- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,587
- ری ایکشن اسکور
- 6,768
- پوائنٹ
- 1,207
حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ میں مشرکانہ عقائد
از ڈاکٹر شفیق الرحمن حفظہ اللہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عقیدہ توحید
إِنَّ الْحَمْد للهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ، وَمْنْ يَضْلُلُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدُهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدَاً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَعُوذُ بِاَللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
(إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ)
"بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں، کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کے لیے رواں دواں ہیں، بارش میں جس کو اللہ آسمان سے برساتا ہے اور اس سے زمین کو مرنے ( خشک ہونے) کے بعد زندہ ( سرسبز) کرنے میں، زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں، ہواؤں کی گردش میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"
آیۃ کریمہ اس بات پر شاہد ہے کہ کائنات کا سارا نظام اللہ اکیلے کے اختیار میں ہے۔ جو شخص عقل سے کام لے کر کائنات کے نظام پر غور کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی توحید آسانی سے سمجھ سکتا ہے اور جو ربِ کائنات پر سوچ سمجھ کر ایمان لاتا ہے یقینا وہ سب سے زیادہ محبت اللہ تعالیٰ سے کرتا ہے:
{وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّـهِ} (البقرۃ)
"اور ایمان والوں کو سب سے زیادہ محبت اللہ تعالیٰ سے ہے۔"
کیونکہ محبت اسی سے ہوتی ہے جو مشکل میں کام آئے، خطرات، نقصانات اور حادثات میں تحفظ مہیا کرے، ضروریات کو پورا کرے اور اس کا خیال و محبت دل کو تسکین اور روح کو اطمینان بخشے اور جس میں یہ ساری خوبیاں مستقل بالذات ہوں جن کے زوال کا خیال تک بھی محال ہو یقینا ان سب کے کامل ترین حصول کا سوائے اللہ کے کسی سے تصور کرنا بھی کفر ہے، اس لیے مومن اللہ تعالیٰ کے برابر کسی دوسرے سے محبت نہیں کر سکتا۔
محبت کی دو قسمیں ہیں:
۱۔ مشترک محبت
۲۔ خاص محبت
۱۔ مشترک محبت:
اس کی تین اقسام ہیں:
ا: طبعی محبت:
بھوکے کو کھانے اور پیاسے کو پانی سے محبت ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھا اور شہد پسند تھا۔ (بخاری:۵۲۶۸، مسلم:۱۴۷۴)
ب: شفقت و رحمت کی محبت: جیسے باپ اور بیٹے کی محبت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے محبت کرتے تھے اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سب بیویوں سے زیادہ محبت کرتے تھے۔ اسی طرح صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے تھے۔ (بخاری: کتاب فضائل الصحابہ)
ج: انسیت کی محبت:
جیسے ان لوگوں کی محبت جو کسی وصف، تجارت یا کسی اور امر میں شراکت دار ہوتے ہیں۔ یا سکول کے ہم جماعت لڑکوں کی آپس میں محبت۔
مشترک محبت کی تینوں اقسام مخلوق میں پائی جاتی ہیں۔ ان کا پایا جانا اللہ تعالیٰ کی محبت میں شرک نہیں ہے۔
۲۔ خاص محبت
یہ وہ محبت ہے جو اللہ کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں۔ یعنی محبت عبودیت جو اللہ کے سامنے ذلت، عاجزی، تعظیم۔ کمال اطاعت اور اسے ہر چیز پر مقدم کرنے کا نام ہے۔ یہ خاص محبت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ مومن اللہ تعالیٰ سے اور اللہ تعالیٰ مومنوں سے محبت کرتا ہے:
{يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ} (المائدۃ:۵۴)
خاص محبت کا کمال تین باتوں پر موقوف ہے۔
۱۔ کامل محبت:
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں۔
۲۔ اپنے محبوب کے محبوب سے محبت رکھنا محبت کو پورا کرنا ہے۔ مومن انبیاء اور اولیاء سے محبت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے محبوب ہیں۔ اس محبت میں کوئی دوسری غرض شامل نہ ہو تو یہ اللہ تعالیٰ سے کمال محبت کی دلیل ہے۔
۳۔ اس محبت سے ٹکرانے والی ہر چیز سے بغض رکھنا۔ محبوب کے دشمنوں کو اپنا دشمن جاننا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس شخص میں تین خصلتیں پائی گئیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا:
(۱) ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نزدیک دوسری ہر چیز سے محبوب ہو۔
(۲) یہ کہ کسی شخص سے محض اللہ تعالیٰ کے واسطے محبت کرے۔
