• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حکمران بیورو کریسی اور عوام ۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی کتاب السیاسۃ الشرعیہ کی تفہیم

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
قائد! اپنی پوری قوت سے برائی کو ختم کرے​

قائد کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ غیر مسلم برائی کو مسلمان معاشرے میں پھیلاتے جارہے ہیں، ایک نارمل مسلمان جب اس برائی کو دیکھتا ہے تو اُس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے لیکن حکمران اور اُس کی انتظامیہ کے لوگ، عام مسلمان کو برائی کے خلاف بات کرنے اور برائی کو ہاتھ سے روکنے سے منع کرتے ہیں، مولوی حضرات اس برائی کے خلاف فتویٰ نہیں دیتے بلکہ ’’حکمت‘‘ سے کام لینے کی تلقین فرماتے ہیں۔ چنانچہ حکمران اور علماء عام مسلمان کو ’’عقل سے سوچنے‘‘ کی دعوت دیتے ہیں کہ کیوں اپنی جان کے دشمن بنتے ہو، پولیس ہے، فوج ہے، حکومت ہے وہ یہ کام خود کر لیں گی، تمہارے اوپر فرض نہیں۔ جب تک وہ مسلمان کچھ سوچتا ہے، اُس وقت تک وہ برائی پورے معاشرے کی گھٹی میں پڑ چکی ہوتی ہے، جس کا تدارک ناممکن ہو جاتا ہے۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: من رأیٰ منکم منکراً … کہ جوکوئی تم میں سے برائی کو دیکھے تو اُسے اپنے ہاتھ سے روکے … لہٰذا قائد کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر پوری طاقت سے اس ’’برائی کے اسباب‘‘ کا سدِّباب عوام الناس کے ہاتھوں سے کروا دے۔ اس سے پہلے کہ غیر مسلم، ان کے کارندے، ’’جدید مسلم‘‘ حکومتیں اور ’’جدید علمائ‘‘ عام مسلمان کو عقل سے سوچنے کی دعوت دیں اور اس کے دینی جذبات کو ٹھنڈا کر دیں۔ جب عام مسلمان عقل سے سوچتا ہے تو اُس کی دینی غیرت میں کمی واقع ہوتی ہے، توکل علی اللہ والی خوبی ماند پڑ جاتی ہے، وہ تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے والی اطاعت ختم ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ اسلام کے لیے جامِ شہادت نوش کرنے کی تمنا بھی دم توڑ جاتی ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اسوئہ حسنہ

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں بھی مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے کہ جب انہوں نے قوم کے ساتھ میلے میں شرکت نہ کی۔ قوم کو کھیل کود اور تماش بینی میں مشغول دیکھ کر اُن کے عقائد پر ضربِ کاری لگائی اور سوائے ایک کے باقی تمام بتوں کو توڑ دیا جنہیں وہ اللہ کے ہاں اپنا ’’سفارشی‘‘ سمجھا کرتے تھے ۔
ان چار لائنوں سے کئی سبق ملتے ہیں مثلاً:

1۔ کھیل تماشے کی بجائے اللہ کے دین کو نافذ کرنے کے لیے قدم اٹھانا۔

2۔ لوگوں کی سیاہ کاریوں میں ملوث ہونے سے اپنے آپ کو بچانا۔

3۔ اکیلے آدمی کا لوگوں کے عقائد پر ضربِ کاری لگانا۔ اور انہیں تہس نہس کر دینا۔

4۔ برائی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ’’بڑی جماعت‘‘ کی ضرورت نہیں بلکہ ایک آدمی جو کچھ بھی کر سکے اُسے کرنا چاہیئے۔

5۔ One man action یعنی ایک ہی آدمی کی کاروائی کا فائدہ۔

6۔ آدمی کے ذہن میں جو پلان ہے وہ اس پر عمل کرنے سے پہلے کسی کو اسکی بھنک بھی نہ آنے دے۔

7۔ اکیلے آدمی (خواہ وہ قائد ہو یا رعایا میں سے عام انسان) کا پلان بنانا اور اکیلے ہی اس پر عمل کرنے سے سیکورٹی کی انتہائی اعلیٰ اقدار حاصل کی جا سکتی ہیں۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
دلچسپ بات​

