• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم حیات طیبہ کا آخری باب رفیق اعلیٰ کی جانب

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حیات طیبہ کا آخری باب رفیق اعلیٰ کی جانب

الوداعی آثار :
جب دعوت دین مکمل ہو گئی اور عرب کی نکیل اسلام کے ہاتھ میں آ گئی تو رسول اللہ ﷺ کے جذبات و احساسات، احوال و ظروف اور گفتار و کردار سے ایسی علامات نمودار ہونا شروع ہوئیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ اب آپ ﷺ اس حیات مستعار کو اور اس جہان فانی کے باشندگان کو الوداع کہنے والے ہیں۔ مثلا ً:
آپ ﷺ نے رمضان ۱۰ھ میں بیس دن اعتکاف فرمایا جبکہ ہمیشہ دس ہی دن اعتکاف فرمایا کرتے تھے، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو اس سال دو مرتبہ قرآن کا دَور کرایا جبکہ ہر سال ایک ہی مرتبہ دَور کرایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا: مجھے معلوم نہیں غالبا میں اس سال کے بعد اپنے اس مقام پر تم لوگوں سے کبھی نہ مل سکوں گا۔ جمرئہ عقبہ کے پاس فرمایا: مجھ سے اپنے حج کے اعمال سیکھ لو۔ کیونکہ میں اس سال کے بعد غالبا حج نہ کر سکوں گا۔ آپ ﷺ پر ایام تشریق کے وسط میں سورۂ نصر نازل ہوئی۔ اور اس سے آپ ﷺ نے سمجھ لیا کہ اب دنیا سے روانگی کا وقت آن پہنچا ہے۔ اور یہ موت کی اطلاع ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اوائل صفر ۱۱ ھ میں آپ ﷺ دامنِ اُحد میں تشریف لے گئے۔ اور شہداء کے لیے اس طرح دعا فرمائی گویا زندوں اور مردوں سے رخصت ہو رہے ہیں۔ پھر واپس آ کر منبر پر فروکش ہوئے۔ اور فرمایا: میں تمہارا میر کارواں ہوں۔ اور تم پر گواہ ہوں۔ واللہ! میں اس وقت اپنا حوض (حوضِ کوثر) دیکھ رہا ہوں۔ مجھے زمین اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئی ہیں۔ اور واللہ! مجھے یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کروگے۔ بلکہ اندیشہ اس کا ہے کہ دنیا کے بارے میں تنافس کرو گے۔ (متفق علیہ۔ صحیح بخاری ۲/۵۸۵، فتح الباری ۳/۲۴۸ حدیث نمبر ۱۳۴۴،۳۵۹۶، ۴۰۴۲، ۴۰۸۵،۶۴۲۶،۶۵۹۰)
ایک روز نصف رات کو آپ ﷺ بقیع تشریف لے گئے۔ اور اہل بقیع کے لیے دعائے مغفرت کی۔ فرمایا: اے قبر والو! تم پر سلام! لوگ جس حال میں ہیں اس کے مقابل تمہیں وہ حال مبارک ہو جس میں تم ہو۔ فتنے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ایک کے پیچھے ایک چلے آرہے ہیں۔ اور بعد والا پہلے سے زیادہ برا ہے۔ اس کے بعد یہ کہہ کر اہل قبور کو بشارت دی کہ ہم بھی تم سے آملنے والے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مرض کا آغاز:
۲۹ صفر ۱۱ھ روز دو شنبہ کو رسول اللہ ﷺ ایک جنازے میں بقیع تشریف لے گئے۔ واپسی پر راستے ہی میں دردِ سر شروع ہو گیا۔ اور حرارت اتنی تیز ہو گئی کہ سر پر بندھی ہوئی پٹی کے اوپر سے محسوس کی جانے لگی۔ یہ آپ ﷺ کے مرض الموت کا آغاز تھا۔ آپ ﷺ نے اسی حالت مرض میں گیارہ دن نماز پڑھائی۔ مرض کی کل مدت ۱۳ یا ۱۴ دن تھی۔
آخری ہفتہ:
رسول اللہ ﷺ کی طبیعت روز بروز بوجھل ہوتی جا رہی تھی۔ اس دوران آپ ﷺ ازواج مطہرات سے پوچھتے رہتے تھے کہ میں کل کہاں رہوں گا؟ میں کل کہاں رہوں گا؟ اس سوال سے آپ ﷺ کا جو مقصود تھا ازواج مطہرات اسے سمجھ گئیں۔ چنانچہ انہوں نے اجازت دے دی کہ آپ ﷺ جہاں چاہیں رہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے مکان میں منتقل ہو گئے۔ منتقلی کے وقت حضرت فضل بن عباس اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے درمیان ٹیک لگا کر چل رہے تھے۔ سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اور پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ اس کیفیت کے ساتھ آپ حضرت عائشہ کے مکان میں تشریف لائے۔ اور پھر حیات مبارکہ کا آخری ہفتہ وہیں گزارا۔
