وہ طریقہء کار یاکوئی بھی کوشش یا منظم تحریک جسے خاص مقصد کے لئے، خاص قسم کی معلومات پھیلانے کی خاطر حرکت میں لایا جائے یا حتی الامکان زیادہ سے زیادہ لوگوں تک خاص قسم کا نظریہ یا فکر پہنچانے کے لئے حرکت میں لایا جائے تاکہ ان کے افکار، ان کے جذبات پر اثر انداز ہوا جا سکے اور اس طرح سے اپنا مطلوبہ مقصد اور ہدف حاصل کیا جا سکے۔
یہ فنون راہنمائی میں سے ایک فن ہے جسے انبیاء و رُسل نے دعوتِ دین کے لئے استعمال کیا۔ اور اس طرح استعمال کیا کہ کسی بھی وقت، اور کسی بھی حالت میں اسے اپنے سے علیحدہ نہیں کیا بلکہ مسلسل اس کا استعمال کیا اور جو چیزیں رب العالمین نے ان کے ذمہ لگائیں تھیں اُنہیں ہر پلیٹ فارم پر اور ہر شخص تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وہ تمام احکامات نرم ہوں یا سخت، خوشخبریاں ہوں یا عذاب کی دھمکیاں، کسی خاص مسئلہ سے متعلق احکامات ہوں یا عمومی مسائل، انفرادی معاملات ہوں یا اجتماعی، غرض ہر طرح سے ہر حالت میں پہنچانا فرض قرار دیا۔ یہ انتہائی سخت ڈیوٹی خود اللہ رب العالمین نے اپنے پیغمبر ﷺ کی لگائی تھی۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَ اللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ
اے پیغمبر(ﷺ)! جو ارشادات اللہ کی طرف سے آپ (ﷺ) پر نازل ہوئے ہیں وہ سب کے سب لوگوں تک پہنچا دو اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا (کوئی ایک بھی) پیغام (لوگوں تک) نہیں پہنچایا (یعنی پیغمبری کا حق ہی ادا نہ کیا) اور اللہ آپ (ﷺ) کو لوگوں سے بچائے رکھے گا بیشک اللہ منکروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المائدۃ:67)
اسی طرح مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے فرمایا:
الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللہِ وَ یَخْشَوْنَہٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللہَ وَ کَفٰی بِاللہِ حَسِیْبًا (الاحزاب:39)
اور جو لوگ اللہ کے پیغام (جوں کے توں) پہنچاتے اور اسی (اللہ) سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اللہ ہی حساب کرنے کو کافی ہے۔
ذرا غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ شہر مکہ جس کامیڈیا اور میڈیا کی سب کی سب طاقت کافروں کے کنٹرول میں تھی انہیں کے درمیان میں رہتے ہوئے محمد رسول اللہ ﷺ نے ’’میڈیا‘‘ کو اس طرح استعمال کیا کہ مکی زندگی میں ہی تمام عرب تک بلکہ عرب سے باہر بھی توحید کی دعوت پھیلا دی۔ آج بھی ضرورت ہے کہ وہی اسلوب اختیار کیا جائے جسے رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنے سے الگ نہیں کیا اور اس کی بدولت دنیا میں شمع توحید کی تمام کرنیں منور کر دیں۔ یہ ایک مستقل باب ہے جسے اسوئہ حسنہ سے کھنگالنے کے لیے تحقیق کرنی چاہیے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہیے تاکہ اس دنیا میں توحید کو دوبارہ سے نافذ کیا جا سکے۔
آج کے دور میں دنیا کے پاس ایک ایسی قوت ہے جو لوگوں کے ذہنوںمیں خیالات پیدا کرتی ہے اور انہیں آگے بڑھاتی ہے، یہ ’’میڈیا‘‘ کی قوت ہے۔ میڈیا کا اصل کردار یہ ہے کہ ناگزیر ضروریات کی نشاندہی کرے اور عوام کی شکایات اور تکالیف کو سامنے لائے۔ جبکہ موجودہ میڈیا بے اطمینانی اور بے چینی کی فضاء پیدا کر رہا ہے اور ہر ایک برائی کی تشہیر بھی کئے جا رہا ہے۔
یہ میڈیا ہی تو ہے جس کے ذریعہ آزادئ تقریر کا عملی اظہار ہوتا ہے۔ ’’مسلمان‘‘ چونکہ اس طاقتور ترین حربے کے استعمال سے ناآشنا اور بے بہرہ ہیں لہٰذا یہ طاقت کلی طور پر یہودیوں کے ہاتھ میں آچکی ہے۔ میڈیا ہی کی وجہ سے یہود و نصاریٰ، ہندوؤں اور دیگر غیر مسلموں نے خود کو پس پردہ رکھتے ہوئے ’’مسلمانوں‘‘ پر اثر انداز ہوئے ہیں، اسی کے ذریعے انہوں نے سونے جیسی قیمتی دھات اپنے قبضے میں لے لی ہے اور اب ’’تیل‘‘ کی طاقت کو ہتھیانے کے چکروں میں ہیں۔
چنانچہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بہت اچھے ہیں اگر ان کے اثرات معاشرے پر اس انداز میں پڑیں کہ یہ میڈیا لوگوں کو دینی اُمور کی ادائیگی اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہ کر دے، ان کے جذبات کو شیطانی راہوں پر نہ چلا دے، ان کی نسل کشی نہ کر دے، ان کے ذہنوں سے اسلامی تشخص کو محو نہ کر دے، لغویات اور فضولیات کے پردے میں اسلامی تعلیمات کو بھلا نہ دے، عریانی و فحاشی کو فروغ نہ دے، لوگوں کی عزت و آبرو کو دنیا میں نہ اچھالے، لوگوں کو بلیک میل نہ کرے۔ اور لوگوں کو ان کے دین سے بیگانہ نہ کرے۔ میڈیا پر دبے یا کھلے الفاظ و اشارات یا وعظ و لیکچرز کے ذریعے اسلام کے خلاف شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلمانوں کے ذہنوں کو پراگندہ نہ کرے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا بااختیار حاکم، افسر، سماجی کارکن، این جی او کا سربراہ یا امداد تقسیم کرنے والے لوگ بھی ’’میڈیا‘‘ والوں کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ آئیں تو ہم غریب، مسکین، آفت زدہ لوگوں کی ’’مدد‘‘ کے لئے ان میں رقوم کے ’’چیک‘‘ تقسیم کریں، یا سلائی مشینیں، سائیکل، کمبل، کھانے پینے کی اشیائ، ادویات، وغیرہ تقسیم کریں۔
جب یہ حالت ہو تو للّٰھیت ختم ہو جاتی ہے۔ اور غریب، فاقہ کش اور بیماریوں کے مارے ہوئے لوگ صبح سے شام تک بیٹھے رہتے ہیں اور ’’حکام‘‘ کے لئے ’’میڈیا ٹیم‘‘ کا انتظار کرتے ہیں کہ کب وہ نازل ہو تو ہمیں چند ٹکڑے مل جائیں۔
دوسرا نقصان یہ ہے کہ اس میں تصویر کشی کی جاتی ہے جس سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے بلکہ تصویر کشی کرنے والے کو جہنم کی وعید سنائی ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
غیرت کا جنازہ نکل جاتا ہے کہ جب اخبارات کے رنگین صفحات پر ایک طرف اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر مبنی مواد شائع کیا جاتا ہے تو اسی صفحے کے دوسری طرف بے حیائی کے پرسوز مناظر کی تصویریں اور بیہودہ لچر بازی کا بازار گرم ہوتا ہے۔
ریموٹ ہاتھ میں پکڑ کر ایک طرف بے حیائی کا ’’چینل‘‘ ٹیون کر لیا جاتا ہے اور دوسری طرف ’’قرآنی‘‘ چینل ٹیون کر لیا جاتا ہے۔ جب کوئی ’’بزرگ‘‘ آئے تو قرآنی چینل کا بٹن دبا دیا جاتا ہے اور جب وہ چلا جائے تو بے حیائی کا چینل لگا لیا جاتا ہے۔ اگر یہ مسلمانوں کی غیرت کا جنازہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک ہی جگہ تم ’’بلیو پرنٹ‘‘ دیکھو اور اسی جگہ تمہاری مقدس کتاب ’’قرآن‘‘ کے الفاظ بھی دکھائی دیں۔ گویا تم نے قرآن کو کھول کر اسی جگہ رکھ دیا جہاں بے غیرتوں نے زنا کیا۔
میڈیا پر ’’انٹرویو‘‘ کی آڑ میں غیر مسلم اقوام مسلمانوں لیڈروں اور عوام الناس کو جمع کر لیتے ہیں اور ان لیڈروں کی غلطیاں، بیوقوفیاں سربازار لے آتے ہیں چنانچہ ناپختہ ذہن کے لوگوں کے ذہنوں میں اپنے قائدین اور لیڈروں کے خلاف انتقام کے جذبے بھڑک اٹھتے ہیں۔ معاشرے میں ان کی عزت نہیں رہتی، لوگ ان سے متنفر اور بددل ہو جاتے ہیں جو کہ غیر مسلموں کا اصل مقصد ہے۔ چنانچہ وہ تو اس میں کامیاب و کامران ہیں۔ کیونکہ وہ تو ’’بی بی سی‘‘ اور ’’سی این این‘‘ میں مسلمان قائدین اور حاکموں کو بلوا کر ’’ہارڈ ٹالک‘‘ اور ’’لوز ٹالک(Hard Talk and Loos Talk) کرتے رہتے ہیں اور ان سے چھپے ہوئے راز بھی اگلوا لیتے ہیں۔ کیا کبھی ’’مسلمانوں‘‘ کے کسی بھی میڈیا نے غیر مسلم حکمرانوں کے ساتھ ’’ہارڈ ٹالک‘‘ یا ’’لوز ٹالک‘‘ کی ہے؟ اور کیا کبھی انہوں نے اپنے راز میڈیا پر پیش کئے ہیں؟
اسلام نے ’’مسجد‘‘ کو اللہ کا گھر قرار دیا ہے، اس کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جن کے دلوں میں تقویٰ ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کو زمین پر سب سے زیادہ پسند جگہ ’’مسجد‘‘ ہے۔ لیکن جب مسجد کو مسلمانوں کے خلاف چھپ چھپ کر پروپیگنڈہ کرنے کے لئے منتخب کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اس مسجد کو ہی گرا دیا جائے۔ اور وہ مسجد گرا دی گئی۔ یہ تو اسلام کی غیرت تھی۔ آج کل یہ کام بہت سی جگہوں سے لیا جا رہا ہے جن میں کئی ’’مساجد، امام بارگاہ اور مزار‘‘ وغیرہ شامل ہیں لیکن سب سے بڑھ کر تو ’’میڈیا‘‘ کی بڑی بڑی خوبصورت اور مرصع بلڈنگ ہیں جن میں اعلانیہ طور پر مسلمانوں کے ذہنوں کو اسلام سے خالی کرنے کا کام لیا جا رہا ہے۔
’’چنانچہ آج مسلمانوں کے قائد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کی ہر بلڈنگ کو زمین بوس کروا دے جس میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے یا لوگوں کے ذہنوں کو اسلام سے خالی کرنے کا کام لیا جارہا ہے‘‘۔