ہم دیکھتے ہیں کہ ’’مسلمان‘‘ اپنے ’’داڑھی‘‘ رکھے ہوئے ہر شخص کو (بھلے وہ عالم ہو یا جاہل) ہر لحاظ سے (گناہوں سے بالکل پاک صاف) ’’فرشتہ‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں، ان میں کسی قسم کی میل کچیل، گناہ یا کسی قسم کی کوئی لغزش دیکھنا پسند ہی نہیں کرتے جبکہ عیسائی لوگ اپنے ’’قائد‘‘ کو ہر لحاظ سے (گناہوں سے بالکل پاک صاف) ’’فرشتہ‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں،ا س میں کسی قسم کی میل کچیل، گناہ یا کسی قسم کی کوئی لغزش دیکھنا پسند ہی نہیں کرتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں میں ’’قائد‘‘ زندہ ہیں جبکہ مسلمانوں میں ان کا ’’دین‘‘ زندہ اور باقی ہے۔ مثال کے طور پر سابقہ امریکی صدر کلنٹن اپنے جنسی اسکینڈل پر پوری قوم سے معافی مانگتا ہے حالانکہ اُس کی پوری قوم ’’مادر پدر ننگی تہذیب‘‘ کی ’’مشترکہ ماں باپ‘‘ کی پیداوار ہے۔ نہ کسی کو اپنے باپ کا علم ہے اور نہ کسی کواپنی ماں کا۔ نہ شوہر اپنی بیوی کو اس کے ’’بوائے فرینڈ‘‘ کے ساتھ راتیں گزارنے سے روک سکتا ہے اور نہ ہی باپ اپنی بیٹی کو۔ تو پھر یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ فلاں فلاں کی بیٹی یا بیٹا ہے۔

یہ اعزاز صرف اور صرف اسلام ہی کو حاصل ہے کہ اس میں نہ صرف خاندان کی روایات زندہ و پائندہ ہیں بلکہ عورتوں کو پردے میں بٹھا کر، غیر محرم مرد و زن کے اختلاط کو روک کر، شادی شدہ اور غیر شادی شدہ مرد و زن کو ’’زنا‘‘ سے روک کر، بالغ ہوتے ہی ان کی شادیاں کروا کر، اور زنا ہونے کی صورت میں پتھر مار مار کر ختم کرنے اور غیر شادی شدہ کو 100کوڑے اور ایک ایک سال کی جلاوطنی دے کر، انہیں دنیا میں سب سے بڑے فتنے (مردوں اور عورتوں کی آوارگی) سے مردوں کوبچا کر اسلامی غیرت و حمیت کا کامیابی سے دفاع کیا گیا ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
سادگی و غربت والی زندگی اختیار کرنا​

آجکل کے نام نہاد ’’قائدین‘‘ اور حکمرانوں سمیت کوئی بھی اس بات کا جواب نہیں دے سکتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اور آپ کے جانشینوں نے اپنا تمام مال و دولت اللہ کی راہ میں لوگوں میں تقسیم کر کے ’’غربت زدہ‘‘ زندگی گزارنے کو کیوں ترجیح دی۔ ہماری نظر میں تو ایک ہی بات ہے کہ نبی کریم ﷺ کی حدیث کے مطابق جب انسان کا پیٹ بھوک سے بیتاب ہو تو انسان اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا بلکہ تعلق باﷲ مضبوط رہتا ہے اور دوسرا یہ کہ انسان کو تقویٰ بھی حاصل ہوتا ہے۔ وہ رات کو اٹھ کر اللہ کی بارگاہ میں اپنی حاجات اور اپنی رعایا کی بہتری کے لیے دعا گو رہتا ہے۔ اور قیامت کے دن چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور امیروں کی طرح جنت واجب ہونے کے باوجود مال و دولت کا حساب دیتے رہنے سے بھی بچ جاتا ہے۔ نہ کہ آجکل کے امراء کی طرح کہ راتیں شراب و شباب اور رقص و سرود کی محفلوں میں گزاریں اور صبح کو بھی اللہ کی یاد سے غافل ہو کرعوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑیں۔

چنانچہ جب ’’قائد‘‘ اپنی دولت عوام الناس میں تقسیم کر دیتا ہے تو عوام الناس اس سے محبت کرتے ہیں، اس پر جان نچھاور کرتے ہیں، اس کی من و عن اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں۔ اور جب اس دولت کے بل بوتے پر ’’قائد‘‘ اپنی ’’اولاد‘‘ کو غیر مسلموں کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لیے نہیں بھیجتا تو پھر وہ انہی غیر مسلموں کے ہاتھوں ’’بلیک میل‘‘ ہونے سے بچ جاتا ہے اور اپنی پوری قوم کی خیر خواہی کرتا ہے بصورتِ دیگر ……… اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا فرمائے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
قائد کو سیدھا رکھنا​

