• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

داعش کا حقيقی چہرہ

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,421
پوائنٹ
964
ایک بار پھر وہی فضول منطق۔
سب سے پہلے تو يہ واضح کر دوں کہ دانستہ عام شہريوں کو اغوا کرنے اور پھر تاوان کے حصول کے ليے انھيں تشدد کا نشانہ بنانا ايسا عمل نہيں ہے جس کا تقابل اس حکمت عملی سے کيا جاۓ جس کا واحد مقصد دہشت گرد کاروائيوں سے عام شہريوں کو محفوظ کرنے کے ليے "اينمی کمبيٹنٹ" کو زير حراست رکھنا تھا۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,421
پوائنٹ
964
ستم ظريفی ديکھيں کہ يہ دہشت گرد گروہ اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ يہ اسلام کے اصولوں پر کاربند ہيں جو قيديوں سے سلوک کے حوالے سے سخت حدود کا تعين کرتا ہے
آپ اپنے خود ساختہ دہشت گردوں کی باتوں کی آڑ نہ لیں۔
امریکہ جو انسانی حقوق کا چیمئن ہے، وہ اپنے سیاہ کرتوتوں کی کوئی انسانی توجیہ پیش کرے، کہ ایک طرف تو دوسروں کے گھروں میں جاکر دخل اندازی کررہاہے، دوسری طرف اپنی حکومت کے تحت ہی سب کالے جرائم سر انجام دلوا رہا ہے ۔
 

فواد

رکن
شمولیت
دسمبر 28، 2011
پیغامات
434
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
74
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


افغانستان ميں انتخابی عمل کو روکنے کے ليے دہشت گردوں کی جانب سے مسجد کے تقدس کو بھی پامال کر ديا گيا۔

دہشت گرد اور پرتشدد انتہا پسند تسلسل کے ساتھ اپنے جرا‏ئم کے توجيہہ کے ليے مذہب کا سہارا ليتے ہيں ليکن اس کے باوجود اپنے مکروہ عزائم کی تکميل کے ليے مساجد اور عبادت گاہوں پر حملوں کو بھی درست قرار ديتے ہيں۔

افغانستان ميں نماز کے دوران دہشت گردی کا حاليہ واقعہ ايک بار پھر يہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گرد "شريعت" اور "جہاد" جيسے پرجوش نعرے محض نوجوانوں کے ذہنوں کو ايک خاص رخ دے کر اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہيں۔ درحقيقت انکی نام نہاد "جدوجہد" کا مذہب سے کوئ تعلق نہيں ہے۔ بصورت ديگر مسجد کے اندرعين نماز جمعہ کے موقع پر حملے کا کيا جواز ہے؟

يہ کوئ پہلا موقع نہيں ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے مذہبی رسوم کو جان بوجھ کر حملے کی "افاديت" ميں اضافے کے ليے استعمال کيا گيا ہے۔

يہ امر غور طلب ہے کہ جن عناصر کے نزديک مقدس ترين مذہبی رسومات کا احترام کی بھی کوئ اہميت نہيں وہ اپنی تحريک کو ايک مقدس فريضہ قرار دے کر مذہب کی بنياد پر اس کی تشہير کرتے ہيں۔​

 

فواد

رکن
شمولیت
دسمبر 28، 2011
پیغامات
434
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
74
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

https://www.state.gov/r/pa/prs/ps/2018/06/282936.htm​


افغانستان ميں رمضان کے مقدس مہينے ميں علماء پر دہشت گردی کے بزدلانہ حملے سے ايک بار پھر ان مجرموں اور قاتلوں کی حقيقت سب پر آشکار ہو گئ ہے جو اپنی پرتشدد کاروائيوں کے ليے عبادات اور پرہيزگاری کے مہينے کا احترام ملحوظ رکھنے کے ليے بھی تيار نہيں ہيں۔

مختلف مکتبۂ فکر کے اسلامی سکالرز کا بے رحمانہ قتل اس سوچ کو بھی بے نقاب کرتا ہے جس کے تحت دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کے ليے دانستہ مذہبی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنانے سے نہيں چوکتے۔

حاليہ حملہ افغان دارالحکومت ميں واقع ايک بڑے کمپاؤنڈ کے صدر دروازے پر کيا گيا ہے جہاں دو ہزار سے زائد علماء کرام اور مذہبی رہنما طالبان اور داعش کی جانب سے جاری ان حملوں پر بات چيت کے ليے اکٹھے ہوۓ تھے جو افغان حکومت کے خلاف کيے جا رہے ہيں۔