حضرت عائشہ ؓ معوذات اور رسول اللہ ﷺ سے حفظ کی ہوئی دعائیں پڑھ کر آپ ﷺ پر دم کرتی رہتی تھیں۔ اور برکت کی امید میں آپ ﷺ کا ہاتھ آپ ﷺ کے جسم مبارک پر پھیرتی رہتی تھیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وفات سے پانچ دن پہلے:
وفات سے پانچ دن پہلے روز چہار شنبہ (بدھ) کو جسم کی حرارت میں مزید شدت آگئی۔ جس کی وجہ سے تکلیف بھی بڑھ گئی۔ اور غَشی طاری ہوگئی۔ آ پﷺ نے فرمایا : مجھ پر مختلف کنوؤں کے سات مشکیز ے بہاؤ تاکہ میں لوگوں کے پاس جاکر وصیت کرسکوں۔ اس کی تکمیل کرتے ہوئے آپﷺ کوایک لگن میں بٹھا دیا گیا۔ اور آپﷺ کے اوپر اتنا پانی ڈالا گیا کہ آپ ''بس۔'' ''بس '' کہنے لگے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اس وقت آپ ﷺ نے کچھ تخفیف محسوس کی۔ اور مسجد میں تشریف لے گئے - سر پر پٹی معیالی بندھی ہوئی تھی - منبر پر فروکش ہوئے اور بیٹھ کر خطبہ دیا۔ یہ آخری بیٹھک تھی جو آپ ﷺ بیٹھے تھے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کی۔ پھر فر مایا: لوگو! میرے پاس آجاؤ۔ لوگ آپ ﷺ کے قریب آگئے۔ پھر آپ ﷺ نے جو فرمایا اس میں یہ فرمایا: ''یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنایا۔'' ایک روایت میں ہے کہ ''یہود و نصاریٰ پر اللہ کی مار کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنایا ۔'' (صحیح بخاری ۱/۶۲ مؤطا امام مالک ص ۳۶۰) آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ''تم لوگ میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پوجا کی جائے۔'' (موطا امام مالک ص ۶۵)
پھر آپ ﷺ نے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کیا اور فرمایا: ''میں نے کسی کی پیٹھ پر کوڑا مارا ہو تو یہ میری پیٹھ حاضر ہے ، وہ بدلہ لے لے۔ اور کسی کی آبرو پر بٹہ لگایا ہو تو یہ میری آبرو حاضر ہے، وہ بدلہ لے لے۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اس کے بعد آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ ظہر کی نماز پڑھائی، اور پھر منبر پر تشریف لے گئے۔ اور عداوت وغیرہ سے متعلق اپنی پچھلی باتیں دہرائیں۔ ایک شخص نے کہا: آپ کے ذمہ میرے تین درہم باقی ہیں۔ آپ ﷺ نے فضل بن عباس سے فرمایا: انہیں ادا کر دو۔ اس کے بعد انصار کے بارے میں وصیت فرمائی۔ فرمایا:
'' میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں۔ کیونکہ وہ میرے قلب و جگر ہیں۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔ مگر ان کے حقوق باقی رہ گئے ہیں۔ لہٰذا ان کے نیکوکار سے قبول کرنا۔ اور ان کے بد کار سے درگذر کرنا۔'' ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ''لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار گھٹتے جائیں گے۔ یہاں تک کہ کھانے میں نمک کی طرح ہو جائیں گے۔ لہٰذا تمہارا جو آدمی کسی نفع اور نقصان پہنچانے والے کام کا والی ہو تو وہ ان کے نیکوکاروں سے قبول کرے اور ان کے بدکاروں سے درگذر کرے۔'' (صحیح بخاری ۱/۵۳۶)
اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: '' ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی چمک دمک اور زیب و زینت میں سے جو کچھ چاہے اللہ اسے دے د ے ، یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کر لے تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کو اختیار کر لیا۔'' ابو سعید خدریؓ کا بیان ہے کہ یہ بات سن کر ابو بکرؓ رونے لگے۔ اور فرمایا: ہم اپنے ماں باپ سمیت آپ پر قربان۔ اس پر ہمیں تعجب ہوا۔ لوگوں نے کہا: اس بڈھے کو دیکھو ! رسول اللہ ﷺ تو ایک بندے کے بارے میں یہ بتا رہے ہیں کہ اللہ نے اسے اختیار دیا کہ دنیا کی چمک دمک اور زیب و زینت میں سے جو چاہے اللہ اسے دے دے یا وہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کر لے۔ اور یہ بڈھا کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے ماں باپ کے ساتھ آپ پر قربان۔ (لیکن چند دن بعد واضح ہوا کہ) جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ خود رسول اللہ ﷺ تھے۔ اور ابو بکرؓ ہم میں سب سے زیادہ صاحب علم تھے۔ (متفق علیہ: مشکوٰۃ ۲/۵۴۶، ۵۵۴)
پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھ پر اپنی رفاقت اور مال میں سب سے زیادہ صاحب احسان ابو بکرؓ ہیں۔ اور اگر میں اپنے رب کے علاوہ کسی اور کو خلیل بناتا تو ابو بکرؓ کو خلیل بناتا لیکن (ان کے ساتھ) اسلام کی اخوت و محبت (کا تعلق) ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ باقی نہ چھوڑا جائے بلکہ اسے لازما بند کر دیا جائے، سوائے ابو بکرؓ کے دروازے کے۔ (صحیح بخاری ۱/۵۱۶)
چار دن پہلے:
وفات سے چار دن پہلے جمعرات کو جب کہ آپ ﷺ سخت تکلیف سے دوچار تھے فرمایا: لاؤ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم لوگ کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ اس وقت گھر میں کئی آدمی تھے۔ جن میں حضرت عمرؓ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بھی تھے۔ انہوں نے کہا: آپ ﷺ پر تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے۔ بس اللہ کی یہ کتاب تمہارے لیے کافی ہے۔ اس پر گھر کے اندر موجود لوگوں میں اختلاف پڑ گیا اور وہ جھگڑ پڑے۔ کوئی کہہ رہا تھا: لاؤ رسول اللہ ﷺ لکھ دیں۔ اور کوئی وہی کہہ رہا تھا جو حضرت عمرؓ نے کہا تھا۔ اس طرح لوگوں نے جب زیادہ شور و شغب اور اختلاف کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ (متفق علیہ: صحیح بخاری ۱/۲۲، ۴۲۹، ۴۴۹،۲/۶۳۸)
پھر اسی روز آپ ﷺ نے تین باتوں کی وصیت فرمائی۔ ایک اس بات کی وصیت کی یہود و نصاریٰ اور مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکال دینا۔ دوسرے اس بات کی وصیت کی کہ وفود کی اسی طرح نوازش کرنا جس طرح آپ ﷺ کیا کرتے تھے۔ البتہ تیسری بات کو راوی بھول گیا۔ غالباً یہ کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی وصیت تھی یا لشکر اسامہ کو نافذ کرنے کی وصیت تھی۔ یا آپ ﷺ کا یہ ارشاد تھا کہ ''نماز اور تمہارے زیر دست'' یعنی غلاموں اور لونڈیوں کا خیال رکھنا۔
رسول اللہ ﷺ مرض کی شدت کے باوجود اس دن تک، یعنی وفات سے چار دن پہلے (جمعرات) تک تمام نمازیں خود ہی پڑھایا کرتے تھے۔ اس روز بھی مغرب کی نماز آپ ﷺ ہی نے پڑھائی۔ اور اس میں سورۂ والمرسلات عُرْفا پڑھی۔ (صحیح بخاری عن ام الفضل، باب مرض النبی ﷺ ۲/۶۳۷)
