• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

داعش کا حقيقی چہرہ

شمولیت
جولائی 12، 2017
پیغامات
50
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
18
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
@فرقان الدین احمد صاحب! میں نے آپ کو سمجھانے کی کوشش کی،مگر آپ شاید نہیں سمجھ پائے! خیر اللہ ہمیں توفیق دے!
آپ نے فریق مخالف کو گالی دینے کے حق میں جو دلائل کشید کیئے ہیں، وہ تو بالکل باطل ہیں، اس پر قلم چلانے کی حاجت بھی نہیں، کہ کہیں بھی وہاں کسی کو گالی دینے کا اشارہ تک نہیں!
جہاں جواز موجود ہے، اور جس کیفیت اور وجوہات کی بناء پر ہے، اس کے لئے میں آپ کو بتلا دیتا ہوں، کہ صلح حدیبیہ کے موقع کی احادیث دیکھیئے!
@خضر حیات بھائی! فورم پر گالی نہیں چلے گی! یہ ایک سنجیدہ فورم ہے، اسے سنجیدہ ہی رہنے دیا جائے!
انتظامیہ کے باقی افراد سے بھی اس پر مشورہ کر لینا چاہیئے!
جناب اگر آپ دلیل سے سمجھانے کی کوشش کریں گے تو انشاء اللہ مجھے اس کی اتباع سے پیچھے نہیں پائیں گے، مگر آپ کا سٹائل جاوید احمد غامدی والا ہے؛ جس طرح وہ صاحب اس بات کے متقاضی ہیں کہ بے دلیل ہی ان کے موقف کو باقی تمام موقف پر ترجیح دی جائے اور اسی کو حتمی سمجھا جائے؛ اسی طرح آپ بھی اس بات اور حق کے متقاضی ہیں۔
میرے دلائل کا باطل ہونا آپ کے کہنے سے نہیں، دلیل سے ہو گا؛ اور جہاں تک اس فورم پر سنجیدگی کا سوال ہے، میں تو ویسے ہی سال کے ایک آدھ مہینے اس فورم کو استعمال کرتا ہوں مگر آپ کی مستقل موجودگی ہی اس پر ایک سوالیہ نشان رہے گی۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,366
ری ایکشن اسکور
2,670
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا یہ ارداہ تو نہ تھاکہ اس پر بحث ہو، تھریڈ کا موضوع پس پشت چلے جائے گا!
مگر آپ کا سٹائل جاوید احمد غامدی والا ہے؛ جس طرح وہ صاحب اس بات کے متقاضی ہیں کہ بے دلیل ہی ان کے موقف کو باقی تمام موقف پر ترجیح دی جائے اور اسی کو حتمی سمجھا جائے؛ اسی طرح آپ بھی اس بات اور حق کے متقاضی ہیں۔
چلیں دیکھتے ہیں کہ اب دلیل کون ''بیان'' کرتا ہے، اور کون بغیر ''بیانِ دلیل'' کے غامدی کی راہ اختیار کرتا ہے!
میرے دلائل کا باطل ہونا آپ کے کہنے سے نہیں، دلیل سے ہو گا؛
وہ باطل اس لئے ہیں کہ آپ کے پیش کردہ دلائل میں کہیں بھی گالی کا جواز نہیں!
اور اگر ہے تو استدلال اور وجہ استدلال بیان کر دیجیئے!
آپ کی مستقل موجودگی ہی اس پر ایک سوالیہ نشان رہے گی۔
اس کو تو میں درگذر کر دیتا ہوں!
 
