• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دجال کے پاس مارنے کے بعد زندہ کرنے کی قوت ہوگی؟

وجاہت

رکن
شمولیت
مئی 03، 2016
پیغامات
421
ری ایکشن اسکور
43
پوائنٹ
45
السلام علیکم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی، ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دجال کے متعلق ایک طویل حدیث بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال آئے گا اور اس کے لیے ناممکن ہو گا کہ مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہو۔ چنانچہ وہ مدینہ منورہ کے قریب کسی شور والی زمین پر قیام کرے گا۔ پھر اس دن اس کے پاس ایک مرد مومن جائے گا اور وہ افضل ترین لوگوں میں سے ہو گا۔ اور اس سے کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا تھا۔ اس پر دجال کہے گا کیا تم دیکھتے ہو اگر میں اسے قتل کر دوں اور پھر زندہ کروں تو کیا تمہیں میرے معاملہ میں شک و شبہ باقی رہے گا؟ اس کے پاس والے لوگ کہیں گے کہ نہیں، چنانچہ وہ اس صاحب کو قتل کر دے گا اور پھر اسے زندہ کر دے گا۔ اب وہ صاحب کہیں گے کہ واللہ! آج سے زیادہ مجھے تیرے معاملے میں پہلے اتنی بصیرت حاصل نہ تھی۔ اس پر دجال پھر انہیں قتل کرنا چاہے گا لیکن اس مرتبہ اسے مار نہ سکے گا۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا دجال کے پاس یہ قوت ہوگی کہ وہ ایک مردہ شخص میں اس کی روح لوٹا سکے ۔
@اسحاق سلفی
@خضرحیات

هو لا يحيي من ذات فعله, ولكن الله هو الذي يعطيه هذا الأمر فتنة للناس, ولا تنسى أنه يأتي مدعياً أنه هو المسيح ابن مريم , ولكنه دجال كاذب في دعواه, فالله تعالى قال في حق المسيح
دجال مردوں کو اپنی ذاتی قدرت سے تو زندہ نہیں کرے گا ، اسے شعبدہ کا فن اللہ نے لوگوں کی آزمائش و امتحان کیلئے دیا ہوگا ، اور یاد رہے کہ دجال کا دعوی اصلی یہ ہوگا کہ وہ مسیح ابن مریم ہے ، لیکن اس دعوی میں وہ سراسر جھوٹا ہوگا
کیونکہ مسیح ابن مریم کے متعلق اللہ کا فرمانا ہے کہ :
( وَرَسُولا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِآَيَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنْفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ وَأُبْرِئُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ وَأُحْيِي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللَّهِ وَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآَيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (سورۃ آل عمران49)
اور وه بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا، کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں، میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرنده بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وه اللہ تعالیٰ کے حکم سے پرنده بن جاتاہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے میں مادرزاد اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کر دیتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور جو کچھ تم کھاؤ اور جو اپنے گھروں میں ذخیره کرو میں تمہیں بتا دیتا ہوں، اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے، اگر تم ایمان ﻻنے والے ہو۔ (49)

اور جس حدیث کا ترجمہ آپ نے لکھا ہے ، اس کی شرح میں علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :
قال الخطابي فإن قيل كيف يجوز أن يجري الله الآية على يد الكافر فإن إحياء الموتى آية عظيمة من آيات الأنبياء فكيف ينالها الدجال وهو كذاب مفتر يدعي الربوبية فالجواب أنه على سبيل الفتنة للعباد إذ كان عندهم ما يدل على أنه مبطل غير محق في دعواه وهو أنه أعور مكتوب على جبهته كافر يقرؤه كل مسلم فدعواه داحضة مع وسم الكفر ونقص الذات والقدر إذ لو كان إلها لأزال ذلك عن وجهه وآيات الأنبياء سالمة من المعارضة فلا يشتبهان (فتح الباري )
یعنی امام خطابی ؒ فرماتے ہیں :
اگر یہ سوال کیا جائے کہ ایک کافر کے ہاتھ سے معجزہ کیسے صادر ہوگا جبکہ مردوں کو زندہ کرنا ایک عظیم معجزہ ہے جو انبیاء کو دیا گیا ،تو یہ معجزہ دجال اکبر کو کیسے ملے گا جبکہ وہ مفتری کذاب ربوبیت کا دعویدار ہوگا ،