اس سے بڑھ کر یہ کہ قائد کو سیدھا رکھنا بھی عوام ہی کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ صحیح مسلم کی ایک حدیث کے مطابق عیسائی لوگوں میں چار انتہائی اعلیٰ خوبیاں ہیں جن میں سے چوتھی، جو سب سے بڑی خوبی کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ عیسائی لوگ اپنے ’’قائدین‘‘ کو سب سے زیادہ سیدھا رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ کام صرف اور صرف مسلمانوں کا ہی تھا۔ مثلاً امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کسی مجلس میں حاضرین سے پوچھنے پر ایک بوڑھے نے ننگی تلوار لہرا کر کہا کہ اگر تو اللہ اور اس کے رسول ﷺکے حکم کے علاوہ اپنی خواہش کے مطابق حکم دے گا تو میری یہ تلوار تمہاری گردن تن سے جدا کر دے گی۔ اس پر امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ابھی عمر کو سیدھا کرنے والے لوگ موجود ہیں۔

اس عہد زریں کے بعد بڑے بڑے ائمہ کرام اور صالحین لوگوں نے اپنے اپنے دور کے ’’قائدین‘‘ کو سیدھا رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی، خواہ اس مشکل ترین راہ میں اُنہوں نے جان سے ہاتھ دھو لیے یا جوانی اور بڑھاپا جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارا۔ خواہ کوڑے مارنے سے اُن کی پیٹھ ٹیڑھی ہو گی یا ہاتھ ہمیشہ لٹکے ہی رہے، خواہ اُن کی نعشیں جیل سے برآمد ہوئیں یا بھری محفلوں میں انہیں تہِ تیغ کر دیا گیا، اُنہوں نے اپنے ’’قائدین‘‘ کو بہرحال سیدھا رکھا۔ بھلے اپنے ’’قائد‘‘ کی صرف ایک ہی غلط بات پر اُسے باز رکھنے کی کوشش کی۔ مثلاً زبردستی طلاق واقع ہونے کی ضد کو امام مالک a نے حدیث کی رو سے غلط کہا اور ڈٹ گئے۔ وہ خود تو دنیا کے لیے عبرت کا نشان بن گئے لیکن قائد کی غلط بات کو تسلیم نہ کر کے دین کوہمیشہ کے لیے زندہ کر گئے۔

اسی طرح امام احمد بن حنبل a نے بادشادہ کی سوچ ’’قرآن مخلوق ہے‘‘ کی مخالفت کی اور قرآن و حدیث سے ایسے دلائل پیش کئے کہ ’’قائد‘‘ کی تمام دلیلیں ختم ہو گئیں، چنانچہ اسی سچ کی پاداش میں امام صاحب کو کوڑے لگائے جاتے رہے، پوری جوانی اور بڑھاپا جیل کی سلاخوں کی نذر کر دیا گیا لیکن اپنے چار قائدین کی ایک ہی غلط بات کو کبھی مصلحت کے تحت بھی ’’ٹھیک‘‘ نہ کہا جس کا نتیجہ پوری اُمت پر احسان کی صورت میں نکلا کہ قرآن کو مخلوق کہہ کر ختم کرنے کی سازش بھی ختم ہو گئی۔

علیٰ ھٰذا القیاس جب تک مسلمانوں نے اپنے قائد کو سیدھا رکھا، ان کا دین بھی زندہ رہا اور ان کی حکومت و سیادت بھی۔ ان کی سیاست بھی چلتی رہی اور دنیا پر حکمرانی بھی۔ ان کی تہذیب و تمدن بھی زندہ رہا اور معاشرتی اقدار بھی۔ لیکن جب کبھی بھی یہ چیز ختم ہوئی اور ’’یس سر‘‘ (Yes Sir) کہنے والے لوگ قائدین کے گرد رہے، مسلمانوں کو ہمیشہ شکست و ریخت کا ہی سامنا رہا۔ جیسا کہ آجکل ہے۔ یہ سب یہودیوں کی ریشہ دوانیاں ہیں کہ ’’بیچارہ مسلمان‘‘ ان کے چنگل میں پھنس کر ہمیشہ Yes Sir ہی کہتا ہے۔ایک فون کی گھنٹی پر ہی سجدہ میں گر جاتا ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
موازنہ​

جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ مسلمانوں میں سے چند ایک آدمیوں نے اپنے ’’قائدین‘‘ کو سیدھا رکھنے کے لیے اپنی جانی و مالی قربانیاں پیش کیں لیکن اس وقت بھی بہت سے لوگ اپنے انہیں ’’قائدین‘‘ کے گن گاتے، کوئی خوشی سے اور کوئی ناخوشی سے۔ کوئی جبر و ستم سہنے کے بعد اور کوئی مالی فوائد حاصل کرنے کے بعد۔ علی ھٰذا القیاس ہم اس کی وجہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ سطحی نظر سے دیکھنے والوں نے قرآن مجید کی آیت: اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولو الامر منکم کے تحت اپنے قائدین کے سیاہ و سفید کو ’’حق‘‘ جانا اور بخوشی قبول کیا لیکن دقیق نظر اہل علم نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے مطابق قائد ایسے منصب کے دفاع کے لیے انتھک کوششیں کیں جن میں کہا گیا ہے کہ ’’جب تک حکام دین کو قائم رکھیں ان (حکام) سے عداوت مت رکھو‘‘۔ اسی طرح فرمایا: پسندیدہ اور ناپسند تمام اُمور میں مسلمان امیر کی بات سننا اور اطاعت کرنا ضروری ہے جب تک وہ گناہ کا حکم نہ کریں اور جب وہ معصیت کا حکم کرے تو نہ اُس کی بات سنی جائے اور نہ اطاعت کی جائے‘‘۔ (مختصر صحیح بخاری کتاب الاحکام:2015) ۔
لہٰذا جن دقیق اہل نظر نے اس حدیث پر عمل کیا اور ان کی بات کو سنا، مانا اور سراہا گیا تو اس وقت تک حاکم/قائد بھی سیدھے رہے اور ان کی حکومت اور رعایا اور دنیا سیدھی رہی مثلاً سیدنا عمر فاروق ص۔ لیکن جب ان اہل نظر کی بات کو ’’نہ تو سنا ہی گیا اور نہ ہی مانا‘‘ گیا بلکہ ان پر ظلم و ستم روا رکھے جانے شروع ہوئے تو حکمرانوں کی حکومتیں کمزور ہو گئیں۔ دنیا برباد ہوئی اور آخرت میں اللہ ہی اُن کے انجامِ کار سے واقف ہے۔ مثلاً بنو امیہ اور بنو عباس کی حکومتیں۔ پھر جب یہ دور بھی ختم ہوا اور طوائف الملوکی آئی اور دقیق نظر اہل علم کی جگہ مداحوں/ طبلہ نوازوں/ شاعروں اور ناچ گانے والوں نے لے لی اور اہل علم کی آوازاگر کہیں اٹھی بھی تو کبھی ’’قائدین‘‘ کے کانوں تک نہ پہنچی اور کبھی پہنچنے نہ دی گئی اور اگر کبھی بادلِ نخواستہ قائدین نے وہ بات سنی تو اس کا الٹ ہی مطلب سمجھا اور جن لوگوں نے درمیانی واسطہ بن کر بات سنائی انہوں نے اور بھی مرچ مصالحہ لگا کر بتائی۔ نتیجتاً قائدین نے اپنے ہاتھوں سے اپنی فوجوں اور سپاہیوں سے اپنے ہی عوام کو جو کہ اسلام نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، گولیوں کی بارش سے بھون ڈالا اور یہ ’’آوازیں‘‘ ہمیشہ کے لیے بند کر دی گئیں۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
نفاذِ اسلام کی ترتیب باندازِ محمد رسول اللہ ﷺ​