(۳) اور یہ کہ وہ کفر میں جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے بچا لیا ہے، دوبارہ لوٹ جانے کو اتنا ہی نا پسند سمجھے جتنا آگ میں ڈالے جانے کو نا پسند سمجھتا ہے۔" (بخاری۲۱۔ مسلم۴۳۔)
اللہ تعالیٰ سے یہ محبت وہی کر سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر صحیح ایمان رکھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو توحید خالص کی بہترین انداز میں تعلیم دی۔ آپ سیدنا ابنِ عبّاس کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
"اے نوجوان! (میری بات غور سے سن!) میں تجھے چند باتیں سکھلاتا ہوں، انہیں یاد کر لے:
(وہ یہ کہ) تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر، وہ تیری نگہبانی کرے گا۔ تو اللہ کی طرف دھیان رکھ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا، اور جب تو کچھ مانگے تو صرف اللہ سے مانگ، جب مدد چاہے تو اسی سے مدد کا سوال کر، اور جان لے کہ اگر سب لوگ اس بات پر اکھٹے ہو جائیں کہ تمھیں کوئی نفع دیں تو تمہیں نفع نہیں دے سکتے مگر وہی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔ اور اگر سب لوگ اس بات پر جمع ہو جائیں کہ تمہیں کوئی نقصان پہنچائیں تو نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر وہی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔ (تقدیر کے) قلم (سب کچھ لکھ کر) اٹھا دیئے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں۔" (ترمذی،۲۵۱۶،صححہ البانی۔)
حبّ رسول:
ایک مومن ہر اس چیز سے محبت کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہو اور ہر وہ چیز مومن کو محبوب ہو گی جو اللہ تعالی کی قربت کا باعث بنے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں۔ امام الانبیاء اور خلیل اللہ ہیں، اس لیے ہمیں اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے زیادہ محبت نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونی چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور محبت کا مقام قلب،زبان اور اعضاء ہیں۔
قلب کی تعظیم:
قلب کی تعظیم یہ ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ آپ کی محبت کو اپنی جان، اولاد، والدین اور تمام لوگوں پر مقدم کیا جائے۔ اس محبت کی تصدیق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کے مقصد کو قبول کرنے سے ہو گی۔ آپ کی بعثت کے مقاصد میں دو باتیں بنیادی ہیں۔
ا: توحید خالص سے محبت:
محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ شخصیت ہیں جن کے ذریعے ہمیں اللہ تعالیٰ کی توحید کی معرفت اور اللہ کے دین کا صحیح فہم حاصل ہوا۔ آپ نے دعوت توحید کی خاطر اپنی جان، مال، وقت غرض یہ کہ ہر چیز وقف کر رکھی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کے تمام وسائل کاٹ دیئے تھے کیونکہ توحیدِ خالص دین اسلام کی اصل ہے۔ اگر کوئی آپ کی تعظیم اور آپ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے مگر اسے آپ کی دعوت پسند نہیں اور وہ آپ کی دعوت کی مخالفت کرتے ہوئے شرک کرتا ہے تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔ جو شخص اسلام کا صحیح فہم حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآنِ حکیم کے ساتھ ساتھ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کے ذریعے دین کی روح تک پہنچے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت نبوت بخشی جب انسانیت اللہ تعالیٰ کو بھول کر شرک و کفر کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اللہ کے گھر خانہ کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان حالات میں انسانیت کو نجات کا راستہ دکھایا اور اسے کامیابی کی راہوں پر گامزن کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمانے کا مقصد یوں بیان کیا:
{هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ} (الصف:۹)
"وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو برا ہی لگے۔"
ب: رسول اللّٰہ کی سچی متابعت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت یہ ہے کہ آپ کے ہر فیصلے پر راضی ہو، اسے تسلیم کرنا والا ہو، اور دل کی بشاشت کے ساتھ اس پر عمل کرنے والا ہو اور ہر وہ قول اور عمل جو آپ کے راستے کے خلاف ہو اس کی طرف التفات بھی نہ ہو، آپ کی دی ہوئی ہر خبر کی تصدیق کرنے والا ہو۔
زبان سے تعظیم:
زبان کی تعظیم یہ ہے کہ آپ کی مدح و ثنا ان امور کے ساتھ کی جائے جن امور کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مدح فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ سے بہتر آپ کی مدح کوئی نہیں کر سکتا۔ اور کثرت سے آپ پر درود بھیجے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے پاس فرشتہ آیا اور کہنے لگا اے محمد کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ آپ کا رب فرماتا ہے تمہاری امت میں سے کوئی شخص جو تم پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتا ہوں اور جو ایک مرتبہ سلام بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجتا ہوں"۔ (سلسلہ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ۸۲۹۔)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میری امت میں سے جس شخص نے خلوص سے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس دفعہ رحمتیں بھیجتا ہے، اس کے دس درجات بلند کرتا ہے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دس غلطیاں مٹائی جاتی ہیں۔" (سلسلہ الاحادیث الصحیحہ للالبانی:۳۳۶۰)
اعضا سے تعظیم:
اعضاء سے تعظیم یہ ہے کہ آپ کی اطاعت ہو، جس طرح آپ نے دین کے غلبہ کے لیے محنت کی ہے ویسے ہی دعوت کے میدان میں محنت کی جائے اور دین کے راستے میں حسب استطاعت جہاد کیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انسانیت سے محبت:
آپ انسانیت کے لیے حد درجہ رحم دل تھے۔ آدم کی اولاد سے آپ کو سچا پیار تھا۔ اس لیے انہیں جہنم کے عذاب سے بچانے کے لیے آپ نے ہر ممکن کو شش کی۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی تو پروانے اس آگ کی طرف لپکنے لگے اور وہ انہیں بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں بھی تم کو کمر سے پکڑ پکڑ کر بچانے کی کوشش کر رہا ہوں اور تم پروانوں کی طرح آگ کے گڑھے کی طرف لپکتے ہو۔" (مسلم :۲۲۸۵۔)
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمتہ العالمین قرار دیا:
{وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ} (الانبیاء:۱۰۷)
"اور (اے محمد) ہم نے تم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر وہ شخص محبت کرے گا جو یہ دیکھے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے سب سے زیادہ خیر خواہ اور ہمدرد تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ} (التوبہ: ۱۲۸)
"لوگو! تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے۔ تمہاری بھلائی نہایت چاہنے والے اور مومنوں پر کمال مہربان اور رحیم ہیں۔"
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ آپ اپنی امت کے بہت خیر خواہ تھے اسی لیے قدم قدم پر آپ نے اپنے امت کی رہنمائی فرمائی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ} (آل عمران:۱۶۴)
"بلاشبہ اللہ نے مومنوں پر بہت احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو ان پر اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا تھا ان کو سنوارتا اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جنت سے قریب کرنے والی اور جہنم سے دور کرنے والی کوئی چیز باقی نہیں بچی جسے میں نے بیان نہ کردیا ہو۔" (بخاری:۶۴۸۳۔)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عظیم شفقت کو خود بیان فرمایا:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں ہر مومن کے ساتھ دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ} (الاحزاب:۶)
"بلاشبہ نبی مومنوں کے لیے خود اپنی جانوں سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔" (بخاری:۴۷۸۱۔)
رحمتہ للعالمین کی اپنی امت سے محبت کا بہت بڑا ثبوت اور آپ کی کمال شفقت ہے کہ آپ نے اپنی دعا کو اس امت کی بخشش کے لیے قیامت کے دن تک کے لیے محفوظ کر رکھی ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ہر نبی کے لیے ایک قبول ہونے والی دعا (عطا کی گئی) تھی۔ تو ہر نبی نے اپنی دعا مانگنے میں (دنیا کے اندر ہی) جلدی کر لی۔ اور میں نے اپنی دعا کو قیامت والے دن تک اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا رکھا ہے۔ اور یہ ضرور ان شاء اللہ پوری ہونے والی ہے ہر اس مومن کے لیے جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو۔" (مسلم:۴۹۱۔)