افغان علماء کونسل نامی اس گروپ کی جانب سے حملے کے روز ہی ايک فتوی بھی جاری کيا گيا تھا جس ميں واضح کيا گيا تھا کہ افغانستان ميں مزاحمت کے نام پر جاری دہشت گردی کی کوئ مذہبی توجيہہ پيش نہيں کی جا سکتی ہے۔ اس اعلاميے ميں يہ بھی واضح کر ديا گيا کہ طالبان اور داعش کی جانب سے کيے جانے والے خودکش حملے بھی قطعی طور پر حرام اور اسلامی قوانين کی روشنی ميں ممنوع ہيں۔

افغانستان ميں سترہ سال سے جاری جنگ کے دوران يہ پہلا موقع تھا کہ ملک کے سينير اسلامی سکالرز کی جانب سے اجتماعی سطح پر اس قسم کی اپيل کی گئ۔

امریکہ افغان حکومت اور افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہے اور ملک میں امن و استحکام کے لیے افغان علما کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ہم امن، سلامتی اور جمہوریت کے حصول کے لیے افغان عوام کی کوششوں کی حمایت میں پرعزم ہیں۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,421
پوائنٹ
964
اگر وہ واقعتا ’علماء کونسل ‘ تھی اور اعلامیہ جاری کرنے والے علما تھے، تو اس اعلامیہ کےنکات میں سب سے پہلا نکتہ یہی ہونا چاہیے تھا، کہ امریکہ بہت بڑا دہشت گرد ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جو یہ دہشت گردی پھیلا رہا ہے، اسے اس فتنہ و فساد کے کاروبار سے فی الفور رکنا چاہیے۔
 

فواد

رکن
شمولیت
دسمبر 28، 2011
پیغامات
434
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
74
اگر وہ واقعتا ’علماء کونسل ‘ تھی اور اعلامیہ جاری کرنے والے علما تھے، تو اس اعلامیہ کےنکات میں سب سے پہلا نکتہ یہی ہونا چاہیے تھا، کہ امریکہ بہت بڑا دہشت گرد ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جو یہ دہشت گردی پھیلا رہا ہے، اسے اس فتنہ و فساد کے کاروبار سے فی الفور رکنا چاہیے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

آپ کا يہ پرزور اصرار ہے کہ امريکہ دہشتگردی کے ليے ذمہ دار ہے باوجود اس کے کہ زمينی حقائق اور اعداد وشمار اس دليل سے مطابقت نہيں رکھتے۔

اگر آپ کے الزام ميں صداقت ہوتی تو آپ اس بات کی کيا توجيہہ پيش کريں گے کہ دنيا کے سرکردہ اسلامی ممالک سميت 75 ممالک اس وقت عالمی دہشت گردی کے خاتمے کے ليے تشکيل ديے گۓ اتحاد کا حصہ ہيں اور ہمارا ساتھ دے رہے ہيں؟

http://theglobalcoalition.org/en/home/

يقینی طور پر صورت حال يہ نا ہوتی اگر دہشت گرد تنظيموں کی بجا‎ۓ امريکہ عالمی دہشت گردی کے ليے ذمہ دار ہوتا۔

علاوہ ازيں 41 اسلامی ممالک پر مبنی اتحادی گروہ بھی عالمی دہشت گردی کے خاتمے کے ليے ہمارے موقف کی تائيد کر رہا ہے

https://imctc.org/English/Members

اس اسلامی اتحاد کا مقصد اور ہدف امريکہ نہيں بلکہ عالمی دہشت گرد تنظيموں کو غيرفعال کرنا ہے۔

اور آخر ميں يہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ افغانستان ميں جس علماء کونسل کو انتہا پسند دہشت گرد گروہوں کے خلاف بيان دينے اور آواز بلند کرنے کی پاداش ميں دہشت گردی کا نشانہ بنايا گيا، وہ اپنی نوعيت کا کوئ منفرد واقعہ نہيں تھا۔

