• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جنت پکارتی ہے

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
باب سوم۔ خلاصہ ٔ انعامات
گذشتہ اوراق میں ہم نے قرآن پاک اور احادیث ِ مبارکہ سے جنت کی تمام کیفیات اور انعامات کی تفصیل بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ممکن ہے اس ضمن میں بعض آیات اور کئی احادیث ہم سے چھوٹ گئی ہوں۔ تاہم دی گئی تفصیلات سے بھی جنت کا ایک ہمہ پہلو تصور ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ انہیں پڑھنے کے بعد ہی کہیں ہماری سمجھ میںآتا ہے کہ دنیا میں تکلیفیں جھیلنے اور دین کی خدمت میں جان کو گھسا دینے والے مومن کے لئے اس کے محسن رب نے کتنی عظیم الشان نعمتیں مہیا کررکھی ہیں۔
ذیل میں ہم یادداشت کی خاطر گذشتہ اوراق میں دی گئی جنت کی تمام نعمتوں کو نکات کے طور پر مختصراً درج کرتے ہیں تاکہ صرف ایک نظر میں اپنے رب کے احسانات کا اندازہ ہوسکے۔
جنت کے انعامات کی جامع فہرست
٭ جنت میں ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریںبہتی ہیں۔ (بقرۃ، سلسلہ ۱)
٭ اہالیانِ جنت کے چہروں سے روشنی ٹپک رہی ہو گی۔ (نساء۔ سلسلہ ۳)
٭ وہاں ان کے لئے گھنی چھاؤں ہوگی۔ (نساء ۔ ۳)
٭ ان کا مقام ''انبیاء'' صدیقین اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ (نساء سلسلہ ۴)
٭ ان کے درمیان باہمی کدورتوں کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ (اعراف۔ سلسلہ ۵)
٭ ان کے لئے وہاں دو قیام گاہیںہوں گی۔ باغ عدن و باغ فردوس (رعد۔۹)
٭ ان پر لازوال گھنا سایہ چھا رہا ہوگا۔ ( رعد۔۱۰)
٭ جنتیوں کو سونے کے کنگنوں سے آراستہ (ڈیکوریٹ) کیا جائے گا۔
٭ ان کیلئے باریک ریشم اور اطلس و دیبا کے سبز کپڑے ہوں گے۔ (کہف ۳۰۔۳۱)
٭ وہاں وہ اونچی مسندوں اور صوفوں پر بیٹھیں گے۔ (الواقعہ۔ الغاشیہ)
٭ ان کی سجاوٹ موتیوں سے بھی کی جائے گی۔ (حج ۲۳۔۲۴)
٭ ان کے لئے حریر و دیبا کے لباس بھی مہیا ہوں گے۔ (دخان ۳۵)
٭ ان کے لئے دبیز ریشم کے استر والے حسین سبز قالین موجود ہوں گے۔ (رحمن ۴۲)
٭ خدائے رحمان سے ان کی ملاقات مہمان کی حیثیت سے کرائی جائے گی۔ (مریم۔۱۴)
٭ ان سے وہاں صبح و شام رزق کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ (مریم ۱۵)
٭ ان کے لئے وہاں ہر من بھاتی اشیاء موجود ہوں گی۔ (انبیاء ۱۸)
٭ ملائکہ انہیںبڑھ کے ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہوں گے۔ (انبیا ء ۱۸)
٭ انتہائی گھبراہٹ کے عالم میں بھی ان پر انتہائی سکون طاری ہو گا۔ (انبیاء ۱۸)
٭ دوپہر گزارنے کے لئے شاندار جگہ عطا کی جائے گی۔ (فرقان۔۲۰)
٭ ربِ رحیم کی طرف سے اہالیانِ جنت کے لئے سلام کی ترسیل ہوگی۔ (یس۲۷)
٭ ہر طرح کی لذیذ نعمتوں کی فراوانی ہوگی۔ (صافات۔۲۸)
٭ تختوں (صوفوں) پر آمنے سامنے کی نشست رکھی جائے گی۔ (صافات۔۲۸)
٭ شراب کے چشموں سے لبالب بھرے ہوئے ساغر پیش کئے جائیں گے۔ (صافات۔۲۸)
٭ حیا دار اور خوبصورت آنکھوں والی عورتیں عطا کی جائیں گی۔ (صافات۔۲۸)
٭ وہ ایسی نازک ہوں گی جیسے انڈے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی۔ (صافات۔۲۸)
٭ میوہ جات او رمشروبات کی بے اندازہ فراوانی ہوگی۔ (ص۔۳۰)
٭ منزلوں پر منزلیں بنی ہوئی بلند و بالا عمارتیں (Sky Crapers) ہوں گی۔ (زمر۔۳۱)
٭ سونے کے تھالوں اور پیالوں کی گردش ہوگی۔ (زخرف۔۳۴)
٭ نگاہوں کو لطف دینے والی ہر چیز کی فراہمی ہوگی۔ (زخرف۔۳۴)
٭ گوری گوری ہرن جیسی آنکھوں والی حوریں دی جائیں گی۔ (دخان۔۳۵)
٭ وہاں نہریں ہوں گی، دودھ کی، شراب کی، شہد کی۔ (محمدؐ۔۳۶)
٭ نیک اولاد بھی والدین سے ملا دی جائے گی۔ (طور۔۳۹)
٭ خدمت کے لئے مخصوص لڑکے جو خدمت گزاری کے لئے ہر وقت بھاگتے رہیں گے۔ (طور۔۳۹)
٭ وہ ایسے خوبصورت ہوں گے جیسے چھپا کر رکھے گئے موتی۔ (طور۔۳۹)
٭ ساکنانِ جنت کی نشست ذی اقتدار بادشاہ (اللہ تعالیٰ) کے قریب ہوگی۔ (قمر۔۴۰)
٭ بغیر کانٹے کی بیریاں اور تہہ بہ تہہ چڑھے ہوئے کیلے عطا کئے جائیں گے۔ (واقعہ۔۴۱)
٭ دور دور تک پھیلی ہوئی چھاؤں ہوگی۔ (واقعہ۔۴۱)
٭ ہر دم رواں دواں پانی ہو گا جو آنکھوں اور ذہن کو سرور بخشے گا۔ (واقعہ۔۴۱)
٭ دو باغ اور دو چشمے علیحدہ ہوں گے۔ (واقعہ۔۴۱)
٭ نہر میں ان دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے۔ (رحمن۔۴۲)
٭ بہنے والا پانی اور فواروں میں اچھلتا ہوا پانی، دونوں قسمیں پائی جائیں گی۔ (رحمن۔۴۲)
٭ ہر پھل کی دو دو قسمیں ہوں گی۔ (رحمن۔۴۲)
٭ باغوں کی ڈالیاں جھکی ہوئی نظر آئیں گی۔ (رحمن۔۴۲)
٭ ہیرے اور موتی کی طرح خوبصورت حوریں پائی جائیں گی۔ (رحمن۔۴۲)
٭ مومنوں کا نور آگے اور دائیں دونوں جانب دوڑتا ہوگا۔ (حدید۔۴۳)
٭ آبِ کافور اور سونٹھ کی آمیزش والی شراب پیش کی جائے گی۔ (دہر۔۴۶)
٭ جہاں چاہیں گے، ان کی شاخیں نکالی جا سکیں گی۔ (دہر۔۴۶)
٭ اہل جنت کیلئے جاڑے کی ٹھنڈک سے حفاظت کا انتظام ہوگا۔ (دہر۔۴۶)
