• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حکمران بیورو کریسی اور عوام ۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی کتاب السیاسۃ الشرعیہ کی تفہیم

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
یٰٓاَیُّھا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَخُوْنُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْا اَمَانَاتِکُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (انفال:27)
اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی امانت میں خیانت نہ کرو۔ اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو، اور تم تو خیانت کے وبال سے واقف ہو۔

اس کے بعد ہی فرمایا۔

وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا اَمْوالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ وَاَنَّ اللہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ
اور ذہن نشین رکھو کہ تمہارے مال، اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہے۔ اور نیز یہ کہ اللہ وہ ذات ہے کہ اس کے ہا ں بڑا اجر موجود ہے۔ (انفال:28)

اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے فرما یا کہ بسا اوقات آدمی اپنے بچے اور غلام سے محبت کی وجہ سے ملک کے کسی حصہ کی ولایت {یعنی گورنری اسے} دے دیتا ہے، اور غیر مستحق کو حکومت دے دیتا ہے تو یقینا وہ امانت ِ الٰہی میں خیانت کرتا ہے۔ اسی طرح وہ مال کی کثرت وفراوانی کو پسند کرتا ہے، اس کو محفوظ کرنے کے لیے غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دیتا ہے اور وہ خواہ مخواہ {لوگوں سے بھتہ وغیرہ کی شکل میں} مال وصول کرتے ہیں۔ یا بعض اقلیموں {صوبوں، ریاستوں اور جاگیروں} کے والیوں {وزیروں} اور حاکموں کو وہ ایسا پاتا ہے کہ وہ مداہنت {سستی و کمزوری، بے عملی} اور چاپلوسی کرتے ہیں مگر یہ ان سے ڈرتا ہے اور ان کو اپنے سے دور رکھنا چاہتا ہے، اس لیے {ایسے} غیر مستحق کو حقدار {یعنی حاکم و افسر وغیرہ} بنا کر بھیج دیتا ہے، تویہ آدمی یقینا اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے خیانت کرتا ہے، اور اس امانت (یعنی حکومت) میں خیانت کرتا ہے جو اس کے سپرد کی گئی ہے۔

اور پھر یہ کہ امانتدار (یعنی بااختیار افسر یا حاکم) اگر اپنی خواہش اور ھواء {یعنی غلط چاہت} کی مخالفت کرے اور اللہ سے ڈرے تو اللہ تعالیٰ اُسے ثابت قدم رکھتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے، اس کے اہل و عیال اور مال کی اس کے بعد بھی حفاظت کرتا ہے، اور جو آدمی اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے، اور اس کے مقصد اور ارادوں کو توڑ دیتا ہے، اسکی اہل و عیال کو ذلیل و خوار کر کے رکھ دیتا ہے، اور اس کا وہ سارا مال {ضائع} چلا جاتا ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
اس بارے میں ایک واقعہ بہت مشہور ہے وہ یہ کہ خلفاء بنو عباس میں سے کسی نے بعض علماء کو کہا کہ کچھ حالات جو تمہا رے دیکھے ہوئے یا سُنے ہوئے ہوں لکھ دیں۔ اس نے کہا عمر بن عبدالعزیز a کو میں نے دیکھا ہے کسی نے ان سے کہا: امیر المومنین! اس مال کو آپ نے اپنے بیٹوں سے دور رکھا ہے اور اُنہیں فقیر و بے نوا چھوڑ دیا ہے، کوئی چیز آپ نے ان کے لیے نہیں چھوڑی۔ امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ اس وقت مرض الموت میں مبتلا تھے، انہوں نے کہا اچھا میرے لڑکوں کو میرے سامنے لائو۔ لڑکے لائے گئے جو دس سے زیادہ تھے، اور سب کے سب نابالغ تھے۔ لڑکوں کو دیکھ کر رونے لگے اور کہنے لگے، میرے بیٹو! جو تمہارا حق تھا وہ میں نے تم کو پورا پورا دے دیا ہے، کسی کو محروم نہیں رکھا اور میں لوگوں کا مال تم کو دے نہیں سکتا، تم میں سے ہر ایک کا مال یہ ہے کہ یا تو وہ صالح نیک بخت ہوگا تو اللہ تعالیٰ صالح اور نیک بندوں کا والی اور مددگار ہے۔ یا غیر صالح ہو گا اور غیر صالح کے لیے میں کچھ بھی چھوڑنا نہیں چاہتا کہ وہ اس مال کے ذریعہ اللہ تعا لیٰ کی معصیت {نافرمانی} میں مبتلا ہو گا۔ قُوْمُوْا عَنِّیْ! بس سب جائو میں اتنا ہی کہنا چاہتا تھا۔ اس کے بعد وہ کہتا ہے اُنہی عمر بن عبد العزیز a کی اولاد میں سے بعض کو میں نے دیکھا ہے کہ سو سو گھوڑے فی سبیل اللہ دیتے تھے کہ مجاہدین اسلام ان پر سوار ہو کر جہاد کریں۔

