- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,587
- ری ایکشن اسکور
- 6,768
- پوائنٹ
- 1,207
پہلی نشات کے وقت جس قدر استحالات واقع ہوئے ہیں۔ نشات ثانیہ کے لئے ان میں سے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ وجوہ مذکورہ بالا سے اس اعتراض کا جواب بھی مل گیا کہ بدن کے اجزاء ہمیشہ تحلیل ہوتے رہتے ہیں، کیونکہ بدن کا تحلیل اس بات سے زیادہ عجیب نہیں ہے کہ نطفہ سے علقہ اور علقہ سے مضغہ بنایا جاتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی حقیقت دوسرے سے مختلف ہے اور متحلل جسم کے دوسرے اجزاء سے مشابہ و متماثل ہوتے ہیں۔ جب دوبارہ پیدا کرنے کے وقت جسم کو ایک حقیقت سے دوسری حقیقت میں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں تو اس انقلاب کی کیا ضرورت ہے جو تحلل کے باعث واقع ہوتا ہے ایک شخص دوسرے شخص کو ایک مرتبہ حالتِ شباب میں دیکھتا ہے اور پھر اس صورت میں دیکھتا ہے کہ وہ بوڑھا ہو چکا ہوتا ہے لیکن اس استحالہ (تغیر حالت) کے باوجود وہ معلوم کر لیتا ہے، کہ یہ وہی شخص ہے جسے اس نے جوانی کی حالت میں دیکھا تھا۔ تمام حیوانات اور نباتات کی یہی حالت ہے۔ ایک مدت تک ایک شخص ایک درخت سے غائب ہو جاتاہے، اس کے بعد جب آکر دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے کہ یہ وہی پہلا درخت ہے، حالانکہ تحلل و استحالہ تمام حیوانات و نباتات میں بھی اسی طرح ہوتا رہتا ہے جس طرح بدنِ انسانی میں واقع ہوتا ہے۔ ایک انسانِ عاقل کو یہ سمجھنے کے لئے کہ یہ وہی پہلا درخت ہے یہ وہی گھوڑا ہے جو چند سال قبل اس کے پاس تھا اور یہ وہی انسان ہے جسے بیس سال ہوئے اس نے دیکھا تھا اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ اصلی اجزاء کو باقی رکھنے پر قادر ہو جو تحلیل نہ ہوئے ہوں۔ یہ بات کسی کے دل میں کھٹکتی تک نہیں، اس بات کی پہچان اور تمیز بھی نہیں ہو سکتی کہ یہ وہی اجزاء ہیں یا اور ہیں اور بسا اوقات یہ چیزیں چھوٹی ہوتی ہیں اور مرور زمانہ پر بہت بڑی ہو جاتیں ہیں لیکن اس کے باوجود عقلاً نہ صرف یہ بتا دیتے ہیں کہ یہ فلاں چیز ہے۔ بلکہ ان تمام درختوں، گھوڑوں اور انسانوں کی طرف اشارہ کر کے بتا دیتے ہیں جنھیں انھوں نے کسی گزشتہ زمانہ میں دیکھا ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ چیزیں اس لحاظ سے فلاں چیزیں ہیں کہ نفسِ ناطقہ ایک ہے جیسا کہ ان لوگوں کا دعویٰ ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ دوسرا بدن پہلے بدن کا عین نہیں ہے، بلکہ مقصود صرف نفسِ نعمت یا عذاب چکھانا ہے اور بدن جو بھی ہو، اس میں یہ مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ بات بھی باطل اور قرآن و سنت اور اجماع سلف صالحین کے مخالف ہے اور اعادہ کے جو معنی سمجھے جاتے ہیں، وہ بھی اس توجیہ کے خلاف ہیں۔
ہم عرض کر چکے ہیں کہ تمام عقلاء کہہ دیتے ہیں کہ یہ گھوڑا وہی ہے اور یہ درخت وہی ہے جو کئی برس پہلے تھا۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ نباتات کا نفس ناطقہ ہوتا ہی نہیں جو اس سے جدا ہو جائے اور اپنی ذات پر قائم ہو۔ حیوان و انسان کے متعلق بھی وہ یہی کہتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دلوں میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ ’’یہ اور وہی‘‘ کا مشار الیہ نفس ناطقہ ہے تو معلوم ہوا کہ عقلاء کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ استحالہ کے باوجود معاد کے وقت جسم وہی ہو گا جو مبدا کے وقت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دوبارہ پیدا شدہ جسم ان اعمال کی گواہی دے گا جو انسان نے دنیا میں کیے ہوں گے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿٦٥﴾ (سورة يس)
آج ہم ان کے لبوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں، اس کے متعلق ان کے پاؤں گواہی دیں گے۔