ہادئ اعظم، رہبر کامل، فخر انسانیت، سید اولادِ آدم احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ کی زندگی پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ دین اسلام کے نفاذ کے لئے سات چیزوں کی ضرورت ہے۔ 1 تعلیم و تربیت 2 میڈیا 3ہجرت 4قانون۔ 5سیکورٹی اور انٹیلی جنس6قوت و جہاد فی سبیل اللہ 7دولت کی تقسیم۔ آج اُن لوگوں کی کمی نہیں جو اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس ترتیب کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ مثلاً کوئی جہاد و قتال تو کرتا ہے لیکن اس سے پہلے ترتیب نفاذِ شریعت اسلامیہ کی پانچ چیزوں کو پس پشت ڈال کر کر رہا نتیجہ یہ کہ اُس کی تعلیم ایک ’’ہاتھ‘‘ میں ہے تو میڈیا کسی ’’دوسرے ہاتھ‘‘ میں۔ قانون ’’کسی اور‘‘ کا مانتا ہے جبکہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس کی ’’ذمہ داری‘‘ کسی دوسرے فریق کے ذمے ہے۔ چنانچہ جب ’’چوں چوں کا یہ مربہ‘‘ ہضم کرنے کے بعد جہاد و قتال ہو گا تو ’’شریعت اسلامیہ‘‘ کیسے نافذ ہو گی؟ یعنی پانچ چیزوں کو چھوڑ کر ’’ڈائریکٹ‘‘ چھٹی چیز کو ہاتھ میں لینا اور اسی پر اکتفا کر لینے سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں وہ سب کہنے کی بات نہیں بلکہ سب کو ’’نظر‘‘ آرہے ہیں۔ چنانچہ ہم باری باری ان سات چیزوں کو اختصار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
تعلیم و تربیت​

اسلام میں تعلیم کی بنیاد کلمہء توحید پر ہے۔ اور دراصل توحید ہی وہ تعلیم ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے، اللہ کا خوف دِل میں بٹھا کر حقوق العباد کو پورا کرنے کی رغبت دلاتی ہے اور معاشرتی ناہمواریاں دُور کرتے ہوئے امن و آتشی کو فروغ دیتی ہے۔ کمزور طبقات کا حق انہیں دِلاتی ہے۔ اور دُنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی کی ضمانت مہیہ کرتی ہے۔ اسی تعلیم کو رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں روشناس کروایا اور اسی کے بل بوتے پر دنیا میں اسلام نافذ ہوا۔ توحید ہی کی وجہ سے نظام کائنات مسلسل چل رہا ہے۔ اور جب تک توحید کو ماننے والا ایک بھی شخص زمین کی پشت پر موجود ہے قیامت نہیں آئے گی۔ اور جب وہ شخص بھی اس دنیا سے رخصت ہو گیا تو پھر وہ سب سے بڑا زلزلہ آئے گا جو سب کچھ زیروزبر کر کے رکھ دے گا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے پہلے پہل اس تعلیم کو خفیہ انداز سے پھیلایا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا تو پیارے نبی محمد رسول اللہ ﷺ نے پورے معاشرے کے سامنے توحید کی تعلیم پیش کی۔ لوگوں کی تربیت اسی تعلیم پر کی اور اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس پر خود بھی عمل کیا۔ کیونکہ صرف بتا دینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اُس بات کا عملی ثبوت پیش کرنا اور جو شخص اپنی خوشی سے اس راستے پر چلنا چاہے اُس کے لئے تربیت مہیا کرنا، اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق اس سے عمل کروانا، عمل کرنے کے دوران اس کی معاونت کرنا ہی دراصل تربیت ہے۔ اسی تربیت کی بدولت آسمانِ دنیا نے ابوبکر و عمر عثمان و علی رضی اللہ عنہما کا نظارہ کیا۔ بقول شاعر۔ ع۔ وہ کیا گردوں تھا جس کا ہے تو اک ٹوٹا ہوا تارہ۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
میڈیا​

وہ طریقہء کار یاکوئی بھی کوشش یا منظم تحریک جسے خاص مقصد کے لئے، خاص قسم کی معلومات پھیلانے کی خاطر حرکت میں لایا جائے یا حتی الامکان زیادہ سے زیادہ لوگوں تک خاص قسم کا نظریہ یا فکر پہنچانے کے لئے حرکت میں لایا جائے تاکہ ان کے افکار، ان کے جذبات پر اثر انداز ہوا جا سکے اور اس طرح سے اپنا مطلوبہ مقصد اور ہدف حاصل کیا جا سکے۔