Last edited:
شمولیت
جولائی 12، 2017
پیغامات
50
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
18
وہ باطل اس لئے ہیں کہ آپ کے پیش کردہ دلائل میں کہیں بھی گالی کا جواز نہیں!
اور اگر ہے تو استدلال اور وجہ استدلال بیان کر دیجیئے!
جناب یہ علم حاصل کرنے کا انتہائی بھونڈا طریقہ ہے؛ اگر انسان کو ایک چیز کا علم نہیں ہے تو اتنا ظرف ضرور ہونا چاہیے کہ تمیز سے استفسار کر لے، نہ کہ آپ کی طرح ۔۔۔۔۔۔
آپ کا اور غامدی صاحب کا مسئلہ ہے کہ آپ دونوں کو نام کے ساتھ چیز قرآن میں چاہیے، اُن صاحب کے لیے ہر وہ چیز حلال ہے، جس کا ذکر قرآن میں نام کے ساتھ نہیں کیا گیا اور آپ کا طرز استدلال بھی اُسی نوعیت کا ہے؛


خیر آپ کے علم میں اضافے کے لیے، میرے دلائل مندرجہ ذیل ہیں؛

وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۔۔۔۔۔ [سورۃ الانعام؛۱۰۸] "اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔۔۔۔۔۔"

گالی کا لفظ
؛ اصلاً پراکرت زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ 1611ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
گالی کے معنی؛ دشنام یعنی برا بھلا، بدزبانی، فحش بات۔
تَسُبُّوا ؛ تم برا کہو؛ تم گالیاں دو؛ سَبّ سے، جس کے معنی سخت گالیاں دینے کے ہیں، مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر؛ لَا تَسُبُّوا [تم گالیاں نہ دو، تم برا نہ کہو] فعل نہی ہے۔

مندرجہ بالا آیت میں کفار کے باطل خداوں کو گالیوں سے ممانعت کی وجہ کفار کا جواباً جہالت کے باعث اللہ سبحان و تعالٰی کی شان میں گستاخی کے اندیشہ کی وجہ سے ہے، نہ کہ کلی ممانعت۔

دوسرا مندرجہ ذیل آیت میں مظلوم کے لیے صریحاً اجازت موجود ہے؛ اور امید ہے کہ آپ کا تعلق ابھی بھی اِس مظلوم امت سے یا کہیں اختلاف میں شدت کے باعث ہمارے لاکھوں "مجبور" مسلمانوں کی طرح آپ بھی کفار کی عینک سے دیکھتے ہوئے، انہی کی مظلومیت کا احساس دل میں لے کر بیٹھے ہیں۔

لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا[سورۃ النساء؛۴۸] " خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے"

اب ان دلائل کی روشنی میں میرے پچھلے دلائل کا دوبارہ مطالعہ فرمائیں ؛ انشاء اللہ امید ہے کہ شرح صدر ہو جائے گا؛ اور جناب اگر اب بھی بات سمجھ نہیں آئی تو آپ ایک لا علاج مرض میں مبتلا ہیں، فوراً موسیٰ ﷤کی مندرجہ ذیل دعا کی ساتھ اللہ سے رجوع کریں۔

أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ [سورۃ البقرۃ؛ ۶۸] ۔۔۔۔۔ (موسیٰ نے) کہا کہ میں الله کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں"

