• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حنفیوں کی غلط گائیڈنگ کا نقصان۔۔ ایک حنفی کا سچا واقعہ

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
  1. یہ تو آپ سارے دیوبندی مولویوں پر الزام بلکہ تہمت لگا رہے ہیں۔ کیا آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے کہ سب دیوبندی مولوی ایسا ہی کرتے ہیں
  2. اگر چند ایک واقعات آپ کے علم میں ہیں تو آپ صرف انہی مولوی کے بارے میں ایسا کہہ سکتے ہیں۔ ایک "جنرل بیان" جاری نہیں کرسکتے کہ ۔۔۔ کسی دیوبندی مولوی کی اپنی بہن یا بیٹی کو طلاق مل جائے تو پھر فتویٰ اہلحدیث سے لیا جاتا ہے، پھر حلالہ نہیں کروایا جاتا۔۔۔ ایسا کہنا غلط بیانی بھی ہوگا اور تہمت لگانا بھی
واللہ اعلم بالصواب
چلیں ایک دو مولویوں کی ہی بات کر لیں، پھر بھی بات پبھتی ہے، کہ جس عمل کو وہ خود نہیں کر سکتے، اپنی عوام کو کیوں اس پر اکساتے ہیں۔ اللہ ہدایت عطا فرمائے آمین
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304
[/quote] quote="اشماریہ, post: 155567, member: 3713"]

ضد کا کوئی علاج نہیں ہے بھائی جان۔
حلالہ شرط کے ساتھ درست نہیں۔ یعنی جائز نہیں۔ البتہ چوں کہ قرآن نے حلال کرنے کا یہی طریقہ بتایا ہے اس لیے گناہ کے باوجود حلال ہو جائے گی۔
دل میں رکھ کر بھی درست نہیں۔
اس فتوی میں یہ صورت ذکر ہے کہ اگر صرف مرد کے دل میں ہو کہ یار اس سے شادی کر کے پھر طلاق دے دوں گا تو یہ پہلے شوہر کے پاس واپس جا سکے گی۔ ظاہر ہے اس کے بارے میں کہیں بھی منع نہیں آیا۔ عربی آپ حضرات کو پڑھنی نہیں آتی۔ آگے جو عبارت لکھی ہے شامی کی وہ کسی سے ترجمہ کروالیں اس میں صرف مرد کا ذکر ہے اور واحد مذکر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔

اب اگر کوئی علمی اشکال ہے کسی دلیل کی بنا پر تو ارشاد فرمائیے ورنہ معتزلہ کی طرح عقل کے گھوڑے دوڑانے ہیں اور پسند و ناپسند پر فیصلہ کرنا ہے تو بندہ کو معذور سمجھیے۔



جواب اوپر عرض ہے۔ کوئی علمی اشکال ہے تو ارشاد فرمائیے۔




حرام کام کے ذریعے بیوی کو حلال قرآن نے کہا ہے۔ اور جلد بازی کے فیصلے پر حکم عمر رض کا لگایا ہوا ہے۔
ان صاحب کو فرمائیے کہ کسی صحیح اہل حدیث عالم سے مسئلہ پوچھ لیں تجدید ایمان کے لیے۔ اور اگر یہ لعنت کے الفاظ آپ کے ہیں تو خدا کے لیے مجھے اپنا دشمن اور حنفی سمجھ کر ہی مسئلہ معلوم کروا لیجیے

۔[/quote]

استغفراللہ -
کیا الله رب العزت ایک حرام کام کے ذریے ایک عورت کو اپنے پہلے خاوند کے لئے جائز کر رہا ہے - ذرا قران کو غور سے پڑھیے -

١- قرآن کا مطابق ایک عورت طلاق کے بعد اس وقت تک اپنے پہلے خاوند کے لئے جائز نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کر لے اور ایک ایسی ازدواجی زندگی اس کے ساتھ گزارے جیسی اس نے اپنے پہلے خاوند کے ساتھ گزاری تھی -اور پھر وہ شخص اس کو یا تو اپنی مرضی سے طلاق دے یا وہ عورت بیوہ ہو جائے -

٢- حنفی فقہ کے مطابق عورت اس وقت اپنے پہلے خاوند کے لئے جائز ہو گی جب اس کا نکاح ایک "کراے کے سانڈ" (یہ میرے نہیں بلکہ نبی کریم صل الله علیہ و آلہ وسلم کے الفاظ ہیں) کے ساتھ ہو گا اور وہ مخصوص وقت کے لئے اس سے نکاح کرے گا (دوسرے لفظوں میں زنا کرے گا) اور پھر طلاق دے گا تو وہ اپنے پہلے شوہر کے لئے جائز ہو جائے گی -