نیز فرمایا:
حَتَّىٰ إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٢٠﴾ وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا ۖ قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّـهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ ﴿٢١﴾ (سورة فصلت)
اتنے میں وہ سب دوزخ کے پاس آجمع ہوں گے۔ ان کے کان، ان کی آنکھیں اور انکے گوشت پوست انکے اعمال پر گواہی دے رہے ہوں گے۔ اور وہ اپنے گوشت پوست سے کہیں گے کہ تم نے ہم پر گواہی کیوں دے دی تو وہ جواب دینگے کہ اسی اللہ تعالیٰ نے ہم سے باتیں کرائیں جس نے ہر چیز کو ناطق بنایا ہے۔
یہ سب جانتے ہیں کہ اگر انسان کوئی بات کہے، یا کوئی کام کرے یا کسی اور شخص کو کوئی کام کرتے دیکھے، یا کوئی بات کرتا سنے اور پھر تیس سال کے بعد اپنے قول و فعل کی شہادت دے اور وہ ایسا اقرار ہو جس کے بموجب اس کا مواخذہ ہو یا اپنے سوا کسی اور چیز یعنی مال و دولت پر گواہی دے اور اس کے ذریعے سے حقوق کا اقرار کرے تو اس کی شہادت مقبول ہو گی، خواہ اس طویل مدت میں اس کے بدن کی حالت متغیر ہی کیوں نہ ہو گئی ہو۔ کوئی عقلمند آدمی یہ نہیں کہتا کہ یہ گواہی مشہود علیہ کی مثل یا اس کے غیر پر دی گئی ہے۔ اگر مشہود علیہ حیوان یا نبات ہو اور گواہی دینے والے نے کہہ دیا کہ یہ حیوان فلاں شخص نے فلاں شخص سے لیا تھا اور یہ درخت فلاں شخص نے فلاں شخص کے سپرد کیا تھا تو استحالہ کے باوجود یہ شہادت معقول ہو گی اور جب استحالہ غیر موثر ہے تو یہ اعتراض محض جہل کا نتیجہ ہے کہ دوبارہ زندگی کے وقت جسم کی حالت مرنے کے وقت کی سی ہو گی، یا وہ جسم موٹا یا دبلا وغیرہ ہو گا، کیونکہ اس نشاۃ ثانیہ کی صورت اس صورت کی مماثل نہ ہو گی جو موجودہ زندگی کی ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ صفات ہی فنا ہو جائیں گی، کیونکہ وہاں نہ تو جسم کی حالت تبدیل ہو گی، نہ کوئی پاخانہ وغیرہ پھرے گا، نہ کھانے پینے سے سیری ہو گی اور نہ کوئی موٹا یا دبلا ہو گا۔ خصوصاً جنت میں داخل ہو نے کے وقت جب ہر انسان اپنے باپ ابو البشر آدم علیہ السلام کی صورت میں داخل ہو گا، اہل جنت نہ بول و براز کریں گے، نہ تھوکیں گے اور نہ ناک جھاڑیں گے یہ نشاۃ متضاد خلطوں سے تو ہو گی نہیں کہ اس کا کچھ حصہ دوسرے حصے سے الگ ہو جائے جیسا کہ اس زندگی میں ہوتا ہے، ان کا کھانا پینا مستحیل (تغیر پذیر) نہ ہو گا، کیونکہ وہ اس دنیا کے کھانے پینے کی طرح مٹی، پانی اور ہوا سے بنا ہوا نہ ہو گا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بستی سے گزرنے والے شخص (اس بستی کے متعلق مفسرین کا اختلاف ہے۔ مشہور روایت کے مطابق اول الذکر القدس اور موخر الذکر عزیز علیہ السلام ہیں) (مترجم) کا کھانا پینا سو برس تک سلامت رکھا، اور اس میں کسی طرح کا تسنہ اور تغیر واقع نہیں ہوا تھا، اس سے سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں اپنی قدرت کی طرف توجہ دلائی۔
جب اللہ تعالیٰ اس عالم کون و فساد میں طعام (کجھور، انگور وغیرہ) اور پانی وغیرہ کو سو سال تک بغیر تغیر کے باقی رکھنے پر قادر ہے تو وہ اس بات پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے، کہ آئندہ زندگی میں کھانے پینے کی چیزوں کو ایسا بنا دے کہ وہ تغیر پذیر نہ ہوں۔ اور ان امور کی تفصیل کا مقام دوسرا ہے۔
ہم عرض کر چکے ہیں کہ تمام عقلاء کہہ دیتے ہیں کہ یہ گھوڑا وہی ہے اور یہ درخت وہی ہے جو کئی برس پہلے تھا۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ نباتات کا نفس ناطقہ ہوتا ہی نہیں جو اس سے جدا ہو جائے اور اپنی ذات پر قائم ہو۔ حیوان و انسان کے متعلق بھی وہ یہی کہتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دلوں میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ ’’یہ اور وہی‘‘ کا مشار الیہ نفس ناطقہ ہے تو معلوم ہوا کہ عقلاء کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ استحالہ کے باوجود معاد کے وقت جسم وہی ہو گا جو مبدا کے وقت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دوبارہ پیدا شدہ جسم ان اعمال کی گواہی دے گا جو انسان نے دنیا میں کیے ہوں گے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿٦٥﴾ (سورة يس)