لیکن عشاء کے وقت مرض کا ثقل اتنا بڑھ گیا کہ مسجد میں جانے کی طاقت نہ رہی۔ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، یا رسول اللہ ﷺ! اور وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے لگن میں پانی رکھو۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ آپ ﷺ نے غسل فرمایا۔ اور اس کے بعد اٹھنا چاہا لیکن آپ ﷺ پر غشی طاری ہو گئی۔ پھر افاقہ ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت کیا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، یا رسول اللہﷺ !اور وہ آپ ﷺ کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ اور پھر سہ بارہ وہی بات پیش آئی جو پہلی بار پیش آ چکی تھی کہ آپ ﷺ نے غسل فرمایا، پھر اٹھنا چاہا تو آپ ﷺ پر غشی طاری ہو گئی۔ بالآخر آپ نے حضرت ابو بکرؓ کو کہلوا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ ابو بکرؓ نے ان ایام میں نماز پڑھائی۔ (متفق علیہ، مشکوٰۃ ۱/۱۰۲) نبی ﷺ کی حیات مبارکہ میں ان کی پڑھائی ہوئی نمازوں کی تعداد سترہ ہے۔ جمعرات کی عشاء، دو شنبہ کی فجر اور بیچ کے تین دنوں کی پندرہ نمازیں۔ (بخاری مع فتح الباری ۲/۱۹۳، حدیث نمبر ۶۸۱، مسلم: کتاب الصلاۃ ۱/۳۱۵ حدیث نمبر ۱۰۰، مسند احمد ۶/۲۲۹)
حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ سے تین یا چار بار مراجعہ فرمایا کہ امامت کا کام حضرت ابو بکرؓ کے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بجائے کسی اور کو سونپ دیں۔ ان کا منشاء یہ تھا کہ لوگ ابو بکرؓ کے بارے میں بد شگون نہ ہوں۔ (اس کے لیے دیکھئے: بخاری مع فتح الباری ۷/۷۵۷ حدیث نمبر ۴۴۴۵ مسلم کتاب الصلاۃ ۱/۳۱ حدیث نمبر ۹۳، ۹۴) لیکن نبی ﷺ نے ہر بار انکار فرما دیا۔ اور فرمایا: تم سب یوسف والیاں ہو۔ (حضرت یوسف علیہ السلام کے سلسلے میں جو عورتیں عزیز مصر کی بیوی کو ملامت کر رہی تھیں وہ بظاہر تو اس کے فعل کے گھٹیا پن کا اظہار کر رہی تھیں۔ لیکن یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر جب انہوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لیں تو معلوم ہوا کہ یہ خود بھی درپردہ ان پر فریفتہ ہیں۔ یعنی وہ زبان سے کچھ کہہ رہی تھیں۔ لیکن دل میں کچھ اور ہی بات تھی۔ یہی معاملہ یہاں بھی تھا۔ بظاہر تو رسول اللہ ﷺ سے کہا جا رہا تھا کہ ابو بکر رقیق القلب ہیں۔ آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے۔ تو گریہ و زاری کے سبب قراءت نہ کر سکیں گے یا سنا نہ سکیں گے۔ لیکن دل میں یہ بات تھی کہ اگر خدانخواستہ حضور اسی مرض میں رحلت فرما گئے تو ابو بکرؓ کے بارے میں نحوست اور بدشگونی کا خیال لوگوں کے دل میں جاگزیں ہو جائے گا۔ چونکہ حضرت عائشہ ؓ کی اس گذارش میں دیگر ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہم بھی شریک تھیں۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: تم سب یوسف والیاں ہو، یعنی تمہارے بھی دل میں کچھ ہے اور زبان سے کچھ کہہ رہی ہو۔) ابو بکرؓ کو حکم دو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ (صحیح بخاری ۱/۹۹)
تین دن پہلے:
حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وفات سے تین دن پہلے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے: ''یاد رکھو تم میں سے کسی کو موت نہیں آنی چاہیے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو۔'' (طبقات ابن سعد ۲/۲۵۵، مسند ابی داود طیالسی ص ۲۴۶ حدیث نمبر ۱۷۷۹، مسند ابی یعلی۴/۱۹۳ حدیث نمبر ۲۲۹۰)
ایک دن یا دو دن پہلے:
سنیچر یا اتوار کو نبی ﷺ نے اپنی طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی، چنانچہ دو آدمیوں کے درمیان چل کر ظہر کی نماز کے لیے تشریف لائے۔ اس وقت ابو بکرؓ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھا رہے تھے۔ وہ آپ ﷺ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹیں۔ اور لانے والوں سے فرمایا کہ مجھے ان کے بازو میں بٹھا دو۔ چنانچہ آپ ﷺ کو ابو بکرؓ کے دائیں بٹھا دیا گیا۔ اس کے بعد ابو بکرؓ رسول اللہ ﷺ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تکبیر سنا رہے تھے۔
ایک دن پہلے:
وفات سے ایک دن پہلے بروز اتوار نبی ﷺ نے اپنے تمام غلاموں کو آزاد فرما دیا۔ پاس میں چھ یا سات دینار تھے انہیں صدقہ کر دیا۔ (صحیح بخاری ۱/۹۸، ۹۹ مع فتح الباری ۲/۱۹۵، ۲۳۸، ۲۳۹، حدیث نمبر ۶۸۳، ۷۱۲،۷۱۳ طبقات ابن سعد ۲/۲۳۷ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام آپ ﷺ نے دو شنبہ کی رات یا دو شنبہ کے دن، یعنی حیات طیبہ کے آخری دن فرمایا تھا) اپنے ہتھیار مسلمانوں کو ہبہ فرما دیے۔ رات میں چراغ جلانے کے لیے حضرت
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عائشہ ؓ نے چراغ پڑوسی کے پاس بھیجا کہ اس میں اپنی کپی سے ذرا سا گھی ٹپکا دیں۔ (طبقات ابن سعد ۲/۲۳۹) آپ ﷺ کی زِرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع (کوئی ۷۵ کلو) جَو کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی۔ (دیکھئے: صحیح بخاری حدیث نمبر ۲۰۶۸ ، ۲۰۹۶ ، ۲۲۰۰، ۲۲۵۱، ۲۲۵۲،۲۳۸۶، ۲۵۰۹،۲۵۱۳، ۲۹۱۶ ، ۴۱۶۷، مغازی کے آواخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور آپ کی زرہ رہن رکھی ہوئی تھی۔ مسند احمد میں ہے کہ آپ ﷺ کو اتنا نہ مل سکا کہ اس زرہ کو چھڑا سکیں)
حیات مبارکہ کا آخری دن:
حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ دو شنبہ کے روز مسلمان نماز فجر میں مصروف تھے۔ اور ابو بکرؓ امامت فرما رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کے حجرے کا پردہ ہٹایا۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جو صفیں باندھے نماز میں مصروف تھے نظر ڈالی، پھر تبسم فرمایا۔ ادھر ابو بکرؓ اپنی ایڑ کے بل پیچھے ہٹے کہ صف میں جا ملیں۔ انہوں نے سمجھا کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے تشریف لانا چاہتے ہیں۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ (کے اس اچانک ظہور سے) مسلمان اس قدر خوش ہوئے کہ چاہتے تھے کہ نماز کے اندر ہی فتنے میں پڑ جائیں۔ (یعنی آپ ﷺ کی مزاج پرسی کے لیے نماز توڑ دیں) لیکن رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز پوری کر لو، پھر حجرے کے اندر تشریف لے گئے اور پردہ گرا لیا۔ (ایضا باب مرض النبیﷺ ۲/۲۴۰ مع فتح الباری ۲/۱۹۳ حدیث نمبر ۶۸۰، ۶۸۱،۷۵۴، ۱۲۰۵،۴۴۴۸)
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ پر کسی دوسری نماز کا وقت نہیں آیا۔
دن چڑھے چاشت کے وقت آپ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کو بلایا اور ان سے کچھ سر گوشی کی، وہ رونے لگیں تو آپ ﷺ نے انہیں پھر بلایا اور کچھ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں۔ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ بعد میں ہمارے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ (پہلی بار) نبی ﷺ نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ آپ ﷺ اسی مرض میں وفات پا جائیں گے۔ اس لیے میں روئی۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ آپ کے اہل و عیال میں سب سے پہلے میں آپ ﷺ کے پیچھے جاؤں گی۔ اس پر میں ہنسی۔ (بخاری ۲/۶۳۸)