یہ فنون راہنمائی میں سے ایک فن ہے جسے انبیاء و رُسل نے دعوتِ دین کے لئے استعمال کیا۔ اور اس طرح استعمال کیا کہ کسی بھی وقت، اور کسی بھی حالت میں اسے اپنے سے علیحدہ نہیں کیا بلکہ مسلسل اس کا استعمال کیا اور جو چیزیں رب العالمین نے ان کے ذمہ لگائیں تھیں اُنہیں ہر پلیٹ فارم پر اور ہر شخص تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وہ تمام احکامات نرم ہوں یا سخت، خوشخبریاں ہوں یا عذاب کی دھمکیاں، کسی خاص مسئلہ سے متعلق احکامات ہوں یا عمومی مسائل، انفرادی معاملات ہوں یا اجتماعی، غرض ہر طرح سے ہر حالت میں پہنچانا فرض قرار دیا۔ یہ انتہائی سخت ڈیوٹی خود اللہ رب العالمین نے اپنے پیغمبر ﷺ کی لگائی تھی۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَ اللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ
اے پیغمبر(ﷺ)! جو ارشادات اللہ کی طرف سے آپ (ﷺ) پر نازل ہوئے ہیں وہ سب کے سب لوگوں تک پہنچا دو اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا (کوئی ایک بھی) پیغام (لوگوں تک) نہیں پہنچایا (یعنی پیغمبری کا حق ہی ادا نہ کیا) اور اللہ آپ (ﷺ) کو لوگوں سے بچائے رکھے گا بیشک اللہ منکروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المائدۃ:67)

اسی طرح مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے فرمایا:

الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللہِ وَ یَخْشَوْنَہٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللہَ وَ کَفٰی بِاللہِ حَسِیْبًا (الاحزاب:39)
اور جو لوگ اللہ کے پیغام (جوں کے توں) پہنچاتے اور اسی (اللہ) سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اللہ ہی حساب کرنے کو کافی ہے۔

ذرا غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ شہر مکہ جس کامیڈیا اور میڈیا کی سب کی سب طاقت کافروں کے کنٹرول میں تھی انہیں کے درمیان میں رہتے ہوئے محمد رسول اللہ ﷺ نے ’’میڈیا‘‘ کو اس طرح استعمال کیا کہ مکی زندگی میں ہی تمام عرب تک بلکہ عرب سے باہر بھی توحید کی دعوت پھیلا دی۔ آج بھی ضرورت ہے کہ وہی اسلوب اختیار کیا جائے جسے رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنے سے الگ نہیں کیا اور اس کی بدولت دنیا میں شمع توحید کی تمام کرنیں منور کر دیں۔ یہ ایک مستقل باب ہے جسے اسوئہ حسنہ سے کھنگالنے کے لیے تحقیق کرنی چاہیے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہیے تاکہ اس دنیا میں توحید کو دوبارہ سے نافذ کیا جا سکے۔

آج کے دور میں دنیا کے پاس ایک ایسی قوت ہے جو لوگوں کے ذہنوںمیں خیالات پیدا کرتی ہے اور انہیں آگے بڑھاتی ہے، یہ ’’میڈیا‘‘ کی قوت ہے۔ میڈیا کا اصل کردار یہ ہے کہ ناگزیر ضروریات کی نشاندہی کرے اور عوام کی شکایات اور تکالیف کو سامنے لائے۔ جبکہ موجودہ میڈیا بے اطمینانی اور بے چینی کی فضاء پیدا کر رہا ہے اور ہر ایک برائی کی تشہیر بھی کئے جا رہا ہے۔

