• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقلید کی شرعی حیثیت-ایک منصفانہ جائزہ

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
جزاک اللہ محترم فیض الابرار بھائی آپ نے میرے لئے وقت نکالا یہاں میں بھی اتنی معلومات نہیں رکھتا اسی لئے آپ لوگوں سے مذاکرہ کا سوچا تاکہ اپنے اشکالات دور کر سکوں
البتہ آپ بھائیوں سے گزارش ہے کہ اگر جواب دیتے وقت میرے اشکال نمبر کا لکھ دیں یعنی پہلی بات کا جواب ہے یا دوسری یا تیسری کا تو میرے لئے آسانی ہو جائے گی

سب سے پہلے تو اصطلاح تقلید کا صحیح مفہوم اور اس کے حدود اربعہ کا تعین ہونا بہت ضروری ہے کہ اس کے بغیر کچھ بھی کہنا حتمی نہیں ہو سکتا
کیا ہر وہ شخص جسے کسی مسئلے کا علم نہ ہو اگر وہ کسی صاحب علم سے دریافت کر لے تو کیا یہ تقلید ہو گی؟
---------------
میری ذاتی رائے میں تو اس کیفیت میں سائل مسئول سے بسااوقات نہیں بلکہ ہمیشہ دلیل بھی پوچھتا ہے اسی لیے میں اس اسلوب کو اتباع اور اطاعت کی طرف لے جانے والا ذریعہ کہتا ہوں کیونکہ اس میں اصل فکر کتاب و سنت کے دلائل کو دریافت کرنا اور اس کی پیروی کرنا ہوتا ہے
اب آجائیں اس مسئلہ کے انطباقی پہلو کی طرف
ابھی بھی اگر کسی سائل کا مسئول سے پوچھنے کا انداز یہی ہواور ایسا ہوتا بھی ہے کم از کم میرے علم اور تجربات کے مطابق ہمارے عوام ہم سے ہماری رائے نہیں دریافت کرتے بلکہ کتاب و سنت کی روشنی میں مسئلہ دریافت کرتے ہیں
لہذا اس رویہ کو تو تقلید نہیں کہا جا سکتا
میرا خیال ہے آپ نے میری پہلی بات جو پوسٹ نمبر 3 میں کہی گئی ہے اسکا جواب دینے کے لئے یہ اوپر بات لکھی ہے کہ اگر تقلید کے مفہوم کو وسیع کر لیں تو پہلی بات میں پوچھے گئے سوال کا جواب ہو سکتا ہے کہ کبھی تقلید کی جا سکتی ہے اور کبھی نہیں لیکن اگر آپ کی اوپر والی بات کے مطابق اوپر تقلید کا مفہوم تنگ کر دیا جائے تو پھر معاملہ دوسرا ہو گا اس پر بات کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ محترم اسحاق سلفی بھائی کے ساتھ تقلید کی تعریف پر معاملہ کلیئر ہو جائے تو اوپر ہائیلائٹ کی گئی باتوں پر بات کرنا زیادہ فائدہ مند ہو گا
جزاکم اللہ خیرا
 

مون لائیٹ آفریدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 30، 2011
پیغامات
640
ری ایکشن اسکور
407
پوائنٹ
127
جو عالم قرآن کا مفہوم بغیر کسی تاویل کے سلف صالح کے فہم کے مطابق اورصحیح احادیث کے مطابق مسئلہ بتاے گا وہ صحیح عالم ہوگا اور جو اسکے مطابق نہ بتاے بلکہ مروجہ فقہ کے مطابق بتاے وہ عالم صحیح نہیں ہوگا۔
عوام کو اس بات کا ادراک کیسے ہوگا کہ یہ سلف کے فہم کے مطابق ہے یا نہیں ؟
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