٭ ان کے لئے چاندی اور شیشے کے برتن کی فراہمی کی جائے گی۔ (دہر۔۴۶)
٭ شیشے کے برتن بھی وہ جو چاندی کے ہوں گے۔ (دہر۔۴۶)
٭ ایک وسیع و عریض سلطنت کا سامان، جاگیریں ہی جاگیریں عطا کی جائیں گی۔ (دہر۔۴۶)
٭ سونے کے علاوہ چاندی کے کنگن بھی پہنائے جائیں گے۔ (دہر۔۴۶)
٭ ساکنانِ جنت کے لئے نوخیز ہم سن لڑکیاں عطا کی جائیں گی۔ (نباء۔۴۸)
٭ گاؤ تکیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہوں گی۔ (غاشیہ۔۴۹)
٭ خوشبودار تازہ کر دینے والی ہوا ہو گی۔ (مسلم)
٭ جمعہ بازار۔ مفت اشیاء کی فراہمی ہو گی۔ (مسلم)
٭ جنتی کا پسینہ مشک کا ہوگا۔ (مسلم)
٭ وہ وہاں پیشاب، پاخانے، بلغم اور تھوک سے بالکل پاک ہوں گے۔ (مسلم)
٭ ساٹھ میل لمبے کھوکھلے موتی کے خیمے کی فراہمی ہو گی۔(مسلم)
٭ جنت کی مٹی مشک کی ہو گی۔ (مسلم)
٭ جنت کی نہر پر موتیوں کے گنبد موجود ہوں گے۔ (مسلم)
٭ حوض ِ کوثر کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔ (مسلم)
٭ لاتعداد نعمتوں کی بخشش کے بعد اتنی ہی نعمتوں کی مزید بخشش کی جائیگی۔(مسلم)
٭ دو جنتیں چاندی کی۔ جس میں ہر برتن چاندی کے ہوں گے۔ (بخاری و مسلم)
٭ دو جنتیں سونے کی۔ جس میں ہربرتن سونے کے ہوں گے۔ (بخاری و مسلم)
٭ ایسی حسین حوروں کی عطائیگی جن کا صرف جھانکنا ہی دنیا کو اِس کونے سے اُس کونے تک منور کردے گا۔(بخاری و مشکوٰۃ)
٭ انہیں وہاں سونے کی کنگھیاں بخشی جائیں گی۔ (بخاری و مسلم)
٭ جنت کی ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی۔
٭ اس کا مصالحہ تیز خوشبودار مشک کا ہے۔
٭ اس کی کنکریاں یاقوت کی ہیں اور
٭ اس کی مٹی زعفران کی ہے۔ (احمد، ترمذی)
٭ جنت میں درخت کا ہر تنا سونے کا ہے۔ (ترمذی)
٭ جنت کے سو درجے (یا سو منزلیں) ہیں۔
٭ اور ہر دو درجوں کے درمیان سو برس کی اونچائی ہے۔ (ترمذی)
٭ ہر جنتی بیوی کے جسم پر لباس کے ستر جوڑے ہوں گے۔
٭ یہ بیویاں اتنی حسین اور شفاف Transparent ہوں گی کہ ستر لباسوں کے باوجود باہر سے ان کی پنڈلیوں کا گودا بھی نظر آئے گا۔ (ترمذی)
٭ وہاں کوئی بھی فرد تیس اور تینتیس سال سے زائد کا نہ ہو گا۔ (مشکوٰۃ)
٭ جنت کا درخت سدرۃ المنتہیٰ وہ ہے جس کے سائے میں سوار سو سال تک چلے گا اور وہ درخت ختم نہ ہوگا۔ (ترمذی)
٭ جنت کی سیر کے لئے حسب ِ خواہش مومن کو سرخ یاقوت کے پردار گھوڑے عطا کئے جائیں گے۔ (ترمذی)
٭ جنت میں جنتیوں کے لئے:
٭٭ نور کے منبر ... موتیوں کے منبر
٭٭ یاقوت کے منبر ... سونے کے منبر،
٭٭ چاندی کے منبر ... اور
٭٭ مشک و کافور کے ٹیلے ہوں گے۔ (ترمذی)
٭ سب سے کم مرتبے کے جنتی کو اسی ہزار خادم اور بہتر بیویاں عطا کی جائیں گی۔ (ترمذی)
٭ اس کے لئے موتی، زبرجد اور یاقوت کے بنے ہوئے خیمے ہوں گے۔ (ترمذی)
٭ اس کے سر پر موتیوں کا تاج ہوگا جس کا سب سے معمولی موتی بھی دنیا کے مشرق و مغرب کو منور کردے گا۔ (ترمذی)
٭ جنت میں حوریں اہالیانِ جنت کی شریک ِ حیات بن کر خوشی کے نغمے گائیں گی۔ (ترمذی)
٭ جنتی فرد ایک پہلو سے دوسرا پہلو بدلنے تک ستر تکئے لگائے گا۔ (مشکوٰۃ)
٭ جنت کی عورت جنت کے مکین کو کندھے پر پیار سے تھپتھپائے گی۔ (مشکوٰۃ)
٭ اس کا چہرہ اتنا شفاف Transparent ہو گا کہ مومن کو اس میں خود اپنا چہرہ دکھائی دے گا۔ (مشکوٰۃ)
٭ جنتی اگرخواہش کرے گا تو اسے وہاں کھیتی باڑی کی بھی اجازت ہو گی۔ (بخاری)
٭ ادنیٰ درجے کے جنتی کے لئے بھی بہت طویل لمبائی چوڑائی کے زبرجد اور موتی کے خیمے ہوں گے۔ (ترمذی)
٭ جنت میں ہر دروازوں کی دو چوکھٹوں کے درمیان چالیس سال کے برابر فاصلے کی چوڑائی ہوگی۔ (مسلم)​
حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ جنت ہے کہ تمام تر تفصیلات و جزئیات کے بعد، نہ اب تک اسے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان سے سنا۔​
تو اے مومنو! ''دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف جس کی لمبائی اور چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔''​
٭٭٭٭٭​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
باب چہارم۔ جنتیوں کی صفات
جنت اور اس کے انعامات کن لوگوںکو حاصل ہوں گے؟
یوں تو جنت میں داخلہ ہر کلمہ گو کے لئے ممکن ہوگا مگر اس کے لئے محض نام کے کلمہ گو کو ایک طویل لمبی مدت جہنم کے بدترین عذاب میں بھی گزارنی ہوگی۔ جنت اپنے مفہوم کے لحاظ سے نیک اور متقی بندوں کے لئے مخصوص ہے۔ مشرکوں اور کافروں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ جیسا کہ ایک بار حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک ذمی عیسائی کو جنگلوں میں دنیا کی نعمتوں سے دور رہتے ہوئے دیکھا تو افسوس کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص دنیا کی نعمتوں سے بھی محروم ہوا اور اس نے جنت کی نعمتوں سے بھی اپنا ہاتھ دھولیا۔