اس کے بعد اس نے کہا، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ خلیفۃ المسلمین تھے، اقصاء مشرق بلادِ ترک وغیرہ پر، اقصاء مغرب بلادِ اندلس وغیرہ پر قابض تھے، جزائر قبرص اور حدود شام اور طرسوس وغیرہ کے قلعوں پر حکومت و فرمانروائی کرتے تھے، یمن کی انتہائی سرحدوں میں جن کی حکومت پھیلی ہوئی تھی، باوجود اس کے ان کی اولاد نے باپ کے ترکہ میں سے تھوڑی چیز پائی تھی اور کہا جا سکتا ہے کہ وہ بیس بیس درہم سے بھی کم تھی۔

پھر اس عالم میں! میں نے بعض ایسے خلفاء بھی دیکھے ہیں جنہوں نے اپنا ترکہ اتنا چھوڑا کہ ان کے مرنے کے بعد جب لڑکوں نے باہم تقسیم کیا تو ہر ایک کے حصہ میں چھ چھ کروڑ اشرفیاں آئی تھیں، لیکن میں نے ان لڑکوں میں سے بعض کو اس حالت میں دیکھا کہ وہ لوگوں کے سامنے بھیک مانگا کرتے تھے۔

اور بے شمار حکایتیں اور چشم دید واقعات اور اگلوں سے سنے ہوئے حالات اس بارے میں موجود ہیں جو عقلمندوں اور اربابِ بصیرت کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
اور سنت نبوی ﷺ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ولایت و امارت {گورنری و افسری} اور حکومت بھی ایک امانت ہے، جس کا ادا کرنا واجب ہے، اور مختلف مواقع پر حفظ ما تقدم کی طرح اس کا ذکر ہے مثلاً سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو امارت کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا:

اِنَّھَا اَمَانَۃٌ وَ اِنَّھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ خِزْیٌ وَ نَدَامَۃٌ اِلَّامَنْ اَخْذَھَا بِحَقِّھَا وَ اَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فَیْھَا (رواہ مسلم)
یہ حکومت و امارت ایک امانت ہے اور قیامت کے دن یہ اما رت ذلت اور ندامت کا موجب ہے مگر یہ کہ امارت کو حق کے ساتھ لیا۔ اور اسکے حقوق کو اس میں پوری طرح ادا کیا۔

اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری کے اندر سیدنا ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے:

اَنَّ النَبِیَّﷺ قَالَ اَذَا ضُیِّعَتِ الْاَمَانَۃُ فَانْتَظِرِالسَّاعَۃَ قِیْلَ یَارَسُوْلَ اللہِ وَمَا اَضَاعَتُھَا؟ قَالَ اِذَا وُسِدَالْاَمْرُ اِلٰی غَیْرِ اَھْلِہِ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ
رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: جب اما نت ضائع کی جانے لگے تو ساعت {قیامت} کا انتظار کرو۔ پوچھا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! امانت ضائع کر نا کسے کہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب امورِ حکومت اور سرداری و افسری نااہلوں کے سپردکی جائے تو تم قیامت {اور یعنی مسلمانوں کی بربادی} کا انتظار کرو۔ (رواہ البخاری) ۔

اور اسی معنی کے اعتبار سے تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ یتیم کا والیـ و وصی {پرورش کرنے والا} ناظر اوقاف {دیکھ بھال کرنے والا} اور کسی آدمی کا کوئی وکیل ہو، اور اسکے مال میں تصرف کرے تو الاصلح فالاصلح (یعنی زیادہ اہل پھر اس سے کم مرتبہ اہلیت والا) کے اصول کے تحت تصرف کرے جیسااللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّابِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (انعام:152)
یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقہ سے جو احسن ہو یعنی سب سے اچھا ہو۔

اس آیت میں اللہ تعا لیٰ نے یہ نہیں فرما یا ’’بِالَّتِیْ ھِیَ حَسَنَۃٌ‘‘ یعنی اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، اور یہ اس لیے کہ والی اور حاکم ایسا ہی لوگوں کا راعی {یعنی ذمہ دار} ہے جیسا کہ بکریوں کا راعی {چرواہا ذمہ دار} ہوا کرتا ہے اور نبی کریم ﷺ کا ارشادہے :

کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ فَالْاِمَامُ الَّذِیْ عَلَی النَّاسِ رَاعٍ وَھُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ فِی بَیْتِ زَوْجِھَا وَھِیَ مَسْئُوْلَۃٌ عَنْ رَاعِیَّتِھَا وَ الْوَلَدُ رَاعٍ فِیْ مَالِ اَبِیْہٖ وَھُوَ مَسْئُولٌ عِنْ رَ عِیَّتِہٖ وَ الْعَبْدُ رَاعٍ فِیْ مَالِ سَیِّدِہٖ وَ ھُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ اَلَا فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ (بخاری و مسلم)
تم میں سے ہر ایک راعی {ذمہ دار حاکم} ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کا سوال ہو گا، پس حاکم وقت لوگوں کا، راعی {ذمہ دار} ہے اور اس سے اپنی رعیت {رعایا اور عوام الناس} کا سوال ہو گا۔ اور عورت اپنے شوہر کے گھر کی راعی {ذمہ دار} ہے اور اس سے اپنی رعیت (یعنی گھر کی ذمہ داری) کا سوال ہو گا، اور بیٹا اپنے باپ کے مال کا راعی ہے، اور اس سے اپنی رعیت کا سوال ہو گا۔ اور غلام اپنے سیّد و آقا اور مالک کے ما ل کا راعی ہے اور اس سے اپنی رعیت (یعنی مال کے خرچ) کا سوال ہو گا۔ خبردار رہو کہ تم میں سے ہر ایک راعی {ذمہ دار حاکم} ہے اور ہر ایک سے اپنی رعیت کا سوال ہو گا ۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

