- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
حیات طیبہ کا آخری باب رفیق اعلیٰ کی جانب
الوداعی آثار :
جب دعوت دین مکمل ہو گئی اور عرب کی نکیل اسلام کے ہاتھ میں آ گئی تو رسول اللہ ﷺ کے جذبات و احساسات، احوال و ظروف اور گفتار و کردار سے ایسی علامات نمودار ہونا شروع ہوئیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ اب آپ ﷺ اس حیات مستعار کو اور اس جہان فانی کے باشندگان کو الوداع کہنے والے ہیں۔ مثلا ً:
آپ ﷺ نے رمضان ۱۰ھ میں بیس دن اعتکاف فرمایا جبکہ ہمیشہ دس ہی دن اعتکاف فرمایا کرتے تھے، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو اس سال دو مرتبہ قرآن کا دَور کرایا جبکہ ہر سال ایک ہی مرتبہ دَور کرایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا: مجھے معلوم نہیں غالبا میں اس سال کے بعد اپنے اس مقام پر تم لوگوں سے کبھی نہ مل سکوں گا۔ جمرئہ عقبہ کے پاس فرمایا: مجھ سے اپنے حج کے اعمال سیکھ لو۔ کیونکہ میں اس سال کے بعد غالبا حج نہ کر سکوں گا۔ آپ ﷺ پر ایام تشریق کے وسط میں سورۂ نصر نازل ہوئی۔ اور اس سے آپ ﷺ نے سمجھ لیا کہ اب دنیا سے روانگی کا وقت آن پہنچا ہے۔ اور یہ موت کی اطلاع ہے۔