ہمارے چھوٹے چھوٹے گناہوں کی معافی کے لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں ایک لحاظ سے خودکار نظام وضع کررکھا ہے۔ یعنی ہماری نیکیاں ہمارے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو مٹاتی چلی جاتی ہیں۔ ان الحسنات یذھبن السیئات۔ ''بلاشبہ نیکیاں، برائیوں کو کھا جاتی ہیں۔'' دوسری طرف خالق کائنات نے بعض چھوٹے نیک اعمال کے لئے بھی بڑے بڑے اجر رکھے ہیں مثلاً نمازِ جنازہ میں شرکت سے ایک قراط پہاڑ کے برابر ثواب اور قبرستان تک جانے میں دو قراط کے برابر ثواب اورشب ِ قدر میں رات جاگنے کا صلہ ایک ہزار مہینوں کے برابر ثواب۔ ہماری چھوٹی چھوٹی نیکیاںبھی دس گنا اجر رکھتی ہیں۔ صدقہ کا ایک روپیہ بھی 700 گنا کے برابر بڑھا دیا جاتا ہے۔ (النور آیت ۲۶۱) وغیرہ۔ اس طرح آخرت میں یہ تمام چھوٹی اور بڑی اور محسوس وغیر محسوس نیکیاں ہمارے حساب میں بہت بڑا وزن بنا دیں گی بشرطیکہ ہم نے گناہِ کبیرہ نہ کئے ہوں، فرض عبادات نہ چھوڑی ہوں اور حقوق العباد نہ برباد کئے ہوں۔ لہٰذا جنت تو مسلمانوں پر واجب ہے ہی۔
البتہ جنت کے درجات اور فضیلتیں ہر مسلمان کے لئے یکساں نہیں ہیں۔ آخرت میں ان درجات کا حصول ہمارے اعمال کے درجوں پر ہوگا۔ گویا جنت کے درجوں کا، ہمارے اعمال کے درجوں سے بہت گہرا تعلق ہے۔ انبیاء ؑ، صحابہ ؓ اور تابعین ؒ کے درجات کچھ اور معنی رکھتے ہیں اور ہم جیسے بہت کمزور نیکیاں کرنے والوں کے درجات کوئی اور حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا جنت میں درجات کا فرق ہونا لازم ہے۔
قرآنِ پاک میں بلند درجات حاصل کرنے والوں کے لئے کئی شرائط رکھی گئی ہیں جو مختلف مقام پر مختلف ہیں۔ واضح رہے کہ قرآن انسان کو محض مسلمان نہیں بلکہ ایک اعلیٰ درجے کا مسلمان بنانا چاہتا ہے۔ لہٰذا ان صفات کا مطالعہ ہمارے ایمان میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اعلیٰ درجے کے مومنین کی صفات حسب ِ ذیل ہیں۔
جنتیوں کی صفات قرآن مجید سے
(۱) بن دیکھے ایمان لانا۔ نماز قائم کرنا، دیئے ہوئے مال میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرنا، تمام کتابوں پر ایمان لانا اور آخرت پر یقین رکھنا۔
(۲) ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو جزع فزع نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے ہیں اور ہمیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔
(۳) توبہ کرنا، اپنی اصلاح کرنا اور حق بات کو بیان کرنا
(۴) اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا۔
(۵) حلال اور پاکیزہ چیزیں کھانا، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلنا اور بے حیائی کے کاموں سے دور رہنا۔
(۶) عہد کو پورا کرنا اور جہاد میں ثابت قدم رہنا۔
(۷) اللہ کی مرضی کے مطابق وصیت کرنا اور اس میں ترمیم و تبدیلی نہ کرنا
(۸) زمین میں فساد نہ پھیلانا
(۹) اسلام میں پورے کے پورے داخل ہونا
(۱۰) ہلا مارنے والی آزمائشوں سے گزرنا
(۱۱) اللہ کی راہ میں ہجرت کرنا
ـ(۱۲) یتیموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا اور ان کے مالوں میں دخل اندازی نہ کرنا
(۱۳) جھوٹی قسمیں نہ کھانا
(۱۴) نکاح کے بعد بیویوں کو مہر ادا کرنا
(۱۵) سود سے دست برداری اختیار کرنا
(۱۶) مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے اس طرح دوستی کرنا کہ وہ ہمارے حواس پر چھا جائے۔ اس مشغلے سے دستبرداری اختیار کرنا۔
(۱۷) سچ بولنا اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے بخشش کے طلب گار ہونا۔
(۱۸) عہد اور قسمو ں کو نہ بیچنا
(۱۹) سب سے پسندیدہ مال خرچ کرنا
(۲۰) تفرقے بازی نہ کرنا
(۲۱) نیکی اور بھلائی کی دعوت دینے اور برائی سے روکنے کے لئے ایک جماعت قائم کرنا
(۲۲) خوش حالی اور تنگ دستی، ہر حال میں اپنا مال خرچ کرنا، غصے کو قابو میں رکھنا، لوگوں کی غلطیوں سے درگزر کرنا، غلطی سے کئے گئے گناہ کے بعد فوراً پلٹ آنا۔
(۲۳) عورتوں کو میراث سمجھ کر زبردستی ان کے وارث نہ بننا
(۲۴) آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھانا
(۲۵) کتاب ِ الٰہی کا کچھ حصہ چھپانا اور کچھ حصہ بیان کرنا، اس عمل سے پرہیز اختیار کرنا
(۲۶) امانتیں، اہل امانت داروں کے سپرد کرنا
(۲۷) کسی بھی انسان کو ناجائز قتل نہ کرنا
(۲۸) سچی گواہی دینا
(۲۹) اللہ کی شکر گزاری کرنا
(۳۰) حرام اور مردار نہ کھانا
(۳۱) اللہ کو قرضِ حسنہ دینا
(۳۲) حلال اور طیب چیزیں کھانا
(۳۳) ناپ تول میں بے ایمانی نہ کرنا
(۳۴) جب کسی دشمن گروہ سے مقابلہ ہو تو ثابت قدمی اختیار کرنا
(۳۵) زکوٰۃ ادا کرنا
(۳۶) اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاہُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اﷲِط وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ o
توبہ کرنیوالے، عبادت کرنیوالے، حمد کرنیوالے، اللہ کی راہ میں پھرنیوالے، رکوع کرنیوالے، سجدہ کرنیوالے، بھلائی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے، اور اللہ کی قائم کی ہوئی حدوں کا خیال رکھنے والے۔ (توبہ ۔ آیت۱۱۲)