ذيل ميں دنيا بھر سے مختلف مسلکوں اور مکتبۂ فکر کے بے شمار مسلم سکالرز، تنظيموں اور گروپوں کی جانب سے اسی قسم کے بيانات اور نقطہ نظر کی تفصيل موجود ہے جنھوں نے دہشت گرد گروہوں کی شديد مذمت کی ہے اور اسلامی تعليمات کو مسخ کرنے کے ضمن ميں دہشت گردوں اور ان کے سرغناؤں کو قصوروار قرار ديا ہے۔

https://ing.org/global-condemnations-of-isis-isil/

يقينی طور پر آپ يہ توقع نہيں کر سکتے ہيں کہ دنيا کے قريب تمام اہم اسلامی ممالک، ان کی حکومتيں اور تمام بڑی تنظيميں ہمارے ايجنڈے کے ليے کام کر رہی ہيں يا اپنے مفادات اور سيکورٹی کو بالاۓ طاق رکھ کر ہماری خواہشات کی تکميل ميں لگی ہوئ ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
 
شمولیت
جولائی 12، 2017
پیغامات
50
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
18
آپ کا يہ پرزور اصرار ہے کہ امريکہ دہشتگردی کے ليے ذمہ دار ہے باوجود اس کے کہ زمينی حقائق اور اعداد وشمار اس دليل سے مطابقت نہيں رکھتے۔
جناب فواد صاحب؛ آپ "دہشتگردی" کی اقوام متحدہ کی جاری کردہ متفقہ تعریف مہیا کر دیں؛ تو زمینی حقائق اور اعداد و شمار کی مطابقت، آپ کو تو نہیں باقی اس فورم کے ہر قاری کو خود ہی سمجھ آ جائے گی۔
 

فواد

رکن
شمولیت
دسمبر 28، 2011
پیغامات
434
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
74
جناب فواد صاحب؛ آپ "دہشتگردی" کی اقوام متحدہ کی جاری کردہ متفقہ تعریف مہیا کر دیں؛ تو زمینی حقائق اور اعداد و شمار کی مطابقت، آپ کو تو نہیں باقی اس فورم کے ہر قاری کو خود ہی سمجھ آ جائے گی۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

اس حوالے سے دسمبر 2 2004 کو اقوام متحدہ کی جانب سے ايک رپورٹ شائع کی گئ جس ميں پينل نے واشگاف الفاظ ميں واضح کيا کہ "دانستہ عام شہريوں کو نشانہ بنانا اور انھيں قتل کرنا کسی بھی طور منصفانہ قرار نہيں ديا جا سکتا ہے۔ ايسے حملے جو دانستہ بے گناہ اور غير مسلح شہريوں کے خلاف کيے جائيں، ان کی بالکل واضح مذمت تمام فريقين کی جانب سے لازم ہے"۔

http://www.un.org/News/dh/infocus/terrorism/sg high-level panel report-terrorism.htm

دہشت گردی کی سياسی تشريحات سے قطع نظر اقوام متحدہ نے دہشت گردی کے خطرے سے نبرد آزما ہونے کے ليے فعال اقدامات بھی کيے ہيں اور اس ضمن ميں قوانين بھی تشکيل ديے ہيں۔

اقوام متحدہ کے سيکرٹری جرنيل کا واضح بيان اس حوالے سے ريکارڈ کا حصہ ہے

"اس بات سے قطع نظر کہ دہشت گردی کس فريق کی جانب سے يا کس سوچ کی حمايت ميں کی جاۓ، اقوام متحدہ کلی طور پر دہشت گردی کے خلاف ہے"۔

يہ ايک ناقابل تردید اور غير مبہم حقيقت ہے کہ سياسی ايجنڈے کی تشہير اور کچھ افراد کی سوچ زبردستی عوامی سطح پر مسلط کرنے کے ليے دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوۓ عام شہريوں کو نشانہ بنانا ايسا عمل ہے جس کی کسی بھی طور توجيہہ نہيں پيش کی جا سکتی ہے اور نا ہی دنيا کا کوئ بھی مہذب معاشرہ اس عمل کو منصفانہ قرار دے سکتا ہے۔

دنيا کے قريب تمام سرکردہ مسلم ممالک کی حکومتوں، مذہبی گروہوں، مختلف مکتبۂ فکر کی اہم مذہبی شخصيات اور سکالرز نے متعدد بار اس ضمن ميں بيانات بھی جاری کيے ہيں اور متقفہ راۓ بھی دی ہے کہ داعش اور طالبان نے مذہبی ذمہ داری اور تحريک آزادی کے خود ساختہ نعرے لگا کر دہشت گردی کا جو راستہ اپنايا ہے، وہ کسی بھی طور درست قرار نہيں ديا جا سکتا ہے اور يہ انسانيت کے خلاف بدترين بزدلانہ دہشت گردی کے سوا اور کچھ نہيں ہے۔​