نبی ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو یہ بشارت بھی دی کہ آپ ساری خواتینِ عالم کی سَیدہ (سردار) ہیں۔ (بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ گفتگو اور بشارت دینے کا یہ واقعہ حیات مبارکہ کے آخری دن نہیں بلکہ آخری ہفتے میں پیش آیا تھا۔ دیکھئے: رحمۃللعالین ۱/۲۸۲)
اس وقت رسول اللہ ﷺ جس شدید کرب سے دوچار تھے اسے دیکھ کر حضرت فاطمہؓ بے ساختہ پکار اٹھیں۔ واکرب أباہ۔ ''ہائے ابّا جان کی تکلیف۔'' آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے ابّا پر آج کے بعد کوئی تکلیف نہیں۔ (صحیح بخاری ۲/۶۴۱)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
آپ ﷺ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بلا کر چُوما اور ان کے بارے میں خیر کی وصیت فرمائی۔ ازاوجِ مطہرات رضی اللہ عنہم کو بلایا اور انہیں وعظ ونصیحت کی۔
ادھر لمحہ بہ لمحہ تکلیف بڑھتی جا رہی تھی اور اس زہر کا اثر بھی ظاہر ہونا شروع ہو گیا تھا جسے آپ ﷺ کو خیبر میں کھلایا گیا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ حضرت عائشہ ؓ سے فرماتے تھے: اے عائشہ! خیبر میں جو کھانا میں نے کھا لیا تھا اس کی تکلیف برابر محسوس کر رہا ہوں۔ اس وقت مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اس زہر کے اثر سے میری رگِ جاں کٹی جا رہی ہے۔ (صحیح بخاری ۲/۶۳۷)
ادھر چہرے پر آپ ﷺ نے ایک چادر ڈال رکھی تھی۔ جب سانس پھولنے لگتا تو اسے چہرے سے ہٹا دیتے۔ اسی حالت میں آپ ﷺ نے فرمایا: (اور یہ آپ ﷺ کا آخری کلام اور لوگوں کے لیے آپ ﷺ کی آخری وصیت تھی) کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت۔ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنایا ... ان کے اس کام سے آپ ﷺ ڈرا رہے تھے ... سرزمین عرب پر دو دین باقی نہ چھوڑ ے جائیں۔ (صحیح بخاری مع فتح الباری ۱/۶۳۴ حدیث نمبر ۴۳۵، ۱۳۳۰، ۱۳۹۰، ۳۴۵۳، ۳۴۵۴،۴۴۴۱، ۴۴۴۳، ۴۴۴۴ ، ۵۸۱۵، ۵۸۱۶ ، طبقات ابن سعد ۲/۲۵۴)
آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی وصیت فرمائی۔ فرمایا :
الصلاۃ الصلاۃ وما ملکت أیمانکم
''نماز، نماز، اور تمہارے زیرِ دست (یعنی لونڈی، غلام )"
آپ ﷺ نے یہ الفاظ کئی بار دہرائے۔ (صحیح بخاری ۲/۶۳۷)
نزع رواں:
پھر نزع کی حالت شروع ہو گئی۔ اور حضرت عائشہ ؓ نے آپ ﷺ کو اپنے اُوپر سہارا دے کر ٹیک لیا۔ ان کا بیان ہے کہ اللہ کی ایک نعمت مجھ پر یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے گھر میں، میری باری کے دن میرے لَبّے اور سینے کے درمیان وفات پائی۔ اور آپ ﷺ کی موت کے وقت اللہ نے میرا لعاب اور آپ ﷺ کا لعاب اکٹھا کر دیا۔ ہوا یہ کہ عبد الرحمن بن ابی بکرؓ آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ ان کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ اور میں رسول اللہ ﷺ کو ٹیکے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ مسواک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ میں سمجھ گئی کہ آپ ﷺ مسواک چاہتے ہیں۔ میں نے کہا: آپ ﷺ کے لیے لے لوں؟ آپ ﷺ نے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں! میں نے مسواک لے کر آپ ﷺ کو دی تو آپ کو کڑی محسوس ہوئی۔ میں نے کہا: اسے آپ ﷺ کے لیے نرم کر دوں؟ آپ ﷺ نے سر کے اشارے سے کہا ہاں! میں نے
 
Top