آج ہم ان کے لبوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں، اس کے متعلق ان کے پاؤں گواہی دیں گے۔
نیز فرمایا:
حَتَّىٰ إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٢٠﴾ وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا ۖ قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّـهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ ﴿٢١﴾ (سورة فصلت)
اتنے میں وہ سب دوزخ کے پاس آجمع ہوں گے۔ ان کے کان، ان کی آنکھیں اور انکے گوشت پوست انکے اعمال پر گواہی دے رہے ہوں گے۔ اور وہ اپنے گوشت پوست سے کہیں گے کہ تم نے ہم پر گواہی کیوں دے دی تو وہ جواب دینگے کہ اسی اللہ تعالیٰ نے ہم سے باتیں کرائیں جس نے ہر چیز کو ناطق بنایا ہے۔
یہ سب جانتے ہیں کہ اگر انسان کوئی بات کہے، یا کوئی کام کرے یا کسی اور شخص کو کوئی کام کرتے دیکھے، یا کوئی بات کرتا سنے اور پھر تیس سال کے بعد اپنے قول و فعل کی شہادت دے اور وہ ایسا اقرار ہو جس کے بموجب اس کا مواخذہ ہو یا اپنے سوا کسی اور چیز یعنی مال و دولت پر گواہی دے اور اس کے ذریعے سے حقوق کا اقرار کرے تو اس کی شہادت مقبول ہو گی، خواہ اس طویل مدت میں اس کے بدن کی حالت متغیر ہی کیوں نہ ہو گئی ہو۔ کوئی عقلمند آدمی یہ نہیں کہتا کہ یہ گواہی مشہود علیہ کی مثل یا اس کے غیر پر دی گئی ہے۔ اگر مشہود علیہ حیوان یا نبات ہو اور گواہی دینے والے نے کہہ دیا کہ یہ حیوان فلاں شخص نے فلاں شخص سے لیا تھا اور یہ درخت فلاں شخص نے فلاں شخص کے سپرد کیا تھا تو استحالہ کے باوجود یہ شہادت معقول ہو گی اور جب استحالہ غیر موثر ہے تو یہ اعتراض محض جہل کا نتیجہ ہے کہ دوبارہ زندگی کے وقت جسم کی حالت مرنے کے وقت کی سی ہو گی، یا وہ جسم موٹا یا دبلا وغیرہ ہو گا، کیونکہ اس نشاۃ ثانیہ کی صورت اس صورت کی مماثل نہ ہو گی جو موجودہ زندگی کی ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ صفات ہی فنا ہو جائیں گی، کیونکہ وہاں نہ تو جسم کی حالت تبدیل ہو گی، نہ کوئی پاخانہ وغیرہ پھرے گا، نہ کھانے پینے سے سیری ہو گی اور نہ کوئی موٹا یا دبلا ہو گا۔ خصوصاً جنت میں داخل ہو نے کے وقت جب ہر انسان اپنے باپ ابو البشر آدم علیہ السلام کی صورت میں داخل ہو گا، اہل جنت نہ بول و براز کریں گے، نہ تھوکیں گے اور نہ ناک جھاڑیں گے یہ نشاۃ متضاد خلطوں سے تو ہو گی نہیں کہ اس کا کچھ حصہ دوسرے حصے سے الگ ہو جائے جیسا کہ اس زندگی میں ہوتا ہے، ان کا کھانا پینا مستحیل (تغیر پذیر) نہ ہو گا، کیونکہ وہ اس دنیا کے کھانے پینے کی طرح مٹی، پانی اور ہوا سے بنا ہوا نہ ہو گا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بستی سے گزرنے والے شخص (اس بستی کے متعلق مفسرین کا اختلاف ہے۔ مشہور روایت کے مطابق اول الذکر القدس اور موخر الذکر عزیز علیہ السلام ہیں) (مترجم) کا کھانا پینا سو برس تک سلامت رکھا، اور اس میں کسی طرح کا تسنہ اور تغیر واقع نہیں ہوا تھا، اس سے سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں اپنی قدرت کی طرف توجہ دلائی۔
جب اللہ تعالیٰ اس عالم کون و فساد میں طعام (کجھور، انگور وغیرہ) اور پانی وغیرہ کو سو سال تک بغیر تغیر کے باقی رکھنے پر قادر ہے تو وہ اس بات پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے، کہ آئندہ زندگی میں کھانے پینے کی چیزوں کو ایسا بنا دے کہ وہ تغیر پذیر نہ ہوں۔ اور ان امور کی تفصیل کا مقام دوسرا ہے۔