• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَ‌ةِ مُعْرِ‌ضِينَ ﴿٤٩﴾
انہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہ نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں۔

كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ‌ مُّسْتَنفِرَ‌ةٌ ﴿٥٠﴾
گویا کہ وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں۔

فَرَّ‌تْ مِن قَسْوَرَ‌ةٍ ﴿٥١﴾
جو شیر سے بھاگے ہوں۔ (۱)
۵۱۔۱ یعنی یہ حق سے نفرت اور اعراض کرنے میں ایسے ہیں جیسے وحشی، خوف زدہ گدھے، شیر سے بھاگتے ہیں جب وہ ان کا شکار کرنا چاہیے۔ قسورۃ بمعنی شیر بعض نے تیر انداز معنی بھی کیے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلْ يُرِ‌يدُ كُلُّ امْرِ‌ئٍ مِّنْهُمْ أَن يُؤْتَىٰ صُحُفًا مُّنَشَّرَ‌ةً ﴿٥٢﴾
بلکہ ان میں سے ہر ایک شخص چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دی جائیں۔ (١)
٥٢۔١ یعنی ہر ایک کے ہاتھ میں اللہ کی طرف سے ایک ایک کتاب مفتوح نازل ہو جس میں لکھا ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ بغیر عمل کے یہ عذاب سے چھٹکارہ چاہتے ہیں، یعنی ہر ایک کو پروانہء نجات مل جائے۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَلَّا ۖ بَل لَّا يَخَافُونَ الْآخِرَ‌ةَ ﴿٥٣﴾
ہرگز ایسا نہیں (ہو سکتا بلکہ) یہ قیامت سے بے خوف ہیں۔ (١)
٥٣۔١ یعنی ان کے فساد کی وجہ سے ان کا آخرت پر عدم ایمان اور اس کی تکذیب ہے جس نے انہیں بے خوف کر دیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَلَّا إِنَّهُ تَذْكِرَ‌ةٌ ﴿٥٤﴾
سچی بات تو یہ ہے کہ یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے۔ (١)
٥٤۔١ لیکن اس کے لیے جو اس قرآن کے مواعظ اور نصائح سے عبرت حاصل کرنا چاہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَن شَاءَ ذَكَرَ‌هُ ﴿٥٥﴾
اب جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔

وَمَا يَذْكُرُ‌ونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ ۚ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَىٰ وَأَهْلُ الْمَغْفِرَ‌ةِ ﴿٥٦﴾
اور وہ اس وقت نصیحت حاصل کریں گے جب اللہ تعالیٰ چاہے، (١) وہ اسی لائق ہے کہ اس سے ڈریں اور اس لائق بھی کہ وہ بخشے۔ (٢)
٥٦۔١ یعنی اس قرآن سے ہدایت اور نصیحت اسے ہی حاصل ہو گی جسے اللہ چاہے گا۔ وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ‎﴿التکویر: ٢٩﴾‏
٥٦۔٢ یعنی وہ اللہ ہی اس لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور وہی معاف کرنے کے اختیارات رکھتا ہے۔ اس لیے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اسکی اطاعت کی جائے اور اسکی نافرمانی سے بچا جائے تاکہ انسان اسکی مغفرت و رحمت کا سزاوار قرار پائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة القیامة

(سورۃ قیامت مکی ہے اور اس میں چالیس آیتیں اور دو رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ ﴿١﴾
میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔ (١)
١۔١ لا اقسم میں لا زائد ہے جو عربی زبان کا ایک اسلوب ہے، جیسے ﴿مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ﴾ (الاعراف: ۱۲) اور ﴿لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ﴾ (الحدید: ۲۹) اور دیگر بہت سے مقامات میں ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ قسم سے پہلے کفار کے کلام کا رد ہے، وہ کہتے تھے مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ لا کے ذریعے سے کہا گیا، جس طرح تم کہتے ہو، معاملہ اس طرح نہیں ہے میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں، قیامت کے دن کی قسم کھانے کا مقصد اس کی اہمیت اور عظمت کو واضح کرنا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ ﴿٢﴾
اور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے والا ہو۔ (١)
٢۔١ یعنی بھلائی پر بھی کرتا ہے کہ زیادہ کیوں نہیں کی۔ اور برائی پر بھی، کہ اس سے باز کیوں نہیں آتا؟ دنیا میں بھی جن کے ضمیر بیدار ہوتے ہیں، ان کے نفس انہیں ملامت کرتے ہیں، تاہم آخرت میں تو سب کے ہی نفس ملامت کریں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ ﴿٣﴾
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں۔ (١)
٣۔١ یہ جواب قسم ہے۔ انسان سے مراد یہاں کافر اور ملحد انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالیٰ یقینا انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا۔ یہاں ہڈیوں کا بطور خاص ذکر ہے، اس لیے کہ ہڈیاں ہی پیدائش کا اصل ڈھانچہ اور قالب ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلَىٰ قَادِرِ‌ينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ ﴿٤﴾
ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کر دیں۔ (١)
٤۔١ بَنَان،ہاتھوں اور پیروں کے ان اطراف (کناروں) کو کہتے ہیں جو جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لیے کیا مشکل ہو گا؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلْ يُرِ‌يدُ الْإِنسَانُ لِيَفْجُرَ‌ أَمَامَهُ ﴿٥﴾
بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے۔ (١)
٥۔١ یعنی اس امید پر نافرمانی اور حق کا انکار کرتا ہے کہ کون سی قیامت آنی ہے۔
 
Top