• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مُّتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَ‌ائِكِ ۖ لَا يَرَ‌وْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِ‌يرً‌ا ﴿١٣﴾
یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔ نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ جاڑے کی سختی۔ (۱)
۱۳۔۱ زَمْهَرِير، سخت جاڑے کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہاں ہمیشہ ایک ہی موسم رہے گا اور وہ ہے موسم بہار، نہ سخت گرمی اور نہ کڑاکے کی سردی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَالُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا ﴿١٤﴾
ان جنتوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے (١) اور ان کے (میوے اور) گچھے نیچے لٹکے ہوئے ہوں گے۔ (٢)
١٤۔١ گو وہاں سورج کی حرارت نہیں ہو گی، اس کے باوجود درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ ان کی شاخیں ان کے قریب ہوں گی۔
١٤۔٢ یعنی درختوں کے پھل، گوش برآواز فرماں بردار کی طرح، انسان کا جب کھانے کو جی چاہے گا تو وہ جھک کر اتنے قریب ہو جائیں گے کہ بیٹھے، لیٹے بھی انہیں توڑ لے۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيُطَافُ عَلَيْهِم بِآنِيَةٍ مِّن فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِ‌يرَ‌ا ﴿١٥﴾
اور ان پر چاندی کے برتنوں اور ان جاموں کا دور کرایا جائے گا (١) جو شیشے کے ہوں گے۔
١٥۔١ یعنی خادم انہیں لے کر جنتیوں کے درمیان پھریں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَوَارِ‌يرَ‌ مِن فِضَّةٍ قَدَّرُ‌وهَا تَقْدِيرً‌ا ﴿١٦﴾
شیشے بھی چاندی کے (١) جن کو (ساقی نے) اندازے سے ناپ رکھا ہو گا۔ (٢)
١٦۔١ یعنی یہ برتن اور آب خورے چاندی اور شیشے سے بنے ہوں گے۔ نہایت نفیس اور نازک۔ گویا ایسی ہے کہ جس کی کوءی نظیر دنیا میں نہیں ہے۔
١٦۔٢ یعنی ان میں شراب ایسے اندازے سے ڈالی گئی ہو گی کہ جس سے وہ سیراب بھی ہو جائیں، تشنگی محسوس نہ کریں۔ اور برتنوں اور جاموں میں بھی زائد نہ بچی رہے۔ مہمان نوازی کے اس طریقے میں بھی مہمانوں کی عزت افزائی ہی کا اہتمام ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلًا ﴿١٧﴾
اور انہیں وہاں وہ جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش زنجبیل کی ہو گی۔ (١)
١٧۔١ زَنْجَبِیْل (سونٹھ، خشک ادرک) کو کہتے ہیں۔ یہ گرم ہوتی ہے۔ اس کی آمیزش سے ایک خوشگوار تلخی پیدا ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں عربوں کی یہ مرغوب چیز ہے۔ چنانچہ ان کے قہوہ میں بھی زنجبیل شامل ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت میں ایک وہ شراب ہو گی جو ٹھنڈی ہو گی جس میں کافور کی آمیزش ہو گی اور دوسری شراب گرم، جس میں زنجبیل کی ملاوٹ ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلْسَبِيلًا ﴿١٨﴾
جنت کی ایک نہر جس کا نام سلسلبیل ہے۔ (١)
١٨۔١ یعنی اس شراب زنجبیل کی بھی ایک نہر ہو گی جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَ‌أَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنثُورً‌ا ﴿١٩﴾
اور ان کے ارد گرد گھومتے پھرتے ہوں گے وہ کم سن بچے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں (١) جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ (٢)
١٩۔١ شراب کی اوصاف بیان کرنے کے بعد، ساقیوں کا وصف بیان کیا جا رہا ہے "ہمیشہ رہیں گے" کا مطلب تو یہ ہے جنتیوں کی طرح ان خادموں کو بھی موت نہیں آئے گی۔ دوسرا، یہ کہ ان کا بچپن اور ان کی رعنائی ہمیشہ برقرار رہے گی۔ وہ بوڑھے نہ ہوں گے نہ ان کا حسن و جمال تبدیل ہو گا۔
١٩۔٢ حسن و صفائی اور تازگی و شادابی میں موتیوں کی طرح ہوں گے "بکھرے ہوئے" کا مطلب، خدمت کے لیے ہر طرف پھیلے ہوئے اور نہایت تیزی سے مصروف خدمت ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا رَ‌أَيْتَ ثَمَّ رَ‌أَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرً‌ا ﴿٢٠﴾
تو وہاں جہاں کہیں بھی نظر ڈالے گا سراسر نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی دیکھے گا۔

عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ‌ وَإِسْتَبْرَ‌قٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ‌ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَ‌بُّهُمْ شَرَ‌ابًا طَهُورً‌ا ﴿٢١﴾
ان کے جسموں پر سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے (١) اور انہیں چاندی کے کنگن کا زیور پہنایا جائے گا۔ (٢) اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا۔
٢١۔١ سندس، باریک ریشمی لباس اور استبرق، موٹا ریشم۔
٢١۔٢ جیسے ایک زمانے میں بادشاہ، سردار اور ممتاز قسم کے لوگ پہنا کرتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ هَـٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورً‌ا ﴿٢٢﴾
(کہا جائے گا) کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا بدلہ اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی۔

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْ‌آنَ تَنزِيلًا ﴿٢٣﴾
بیشک ہم نے تجھ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے۔ (١)
٢٣۔١ یعنی ایک ہی مرتبہ نازل کرنے کی بجائے حسب ضرورت و اقتضا مختلف اوقات میں نازل کیا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے، یہ تیرا اپنا گھڑا ہوا نہیں ہے، جیسا کہ مشرکین دعویٰ کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَاصْبِرْ‌ لِحُكْمِ رَ‌بِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ آثِمًا أَوْ كَفُورً‌ا ﴿٢٤﴾
پس تو اپنے رب کے حکم پر قائم رہ (١) اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کا کہنا نہ مان۔ (٢)
٢٤۔١ یعنی اس کے فیصلے کا انتظار کر۔ وہ تیری مدد میں کچھ تاخیر کر رہا ہے تو اس میں اس کی حکمت ہے۔ اس لیے صبر اور حوصلے کی ضرورت ہے۔
٢٤۔٢ یعنی اگر یہ تجھے اللہ کے نازل کردہ احکام سے روکیں تو ان کا کہنا نہ مان، بلکہ تبلیغ و دعوت کا کام جاری رکھ اور اللہ پر بھروسہ رکھ، وہ لوگوں سے تیری حفاظت فرمائے گا، فاجر جو افعال میں اللہ کی نافرمانی کرنے والا ہو اور کفور جو دل سے کفر کرنے والا ہو یا کفر میں حد سے بڑھ جانے والا ہو۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے جس نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ اس کام سے باز آجا، ہم تجھے تیرے کہنے کے مطابق دولت مہیا کر دیتے ہیں اور عرب کی جس عورت سے تو شادی کرنا چاہے، ہم تیری شادی کرا دیتے ہیں۔ (فتح القدیر)
 
Top