اس کو تو میں درگذر کر دیتا ہوں!
اور جہاں تک درگزر کرنے والی بات ہے؛ حیرانگی ہے کہ جو چیز آپ سے مانگی ،یعنی دلائل، وہ تو آپ کے پاس ہیں نہیں ،مگر جس کا ذکر بھی نہیں کیا، وہ عطا فرما رہے ہیں؛ جزاک اللہ خیر کیونکہ آپ نے لا علمی میں مجھے ایک بہترین تحفہ عنایت فرمایا ہے۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,421
پوائنٹ
964
@خضر حیات بھائی! فورم پر گالی نہیں چلے گی! یہ ایک سنجیدہ فورم ہے، اسے سنجیدہ ہی رہنے دیا جائے!
انتظامیہ کے باقی افراد سے بھی اس پر مشورہ کر لینا چاہیئے!
گالی گلوچ کی واقعتا اجازت نہیں۔
لیکن مجھے مراسلوں میں ایسی کوئی بات نظرنہیں آئی۔
پھر بھی اگر کوئی تعبیر اختلاف کی وجہ بنتی ہے تو اس سےاجتناب بہتر ہے۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,366
ری ایکشن اسکور
2,670
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
@خضر حیات بھائی یہ دیکھیں:
میں نے تو صرف آپ کے آجر اور اُس کے ولد الحرام کی مذمت کی ہے
آپ کے آجر اور اُس کے ولد الحرم کی کابینہ
اس پر انہیں اتنا کہا گیا کہ:
بحث مباحثہ آپ جس موضوع پر بھی چاہیں کریں! اپنے مؤقف کو پرزور طریقہ سے ثابت کیجیئے، اور دوسرے فریق کے مؤقف کو رد کیجیئے!
مگر ''ولد الحرام'' جیسے الفاذ سے گریز کیجیئے!
تو صاحب نہ صرف اس طرح گالی دینے کو درست بلکہ قرآن و حدیث کا حکم وامر باور کروانا چاہتے ہیں، اور میرا طرز استدلال و اسٹائل جاوید احمد غامدی والا باور کرایا جا رہا ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مجھے امت مسلمہ سے خارج قرار دینے کی کوشش بھی جاری ہے!

میں اب بھی ان باتوں کو درگذر کرتا ہوں!
فرقان الدین صاحب! آپ نے اب بھی گالی وہ بھی ''ولد الحرام'' گالی کے حق میں کسی دلیل سے استدلال اور وجہ استدلال بیان نہیں کیا!
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۔۔۔۔۔ [سورۃ الانعام؛۱۰۸] "اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔۔۔۔۔۔"
مندرجہ بالا آیت میں کفار کے باطل خداوں کو گالیوں سے ممانعت کی وجہ کفار کا جواباً جہالت کے باعث اللہ سبحان و تعالٰی کی شان میں گستاخی کے اندیشہ کی وجہ سے ہے، نہ کہ کلی ممانعت۔
لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا[سورۃ النساء؛۴۸] " خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے"
آپ کے نزدیک باطل خداوں کو گالی دینے کی ممانعت ہوئی، اور اس کے علاوہ تو آپ نے گالی دینے کی کھلی چھٹی کشید کر لی!
آپ کا یہاں سے باطل خداوں کے علاوہ دیگر کوگالی دینے کی کھلی چھٹی کشید کرنا باطل ہے،کیونکہ آپ نے جو آگے آیت درج کی ہے، اس میں گالی سے کمتر بری بات کے لئے بھی عموماً ممانعت ہے اور مظلوم کے حق میں استثناء، لہٰذا گالی کی عمومی ممانعت اس آیت میں بالاولیٰ ثابت ہوتی ہے!
لہٰذا آپ کا پہلی آیت سے یہ کشید کرنا کہ گالی کی ممانعت صرف خداوں کے لئے ہے، اور دیگر کے لئے نہیں، بلکل باطل ہے!
أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ [سورۃ البقرۃ؛ ۶۸] ۔۔۔۔۔ (موسیٰ نے) کہا کہ میں الله کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں"
آمین!
اور آپ گالی کے حوالہ سے اپنے باطل مؤقف سے رجوع کرلیجیئے!
 
Last edited:
شمولیت
جولائی 12، 2017
پیغامات
50
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
18
پھر بھی اگر کوئی تعبیر اختلاف کی وجہ بنتی ہے تو اس سےاجتناب بہتر ہے۔
جناب؛ آپ کے احسن مشورہ کا شکریہ؛ اور انشاء اللہ اس قسم کی شکایت کا موقعہ دوبارہ نہیں ہوگا کیونکہ یہ میری آخری پوسٹ ہے۔ بحث مباحثہ کبھی بھی میرا مطمع نظر نہیں رہا اور میں ہمیشہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں اپنی جہالت کےسبب مندرجہ ذیل حدیث میں بیان کردہ وعید کا مصداق نہ قرار پا جاوں؛