مَا مِنْ رَاعٍ یَسْتَرْعِیْہِ اللہُ رَعِیَّۃً یَمُوْتُ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ ھُوَ عَاشٍ لَھَا اِلَّا حَرَّمَ اللہُ عَلَیْہِ رَائِحَۃُ الْجَنَّۃِ (رواہ مسلم)
کوئی راعی (ذمہ دار حاکم) نہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ نے رعیت کا راعی بنایا جس دن مرے گا مرے گا۔ اور وہ رعیت کے بارے میں غاشی {غاصب اور دھوکہ باز} ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام کردے گا۔

ایک دن سیدنا ابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان wکے پا س حاضر ہو ئے اور کہا اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا الْاجِیْرُ لوگوں نے کہا اَیُّھَاالْاَمِیْرُکہئے تو انہوں نے پھر اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا الْاَجِیْرُ کہا۔ لوگوں نے پھر کہا اَیُّھَا الْاَمِیْرُکہئے تو پھر انہوں نے وہی جملہ دہرایا تین دفعہ اسی جملہ کو اُنہوں نے دہرایا اور لوگ اس پر اصرار کرتے رہے کہ آپ سے اَیُّھَا الْاَمِیْرُ کہلوائیں۔ آخر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابو مسلم کو اپنی حالت پر چھو ڑدو، وہ اپنی بات کو ہم سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد سیدنا ابو مسلم رضی اللہ عنہ نے کہا اے معاویہ رضی اللہ عنہ تم اجیر (یعنی تنخواہ دار) ہو۔ ان بکریوں کے ریوڑ کے لیے تم کو ان بکریوں کے رب نے اُجرت پر رکھا ہے۔ اگر تم خارش زدہ بکریوں کی خبر گیر ی کرو گے اور مریض بکریوں کی دوا کرو گے اور ان بکریوں کی اچھی طرح حفاظت کرو گے، تو بکریوں کا مالک تمہیں پوری اُجرت دے گا۔ اور اگر تم نے خارش زدہ بکریوں کی خبر گیری نہ کی، مریض بکریوں کی دوانہ کی، بکریوں کی اچھی طرح حفاظت نہ کی تو بکریوں کا مالک تم کو سزا دے گا۔

یہ واقعہ عبرت و نصیحت کے لیے کافی ہے کیونکہ ساری مخلوق اللہ کے بندے ہیں۔ اور ملک کے حکمران اس کے بندوں پر اس کے نائب ہیں، اور بندوں کی جانوں کے وکیل و کفیل۔ اور ایسے وکیل و کفیل کہ دو شریک آپس میں ایک دوسرے کے وکیل و کفیل ہوا کرتے ہیں۔ والیوں اور حاکموں میں ولایت و وکالت کے معنی موجود ہیں۔

جب ولی {یعنی حاکم وقت} اور وکیل {جیسے گورنر، وزیر، مشیر اور بااختیار افسر وغیرہ} اصلح للتجارۃ {یعنی جو شخص صنعت و تجارت اور اُمورِ خزانہ کو بہتر سمجھتا ہو اور امین بھی ہو} یا زمین کے بارے میں جو اصلح {بہتر علم رکھتا اور منتظم} ہو، اُسے چھوڑکر ایسے شخص کو نائب مقرر کرے کہ وہ اصلح للتجارۃ نہیں ہے، اور زمین کے بارے میں بھی وہ غیر اصلح {یعنی نااہل} ہے تو یقینا وہ {حاکمِ وقت یا گورنر و افسر} خائن {یعنی امانت میں خیانت کرنے والا} ہے۔ کیونکہ جو اصلح للتجارۃ {یعنی اہل} نہیں ہے وہ سامان واسباب کو سستے داموں فروخت کر دے گا حالانکہ اس خریدار سے اچھا اور بہتر دوسرا خریدار موجود ہے، دام زیادہ دینے کو تیار ہے، پھر بھی {ایسے} خریدار سے بوجہ خوف کے یا بوجہ دوستی اور مودت کے یا قرابت کی وجہ سے سستے داموں مال کو اٹھا دیتا ہے {یعنی بیچ دیتا ہے اسی طرح کسی چیز کا ٹھیکہ دیتا ہے} تو یقینا یہ {حاکم و مجاز افسر} خائن ہے۔ مال کا مالک یقینا اس سے بغض رکھے گا۔ اور اس کی مذمت اور برائی کر ے گا۔ اور اس کو خائن قرار دے گا۔یا قرابتداروں اور دوستوں کو نوازنے والا کہے گا۔ اور اس لیے والی {حاکمِ وقت} اور وکیل {مجاز افسر} کا فر ض ہے کہ ایسے لوگوں کو نائب نہ بنائے۔ اور جو اصلح للتجارۃ ہو یا زمین وغیرہ کے بارے میں اچھی مہارت رکھتا ہو، اس کو نائب مقرر کرے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
باب:2۔
بہترین منتظم، زیادہ اہل، زیادہ اصلاح کرنے والا۔
اصلح {زیادہ اہل} موجود ہے تو اسے ولایت {امارت} و حکومت دینی چاہیئے، اگر اصلح موجود نہیں ہے تو صالح {نیکوکار} کو ولایت {امارت} و حکومت دی جائے۔ ہر منصب کے لیے الامثل فالامثل {یعنی زیادہ بہتر شخص، پھر وہ نہ ہو تو اس سے کم صلاحیت والے} کو ولایت {گورنری} و نیابت {افسری} دی جائے۔ ولایت {حاکم و ذمہ داربننے} کے لیے قوت اور امانت ضروری ہے تاکہ نفاذِ احکام اور ادائیگی امانت میں سہولت پیدا ہو۔ قاضی {جج} تین قسم کے ہیں۔