(۳۷) برائی کئے جانے کے باوجود بدلے میں بھلائی اختیار کرنا
(۳۸) زمین پر اکڑ کر نہ چلنا
(۳۹) ناحق قتل نہ کرنا
(۴۰) قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَلاo الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلاَ تِہِمْ خٰشِعُوْنَلاo وَ الَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَلاo وَ الَّذِیْنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوْنَلاo وَ الَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَلاo اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَجo فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوْنَجo وَ الَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَ عَہْدِہِمْ رٰعُوْنَلاo وَ الَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰ تِہِمْ یُحَافِظُوْنَوقف لازمo اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْوَارِثُوْنَلاo الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَط ہُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ لاo
''فلاح پاگئے ایمان لانے والے، جو اپنی نماز خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھتے ہیں، لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں (سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے، کیونکہ ان پر وہ قابل ملامت نہیں، مگر جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں تو وہ حد سے گزرنے والے ہیں)، جو اپنی امانتوں اور وعدوں کا لحاظ کرتے ہیں، اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، یہی لوگ وارث ہیں جو جنت الفردوس کی وراثت پائیں گے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔'' (پارہ ۱۸۔ المومنون۔ آیت ۱ تا ۱۱)
(۴۱) اِنَّ الَّذِیْنَ ہُمْ مِّنْ خَشْیَۃِ رَبِّہِمْ مُّشْفِقُوْنَلاo وَ الَّذِیْنَ ہُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ یُؤْمِنُوْنَلاo وَ الَّذِیْنَ ہُمْ بِرَبِّہِمْ لاَ یُشْرِکُوْنَلاo وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ ٰاتَوْا وَّ قُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلٰی رَبِّہِمْ رٰجِعُوْنَلاo اُولٰٓئِکَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ ہُمْ لَہَا سٰبِقُوْنَo
''بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں، اپنے رب کی آیتوں پر یقین رکھتے ہیں، اپنے رب کے ساتھ کسی کوشریک نہیں بناتے ہیں، اللہ کی راہ میں جتنا دے سکتے ہیں، دیتے ہیں اور اس کے باوجود ان کے دل کانپتے رہتے ہیں کہ ایک دن انہیں اپنے رب کے پاس جانا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیںجو بھلائیوں کی راہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اس دوڑ میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔'' (پارہ ۱۸۔ المومنون ۵۷ تا ۶۱)
(۴۲) وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَ السَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْآ اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَ الْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ صلے ص وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلاَتُحِبُّوْنَ اَنْ یَّّغْفِرَ اﷲُ لَکُمْط وَ اﷲُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o
اور اے مسلمانو! تم میں سے جو لوگ فضل اور وسعت والے ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتے داروں، مسکینوں اور راہِ خدا میں ہجرت کرنے والوں کی مالی امداد نہ کریں گے بلکہ انہیں چاہیئے کہ ان بے چاروں کو معاف کردیں اور درگزر کردیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کردے۔ اور اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔'' (پارہ ۱۸۔ النور آیت ۲۲)
(۴۳) اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِص وَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌلاo یَّوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ o
بے شک جو لوگ پاک دامن، بے خبر اور ایمان والی عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ اس دن جبکہ ان کے خلاف خود ان کی اپنی زبانیں، اپنے ہاتھ اور پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ یہ کام کرتے تھے۔'' (پارہ ۱۸۔ النور آیت ۲۳۔۲۴)