 
شمولیت
جولائی 12، 2017
پیغامات
50
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
18
پينل نے واشگاف الفاظ ميں واضح کيا کہ "دانستہ عام شہريوں کو نشانہ بنانا اور انھيں قتل کرنا کسی بھی طور منصفانہ قرار نہيں ديا جا سکتا ہے۔ ايسے حملے جو دانستہ بے گناہ اور غير مسلح شہريوں کے خلاف کيے جائيں، ان کی بالکل واضح مذمت تمام فريقين کی جانب سے لازم ہے"۔
اقوام متحدہ کے سيکرٹری جرنيل کا واضح بيان اس حوالے سے ريکارڈ کا حصہ ہے

"اس بات سے قطع نظر کہ دہشت گردی کس فريق کی جانب سے يا کس سوچ کی حمايت ميں کی جاۓ، اقوام متحدہ کلی طور پر دہشت گردی کے خلاف ہے"۔
يہ ايک ناقابل تردید اور غير مبہم حقيقت ہے کہ سياسی ايجنڈے کی تشہير اور کچھ افراد کی سوچ زبردستی عوامی سطح پر مسلط کرنے کے ليے دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوۓ عام شہريوں کو نشانہ بنانا ايسا عمل ہے جس کی کسی بھی طور توجيہہ نہيں پيش کی جا سکتی ہے اور نا ہی دنيا کا کوئ بھی مہذب معاشرہ اس عمل کو منصفانہ قرار دے سکتا ہے۔
جناب!!! جیسا کہ میں نے تحریر کیا تھا ،کہ آپ جو بھی تعریف تحریر فرمائیں گے؛ اُس کا بہترین اور واحد مصداق آپ کا آجر اور اُس کا ولد الحرام ہوں گے۔ اور اِس حقیقت کا ادراک بھی محض اُن مسلمانوں پر ہے، جو اِس آیت کے مخاطب نہیں ہیں؛
هَا أَنْتُمْ هَؤُلَاءِ جَادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَمَنْ يُجَادِلُ اللَّهَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْ مَنْ يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا[سورۃ النساء؛ ۱۰۹] "بھلا تم لوگ دنیا کی زندگی میں تو اُن کی طرف سے بحث کر لیتے ہو، قیامت کو اُن کی طرف سے خدا کے ساتھ کون جھگڑے گا اور کون اُن کا وکیل بنے گا؟
یاد رہے یہ آیت منافقین کی وکالت سے متعلق ہے، نہ کہ کفار کی؛ معلوم نہیں کہ کفار کے وکیلوں کے ساتھ قیامت کے دن کیا معاملہ ہو گا۔

مزید وہ نصیحت، جو میں نے ایک دوسری پوسٹ میں آپ کی خدمت میں کی تھی، اُس کا ایک پہلو وہاں قلم بند ہونے سے رہ گیا تھا، آپ کی خدمت میں پیش ہے؛

سوال نمبر ۲: کیا عام، غیر اسلام دشمن کافر سے برابری کی بنیاد پر تعلقات عقیدہ الولا والبراء کے منافی ہیں؟
اللہ سبحان و تعالٰی کی نظر میں ایک کافر
[اسلام دشمن یا غیر اسلام دشمن] کی وقعت اور حیثیت ایک چوپایہ کے برابر بھی نہیں ہے؛ کُجا کہ کسی مسلمان کے ساتھ اُس کی برابری کا تصور کیا جا سکے۔
ü وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ [سورۃ الانعام؛ ۱۷۹] " اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ اُن کے دل ہیں لیکن اُن سے سمجھتے نہیں اور اُن کی آنکھیں ہیں مگر اُن سے دیکھتے نہیں اور اُن کے کان ہیں پر اُن سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں"۔
مزید فرمایا؛