یہ معلوم کر لینے کے بعد اب یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ والی امر {حاکمِ وقت } کا فرض کیا ہے؟ والی امر {حاکمِ وقت} کا فرض یہ ہے کہ وہ ایسے آدمی کو عامل {ذمہ دار} نائب اور والی و حاکم {افسر و گورنر} بنا ئے جو اصلح {زیادہ اہل اور اچھا منتظم} ہو۔ لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اس کام کے لائق آدمی موجودنہیں ہوتا۔ اور ایسے شخص کا ملنا دشوار ہوتا ہے، جس میںکام کی صلاحیت موجود ہو۔ تو اس وقت ولی الامر {حاکمِ وقت، گورنر و ذمہ دار افسر} کا فرض ہے کہ الامثل فالامثل {زیادہ بہتر شخص} کو مقرر کرے۔ ہر منصب اور ہر عہدے کے منا سب حال الامثل فالامثل کو قائم کرے اگر پورے اجتہاد، پوری کوشش اور جدوجہد کے بعد والی امر {حاکمِ وقت یا ذمہ دار} نے ایسا کر دیا، اور ولایت ونیابت کا حق ادا کر دیا، تو اس نے اپنا فرض پوری طرح ادا کر دیا تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام والی امر {حاکمِ وقت اور ذمہ دار} عادل ہے اور اللہ کے نزدیک وہ مقسطین {انصاف کرنے والوں} میں سے ہے اگر چہ بعض وجوہ اور بعض اسباب کی بنا پر بعض امور میں خلل واقع ہو جائے لیکن اس کے سوا دوسرا امکان اور چارۂ کار بھی نہیں ہے اور اللہ نے بھی اسی قسم کی کوشش کا حکم فرمایا ہے۔

فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (تغا بن :16)
مسلما نو! جہا ں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو۔

اور فرماتا ہے:

لَایُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِ لَّا وُسْعَھَا (بقرہ:286)
اللہ کسی پر بو جھ نہیں ڈالتا مگر اسی قدر جس کی اس کو طاقت ہو۔

اور جہاد کا حکم دیتے ہوئے فر ما تا ہے : ۔

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِط لَا تُکَلَّفُ اِلَّا نَفْسَکَ وَحَرِّضِ الْمُؤمِنِیْنَ
تو آپ (ﷺ) اللہ کی راہ میں دشمنوںسے لڑیں ، آپ (ﷺ) پر اپنی ذات کے سوا کسی کی ذمہ داری نہیں اور ہاں مسلمانوں کو بھی ابھارو۔ (النساء :84)

اور فرماتا ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَ نْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ
مسلمانو! تم اپنی خبر رکھو جب تم راہِ راست پر ہو تو کوئی بھی گمراہ ہوا کرے تم کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ (مائدہ:105)۔

پس جس نے اپنی مقدور بھر امکانی کوشش کی اور اپنا فرض ادا کیا تو سمجھ لینا چاہیئے کہ اس نے ہدایت کی راہ پالی۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا ہے :

اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِاَمْرٍ فَأْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ (اخرجاہ فی الصحیحین)
جب میں تم کو کسی کام کا حکم دوں تو تم اپنی طاقت کے مطابق کر گزرو۔ (بخاری و مسلم)۔

لیکن اگر وہ {حاکم و ذمہ دار} ایسا کرنے سے اس لیے قاصر ہے کہ وہ اپنے آپ کو عا جز {بزدل} پاتا ہے یا کسی غیر شرعی ضرورت کی وجہ سے ایسا کرتا ہے، تو وہ یقینا خیانت کرتا ہے۔ اور اُسے خیانت کی سزا دی جائے گی۔ اور اس لیے اس کا فرض ہے کہ وہ اصلح {اہل اور اچھے منتظم} کو پہچانے اور ہر منصب اور ہر عہدہ کے لیے اصلح {اہل اور اچھے منتظم} تجویز کر ے کیونکہ ولایت امر {یعنی حاکمِ وقت سے بیورو کریسی اور چھوٹے نوکروں تک کی ذمہ داری} کے دو رکن ہیں ’’ایک قوت دوسری امانت‘‘ جیسا کہ قر آن مجید کے اندر ہے : ۔

اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ (قصص:26)
کیونکہ بہتر سے بہتر آدمی جو آپ نوکر رکھنا چا ہیں مضبو ط اور امانت دار ہونا چاہئے۔

اور شاہ مصر نے یوسف علیہ الصّلوٰۃ والسّلام کی شان میں کہا ہے:

اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ (یوسف:54)
تم ہماری سرکار میں آج سے بڑے باوقار اور صاحب اعتبار ہو۔

جبر یل علیہ السلام کی شان اور صفت بیان کر تے ہوئے اللہ تعا لیٰ فرماتا ہے:

اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ (تکویر:20 )
قرآن بیشک معزز فر شتے کا پہنچایا ہوا پیام ہے اور وحی کے بارگراں اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اور مالک عرش کی جناب میں اس کا بڑا درجہ ہے اور وہاں سردار اور امانت دار ہے۔

اور ہر ولایت، ہر حکومت کی قوت اور طاقت اس کے مناسب حال ہوا کر تی ہے۔ امارتِ حرب ولایت جنگ {وزارتِ جنگ} کی قوت یہ ہے کہ والی جنگ {سپہ سالار} شجاع، بہادر، دلیر اور جنگ کے تمام تر اُمور سے واقف اور ماہر ہو اور مخادعت (دھوکہ دہی) اور چال بازیوں کو اچھی طرح جانتا ہو۔ کیونکہ اَلْحَرْبُ خَدْ عَۃٌ (جنگ فریب اور دھوکہ کا نا م ہے) اور یہ کہ وہ قتال و جنگ کے طریقوں کو جا نتا ہو اور ان طریقوں پر عمل کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہو۔ تیر اندازی {نشانہ بازی، فائرنگ} سے اچھی طرح واقف ہو، حملہ اور وار اچھی طرح کر سکتا ہو، گھوڑے {اور ٹینک، بکتر بند گاڑی، لڑاکا طیارے اور بحری جہازوں} کی سواری خوب جانتا ہو۔ کروفر {اسلحہ و بارود اور دیگر ساز و سامان} وغیرہ پوری طرح رکھتا ہو۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ (انفال :60)
اور مسلمانو! فوجی قوت اور گھوڑوں (یعنی ہتھیار اور جدید سواریوں)کے باندھنے رکھنے سے جہا ںتک تم سے ہوسکے کافروں کے مقابلہ کے لیے سازوسامان مہیاکئے رہو۔

اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

اِرْمُوْا وَارْکَبُوْا وَاِنْ تَرْمُوْا اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ تَرُکَبُوْا وَمَنْ تَعْلَّمَ الرَّمْیَ ثُمَّ نَسِیَہٗ فَلَیْسَ مِنَّا
تیر مارا کرو {یعنی راکٹ اور میزائل چلایا کرو} اور سواری کیا کرو اور تیر {راکٹ و میزائل} چلانا مجھے {لڑاکا جیٹ جہازوں کی} سواری سے زیادہ محبوب ہے اور جو تیر چلانا {یعنی نشانہ بازی} سیکھا پھر بھول گیا تو وہ ہم میں سے نہیں۔

ایک اور روایت میں ہے: ۔

فَھِیَ نِعْمَۃٌ جَحَدَھَا (رواہ مسلم)
تیر {و گولی} چلانا ایک نعمت ہے بھولنے والے نے اس نعمت سے انکار کر دیا۔

اور’’ قوت‘‘ حکم کا مرجع، علم {حاصل کرنے} اور عدل {و انصاف قائم کرنے کے لیے ضروری ہے} اور قدرتِ تنفیذِ احکام {یعنی ’’قوت‘‘ ہی سے اللہ کے دین کو نافذ کرنے کی قدرت میسر آتی} ہے جس پر کتاب و سنت دلالت کرتی ہے۔

اور امانت کا مر جع خشیت الٰہی اورا للہ کاخوف ہے اور یہ کہ حقوقِ الٰہی کو دنیا کی متاعِ قلیل {معمولی مال و دولت} کے عوض فروخت نہ کرے۔ اور لوگوں کا خوف قطعاً ترک کر دے۔

یہ تین خصلتیں {قوت، امانت اور خشیت الٰہی} جن کو اللہ تعالیٰ نے ہر والی، ہر حاکم، ہر والی امر اور ہر حکم {یعنی قاضی اور جج} کے لیے فرض اور ضروری قراردیا ہے اور قر آن حکیم اس پر ناطق ہے اللہ تعا لیٰ فرماتا ہے۔

فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰاتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًاط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُؤلٰٓئِکَ ھُمُ الْکَافِرُوْنَ (المائدہ:44)
اور تم لوگوں سے نہ ڈرو اور ہم سے ہی ڈرتے رہو اور ہماری آیتو ں کے بدلے میں معمولی قیمت نہ لو۔ اور جو اللہ کی اتا ری ہوئی کتا ب کے مطابق حکم {یعنی فیصلہ} نہ کرے تو یہی لوگ کافر ہیں۔