(۴۴) فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اﷲُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗلا یُسَبِّحُ لَہٗ فِیْھَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِلاo رِجَالٌلا لَّا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلاَ بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِاﷲِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیْتَآئِ الزکوٰۃِص لا یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُق لاo لِیَجْزِیَہُمُ اﷲُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖط وَاﷲُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ o
اس روشنی (نور) سے فیض پانے والے لوگ ان مسجدوں میں جاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کا احترام کیا جائے، اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے جہاں ایسے مرد صبح و شام اللہ کو یاد کرتے ہیں، جنہیں تجارت اور خرید و فروخت بھی اللہ کی یاد نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے غافل نہیں کرتی۔ وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں پتھرا جائیں گی۔ وہ یہ اس لئے کرتے ہیں تاکہ اللہ انہیں ان کے عمل کا بہترین بدلہ دے اور انہیں اپنے فضل سے مزید نوازے اور اللہ جسے چاہتا ہے، بے حساب دیتا ہے۔'' (پارہ ۱۸۔ النور آیات ۳۶ تا ۳۸)
(۴۵) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًاo وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًاo وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَصلے ق اِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًاق صلے o اِنَّہَا سَآئَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًاo وَ الَّذِیْنَ اِذَا اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًاo وَ الَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اﷲِ اِٰلہًا اٰخَرَ وَ لاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اﷲُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لاَ یَزْنُوْنَج وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًالاo یُضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیْہِ مُہَانًاق صلےo اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اﷲُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍط وَ کَانَ اﷲُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاo وَ مَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوْبُ اِلَی اﷲِ مَتَابًاo وَ الَّذِیْنَ لاَ یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَلا وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًاo وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًاo وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًاo اُولٰٓئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْھَا تَحِیَّۃً وَّ سَلٰمًالاo خٰلِدِیْنَ فِیْھَاط حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًاo قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلاَ دُعَآؤُکُمج فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًاعo
رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان کے منہ لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔ اور جو اپنے رب کے آگے سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہمیں دوزخ کے عذاب سے دور رکھنا کیونکہ اس کا عذاب بڑا ہی جان کا لاگو ہے۔ بے شک وہ برا ٹھکانہ اور برا مقام ہے۔ اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ کفایت شعاری اختیار کرتے ہیں جو اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے۔ جو کسی ایسی جان کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے اور وہ بدکاری نہیںکرتے اور جو شخص ایسے کام کرے گا، وہ اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔ قیامت کے دن اس کا عذاب بڑھتا چلا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ذلیل ہو کر رہے گا۔ مگر جس نے توبہ کی، ایمان لایا اور پھر نیک کام کئے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اور جو شخص توبہ کرے اور نیک کام کرے تو وہ درحقیقت اللہ کی طرف رجوع کررہا ہے۔ اور جو جھوٹی گواہی میں شامل نہیں ہوتے اور جب کسی بے ہودہ چیز سے ان کا گزر ہوتا ہے تو سنجیدگی کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور وہ ایسے ہیں کہ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔ اور جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیز گاروں کے لئے اعلیٰ نمونہ بنا۔ یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے صلے میں جنت کے اونچے بالا خانے ملیں گے جہاں ان کا استقبال دعا اور سلام کے ساتھ ہوگا۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے تو کیسی عمدہ جگہ ہے وہ ٹھہرنے کی اور کیسا عمدہ مقام ہے وہ رہنے کا۔'' (پارہ۱۸۔ الفرقان آیات ۶۳ تا ۷۷)