حضرت کعب ابن مالک﷜ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا "جس آدمی نے علم کو اِس غرض سے حاصل کیا کہ اُس کے ذریعے علماء پر فخر کرے، بیوقوفوں سے جھگڑے اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے تو اللہ تعالیٰ اُس کو جہنم کی آگ میں داخل کرے گا"۔ جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت عبداللہ ابن عمر﷜ سے روایت کیا ہے۔ [جامع ترمذی] [مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث ۲۱۸ ]

آپ سے درخواست ہے کہ میرا اکاونٹ، ورنہ کم از کم میرا ای میل ایڈریس ضرور ڈی ایکٹیویٹ کر دیں؛ میں اس فورم سے مزید کسی ای میل کی ترسیل نہیں چاہتا؛

جزاک اللہ خیرا؛
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,421
پوائنٹ
964
ایک چھوٹے سے مسئلہ کو اتنا زیادہ بڑھانانہیں چاہیے۔
اللہ کے دین کے لیے جو ہوسکتاہے ، کرتے رہنا چاہیے۔
 

فواد

رکن
شمولیت
دسمبر 28، 2011
پیغامات
434
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
74
جناب اِس کے چار جواب ہیں؛

اس موضوع پر متعدد صحیح احادیث کے باوجود؛ صریحاً رسول اللہ کو [اعوذ باللہ من ذالک] جھٹلاتے ہوئے، ان جیسے نام نہاد مسلمانوں کو ،جہاد میں مصروف تمام مسلمانوں کو "دہشت گرد" کا لقب دینے سے نہ تو خوف آتا ہے اور نہ ہی شرم، مگر آپ مجھ سے اس بات کے متقاضی ہیں کہ میں "ولد الحرام" کو ولد الحرام بھی نہ کہوں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

سب سے پہلے تو يہ واضح رہے کہ ميں نے اپنی کسی بھی پوسٹ ميں جہاد کے معاملے پر کبھی کوئ بات نہيں کی ہے۔ دوسری بات يہ ہے کہ ميری گفتگو کا موضوع اس تھريڈ ميں بھی عالمی دہشت گردی کا عفريت ہے جسے تمام عالمی برادری نے متفقہ طور پر اہم ترين مسلۂ تسليم کيا ہے۔ اس بات کا کئ دہائيوں پرانے ان علاقائ تنازعات سے کوئ تعلق نہيں ہے جن کے بارے ميں فريقين مختلف آراء رکھتے ہيں اور جن کے کئ سياسی اور جغرافيائ پہلو بھی ہيں۔

ميں يہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس منطق اور فہم کے تحت جہاد کے فلسفے اور مذہبی لحاظ سے اس کے فضائل، قواعد اور اہميت کو اس تھريڈ پر جاری بحث کا حصہ بنايا جا رہا ہے۔ کيونکہ جو افراد اور گروہ موضوع بحث ہيں وہ تو دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوۓ انھی بے گناہ افراد کو نشانہ بنا رہے ہيں جن کے تحفظ اور بہتر مستقبل کے وہ داعی ہيں۔ يہ سوچنا بھی محال ہے کہ کوئ بھی شخص جو بنيادی سوچ بچار اور سمجھ بوجھ رکھتا ہے وہ کيسے اس متشدد سوچ اور غير انسانی کاروائيوں کو درست قرار دينے کے ليے مذہب کا سہارا لے سکتا ہے۔

کيا يہ درست نہيں ہے کہ قريب تمام اہم مستند مذہبی سکالرز، علماء دين اور اسلامی اداروں سميت حکومتوں نے بھی مشترکہ طور پر القائدہ، داعش اور اس سے منسلک گروہوں کے اس مذہبی لبادے کو يکسر مسترد کر ديا ہے جس کو استعمال کر کے وہ اپنے اقدامات کی توجيہہ پيش کرنے کی کوشش کرتے ہيں؟

