• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مِن شَرِّ‌ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ﴿٤﴾
وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ (١)
٤۔۱ الْوَسْوَاسُ، بعض کے نزدیک اسم فاعل الْمُوَسْوِسُ کے معنی میں ہے اور بعض کے نزدیک یہ ذِي الْوَسْوَاسِ ہے۔ وسوسہ، مخفی آواز کو کہتے ہیں۔ شیطان بھی نہایت غیر محسوس طریقوں سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے، اسی کو وسوسہ کہا جاتا ہے۔ الْخَنَّاسِ، (کھسک جانے والا یہ) شیطان کی صفت ہے۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو یہ کھسک جاتا ہے اور اللہ کی یاد سے غفلت برتی جائے تو دل پر چھا جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ‌ النَّاسِ ﴿٥﴾
جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔

مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿٦﴾
(خواہ) وہ جن میں سے ہو یا انسان میں سے۔ (١)
٦۔١ یہ وسوسہ ڈالنے والوں کی دو قسمیں ہیں۔ شیاطین الجن کو تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے۔ علاوہ ازیں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی ﷺ نے یہ بات فرمائی تو صحابہ رضی الله عنہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا وہ آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں! میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے، اور وہ میرا مطیع ہو گیا ہے۔ مجھے خیر کے علاوہ کسی بات کا حکم نہیں دیتا۔ (صحيح مسلم، كتاب صفة القيامة، باب تحريش الشيطان وبعثه سراياه لفتنة الناس) اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ اعتکاف فرما تھے کہ آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ رضی الله عنہا آپ ﷺ سے ملنےکے لیے آئیں۔ رات کا وقت تھا، آپ ﷺ انہیں چھوڑنے کے لیے ان کے ساتھ گئے۔ راستے میں دو انصاری صحابی وہاں سے گزرے، تو آپ ﷺ نے انہیں بلا کر فرمایا کہ یہ میری اہلیہ، صفیہ بنت حیی، ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ آپ کی بابت ہمیں کیا بد گمانی ہو سکتی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے، لیکن شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ شبہ نہ ڈال دے۔ (صحيح بخاری، كتاب الأحكام، والشهادة، تكون عند الحاكم في ولاية القضاء) دوسرے شیطان، انسانوں میں سے ہوتے ہیں جو ناصح، مشفق کے روپ میں انسانوں کو گمراہی کی ترغیب دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ شیطان جن کو گمراہ کرتا ہے یہ ان کی دو قسمیں ہیں، یعنی شیطان انسانوں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور جنات کو بھی۔ صرف انسانوں کا ذکر تغلیب کے طور پر ہے، ورنہ جنات بھی شیطان کے وسوسوں سے گمراہ ہونے والوں میں شامل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جنوں پر بھی قرآن میں رجال کا لفظ بولا گیا ہے۔ (سورۃ الجن: ۶) اس لیے وہ بھی ناس کا مصداق ہیں۔


=========================================​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

رمضان المبارک کے لیے قرآن مجید مع ترجمہ و تفسیر، زائرین و اراکین کے لئے خاص تحفہ....
کسی بھی قسم کی غلطی نظر آئے تو یہاں پر مطلع کریں.
جزاک اللہ خیرا!
 
Top