(۴۶) فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَط اِلَیَّ الْمَصِیْرُ o وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌلا فَلاَ تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًاز وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّج ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ o
اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ سے اچھے سلوک کی تاکید کی۔ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا۔ لہٰذا ہم نے انسان کو حکم دیا کہ وہ میرا بھی شکر گزار رہے اور اپنے والدین کا بھی۔ آخر تم سب کو میرے پاس ہی آنا ہے۔ (پارہ ۲۱۔ لقمان آیت ۱۴۔۱۵)
(۴۷) ٰیبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَکَط اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِج o وَلاَ تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلاَ تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاط اِنَّ اﷲَ لاَ یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍج o وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَط اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِع o
اے میرے بیٹے نماز پڑھ۔ اچھے کام کی نصیحت کر اور برائی سے روک۔ اور جو مصیبت آئے اس پر صبر کر۔ بے شک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں اور لوگوں سے بے رخی نہ کر۔ زمین میںاکڑ کر نہ چل۔ بے شک اللہ کسی اکڑنے والے اور غرور کرنے والے کو پسند نہیں کرتا اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست کر۔ بے شک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔ (پارہ۲۱۔ لقمان آیات ۱۷۔۱۹)
(۴۸) اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰٰیتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِہَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَ ہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَالسجدۃ o تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًاز وَّ مِمَّا رَزَقْنٰہُمْا یُنْفِقُوْنَo فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍج جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ o
ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انہیں ان کے ذریعے یاددہانی کرائی جاتی ہے، تو وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں، اپنے رب کی حمد کرتے اور تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ۔ ان کے پہلو راتوں کو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے، اس میں سے راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔ کسی کو کیا معلوم کہ لوگوں کے لئے ان کے اعمال کے صلے میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے؟ (پارہ ۲۱۔ السجدہ آیات ۱۵ تا ۱۷)
(۴۹) مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اﷲَ عَلَیْہِج فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْہُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُصلے ز وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلاً لاo
ایمان والوں میں سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے اپنے عہد کو پورا کردکھایا ان میں سے کوئی اپنا ذمہ پورا کرچکا اور کوئی ابھی وقت آنے کا منتظر ہے۔ اور انہوں نے اپنے قول و قرار میں ذرا تبدیلی نہیں کی۔ (پارہ ۲۱۔ الاحزاب ۲۳)
(۵۰) اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآئِمِیْنَ وَالصّٰٓئِمٰتِ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَہُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذَّاکِرِیْنَ اﷲَ کَثِیْرًا وَّالذّٰکِرٰتِلا اَعَدَّ اﷲُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا o
بے شک اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں، ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں، فرماں بردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں۔ اور کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والی عورتیں، اللہ نے ان سب کے لئے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کررکھا ہے۔ (پارہ ۲۲۔ الاحزاب ۳۵)
(۵۱) اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ کِتٰبَ اﷲِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْا سِرًّا وَّعَلاَنِیَۃً یَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَبُوْرَلاo
جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں۔ وہ ایسی تجارت کررہے ہیں جس میں کبھی گھاٹا نہیں۔ (پارہ ۲۲۔ فاطر آیت ۲۹)
(۵۲) وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اﷲِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ o
اور اس شخص سے اچھی بات اور کس کی ہو گی جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے، نیک عمل کرے اور لوگوں سے کہے کہ میں اللہ کا ایک فرمانبردار ہوں۔ (پارہ ۲۴۔ حم السجدہ آیت ۳۳)