آیت کریمہ :
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ )) کو تقلید کی دلیل کے طور پر پیش کرنا ،انتہائی عجیب ہے ،
کیونکہ تقلید کا مطلب ہے کسی کی بات کو بہرحال ماننا ،،اور اس آیت کے سیاق و سباق کو اگر چھوڑ بھی دیا جائے ،تو اس میں صرف ۔۔سوال ۔۔کا حکم ہے ،
اور کون نہیں جانتا کہ صرف سوال کبھی ۔۔تقلید ۔۔اطاعت ۔۔اتباع ۔۔نہیں کہلاتا ۔فتدبر
جزاک اللہ محترم بھائی آپ کی بات سو فیصد درست ہے اگر ہو سکے تو جب میرے اشکالات کا جواب دیں تو انکا حوالہ نمبر لکھ دیں تاکہ جواب سمجھنے میں مجھے آسانی ہو جیسے یہ بات مجھے نہیں مل سکی کہ اسکا اس دھاگہ کہیں ذکر ہے یا ویسے حفظ ما تقدم کے طور پر ہے

اس فاسئلو والی بات پر لگے ہاتھوں میں اپنی رائے تو دے دیتا ہوں شاید اسکی آگے ضرورت پڑے لیکن بات پہلے تقلید کی تعریف پر کرنا چاہوں گا اس پر بات آگے جب تقلید کی تعریف واضح ہو جائے گی تو کرنا زیادہ بہتر ہو گا
جو سائلین فاسئلو والی آیت کے تحت کسی سے پوچھتے ہیں تو اسکے دو حصے ہیں
1۔پہلا حصہ یہ کہ اگر سائل کسی بات کا علم نہیں رکھتا تو وہ کسی عالم سے پوچھ لے ایسا کرنا تو قرآن کی ایک نص پر عمل کرنا ہے اسکو تقلید کہنے والے دراصل جاہل لوگ ہوتے ہیں
2۔دوسرا حصہ یہ ہے کہ قرآن کی اس نص پر عمل کرنے کے بعد جو جواب اس عالم کی طرف سے آتا ہے وہ مختلف نوعیت کا ہوتا ہے اور اسی کے مطابق جب سائل پھر عمل کرتا ہے تو آگے معاملات بھی مختلف ہو جاتے ہیں
مثلا اگر وہ عالم خالی مسئلہ پر فتوی دینے کی بجائے سائل کو دلیل کی مکمل معرفت بھی کروا دے تو وہ سائل جب اس پر عمل کرے گا تو وہ تقلید نہیں ہو گی
لیکن اگر وہ عالم خالی مسئلہ تو بتا دیتا ہے مگر سائل کو اس سے متعلقہ دلائل کی معرفت نہیں کرواتا یا کروا سکتا تو اس معاملے میں کچھ وضاحتیں کرنی ہے جو اپنے موقع پر ان شاءاللہ ہوں گی
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
محترم بھائی ! ہمیں نہیں پتا کہ آپ نے یہ تعریف کے یہ عربی الفاظ کہاں سے نقل فرمائے ؛
تاہم؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
یہ اس کا ترجمہ ہی غلط ہے ،اس لئے اس غلط کی بنا پر جو محل تعمیر کیا جاتا ہے ، وہ بھی غلط ہی ہوتا ہے ؛
اس کا سیدھا سا ترجمہ تو یہ ہے کہ :
’‘ جس کی بات (شرعی ) دلائل میں سے کوئی دلیل نہ ہو ،اس کے قول کو بلا دلیل مان کر عمل کرنا ،تقلید کہلاتا ہے ’‘
اس تعریف کا اصل مدعا تو یہ ہے کہ ::
(( آپ جس کے قول کو اپنا رہے ہیں ،،،شرعاً اس کا قول ۔۔دلیل ۔۔کا درجہ نہیں رکھتا ،،،لیکن آپ اس کی بلا دلیل بات
کو شرعی امور میں ۔۔
حکم کا درجہ ۔۔دیکر تسلیم کر رہے ہو ،،،
اور آپ کی پوسٹ میں تعریف کا ترجمہ کرتے ہوئے ،((