اور اسی بنا پر نبی کریم ﷺ نے قاضیوں {ججوں} کی تین قسمیں گردانی ہیں۔ جن میں سے دو قسم کے قاضیوں کے لیے جہنم بتلائی ہے اور ایک قِسم کے قاضیوں کے لیے جنت۔نبی کریم ﷺ نے فرما یا :

اَلْقُضَاۃُ ثَلَاثَۃٌ قَاضِیَانِ فِی النَّارِ وَقَاضٍ فِی الْجَنَّۃِ فَرَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ وَقَضٰی بِہٖ فَھُوَ فِی الْجَنَّۃِ (رواہ اہل السنن)
قاضی {یعنی جج} تین قسم کے ہیں۔ دو قسم کے قاضی {جج} جہنم میں جائیں گے اور ایک قسم کے قاضی {جج} جنت میں۔ پس وہ آدمی جو حق کو پہچان کر صحیح اور سچا، انصاف پر مبنی فیصلہ کرے وہ جنت میں جا ئے گا ۔

اور قاضی {جج} ہر اس آدمی کو کہتے ہیں جو دوفریقوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ اور دونوں فریق کو حکم دے۔ اب وہ شخص خلیفہ ہو یا سلطان یا اس کا نائب {یعنی گورنر} ہو، یہاں تک کہ بچوں کی تحریر و خط کے جو نگران {اساتذہ} ہیں ان کو بھی یہ حکم شامل ہے، ایسا ہی ذکر اصحابِ رسول اللہﷺ نے کیا ہے۔ اور وہ ایسا ہی کرتے تھے اور یہ ظاہر ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
باب: 3 قوت و امانت دار لوگ بہت کم ہیں۔​

آج دنیا میں ایسے لوگ جن میں قوت اور امانت دونوں موجود و مجتمع ہوں کم ہیں۔ دو آدمی ایسے کہ ایک ان میں سے امین ہے، دوسرا طاقتور تو ایسے آدمی کو ولایت امر اور سرداری دینی چاہئے جو قوم و رعایا کے لیے مفید و نافع ہے، قوم و رعایا کو نقصان نہ پہنچائے۔ امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا دو آدمی ہیں ایک جنگجو، شجاع اور دلیر ہے لیکن فاجر ہے۔ دوسرا صالح نیک مگر کمزور کم ہمت۔ کس کے ساتھ رہ کر جہاد کیا جائے؟ اُنہوں نے فرمایا: فاجر قوی کے ساتھ رہ کر، کیونکہ قوت مسلمانوں کے لیے ہے، اور اس کا فجور اس کی جان کے لیے، اور صالح اور نیک اس کے بالکل برعکس ہے۔

قوت اور امانت دونوں کسی ایک آدمی میں جمع ہوں ایسے لوگ آج بہت کم ہیں​
اور اسی بنا پر سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اَشْکُوْا اِلَیْکَ جَلْدَ الْفَاجِرِ وَمِجْزَ الْبُقَۃِ
اے اللہ! میں تیری جناب میں فاجر کی سختی اور بُزدل کی عاجزی کا شکوہ کرتا ہوں۔

پس ہر ولایت {وزارت}، ہر اقلیم{صوبے و جاگیر}، ہر ملک کے لیے بااعتبار اس کی مرزبوم کے اصلح تلاش کرنا چاہئے، جب کسی اقلیم، کسی ملک کے لیے امام والی اور حاکم مقرر کرنا چاہتا ہے تو ایسے دو آدمی ملتے ہیں۔ ایک امانتدار ہے، دوسرا طاقتور ہے۔ امام کا فرض ہے کہ اس اقلیم و ملک اور ولایت کے لیے اُسے مقدم رکھے جو اس اقلیم و ملک اور ولایت کے لیے زیادہ مفید اور زیادہ نفع بخش ہو اور ضرر و نقصان اس سے کم سے کم ہو۔

پس امارتِ حرب{وزارتِ جنگ}، جہاد وجنگ کی سرداری {سپہ سالاری} کے لیے ایسا آدمی مقرر کرے جو قوی، دلیر، شجاع اور بہادر ہو، اگر چہ وہ فاجر ہی کیوں نہ ہو۔ اور ضعیف، عاجز و کمزور کے مقابلہ میں اسے ترجیح دے، اگرچہ وہ امین ہو۔ امام احمد بن حنبل a سے کسی نے پوچھا: دو آدمی ہیں، دونو ںکے دونوںحرب و جہاد کے امیر و سردار ہیں۔ لیکن ان میں سے ایک فاجر مگر قوی ہے، دوسرا صالح اور نیک ہے مگر ضعیف و کمزور ہے، تو دونوں میں سے کس کے ساتھ رہ کر جہاد کرنا چاہئے؟ آپ نے فرما یا: فاجر قوی کی قوت مسلمانوں کے لیے ہے اور اس کا فسق و فجور اس کی اپنی جان کے لیے ہے۔ اور صالح ونیک ضعیف و کمزور ہے تو اس کی صلاح و نیک بختی اس کی جان کے لیے ہے۔ اور مسلما نوں کے ضعف کاموجب ہے۔ تو جہاد قوی و فاجر کیساتھ رہ کر کرنا چاہئے۔ اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