(۵۳) یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا ہَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍo تُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَرَسُوْلِہٖ وَ تُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْط ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَلاo
اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تمہیں ایک دردناک عذاب سے بچالے؟ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔ (پارہ ۲۸۔ الصف آیات ۱۰۔۱۱)
(۵۴) یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لاَ تُلْہِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلاَدُکُمْ عَنْ ذِکْرِ اﷲِج وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَo وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنکُمْا اٰمِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍلا فَاَصَّدَّقَ وَ اَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَo وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اﷲُ نَفْسًا اِذَا جَآئَ اَجَلُہَاط وَاﷲُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَعo
اے ایمان والو! دیکھو تمہارے مال اور تمہاری اولاد کہیں تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں اور دیکھو جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے اور وہ کہے کہ اے میرے رب تونے مجھے کچھ اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں شامل ہوجاتا۔ اور جب کسی نفس کو اس کی موت آجاتی ہے تو اللہ ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو، وہ سب اللہ کو معلوم ہے۔ (پارہ ۲۸۔ المنافقون آیات ۹۔۱۱)
(۵۵) اِلَّا الْمُصَلِّیْنَلاo الَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلاَتِہِمْ دَآئِمُوْنَلاصo وَ الَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌلاصo لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوْمِلاصo وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِلاصo وَالَّذِیْنَ ہُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّہِمْ مُّشْفِقُوْنَجo اِنَّ عَذَابَ رَبِّہِمْ غَیْرُمَاْمُوْنٍo وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَلاo اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِہِمْ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَجo فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوْنَجo وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ ٰرعُوْنَص لاo وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَآئِمُوْنَص لاo وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلاَتِہِمْ یُحَافِظُوْنَطo
مگر ان لوگوں کا حال یہ نہیں ہوتا جو نمازی ہیں۔ جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، جو اپنے مال کا ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ناداروں کو ادا کرتے ہیں، جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں، جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک ان کے رب کے عذاب سے کسی کو بے خوف نہیں ہوناچاہیئے۔ اور جو اپنے ستر کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے کہ جن پر انہیں کوئی ملامت نہیں۔ پھر جو شخص اس کے علاوہ کچھ اور چاہے تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں، اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کو نباہتے ہیںجو اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں، اور جو اپنی نماز کی پابندی رکھتے ہیں۔ (پارہ ۲۹۔ المعارج آیات ۲۲۔۳۴)
(۵۶) یَّتَسَآئَ لُوْنَلاo عَنِ الْمُجْرِمِیْنَلاo مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَo قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَلاo وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَلاo وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَلاo وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِلاo حَتّٰٓی اَٰتنَا الْیَقِیْنُ طo
اور وہ پوچھیں گے مجرموں سے کہ تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی؟ وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔ غریبوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ دین میں بحث کرنے والوں کے ساتھ مل کر بحث کیا کرتے تھے۔ اور جزا اور سزا کے دن کو جھٹلاتے تھے۔ یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی۔ (پارہ ۲۹۔ المدثر آیات ۴۰۔۴۷)
جنتیوں کی صفات احادیث مبارکہ سے
