر اخلاقی خوبیاں ہیں، جس میں آپ نبوت سے پہلے بھی ممتاز تھے اور نبوت کے بعد ان میں مزید بلندی اور وسعت آئی۔ اسی لیے جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کے اخلاق کی بابت سوال کیا گیا تو فرمایا: كَانَ خُلُقُهُ القُرآنَ (صحیح مسلم)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ جواب خلق عظیم کے مذکورہ دونوں مفہوموں پر حاوی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَسَتُبْصِرُ‌ وَيُبْصِرُ‌ونَ ﴿٥﴾
پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے۔ (۱)
۵۔۱ یعنی جب حق واضح ہو جائے گا اور سارے پردے اٹھ جائیں گے۔ اور یہ قیامت کے دن ہو گا۔ بعض نے اسے جنگ بدر سے متعلق قرار دیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بِأَييِّكُمُ الْمَفْتُونُ ﴿٦﴾
کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے۔

إِنَّ رَ‌بَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ﴿٧﴾
بیشک تیرا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وہ راہ یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے۔

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ ﴿٨﴾
پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان۔ (١)
٨۔١ اطاعت سے مراد یہاں وہ مدارات ہے جس کا اظہار انسان اپنے ضمیر کے خلاف کرتا ہے۔ یعنی مشرکوں کی طرف جھکنے اور ان کی خاطر مدارت کی ضرورت نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ ﴿٩﴾
وہ تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔ (١)
٩۔١ یعنی وہ تو چاہتے ہیں کہ تو ان کے معبودوں کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرے تو وہ بھی تیرے بارے میں نرم رویہ اختیار کریں باطل پرست اپنی باطل پرستی کو چھوڑنے میں ڈھیلے ہو جائیں گے۔ اس لیے حق میں مداہنت حکمت تبلیغ اور کار نبوت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ﴿١٠﴾
اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہنا نہ ماننا جو زیادہ قسمیں کھانے والا۔

هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿١١﴾
بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور۔

مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ‌ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿١٢﴾
بھلائی سے روکنے والا حد سے بڑھ جانے والا گنہگار۔

عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ﴿١٣﴾
گردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہو۔ (١)
١٣۔١ یہ ان کافروں کی اخلاقی پستیوں کا ذکر ہے جن کی خاطر پیغمبر کو مداہنت کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ یہ صفات ذمیمہ کسی ایک شخص کی بیان کی گئی ہیں یا عام کافروں کی؟ پہلی بات کا مأخذ اگرچہ بعض رعایتیں ہیں، مگر وہ غیر مستند ہیں۔ اس لیے مقصود عام یعنی ہر وہ شخص ہے جس میں مذکورہ صفات پائی جائیں۔ زَنِيم، ولد الحرام یا مشہور و بدنام۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ ﴿١٤﴾
اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وہ مال والا اور بیٹوں والا ہے۔ (١)
١٤۔١ یعنی مذکورہ اخلاقی قباحتوں کا ارتکاب اس لیے کرتا ہے کہ اللہ نے اسے مال اور اولاد کی نعمتوں سے نوازا ہے یعنی وہ شکر کی بجائے کفران نعمت کرتا ہے۔ بعض نے اسے وَلَا تُطِع کے متعلق قرار دیا ہے۔ یعنی جس شخص کے اندر یہ خرابیاں ہوں، اس کی بات صرف اس لیے مان لی جائے کہ وہ مال و اولاد رکھتا ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ‌ الْأَوَّلِينَ ﴿١٥﴾
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیں۔

سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْ‌طُومِ ﴿١٦﴾
ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے۔ (١)
١٦۔١ بعض کے نزدیک اس کا تعلق دنیا سے ہے، مثلًا کہا جاتا ہے کہ جنگ بدر میں ان کفروں کی ناکوں کو تلواروں کا نشانہ بنایا گیا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ قیامت والے دن جہنمیوں کی علامت ہو گی کہ ان کے ناکوں کو داغ دیا جائے گا۔ یا اس کا مطلب چہروں کی سیاہی ہے۔ جیسا کہ کافروں کے چہرے اس دن سیاہ ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں کہ کافروں کا یہ حشر دنیا اور آخرت دونوں جگہ ممکن ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِ‌مُنَّهَا مُصْبِحِينَ ﴿١٧﴾
بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا (۱) جس طرح ہم نے باغ والوں کو (۲) آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے۔ (٣)
۱۷۔۱ مراد اہل مکہ ہیں۔ یعنی ہم نے ان کو مال و دولت سے نوازا تاکہ وہ اللہ کا شکر کریں، نہ کہ کفر و تکبر۔ لیکن انہوں نے کفر و استکبار کیا تو ہم نے انہیں بھوک اور قحط کی آزمائش میں ڈال دیا، جس میں وہ نبی ﷺ کی بددعا کی وجہ سے کچھ عرصہ مبتلا رہے۔
١٧۔۲ باغ والوں کا قصہ عربوں میں مشہور تھا۔ یہ باغ صنعاء (یمن) سے دو فرسخ کے فاصلے پر تھا۔ اس کا مالک اس کی پیداوار غربا و مساکین پر بھی خرچ کرتا تھا۔ لیکن اس کے مرنے کے بعد جب اس کی اولاد اس کی وارث بنی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے تو اپنے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں، ہم اس کی آمدنی میں سے مساکین اور سائلین کو کس طرح دیں؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس باغ کو تباہ کر دیا۔ کہتے ہیں یہ واقعہ حضرت عیسیٰ عليہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے تھوڑے عرصے بعد پیش آیا۔ (فتح القدیر) یہ ساری تفصیل تفسیری روایات کی ہے۔
١٧۔٣ صرم کے معنی ہیں، پھل اور کھیتی کا کاٹنا، مُصْبِحِينَ حال ہے۔ یعنی صبح ہوتے ہی پھل اتار لیں گے اور پیداوار کاٹ لیں گے۔
 
Top