اِنَّ اللہَ یُؤیِّدُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ
بیشک اللہ تعا لیٰ فاسق و فاجر آدمی سے بھی اس دین کی مدد کرا دیتا ہے۔

اور ایک روایت بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (فاجر آدمی) کی جگہ بِاَقْوَامٍ لَاخَلَاقَ لَھُمْ کے الفاظ استعمال کئے (یعنی ایسی قوم اور ایسے لوگوں سے مدد کر ادیتا ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں)۔

پس اس وقت جبکہ امیر و سالار قوی القلب (یعنی شیر دل)، شجاع و بہادر اور دلیر میسر نہ آئے اور اس جگہ کو پُر کرنے کے لیے کوئی ایسا آدمی نہ مل سکے جو امیر حرب {وزیر جنگ} اور سالارِ جنگ مقرر کیا جائے تو اس وقت اصلح فی الدین {متقی و پرہیزگار} کو مقرر کر دے اور اسی بناء پر نبی کریم ﷺ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امارت حرب دی اور سپہ سالارِ اسلام بنا یا تھا۔ جب سے وہ اسلام لائے تھے اس وقت سے یہ خدمت انہی کے سپرد رہی اور ان کی شان میں آپ ﷺ فرمایا کر تے تھے:

سَیْفٌ سَلَّہُ اللہُ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ
خالد ایسی تلوار ہیں جو اللہ نے مشر کوں کی ہلا کت کے لیے کھلی رکھی ہے۔

باوجود اس کے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے کبھی کبھی ایسی حرکتیں ہوا کرتی تھیںکہ نبی کریم ﷺ اُسے بُرا سمجھتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے آسمان کی طرف ہا تھ اٹھا کر کہا تھا:

اَللّٰھُمَّ اَبْرَاُ اِلَیْکَ مِمَّا فَعَلَ خَالِدٌ
اے اﷲ خالد نے جو کچھ کیا ہے، اس سے میں بری (لا تعلق) ہوں۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
نبی کریم ﷺ نے یہ اس وقت کہا تھا جبکہ آپ نے خالدص کو قبیلہ جزیمہ کی طرف بھیجا تھا۔ اور خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو قتل کر دیا تھا، اور معمولی شبہ کی بنا پر ان کا مال و متا ع لوٹ لیا تھا۔ حالانکہ یہ جائز نہیں تھا، اور ان کے ساتھ جو صحابہ ث موجود تھے انہوں نے بھی اس حرکت سے ان کو روکا تھا۔ اور خود رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ جزیمہ سے ہمدردی برتی، الفت و محبت کا اظہا ر فرمایا اور ان کا مال و متاع واپس کرنے کی ضمانت دی۔ باوجود اس قسم کی لغزشوں کے آپ ﷺ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو ہمیشہ امارتِ لشکر اور فوج کی قیادت میں اُنہی کو مقدم رکھا۔ اور یہ اس لیے کیا کہ اُمور جنگ میں وہ دوسروں کے مقابلہ میں اصلح {اہل} تھے۔ اور غلطی معمولی سے معمولی تا ویلوں(یعنی غلط فہمی) کی بناء پر کر لیا کرتے تھے۔ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ اگر چہ امانت و صداقت میں اصلح ـ{یعنی بڑھ کر} تھے لیکن باوجود اس کے رسول اﷲ ﷺ نے ان کو فرمایا:

یٰا اَبَا ذَرٍّ اِنِّیْ اَرَاکَ ضَعِیْفًا وَاِنِّیْ اَحِبُّ مَا اُحِبُّ لِنَفْسِیْ لَا تَأْمُرَنَّ عَلٰی اِثْنَیْنِ وَلَا تُوْلَیَنَّ مَالَ یَتِیْمٍ (رواہ مسلم)
اے ابوذر! میں تمہیں ضعیف و کمزور پاتا ہوں۔ اور تمہارے لیے میں وہی پسند کرتا ہوں جو میں خود اپنے لیے پسند کرتا ہوں، تم کسی دو آدمیوں کا بھی امیر نہ بننا اور یتیم کے مال کی کبھی ولایت {سرپرستی و حفاظت} نہ کرنا۔

سیدنا ابوذرص کو آپ نے امارت اور ولایت سے منع فرما دیا حالانکہ آپ سے مروی ہے:

مَا اَظَلَّتِ الْخَضْرَائُ وَلَا اَقَلَّتِ الْغَبْرَائُ اَصْدَقُ لَھْجَۃً مِنْ اَبِیْ ذَرِّ
نہ سبز گنبدنے سایہ کیا، نہ غبار مٹی نے جگہ دی، ابی ذر سے زیادہ سچے کو۔

سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو غزوہ ٔذات سلاسل میں آپ ﷺ نے اس لیے بھیجا تھا وہاں ان کے رشتہ دار و قرابتدار رہتے تھے۔ اور آپ ﷺ ان سے مہربانی کا برتاؤ کرنا چاہتے تھے، اُن سے بہتر آدمی موجود تھے مگر آپ ﷺ نے ان کو نہیں بھیجا اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہی کو بھیجا ۔

اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ آپ ﷺ نے امارت اس لیے دی کہ ان کے باپ کا بدلہ لے سکیں۔

غرض یہ کہ بعض لوگوں کو کسی مصلحت راحج کی بناء پر عامل اور گورنر بنا دیتے تھے، حالانکہ ان سے بہتر اور افضل، اور علم و ایمان کے لحاظ سے بہت اچھے موجود ہوتے تھے۔

اسی طرح خلیفہ امیر المؤمنین سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے، فتنہء ارتداد جب کھڑا ہو گیا تو سیدنا خالدص کو ہی امیر لشکر بنایا تھا۔ اور فتوح عراق و شام میں بھی انہیں کو امیر و سالار بنا کر بھیجا تھا، حا لانکہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے تا ویل کی بنیاد پر بعض ہفوات (یعنی غلطیاں) صادر ہوتی رہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ ان ہفوات میں ان کی خواہش کو دخل تھا لیکن پھر بھی ان کو معزول نہیں کیا بلکہ عتاب کرکے چھوڑ دیا۔ اور مصلحت کو مفسدہ کے مقابلہ میں ترجیح دی، اور انہی کو باقی رکھا کہ کوئی دوسرا ان کاقائم مقام بن سکے ایسا نہیں تھا۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
علاوہ ازیں یہ کہ جب متولی کبیر(جنرل سیکرٹری)، خلیفہ، والی، امیر {حاکمِ وقت } کے خلق میں نرمی ہو تو اسکے نائب میں شدت و سختی ہونا چاہئے۔ اور اگر متولی کبیر (جنرل سیکرٹری) اور امیر میں سختی ہو تو نائب میں نرمی ہونی چاہئے تاکہ ایک کی سختی اور دوسرے کی نرمی سے اعتدال قائم رہے، اور اسی بناء پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو باقی اور قائم رکھنے پر مصر تھے۔ اس لیے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نرم دل نرم خو تھے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کو معزول کرنا چاہتے تھے اور ان کی جگہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح کو لانا چاہتے تھے، اس لیے کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ میں سختی تھی جیسی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ میں سختی تھی اور سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نرم دل نرم خو تھے جیسے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ اور اس وقت اصلح {بہتر} وہی تھا جو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں لشکراسلام کے سپہ سالار رہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لشکر اسلام کے والی {سپہ سالار} سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح رہے۔ اور اس طرح معاملہ اعتدال پر رہا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے یہ فرمایا:

اَنَانَبِیُّ الرَّحْمَۃِ اَنَا نَبِیُّ الْمَلْحَمَۃِ
میں نبی رحمت (بھی) ہوں اور میں نبی ملحمہ (یعنی حرب و جنگ والا نبی بھی) ہوں ۔

اور آپ کا ارشاد ہے:

اَنَا الضُّحُوْکُ الْقَتَّالُ وَ اُمَّتِیْ وَسْطٌ
میں زیادہ خندہ پیشانی سے لڑنے والا ہوں اور میر ی امت وسط ہے۔

اور صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی شان میں اللہ تعالیٰ فرما تا ہے:

اَشِدِّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَـٓائُُ بَیْنَھُمْ ط تَرَاھُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا (فتح:29)
کا فروں کے حق میں بڑے سخت اور آپس میں رحم دل۔ تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کر رہے ہیں اور کبھی سجدہ کر رہے ہیں، اللہ کے فضل اور خوشنودی کی طلبگاری میں لگے ہیں۔

اور اللہ کا اِرشادِ گرامی ہے:
اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ (مائدہ :54)
مسلمانوں کے ساتھ نرم اور کافروں کیساتھ سخت ہیں۔

اسی وجہ سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ولایت و امارت کامل تھی اور ولایت {حکومت} کے معاملات کامل طریقہ پر انجام پاتے رہے اور اعتدال قائم رہا۔ اور نبی کریم ﷺ کی زندگی میں یہ دونوں اپنی اپنی جگہ دو بازو سمجھے جاتے تھے۔ ایک نرم دل، نرم خو تھے، دوسرے سخت دل اور سخت طبیعت تھے اور خود نبی کریم ﷺ نے ان دونوں کی شان میں فرمایا:

اِقْتَدُوْا بِالَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِیْ
میرے بعد تم ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) اور عمر ( رضی اللہ عنہ ) کی اقتداء کرنا۔

چنا نچہ مرتد {منکرین زکوٰۃ} کے مقابلہ میں جنگ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے شجاعت ِ تقلب {دلی قوت} کا ایسا مظاہرہ ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی حیران تھے اور اس کی امید قطعاً نہیں رکھتے تھے اور تمام صحابہ کرام ث بھی اس سے بے خبر تھے اور کہتے تھے صرف زکوٰۃ سے انکا ر کرنے پر آپ جہاد کیسے کرتے ہیں۔
 
Top