(۱) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے ابو سعید، جو شخص اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہو گیا، اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک اور بات بھی ہے کہ جس کی وجہ سے بندے کے درجات جنت میں سو درجے بلند ہوتے ہیں۔ اور دو درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد، اللہ کے راستے میں جہاد۔ (مسلم)
(۲) حضرت ابو سعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ایک اونٹنی لے کر آیا جسے مہار پڑی ہوئی تھی۔ اس نے عرض کیا یہ اس (اللہ) کے راستے میں صدقہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس قیامت کے دن اس کے بدلے سات سو اونٹنیاں ہوں گی جن کی ناک میں مہار ڈلی ہوئی ہو گی۔ (مسلم)
(۳) حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے ایک آدمی کو جنت میں مزے اُڑاتے ہوئے دیکھا ہے جس نے راستے میں ایک ایسے درخت کو کاٹ دیا تھا جس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی۔ (مسلم)
(۴) حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ نیکی میں کسی چیز کو بھی حقیر نہ سمجھو، اگرچہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی ہی سے ملو۔ (مسلم)
(۵) حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے نمازِ جنازہ ادا کی، اس کے لئے ایک قیراط کا ثواب ہے اور جس نے تدفین تک شرکت کی اس کے لئے دو قیراط کا ثواب ہے۔ پھر آپ ﷺ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قیراط کا مطلب ہے احد پہاڑ کی مانند۔ (مسلم)
(۶) حضرت زینب ؓ زوجہ عبداللہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا، اے عورتو! صدقہ کرو اگرچہ وہ تمہارے زیوروں کے ذریعے سے ہو۔ (مسلم)
(۷) آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، تو وہ اس شخص کے لئے صدقہ جاریہ بن جائے گا۔ (مسلم)
(۸) آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر تسبیح اور ہر تکبیر صدقہ ہے۔ ہر تعریفی کلمہ صدقہ ہے اور لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے۔ اور نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے۔ (مسلم)
(۹) حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنی پاکیزہ آمدنی میں سے ایک کھجور بھی صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اس کی اس طرح پرورش کرتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے یا اونٹنی کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر یا اس سے بھی بڑا ہوجاتا ہے۔ (مسلم)
(۱۰) حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیںکہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عورت جب اپنے شوہر کے مال سے بغیر فساد کے خرچ کرتی ہے تو یہ اس عورت کے لئے بھی ثواب ہوگا اور اس کے شوہر کو بھی ہو گا جس کی آمدنی کی وجہ سے اس کی بیوی صدقہ کرنے کے قابل ہوئی۔ (مسلم)
(۱۱) حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اپنے مال میں سے کسی چیز کاجوڑا اللہ کے راستے میں خرچ کیا تو جنت میں اسے پکارا جائے گا۔ ''اے اللہ کے بندے، یہ بہتر ہے۔'' تو پھر جو نماز والوں میں سے ہو گا تو وہ بابِ نماز سے پکارا جائے گا۔ اور جو اہلِ جہاد میں سے ہو گا وہ جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا اور جو صدقے والوں میں سے ہو گا، وہ صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا اور جو روزے والوں میں سے ہوگا تو وہ باب الریان سے بلایا جائے گا۔ (مسلم)
(۱۲) حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ''مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی اپنی ہمسائی کے گھر بکری کے پائے کا ایک کُھر بھیجنے کو بھی حقیر نہ سمجھے۔ (یعنی کچھ نہ کچھ ہدیہ بھیجتی رہے) (مسلم)
(۱۳) حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن میں تین آدمیوں کا دشمن ہوں گا۔ ایک وہ جس نے میرا نام لے کر عہد کیا اور پھر فریب کیا۔ دوسرے وہ جس نے آزاد شخص کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی، اور تیسرے وہ جس نے مزدور سے پوری محنت لی اور پھر اس کی مزدوری نہ دی۔ (بخاری جلد اول)
(۱۴) حضرت سعد بن زید ؓ حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ جو کوئی کچھ زمین ظلم سے چھین لے تو اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق (قیامت کے دن) ڈالا جائے گا۔ (بخاری جلد اول)
(۱۵) حضرت عبداللہ ؓ بن عمر فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ایسے بالا خانے (بلند مکانات) ہیںجن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہے۔ ایک صحابی ؓ نے پوچھا ـ''یارسول اللہ ﷺ یہ بالا خانے کن لوگوں کے حصے میں آئیں گے؟'' آپ ﷺ نے فرمایا ''پاکیزہ گفتگو کرنے والوں کے حصے میں۔ ان لوگوں کے حصے میں جو غریبوں کو کھانا کھلائیں اور ان لوگوں کے حصے میں جو تہجد کے لئے اٹھیں جب کہ لوگ سوتے ہوں۔'' (طبرانی)
 
Top