ü لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ [سورۃ الحشر؛ ۲۰] "اہل دوزخ اور اہل بہشت برابر نہیں۔ اہل بہشت تو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں"۔
تعلقات کی اقسام میں؛ دوستی ہی وہ پہلا تعلق ہے، جو دو اشخاص کے بیچ میں، برابری کی سطح کے تعلقات کا متقاضی ہوتا ہے، تو اِس کے بارے میں قرآن کا فتویٰ مندرجہ ذیل ہے
[اسلام دشمن یا غیر اسلام دشمن کی قید کے بغیر]
ü لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ ۔۔۔۔۔[سورۃ آل عمران ؛ ۲۸] "مؤمنوں کو چاہئے کہ مؤمنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اُس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں ۔۔۔۔۔"۔
مزید سوچنے کا مقام یہ ہے کہ؛ جو دین ایک مسلمان اور کافر کے بیچ میں برابری کے تعلقات کوہی ممنوع قرار دیتا ہو، وہیں کوئی کافر
[اسلام دشمن یا غیر اسلام دشمن ] کسی مسلمان پر "قوّام" [Position of Authority] کیسے مقرر ہو سکتا ہے؟؟؟؟ یہی وہ نکتہ ہے، جس کے تحت مسلمان مرد کو تو اہل کتاب کی خواتین سے شادی کی اجازت ہے مگر مسلمان خواتین کے لیے یہ فعل حرام ہے۔
 

فواد

رکن
شمولیت
دسمبر 28، 2011
پیغامات
434
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
74
جناب!!! جیسا کہ میں نے تحریر کیا تھا ،کہ آپ جو بھی تعریف تحریر فرمائیں گے؛ اُس کا بہترین اور واحد مصداق آپ کا آجر اور اُس کا ولد الحرام ہوں گے۔ اور اِس حقیقت کا ادراک بھی محض اُن مسلمانوں پر ہے، جو اِس آیت کے مخاطب نہیں ہیں؛
هَا أَنْتُمْ هَؤُلَاءِ جَادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَمَنْ يُجَادِلُ اللَّهَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْ مَنْ يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا[سورۃ النساء؛ ۱۰۹] "بھلا تم لوگ دنیا کی زندگی میں تو اُن کی طرف سے بحث کر لیتے ہو، قیامت کو اُن کی طرف سے خدا کے ساتھ کون جھگڑے گا اور کون اُن کا وکیل بنے گا؟
یاد رہے یہ آیت منافقین کی وکالت سے متعلق ہے، نہ کہ کفار کی؛ معلوم نہیں کہ کفار کے وکیلوں کے ساتھ قیامت کے دن کیا معاملہ ہو گا۔

مزید وہ نصیحت، جو میں نے ایک دوسری پوسٹ میں آپ کی خدمت میں کی تھی، اُس کا ایک پہلو وہاں قلم بند ہونے سے رہ گیا تھا، آپ کی خدمت میں پیش ہے؛

سوال نمبر ۲: کیا عام، غیر اسلام دشمن کافر سے برابری کی بنیاد پر تعلقات عقیدہ الولا والبراء کے منافی ہیں؟
اللہ سبحان و تعالٰی کی نظر میں ایک کافر
[اسلام دشمن یا غیر اسلام دشمن] کی وقعت اور حیثیت ایک چوپایہ کے برابر بھی نہیں ہے؛ کُجا کہ کسی مسلمان کے ساتھ اُس کی برابری کا تصور کیا جا سکے۔
ü وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ [سورۃ الانعام؛ ۱۷۹] " اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ اُن کے دل ہیں لیکن اُن سے سمجھتے نہیں اور اُن کی آنکھیں ہیں مگر اُن سے دیکھتے نہیں اور اُن کے کان ہیں پر اُن سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں"۔
مزید فرمایا؛

ü لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ [سورۃ الحشر؛ ۲۰] "اہل دوزخ اور اہل بہشت برابر نہیں۔ اہل بہشت تو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں"۔
تعلقات کی اقسام میں؛ دوستی ہی وہ پہلا تعلق ہے، جو دو اشخاص کے بیچ میں، برابری کی سطح کے تعلقات کا متقاضی ہوتا ہے، تو اِس کے بارے میں قرآن کا فتویٰ مندرجہ ذیل ہے
[اسلام دشمن یا غیر اسلام دشمن کی قید کے بغیر]
ü لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ ۔۔۔۔۔[سورۃ آل عمران ؛ ۲۸] "مؤمنوں کو چاہئے کہ مؤمنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اُس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں ۔۔۔۔۔"۔
مزید سوچنے کا مقام یہ ہے کہ؛ جو دین ایک مسلمان اور کافر کے بیچ میں برابری کے تعلقات کوہی ممنوع قرار دیتا ہو، وہیں کوئی کافر
[اسلام دشمن یا غیر اسلام دشمن ] کسی مسلمان پر "قوّام" [Position of Authority] کیسے مقرر ہو سکتا ہے؟؟؟؟ یہی وہ نکتہ ہے، جس کے تحت مسلمان مرد کو تو اہل کتاب کی خواتین سے شادی کی اجازت ہے مگر مسلمان خواتین کے لیے یہ فعل حرام ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

