إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِسَالَاتِهِ ۚ وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ﴿٢٣﴾
البتہ (میرا کام) اللہ کی بات اور اس کے پیغامات (لوگوں کو) پہنچا دینا ہے، (١) (اب) جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے۔
٢٣۔١ یہ ﴿لا أَمْلكُ لَكُمْ﴾ سے مستثنیٰ ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ سے مستثنیٰ ہو، یعنی اللہ سے کوئی چیز بچا سکتی ہے تو وہ یہی ہے کہ تبلیغ رسالت کا وہ فریضہ بجا لاؤں جس کی ادائیگی اللہ نے مجھ پر واجب کی ہے ۔ رِسَالَاتِهِ کا عطف اللہ پر ہے یا بَلَاغًا پر یا پھر عبارت اس طرح ہے۔ (إِلا أَنْ أُبَلِّغَ عَنِ اللهِ وَأَعْمَلَ بِرَسَالَتِهِ)۔ (فتح القدیر)
حَتَّىٰ إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا ﴿٢٤﴾
(ان کی آنکھ نہ کھلے گی) یہاں تک کہ اسے دیکھ لیں جس کا ان کو وعدہ دیا جاتا ہے (١) پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے (٢)۔
٢٤۔١ یا مطلب یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کی عداوت اور اپنے کفر پر مصر رہیں گے، یہاں تک کہ دنیا یا آخرت میں وہ عذاب دیکھ لیں گے، جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
٢٤۔٢ یعنی اس وقت ان کو پتہ لگے گا کہ مومنوں کا مددگار کمزور ہے یا مشرکوں کا؟ اہل توحید کی تعداد کم ہے یا غیر اللہ کے پجاریوں کی؟ مطلب یہ ہے کہ پھر مشرکین کا تو سرے سے کوئی مددگار ہی نہیں ہو گا اور اللہ کے ان گنت لشکروں کے مقابلے میں ان مشرکین کی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہو گی۔