دلیل کا مطالبہ کئے بغیر )) کے جو الفاظ بڑھائے گئے ہیں ،ان کا مقصد تو یہ ہے کہ ::
جس کی تقلید کی جاتی ہے ،ان کی بات تو دلیل پر مبنی ہوتی ہے ،لیکن ان کا قول ماننے کےلئے اس دلیل کا مطالبہ اور ملاحظہ نہیں کیا جاتا ۔
یعنی مجتہد کی کوئی بات بلا دلیل ہوتی نہیں ،،،البتہ مقلد اپنی جہالت کے سبب اس کا فہم نہیں رکھتا ،اس لئے وہ مطالبہ بھی نہیں کر سکتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تقلید کی تعریف و تحدید کےلئے علامہ ابن حاجب کی ’’ المختصر ‘‘ اور اس کی کوئی سی بھی شرح ضرور دیکھیں (اس وقت اس کی چار شروح مارکیٹ میں ہیں )
اور اگر ممکن ہو تو ۔۔التقرير والتحبير على تحرير الكمال۔۔ بھی سامنے رکھیں ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمل واقع سے ہٹ کرکتب اصول کی حد تک ۔تقلید ۔۔صرف عملی اجتہادی ۔۔امور میں کی جاتی ہے ،مسائل منصوصہ میں نہیں ؛
اس کا یہ پہلو بھی سامنے رکھیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم بھائی آپ کی اوپر باتوں کا میں ایک ایک کر کے جواب دینا چاہتا ہوں مگر اس سے پہلے آپ سے ایک گزارش کرنی ہے
محترم بھائی واللہ آپ کے اور محترم فیض الابرار بھائی کے علم کی وجہ سے آپ سب علماء سے محبت ہے اب مجھے فیض الابرار بھائی یا خضر ھیات بھائی یا انس بھائی وغیرہ سے جذبات میں آنے کا ڈر نہیں کیونکہ وہ میری طرح جذباتی نہیں مگر میں اور آپ دونوں تھوڑے جذباتی ہیں پس مجھے ڈر ہے کہ کہیں اختلافی باتیں کرنے سے ہماری محبت پر اثر نہ پڑ جائے
پس میں چاہتا ہوں کہ میں اور آپ پہلے یہ عہد کریں کہ ہم اس اختلاف کو صرف سیکھنے کے لئے اور صرف اس دھاگہ کی حد تک رکھیں گے اور جہاں ہم لاشعوری طور پر حدود سے تجاوز کریں تو باقی بھائی ہمیں یاد دلا دیں
ایسا ہو تو پھر میں بات شروع کروں
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,471
پوائنٹ
791
محترم بھائی آپ کی اوپر باتوں کا میں ایک ایک کر کے جواب دینا چاہتا ہوں مگر اس سے پہلے آپ سے ایک گزارش کرنی ہے
محترم بھائی واللہ آپ کے اور محترم فیض الابرار بھائی کے علم کی وجہ سے آپ سب علماء سے محبت ہے اب مجھے فیض الابرار بھائی یا خضر ھیات بھائی یا انس بھائی وغیرہ سے جذبات میں آنے کا ڈر نہیں کیونکہ وہ میری طرح جذباتی نہیں مگر میں اور آپ دونوں تھوڑے جذباتی ہیں پس مجھے ڈر ہے کہ کہیں اختلافی باتیں کرنے سے ہماری محبت پر اثر نہ پڑ جائے
پس میں چاہتا ہوں کہ میں اور آپ پہلے یہ عہد کریں کہ ہم اس اختلاف کو صرف سیکھنے کے لئے اور صرف اس دھاگہ کی حد تک رکھیں گے اور جہاں ہم لاشعوری طور پر حدود سے تجاوز کریں تو باقی بھائی ہمیں یاد دلا دیں
ایسا ہو تو پھر میں بات شروع کروں
پیارے بھائی !