جہاں تک حضرت عمر رضی الله عنہ کے فیصلے کا تعلق ہے تو ان کا یہ فیصلہ تعزیری تھا نہ کہ شرعی - جب ہی بعد میں وہ اپنے اس فیصلے پر پشیمان ہوے تھے - اگر عین شرعی ہوتا تو پشیمان ہونے کی کیا ضرورت تھی انھیں- اور اگر آپ حضرت عمر رضی الله عنہ ہی کی بات کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا تھا کہ "اگر حلالہ کرنے والے اور کروانے والے کو مرے پاس لایا گیا تو میں اس کو رجم کی سزا دونگا" (ابو بکر ابن شیبہ)-

میں آپ کا نہیں بلکہ حنفیت کے باطل عقائد کا دشمن ہوں- الله سے دعا ہے کہ آپ کو اپنی سیدھی راہ کی طرف گامزن کرے(آ مین)-
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,895
پوائنٹ
436

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
747
پوائنٹ
290

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
اسی سائٹ پر رابطہ کر کے وجہ بھی پوچھ لیجیے فتوی کی۔ یہ الحمد للہ ابھی حیات ہیں۔
اگر رابطہ کرنے پر یہ مفتی صاحب فتویٰ کوئی اور دیں گے تو پھر پبلک کو گمراہ کرنے کی ضرروت کیا ہے؟

اگر رابطہ کرنے پر مفتی صاحب یہی فتویٰ دوبارہ دیں گے پھر رابطہ کرنے کی ضرورت کیا ہے؟
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
747
پوائنٹ
290
اگر رابطہ کرنے پر یہ مفتی صاحب فتویٰ کوئی اور دیں گے تو پھر پبلک کو گمراہ کرنے کی ضرروت کیا ہے؟

اگر رابطہ کرنے پر مفتی صاحب یہی فتویٰ دوبارہ دیں گے پھر رابطہ کرنے کی ضرورت کیا ہے؟
یہ بھی آپ وہیں پوچھ لیجیے گا۔ کچھ کام خود بھی کیجیے۔ آپ لوگوں کے ہاں تو تحقیق ویسے بھی بہت اہم ہے۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
یہ بھی آپ وہیں پوچھ لیجیے گا۔ کچھ کام خود بھی کیجیے۔ آپ لوگوں کے ہاں تو تحقیق ویسے بھی بہت اہم ہے۔
ہمیں ایک مولوی سے رابطہ کرنے پر آپ تحقیق یاد دلا رہے ہیں، جبکہ دین کا مسئلہ بتاتے وقت تحقیق کرنے کی تلقین اپنے مولوی کو نہیں کرتے۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
747
پوائنٹ
290
ہمیں ایک مولوی سے رابطہ کرنے پر آپ تحقیق یاد دلا رہے ہیں، جبکہ دین کا مسئلہ بتاتے وقت تحقیق کرنے کی تلقین اپنے مولوی کو نہیں کرتے۔
جس حد تک لازمی سمجھتے ہیں کرنے کا کہتے ہیں اور کر کے فتوی دیا جاتا ہے۔ اسی لیے کہہ رہا ہوں پوچھ لیں کہ کن دلائل کی بنیاد پر یہ فتوی دیا ہے۔
اتنا سا کام بھی نہیں ہوتا تو اعتراض کیوں کرتے ہیں؟
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
جس حد تک لازمی سمجھتے ہیں کرنے کا کہتے ہیں اور کر کے فتوی دیا جاتا ہے۔ اسی لیے کہہ رہا ہوں پوچھ لیں کہ کن دلائل کی بنیاد پر یہ فتوی دیا ہے۔
اتنا سا کام بھی نہیں ہوتا تو اعتراض کیوں کرتے ہیں؟
ہم نے تو آپ پر اعتراض کیا ہے، یہ تو آپ کو چاہیے کہ ہمارا اعتراض دور کریں، لہذا مولوی سے آپ پوچھیں ، ہم کیوں پوچھیں، مولوی نے انٹرنیٹ پر فتویٰ دیا ہے، جہاں عوام کی کثیر تعداد بیٹھی ہوتی ہے اور پڑھتی ہے، اگر مولوی نے غلط فتویٰ دیا ہے تو اس میں گمراہی پھیلے گی۔
 
Top