بصد احترام، آپ کو اپنی معلومات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ يہ امريکی اور نيٹو افواج نہيں ہيں جو مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہيں۔ خود کو بہترين مسلمان ظاہر کرنے والے دہشت گردوں کی جانب سے کيے جانے والے حملوں کے سرسری تجزيے سے ہی يہ حقيقت واضح ہو جاتی ہے کہ عام شہريوں بشمول مسلمانوں کی حفاظت اور ان کی بہتری ان کے ايجنڈے اور ترجيحات ميں شامل نہيں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس تشدد پسند دہشت گرد گروپوں کی تمام تر کاوشوں کا بنيادی مقصد بغیر کسی تفريق کے زيادہ سے زيادہ شہريوں کا قتل ہے اور اسی مقصد کے ليے اپنے حملوں کو زيادہ "موثر" بنانے کے ليے وہ عوامی مقامات کا انتخاب کرتے ہیں۔

ہمارا اصل مقصد اور ايجنڈا عام شہريوں کی حفاظت کو يقینی بنانا اور مقامی عہديداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون اور سپورٹ سے دہشت گردوں کو کيفر کردار تک پہنچانا ہے۔ چونکہ ہم صرف ان گروپوں اور افراد کے خلاف ہيں جو کہ خطے میں تمام فريقين کے ليے يکساں خطرہ ہيں، يہی وجہ ہے کہ ہمیں پاکستان اور افغانستان کی جمہوری حکومتوں سميت اپنے تمام اتحاديوں کا تعاون حاصل ہے۔

ہمارا ہدف اور اصل ايجنڈا مقامی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا تعاقب کرنا ہے تا کہ دنيا بھر ميں عام شہريوں کی زندگيوں کو محفوظ کيا جا سکے۔

يہ کوشش مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہرگز نہيں ہے اور اس ضمن ميں سب سے اہم دليل يہ ہے کہ عالمی منظرنامے پر دہشت گردوں کے خاتمے سے دنيا کے ديگر شہريوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی زندگياں بھی پرتشدد واقعات سے محفوظ ہوں گی۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
 

فواد

رکن
شمولیت
دسمبر 28، 2011
پیغامات
434
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
74
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

"داعش تضادات کا مجموعہ ثابت ہوئ"

جھوٹ در جھوٹ اور تضادات نے داعش کی حقيقت اور ايجنڈے کو بالکل واضح کر ديا۔

تونيزيا سے تعلق رکھنے والا داعش کا ايک جنگجو سيرين ڈيموکريٹک فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور اپنے بيانات ميں اس نے اس بات کا اعتراف کيا کہ اس دہشت گرد تنظيم کی سوچ اور طرز فکر تضادات کا مجموعہ ہے۔ انھی وجوہات کی بنياد پر اس نے تنظيم سے عليحدگی کا فیصلہ کيا۔

يہ ايک ناقابل ترديد حقیقت ہے کہ داعش اور اس کے سرغنہ عام لوگوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے ليے دہشت اور خوف کو استعمال کر رہے ہيں، اور يہ طرز عمل اسلام سميت دنيا کے تمام مذاہب کی بنيادی تعلميات اور اصولوں کے خلاف ہے۔

ايک قابل فہم پيغام کا فقدان اور ان کے تشہيری بيانات ميں تسلسل کے ساتھ پاۓ جانے والے تضادات اس حقيقت کو آشکار کر رہے ہيں کہ سياسی اثر ورسوخ کا حصول اور دھونس کے ذريعے اپنی سوچ دوسروں پر مسلط کرنا ہی اس تنظيم کا ہدف اور مقصد ہے۔

دہشت، خوف اور دھونس ان مجرموں کے ترجيحی ہتھيار ہيں اور انسانيت کے خلاف اپنے جرائم کی توجيح کے ليے مذہبی نعروں کا استعمال ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔​

 
Top