یہ میڈیا ہی تو ہے جس کے ذریعہ آزادئ تقریر کا عملی اظہار ہوتا ہے۔ ’’مسلمان‘‘ چونکہ اس طاقتور ترین حربے کے استعمال سے ناآشنا اور بے بہرہ ہیں لہٰذا یہ طاقت کلی طور پر یہودیوں کے ہاتھ میں آچکی ہے۔ میڈیا ہی کی وجہ سے یہود و نصاریٰ، ہندوؤں اور دیگر غیر مسلموں نے خود کو پس پردہ رکھتے ہوئے ’’مسلمانوں‘‘ پر اثر انداز ہوئے ہیں، اسی کے ذریعے انہوں نے سونے جیسی قیمتی دھات اپنے قبضے میں لے لی ہے اور اب ’’تیل‘‘ کی طاقت کو ہتھیانے کے چکروں میں ہیں۔
چنانچہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بہت اچھے ہیں اگر ان کے اثرات معاشرے پر اس انداز میں پڑیں کہ یہ میڈیا لوگوں کو دینی اُمور کی ادائیگی اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہ کر دے، ان کے جذبات کو شیطانی راہوں پر نہ چلا دے، ان کی نسل کشی نہ کر دے، ان کے ذہنوں سے اسلامی تشخص کو محو نہ کر دے، لغویات اور فضولیات کے پردے میں اسلامی تعلیمات کو بھلا نہ دے، عریانی و فحاشی کو فروغ نہ دے، لوگوں کی عزت و آبرو کو دنیا میں نہ اچھالے، لوگوں کو بلیک میل نہ کرے۔ اور لوگوں کو ان کے دین سے بیگانہ نہ کرے۔ میڈیا پر دبے یا کھلے الفاظ و اشارات یا وعظ و لیکچرز کے ذریعے اسلام کے خلاف شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلمانوں کے ذہنوں کو پراگندہ نہ کرے۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا بااختیار حاکم، افسر، سماجی کارکن، این جی او کا سربراہ یا امداد تقسیم کرنے والے لوگ بھی ’’میڈیا‘‘ والوں کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ آئیں تو ہم غریب، مسکین، آفت زدہ لوگوں کی ’’مدد‘‘ کے لئے ان میں رقوم کے ’’چیک‘‘ تقسیم کریں، یا سلائی مشینیں، سائیکل، کمبل، کھانے پینے کی اشیائ، ادویات، وغیرہ تقسیم کریں۔
جب یہ حالت ہو تو للّٰھیت ختم ہو جاتی ہے۔ اور غریب، فاقہ کش اور بیماریوں کے مارے ہوئے لوگ صبح سے شام تک بیٹھے رہتے ہیں اور ’’حکام‘‘ کے لئے ’’میڈیا ٹیم‘‘ کا انتظار کرتے ہیں کہ کب وہ نازل ہو تو ہمیں چند ٹکڑے مل جائیں۔

دوسرا نقصان یہ ہے کہ اس میں تصویر کشی کی جاتی ہے جس سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے بلکہ تصویر کشی کرنے والے کو جہنم کی وعید سنائی ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔

غیرت کا جنازہ نکل جاتا ہے کہ جب اخبارات کے رنگین صفحات پر ایک طرف اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر مبنی مواد شائع کیا جاتا ہے تو اسی صفحے کے دوسری طرف بے حیائی کے پرسوز مناظر کی تصویریں اور بیہودہ لچر بازی کا بازار گرم ہوتا ہے۔
ریموٹ ہاتھ میں پکڑ کر ایک طرف بے حیائی کا ’’چینل‘‘ ٹیون کر لیا جاتا ہے اور دوسری طرف ’’قرآنی‘‘ چینل ٹیون کر لیا جاتا ہے۔ جب کوئی ’’بزرگ‘‘ آئے تو قرآنی چینل کا بٹن دبا دیا جاتا ہے اور جب وہ چلا جائے تو بے حیائی کا چینل لگا لیا جاتا ہے۔ اگر یہ مسلمانوں کی غیرت کا جنازہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک ہی جگہ تم ’’بلیو پرنٹ‘‘ دیکھو اور اسی جگہ تمہاری مقدس کتاب ’’قرآن‘‘ کے الفاظ بھی دکھائی دیں۔ گویا تم نے قرآن کو کھول کر اسی جگہ رکھ دیا جہاں بے غیرتوں نے زنا کیا۔

میڈیا پر ’’انٹرویو‘‘ کی آڑ میں غیر مسلم اقوام مسلمانوں لیڈروں اور عوام الناس کو جمع کر لیتے ہیں اور ان لیڈروں کی غلطیاں، بیوقوفیاں سربازار لے آتے ہیں چنانچہ ناپختہ ذہن کے لوگوں کے ذہنوں میں اپنے قائدین اور لیڈروں کے خلاف انتقام کے جذبے بھڑک اٹھتے ہیں۔ معاشرے میں ان کی عزت نہیں رہتی، لوگ ان سے متنفر اور بددل ہو جاتے ہیں جو کہ غیر مسلموں کا اصل مقصد ہے۔ چنانچہ وہ تو اس میں کامیاب و کامران ہیں۔ کیونکہ وہ تو ’’بی بی سی‘‘ اور ’’سی این این‘‘ میں مسلمان قائدین اور حاکموں کو بلوا کر ’’ہارڈ ٹالک‘‘ اور ’’لوز ٹالک(Hard Talk and Loos Talk) کرتے رہتے ہیں اور ان سے چھپے ہوئے راز بھی اگلوا لیتے ہیں۔ کیا کبھی ’’مسلمانوں‘‘ کے کسی بھی میڈیا نے غیر مسلم حکمرانوں کے ساتھ ’’ہارڈ ٹالک‘‘ یا ’’لوز ٹالک‘‘ کی ہے؟ اور کیا کبھی انہوں نے اپنے راز میڈیا پر پیش کئے ہیں؟