محترم،

دہشت گردی کے واقعات اور ان کے ذمہ دار افراد کی مذمت کرنے کا يہ مطلب نہيں ہے کہ مسلم اور غير مسلم ميں سے کسی ايک کا انتخاب کيا جا رہا ہے۔

ميں نے آپ کے دلائل اور مذہبی حوالے تفصيل سے پڑھے ہيں۔ ميں اس بات کی منطق سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آپ کيونکر عالمی سطح پر مسلمانوں اور غير مسلموں کے درميان تعلقات کی نوعيت کو ايک ايسی گفتگو ميں شامل کرنے پر بضد ہيں جو دہشت گردی کے عالمی فتنے کے حوالے سے ہے۔ ايک ايسا عالمی فتنہ جس کے نقصان سے مسلمانوں سميت تمام عالمی برادری يکساں متاثر ہوئ ہے۔

ميں ايک امريکی مسلمان ہوں اور امريکی حکومت کے ليے کام کرنے والے يا امريکی حکومت کو ٹيکس دينے والے ايسے ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلمان امريکی شہريوں کی طرح اس ملک کے آئين کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہوں جو مذہبی عقائد سے قطع نظر تمام شہريوں کو يکساں حقوق بھی فراہم کرتا ہے اور ذمہ دارياں بھی عائد کرتا ہے۔

امريکی حکومت نے دہشت گردوں، ان کے سرغناؤں اور ان گروہوں کے خلاف ايک مستقل سخت موقف اختيار کيا ہے جو مذہب کے نام پر اپنی صفوں ميں مجرموں کو شامل کر کے دنيا بھر کے عام شہريوں کے خلاف خونی کاروائياں کرتے ہيں۔ اور يہ بھی ياد رہے کہ ان کے ظلم کا شکار ہونے والوں ميں بڑی تعداد ميں مسلمان شہری بھی شامل ہيں۔

امريکہ کی موجودہ انتظاميہ سميت کوئ بھی حکومت کبھی بھی کسی ايک مذہب يا معاشرے کے کسی مخصوص طبقے کے خلاف رنگ ونسل يا مذہبی يا سياسی وابستگی کی بنياد پر پاليسی وضع کر ہی نہيں سکتی۔ يہ امر نا صرف يہ ہمارے آئين اور بنيادی اصولوں اور اقدار کے منافی ہے بلکہ اس کی کوئ منطق اور توجيہہ بھی پيش نہيں کی جا سکتی ہے۔ لاکھوں کی تعداد ميں مسلمان امريکی معاشرے کا حصہ ہيں اور امريکی فوج اور حکومت سميت انگنت شعبوں ميں اپنے فرائض بھی انجام دے رہے ہيں اور ترقی بھی کر رہے ہيں۔ ہم کيونکر ايسی پاليسی اپنائيں گے جو ان لاکھوں شہريوں کو بھی متنفر کر دے اور دنيا کے مختلف حصوں ميں ہمارے اہم ترين اسٹريجک اتحاد اور شراکت داريوں کو بھی نقصان پہنچانے کا سبب بنے؟

آّپ کے دعوے کی حقيقت کو درست تناظر ميں پرکھنے کے ليے امريکی اور سعودی حکومتوں کے مابين گزشتہ برس طے پانے والے عسکری معاہدوں کی تفصيل اور اس ضمن ميں چند اہم اعداد وشمار پيش ہيں۔

http://www.cnbc.com/2017/05/20/us-saudi-arabia-seal-weapons-deal-worth-nearly-110-billion-as-trump-begins-visit.html

اور ريکارڈ کی درستگی کے ليے يہ بھی واضح کر دوں کہ امريکی فوج، حکومتی ادارے اور تنظيميں دنيا بھر کے مسلمانوں کے خلاف برسرپيکار قوتيں نہيں ہيں۔ بلکہ فوج سميت انھی اداروں اور محکموں ميں بڑی تعداد تو مسلمانوں کی ہے۔

مثال کے طور پرامريکی فوج کے مسلمان بھی دیگر امريکی مسلمان شہريوں کی طرح ديگر مذہبی فرائض کی طرح رمضان کے مقدس مہينے کو پورے مذہبی جوش وخروش سے مناتے ہيں۔

اس ضمن ميں ايک معلوماتی رپورٹ​



 
Top