قیامت کے دن حشر کے میدان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت کریں گے اور آپ کو مقام محمود حاصل ہو گا۔ آپ نے اپنی شفاعت کی کیفیت یوں بیان کی "میں اپنے رب سے شفاعت کی اجازت چاہوں گا، پس مجھے اس کی اجازت دے دی جائے گی۔ جب میں اپنے رب کا دیدار کروں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا۔ اور وہ جب تک چاہے گا مجھے اسی حالت میں چھوڑے رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ میرا سینہ کھول دے گا اور اپنی تعریفیں میرے اوپر الہام کرے گا۔ پس میں اس کی وہ تعریفیں کر سکوں گا جن کی اب میں قدرت نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ ہی میری طرف وہ تعریفیں وحی کرے گا۔ پھر (اللہ رب العالمین کی طرف سے) کہا جائے گا: (اے محمد!) اپنا سر اٹھایئے! اور مانگیے آپ کو دیا جائے گا۔ کہیے! آپ کی بات سنی جائے گی۔ سفارش کریں! آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر (سجدے سے) اٹھاؤں گا۔ پھر میں شفاعت کروں گا۔ (اور کہوں گا) “اے میرے پروردگار! میری امت، میری امت (یعنی اے اللہ! میری امت کو بخش دے) “تو مجھ سے کہا جائے گا: جایئے جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے۔" (بخاری:۷۵۰۹۔ مسلم:۱۹۳۔)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت سے اتنی محبت تھی کہ آپ ان کی بخشش کی فکر میں رو پڑتے تھے۔ ملاحظہ فرمائیں:
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت فرمائیں:
{رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ ۖ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ} (ابراہیم:۳۶)
"(ابراہیم کہیں گے) اے میرے رب! ان معبودوں نے تو بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا لہٰذا جس نے میری اتباع کی وہ یقینا میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی سو تو معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔"
{إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} (المائدہ: ۱۱۸)
"(عیسیٰ کہیں گے: اے میرے پروردگار!) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر معاف فرمائے بلاشبہ تو غالب اور حکمت والا ہے۔" اور پھر اپنے دونوں ہاتھ (دعا کے لیے) اٹھا لیے اور عرض کی: "اے اللہ! میری امت، میری امت، میری امت۔" (کو اپنے عذاب سے بچا لینا) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا اے جبرائیل محمد کے پاس جاؤ اور ان سے جا کر پوچھو: "تمہیں کونسی بات رلاتی ہے؟۔" تو جبرائیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی امت کی فکر میں رونا) جبریل کو بتلایا جبکہ اللہ تو خوب جانتا ہے۔ (کہ اس کا بندہ اور محبوب نبی اپنی امت کی فکر میں کس قدر پریشان ہے) تو اللہ رب العالمین نے جبریل کو (دوبارہ پھر زمین کی طرف بھیجتے ہوئے) فرمایا "اے جبرئیل! محمد کے پاس جاؤ اور کہو: ہم آپ کو آپ کی امت کے معاملے میں خوش کر دیں گے اور آپ کو ناراض نہیں کریں گے۔" (مسلم :۳۴۶۔(۲۰۲)۔)
آپ کا انسانیت سے محبت کا عظیم الشان مظاہرہ فتح مکہ کے موقع پر ہوا۔ بیس سال تک آپ کے خلاف لڑنے والے اور آپ کو ہر طرح کی تکلیف پہنچانے والے مشرکین مکہ آپ کے سامنے بے بس تھے۔ آپ فاتحانہ شان سے مکہ معظمہ کی بلندی کی طرف سے شہر میں داخل ہو رہے تھے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ آپ کی اونٹنی پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ (بخاری ۴۲۸۹ مسلم ۱۳۲۹)
رحمتہ العالمین نے اپنے جان کے دشمنوں کے لیے معافی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:
"جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے وہ امن میں ہے۔ جو ہتھیار ڈال دے وہ امن میں ہے اور جو اپنا دروازہ بند کر لے وہ امن میں ہے۔" (مسلم:۱۷۸۰۔)
آپ نے قریش سے فرمایا:
"تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارے ساتھ کیسا سلوک کرنے والا ہوں تو انہوں نے کہا کہ آپ کریم بھائی اور کریم بھائی کے بیٹے ہیں آپ نے فرمایا میں تم سے وہی بات کہتا ہوں جو سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی:
{لَا تَثْرَیْبَ عَلَیْْکُمُ الْیَوْم} "آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔"
جاؤ تم سب آزاد ہو۔" (سیرۃ النبی لابن ھشام:۴/۳۲۔۳۱۔)
جب جنگ حنین میں مسلمانوں کو مالِ غنیمت حاصل ہوا تو آپ نے قریش کے آدمیوں میں سے ہر ایک کو سو سو اونٹ دیئے۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ نے سو اونٹ دیئے پھر سو اونٹ دیئے پھر سو اونٹ دیئے وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم آپ نے مجھے جو کچھ دیا وہ خوب دیا۔ مجھے سب سے زیادہ آپ سے بغض تھا۔ اس کے بعد آپ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو گئے۔ (مسلم :۲۳۱۳۔)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میں ایسے لوگوں کو مال دیتا ہوں جن کا کفر کا زمانہ قریب ہوتا ہے۔ میں ان کی حالت کی اصلاح چاہتا ہوں اور ان کی تالیف قلوب کرتا ہوں۔" (بخاری:۳۱۴۷۔ مسلم ۱۰۵۹۔)