اللہ جانتا ہے کہ میں نے یہ الفاظ ۔۔۔۔یہ اس کا ترجمہ ہی غلط ہے ،اس لئے اس غلط کی بنا پر جو محل تعمیر کیا جاتا ہے ، وہ بھی غلط ہی ہوتا ہے ؛
اس یقین کے کے ساتھ لکھے کہ : یہ ترجمہ آپ نے کسی تقلیدی مناظر کا نقل کیا ہے ؛؛
یعنی میں نے آپ کا ردنہیں لکھا ،،بلکہ جو مقلدین اس کا مذکورہ ترجمہ کرتے ہیں ، ان کی تغلیط کی ہے ؛؛
اور اگر واقعی آپ نے میرے الفاظ کو محسوس فرمایا ہے،،،تو بے حد معذرت
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,471
پوائنٹ
791
انتظامیہ سے درخواست ہے کہ:
اس تھریڈ سے میری دونوں پوسٹیں ہٹا دی جائیں ،(یعنی پوسٹ نمبر16۔۔17 )
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,567
پوائنٹ
384
میرے خیال سے علم کے لحاظ سے لوگوں کے تین طبقے ہوتے ہیں:
1- علماء جو قرآن و حدیث سے براہ راست مسائل اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
2- طلاب علم جو اجتہاد کی صلاحیت تو نہیں رکھتے لیکن علماء کے اقوال سے کسی قول کو دلیل کی بناء پر ترجیح دے سکتے ہیں۔
3- جاہل عوام جن کو دلائل کی بھی کوئی سمجھ نہیں۔

پہلے طبقے کے لوگوں کے لئے تقلید حرام ہے اور اجتہاد جائز ہے۔
دوسرے طبقے کے لوگوں کے لئے بھی تقلید جائز نہیں لیکن اجتہاد بھی جائز نہیں۔
جبکہ تیسرے طبقے کے لوگوں پر فرض ہے کہ کسی "زندہ" اور "قابلِ پہنچ" "عالم" (پہلے طبقے کے شخص) سے مسائل پوچھیں۔ ان کے لئے جائز نہیں کہ کسی ایسے شخص سے مسائل پوچھیں جو خود "تقلید" کا دعوی کرتا ہو۔ کیونکہ پھر مقلد مقلد کا مقلد ہو جائے گا۔
بعض علماء اس "اتباع" کو بھی (غیر اصطلاحی) تقلید کہتے ہیں، لیکن محض لفظوں کا فرق ہے اگر معاملہ اسی طرح ہو تو تیسرے طبقے کے شخص کو چاہے متبع کہیں یا مقلد کہیں کیا فرق پڑتا ہے۔
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
پیارے بھائی !
اللہ جانتا ہے کہ میں نے یہ الفاظ ۔۔۔۔یہ اس کا ترجمہ ہی غلط ہے ،اس لئے اس غلط کی بنا پر جو محل تعمیر کیا جاتا ہے ، وہ بھی غلط ہی ہوتا ہے ؛
اس یقین کے کے ساتھ لکھے کہ : یہ ترجمہ آپ نے کسی تقلیدی مناظر کا نقل کیا ہے ؛؛
یعنی میں نے آپ کا ردنہیں لکھا ،،بلکہ جو مقلدین اس کا مذکورہ ترجمہ کرتے ہیں ، ان کی تغلیط کی ہے ؛؛
جی محترم بھائی یہ ترجمہ لکھتے وقت میں نے یہ لکھا تھا کہ مقلدین اسکا ترجمہ یوں کرتے ہیں مگر شاید آپکی نظروں سے اوجھل رہ گیا میری پوسٹ مندرجہ ذیل تھی
3۔تیسری بات
تقلید کی یہ تعریف کی جاتی ہے کہ
العمل بقول من لیس قولہ احدی الحجج بلا حجۃ
جسکا ترجمہ مقلدین کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ
ایسے شخص کے قول پر دلیل کا مطالبہ کیے بغیر عمل کرنا ہے جسکا قول (شریعت میں) حجت نہیں
لیکن اس وضاحت کے باوجود میں یہ کہوں گا کہ میں آپ کو اوپر اپنی عرض نہیں سمجھا سکا اور آپ نے اسکو یہ سمجھ لیا کہ میں آپ کے اعتراض کرنے کی وجہ سے ناراض ہوں
