• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رَ‌سُولٌ مِّنَ اللَّـهِ يَتْلُو صُحُفًا مُّطَهَّرَ‌ةً ﴿٢﴾
اللہ تعالیٰ کا ایک رسول (١) جو پاک آسمانی کتاب پڑھے۔ (۲)
٢۔۱ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
۲ یعنی قرآن مجید جو لوح محفوظ میں پاک صحیفوں میں درج ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ ﴿٣﴾
جن میں صحیح اور درست احکام ہوں۔ (۱)
۳۔۱ یہاں كُتُبٌ سے مراد احکام دینیہ اور قَيِّمَةٌ، معتدل اور سیدھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا تَفَرَّ‌قَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ ﴿٤﴾
اہل کتاب اپنے پاس ظاہر دلیل آ جانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہو گئے. (١)
٤۔١ یعنی اہل کتاب، حضرت نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل مجتمع تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی بعثت ہو گئی، اس کے بعد یہ متفرق ہو گئے، ان میں سے کچھ مومن ہو گئے، لیکن اکثریت ایمان سے محروم ہی رہی۔ نبی ﷺ کی بعثت و رسالت کو دلیل سے تعبیر کرنے میں یہی نکتہ ہے کہ آپ ﷺ کی صداقت واضح تھی جس میں مجال انکار نہیں تھی۔ لیکن ان لوگوں نے آپ ﷺ کی تکذیب محض حسد اور عناد کی وجہ سے کی۔ یہی وجہ ہے کہ، یہاں تفرق کا ارتکاب کرنے والوں میں صرف اہل کتاب کا نام لیا ہے، حالاں کہ دوسروں نے بھی اس کا ارتکاب کیا تھا، کیوں کہ یہ بہرحال علم والے تھے اور آپ ﷺ کی آمد اور صفات کا تذکرہ ان کی کتابوں میں موجود تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أُمِرُ‌وا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ ﴿٥﴾
انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا (١) کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لیے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف (۲) کے دین پر اور نماز قائم رکھیں اور زکوۃ دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا۔ (۳)
٥۔١ یعنی ان کی کتابوں میں انہیں حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ۔۔۔
۵۔۲ حَنِيفٌ کے معنی ہیں، مائل ہونا، کسی ایک طرف یکسو ہونا، حُنَفَاءَ جمع ہے۔ یعنی شرک سے توحید کی طرف اور تمام ادیان سے منقطع ہو کر صرف دین اسلام کی طرف مائل اور یکسو ہوتے ہوئے۔ جیسے حضرت ابراہیم عليہ السلام نے کیا۔
۵۔۳ الْقَيِّمَةُ محذوف موصوف کی صفت ہے۔ دِينُ الْمِلَّةِ الْقَيِّمَةِ أَيْ: الْمُسْتَقِيمَةِ یا الأُمَّةُ الْمُسْتَقِيمَةُ الْمُعْتَدِلَةُ، یہی اس ملت یا امت کا دین ہے جو سیدھی اور متعدل ہے۔ اکثر ائمہ نے اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ اعمال، ایمان میں داخل ہیں۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِ‌كِينَ فِي نَارِ‌ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ أُولَـٰئِكَ هُمْ شَرُّ‌ الْبَرِ‌يَّةِ ﴿٦﴾
بیشک جو لوگ اہل کتاب میں سے کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وہ (ہمیشہ) ہمیشہ رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں۔ (١)
٦۔١ یہ اللہ کے رسولوں اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والوں کا انجام ہے۔ نیز انہیں تمام مخلوقات میں بدترین قرار دیا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَـٰئِكَ هُمْ خَيْرُ‌ الْبَرِ‌يَّةِ ﴿٧﴾
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں۔ (١)
٧۔١ یعنی جو دل کے ساتھ ایمان لائے اور جنہوں نے اعضا کے ساتھ عمل کیے، وہ تمام مخلوقات سے بہتر اور افضل ہیں۔ جو اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ مومن بندے ملائکہ سے شرف و فضل میں بہترین ہیں۔ ان کی ایک دلیل یہ آیت بھی ہے۔ الْبَرِيَّةُ، بَرَأَ (خلق) سے ہے۔ اسی سے اللہ کی صفت الباری ہے۔ اس لیے بَرِيَّةٌ، اصل میں بَرِيئَةٌ ہے، ہمزہ کو یا سے بدل کر یا کایا میں ادغام کر دیا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جَزَاؤُهُمْ عِندَ رَ‌بِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ رَّ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَ‌بَّهُ ﴿٨﴾
ان کا بدلہ انکے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جنکے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا (١) اور یہ اس سے راضی ہوئے (۲) یہ ہے اس کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرے۔ (۳)
۸۔۱ ان کے ایمان و طاعت اور اعمال صالحہ کے سبب۔ اور اللہ کی رضا مندی سب سے بڑی چیز ہے۔ ﴿وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾ (التوبہ: ۷۲)
٨۔۲ اس لیے کہ اللہ نے انہیں ایسی نعمتوں سے نواز دیا، جن میں ان کی روح اور بدن دونوں کی سعادتیں ہیں۔
٨۔۳ یعنی یہ جزا اور رضا مندی ان لوگوں کے لیے ہے جو دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہے اور اس ڈر کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی کے ارتکاب سے بچتے رہے۔ اگر کسی وقت بہ تقاضائے بشریت نافرمانی ہو گئی تو فورا توبہ کر لی اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کر لی، حتیٰ کہ ان کی موت اسی اطاعت پر ہوئی نہ کہ معصیت پر۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے ڈرنے والا معصیت پر اصرار اور دوام نہیں کر سکتا اور جو ایسا کرتا ہے، حقیقت میں اس کا دل اللہ کے خوف سے خالی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الزلزال

(سورہ زلزال مدنی ہے اور اس میں آٹھ آیتیں ہیں۔ اس کے مدنی اور مکی ہونے میں اختلاف ہے، اس کی فضیلت میں متعدد روایات منقول ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْ‌ضُ زِلْزَالَهَا ﴿١﴾
جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی۔ (١)
١۔١ اس کا مطلب ہے سخت بھونچال سے ساری زمین لرز اٹھے گی اور ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی، یہ اس وقت ہو گا جب پہلا نفخہ پھونکا جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَخْرَ‌جَتِ الْأَرْ‌ضُ أَثْقَالَهَا ﴿٢﴾
اور اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی۔ (١)
٢۔١ یعنی زمین میں جتنے انسان دفن ہیں، وہ زمین کا بوجھ ہیں، جنہیں زمین قیامت والے دن باہر نکال پھینکے گی۔ یعنی اللہ کے حکم سے سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ یہ دوسرے نفخے میں ہو گا، اسی طرح زمین کے خزانے بھی باہر نکل آئیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَهَا ﴿٣﴾
انسان کہنے لگے گا اسے کیا ہو گیا؟ (۱)
۳۔۱ یعنی دہشت زدہ ہو کر کہے گا کہ اسے کیا ہو گیا ہے، یہ کیوں اس طرح ہل رہی ہے اور اپنے خزانے اگل رہی ہے۔
 
Top