اسلام نے ’’مسجد‘‘ کو اللہ کا گھر قرار دیا ہے، اس کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جن کے دلوں میں تقویٰ ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کو زمین پر سب سے زیادہ پسند جگہ ’’مسجد‘‘ ہے۔ لیکن جب مسجد کو مسلمانوں کے خلاف چھپ چھپ کر پروپیگنڈہ کرنے کے لئے منتخب کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اس مسجد کو ہی گرا دیا جائے۔ اور وہ مسجد گرا دی گئی۔ یہ تو اسلام کی غیرت تھی۔ آج کل یہ کام بہت سی جگہوں سے لیا جا رہا ہے جن میں کئی ’’مساجد، امام بارگاہ اور مزار‘‘ وغیرہ شامل ہیں لیکن سب سے بڑھ کر تو ’’میڈیا‘‘ کی بڑی بڑی خوبصورت اور مرصع بلڈنگ ہیں جن میں اعلانیہ طور پر مسلمانوں کے ذہنوں کو اسلام سے خالی کرنے کا کام لیا جا رہا ہے۔
’’چنانچہ آج مسلمانوں کے قائد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کی ہر بلڈنگ کو زمین بوس کروا دے جس میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے یا لوگوں کے ذہنوں کو اسلام سے خالی کرنے کا کام لیا جارہا ہے‘‘۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
ہجرت

رسول اکرم ﷺ نے مکہ میں رہتے ہوئے جب دو چیزیں یعنی تعلیم تربیت اور میڈیا پر سخت محنت کر لی تو اب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہجرت کی اور مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اگرچہ آج ہمارے لئے یہ حکم نہیں کہ ہم سب مدینہ میں ہجرت کر جائیں لیکن اپنے مروجہ اعمال سے رسول اللہ ﷺ کے اعمال کی طرف پلٹنا، اپنے طریقے کو چھوڑتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ اختیار کرنا، اپنی قوم، قبیلہ اور برادری اور برادری کے رسم و رواج کو چھوڑتے ہوئے ’’اسلامی برادری‘‘ اور اسلامی رسم و رواج کی طرف پلٹنا، اور تمام اسلامی برادری کو یکجا کرنا، اُنہیں ایک جگہ رہائش اختیار کروانا وغیرہ یہ سب کام تو آج کے معاشرہ میں اسلام نافذ کرنے کے لئے انتہائی لازمی ہیں۔ مختلف مذاہب کے لوگوں کی کالونیاں بنی ہوئی ہیں جن میں دوسرے مذہب کے افراد کا داخلہ تک ممنوع ہے۔ مختلف قوموں اور برادریوں کی آبادیاں موجود ہیں، جہاں کسی غیر قوم و برادری کا شخص گھر نہیں بنا سکتا۔ اگر نہیں تو ’’اہل حق‘‘ کہلانے والوں کی آج کوئی ’’کالونی‘‘ نہیں، کوئی ’’آبادی‘‘ نہیں بلکہ یہ مختلف جگہوں پر پھیلے ہوئے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے درمیان ہر طرح کے لوگ رہتے ہیں جو اپنی اپنی ’’کالونی‘‘، ’’آبادی‘‘ والوں کو ان کی خبریں دیتے ہیں، ان میں اپنے اپنے ’’رسم و رواج‘‘ کو فروغ دیتے ہیں، اپنی اپنی ’’تعلیم ‘‘ پھیلاتے ہیں، ان میں اپنی خفیہ انٹیلی جنس کے کارندے بھیج کر انہیں ایک جماعت سے دو، دو سے چار اور پھر تقسیم در تقسیم کرتے چلے جاتے ہیں۔ فاعتبروا یا اُولی الابصار۔ جب تک ’’اہل حق‘‘ ایک جگہ اکٹھے نہیں ہوں گے اُس وقت تک دُنیا کو ’’نمونہ‘‘ اور ’’آئیڈیل‘‘ کیسے دے سکیں گے کہ حق تعالیٰ نے اسلام پر عمل کرنے کے لیے ’’اہل حق‘‘ کے لیے یہ یہ پیمانے مقرر کیے ہیں اور اس اس طرح سے ان پر عمل کیا جائے گا۔
 
Top