اگر یہ بات ہوتی کہ میں تو آپ سے ناراض ہوتا کہ آپ نے مجھ سے کیوں اختلاف کیا ہے تو پھر آپ کو یہ کیوں کہتا کہ آگے میں نے اختلاف کرنا ہے تو کہیں اس سے ہماری محبت میں کمی نہ آ جائے
اصل میں آپ اور میں دونوں جذباتی ہیں اور میں اس میں کوئی کسر نفسی سے کام نہیں لے رہا واللہ مجھے بہت سی باتوں پر غصہ آ جاتا ہے اور یہ غصہ دوسروں کا ہماری جائز دلیل نہ ماننے پر ہی ہوتا ہے یہ علاقے کا اور ماحول کا اثر بھی ہو سکتا ہے البتہ اللہ سے ہمیشہ یہی تمنا ہوتی ہے کہ اس کو کنٹرول رکھ سکوں تاکہ دعوت کا کام متاثر نہ ہو پس جب کوئی بتا دیتا ہے تو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہوں
اور اسی سلسلے میں آپ کو بھی یہی کہنا چاہتا تھا کہ اگر دیکھیں کہ میں آپکی حق بات کو نہیں سمجھ رہا تو اسکو معاف کر دینا ہے اور یہی سمجھنا ہے کہ ہر ایک کے تجربات اور ذہن ایک جیسے ہونا لازمی نہیں
میں بھی کوشش کروں گا کہ آپ میرے خلاف کوئی بات کریں تو اسکو یہ سمجھوں کہ آپ میری بھلائی ہی چاہتے ہیں البتہ اپنے تجربے اور ذہن کے مطابق میں اسکا ادراک نہیں کر سکتا

اور اگر واقعی آپ نے میرے الفاظ کو محسوس فرمایا ہے،،،تو بے حد معذرت
محترم بھائی محسوس کرتا تو سیدھا جواب دینا شروع کر دیتا میں تو آپ سے گارنٹی چاہتا ہوں کہ اگر میں اپنی سمجھ سے کوئی غلط دلائل دوں گا تو اسکو آپ میری نا سمجھی وغیرہ سمجھ کر محسوس نہیں کریں گے اور مجھ سے ناراض نہیں ہوں گے اللہ آپکو دونوں جہانوں کی بھلائیاں عطا فرمائے امین
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
انتظامیہ سے درخواست ہے کہ:
اس تھریڈ سے میری دونوں پوسٹیں ہٹا دی جائیں ،(یعنی پوسٹ نمبر16۔۔17 )
محترم بھائی اس طرح تو یہ مطلب ہو جائے گا کہ میں آگے بات نہ کروں
کیونکہ اوپر آپکی بات کا مطلب یہ ہے کہ جس سے دوسرے پیارے بھائی کو تکلیف ہو اس بات کو ختم کر دینا چاہئے
لیکن میں اس سلسلے میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ اسکی دو صورتیں ہو سکتی ہیں
1۔دونوں پیارے بھائی اتنا کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جو میں نے اوپر والی پوسٹ میں لکھا ہے تو پھر انکو بات بند کر دینی چاہئے کیونکہ یہ نہ ہو کہ آپس کی محبت ہی ختم ہو جائے
2۔اگر ان میں اپنے آپ کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت ہے تو پھر آگے بات کرنی چاہیے تاکہ محبت پر کوئی اثر نہ پڑے

میں نے اس فورم پر اس پہلی صورت کی مثالیں پہلے دیکھی ہیں کہ محترم انس بھائی کو بھی ہمارے کچھ بہت مخلص بھائی کیا کیا کہ جاتے ہیں اللہ سب کا اخلاص قبول کرے
پس میں نے شروع میں آپ کو یہی کہا تھا کہ آپ دوسری بات کی امید رکھتے ہیں تو آگے شروع کریں ورنہ رک جاتے ہیں میں اپنی طرف سے تو آپکو کہ چکا ہوں کہ اللہ کی توفیق سے آپکی باتوں کو دل پر نہیں رکھوں گا
 
Top