تو اس کا جواب یہ ہے کہ : وقتی طور پر بظاہر دجال کا مردوں کو زندہ کرنا بندوں کی آزمائش و امتحان کیلئے ہوگا ، کیونکہ ان کے پاس دجال دعوی کے جھوٹا ہونے کے کئی ثبوت و علامات ہونگی ، وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا ، اس کی پیشانی پر ’’ کافر ‘‘ لکھا ہوگا جسے ہر مسلم پڑھ سکے گا،
تو ان ذاتی نقائص و عیوب کی موجودگی میں اس کا دعوی باطل ثابت ہورہا ہوگا ،کیونکہ اگر وہ اپنے دعوے کے مطابق رب ہوتا تو اپنے جھوٹا ہونے کی یہ نشانیاں مٹا لیتا ،اور دوسری طرف انبیاء علیہم السلام کے معجزات ہر قسم کے معارضہ سے پاک ہوتے ہیں ، اسلئے دجال اور معجزات کا معاملہ مشتبہ نہیں ہوسکتا ::
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ !
روایات میں
” مسیح الدجال“ کا ذکر فتنوں کےساتھ آیا ہے اور وہ حقیقتاً انہی فتنوں کو استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ کریگا ان میں سے ”مردہ “کو زندہ کرنا بھی شامل ہے اس کے علاوہ بھی وہ کچھ غیر معمولی افعال کا مظاہرہ کریگا۔ مگر ان سب کی حقیقت محض شعبدہ بازیوں کی ہو گی ان چیزوں کو ”معجزات“ سے ہرگز تعبیر نہیں کیا جاسکتا ۔
میرے خیال میں ان فتنوں کو عصری تطبیق دی جا سکتی ہے کیونکہ آج کے دور میں سائنسی ٹیکنا لوجی کی بدولت بہت سی محیر العقول چیزوں نے جنم لیا ہے اور عجب نہیں کہ
”مسیح الدجال “اسی سائنسی ٹیکنا لوجی کو استعمال میں لا کر لوگوں میں ربوبیت کا دعویٰ کرے۔بہت سے لوگ انہی فتنوں سے متاثر ہوکر اسکے دعویٰ کی تصدیق بھی کرینگے۔
اسی لیے روایات میں بھی
”فتنہ المسیح الدجال“ میں لفظ ”فتنہ“ قابلِ غور ہے جس کو ”معجزات“ سے کوئی نسبت نہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ فتنوں سے صرف خالص ایمان والے ہی بچ سکے ہیں۔ لہذا میری نظر میں ”مسیح الدجال “کے ان تمام افعال کو ”معجزہ“ نہیں بلکہ ”فتنہ“ہی سمجھنا چاہیے۔
متقدمین محدثین کی رائے

امام مسلم کے شاگرد امام ابو اسحاق کے مطابق یہ خضر علیہ السلام ہیں لہذا صحیح مسلم میں محدث ابو اسحاق کا قول اس روایت کے تحت لکھا ہوا ہے

قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: “يُقَالُ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ هُوَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَامُ


ابو اسحاق إبراهيم بن سفيان نے کہا: کہا جاتا ہے یہ خضر ہوں گے


یہ صحیح مسلم کی کتاب کے راوی ہیں –

یہ بات صیغہ تمریض سے ہے لیکن یہ بات یاد رہے کہ قرون ثلاثہ کے محدثین جب صیغہ تمریض استمعال کریں اور تضعیف نہ کریں تو وہ قول قبولیت پر بوتا ہے

اس پر تھریڈ صیغہ تمریض سے کیا مراد ہے ؟ میں تفصیل موجود ہے

صحیح ابن حبان کے مطابق

قَالَ مُعْمَرٌ: يَرَوْنَ أَنَّ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي يَقْتُلُهُ الدَّجَّالُ ثُمَّ يُحْيِيهِ: الْخَضِرُ


مُعْمَرٌ نے کہا محدثین دیکھتے تھے کہ یہ شخص جس کو دجال قتل کرنے کے بعد زندہ کر سکے گا یہ خضر ہوں گے


بغوی نے شرح السنہ میں یہی قول نقل کیا ہے کہ معمر نے کہا

وَبَلَغَنِي أَنَّهُ الْخَضِرُ الَّذِي يَقْتُلُهُ الدَّجَّالُ، ثُمَّ يُحْيِيهِ


مجھ تک پہنچا کہ یہ خضر ہیں


یعنی ان محدثین کے نزدیک یہ واقعہ خاص صرف ایک دفعہ کا ہے عموم نہیں ہے

فتح الباری میں ابن حجر نے خطابی کا قول دیا ہے

قال الخطابي فإن قيل كيف يجوز أن يجري الله الآية على يد الكافر فإن إحياء الموتى آية عظيمة من آيات الأنبياء فكيف ينالها الدجال وهو كذاب مفتر يدعي الربوبية فالجواب أنه على سبيل الفتنة للعباد إذ كان عندهم ما يدل على أنه مبطل غير محق في دعواه وهو أنه أعور مكتوب على جبهته كافر يقرؤه كل مسلم فدعواه داحضة مع وسم الكفر ونقص الذات والقدر إذ لو كان إلها لأزال ذلك عن وجهه وآيات الأنبياء سالمة من المعارضة فلا يشتبهان


خطابی نے کہا : اگر یہ کہا جائے کہ ایک کافر کے ہاتھ سے الله نشانی کو کیسے جاری کرے جبکہ مردوں کو زندہ کرنا ایک عظیم معجزہ ہے جو انبیاء کو دیا گیا ،تو یہ معجزہ دجال کو کیسے ملے گا جبکہ وہ مفتری کذاب ہے اور رب ہونے کا دعویدار ہوگا پس اس کا جواب یہ ہے کہ : یہ بندوں کی آزمائش کیلئے ہوگا ، کیونکہ ان کے پاس دجال دعوی کے جھوٹا ہونے کے دلیل ہوں گی کہ وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا ، اس کی پیشانی پر ’’ کافر ‘‘ لکھا ہوگا جسے ہر مسلم پڑھ سکے گا تو ان ذاتی نقائص و عیوب کی موجودگی میں اس کا دعوی باطل ثابت ہورہا ہوگا ،کیونکہ اگر وہ اپنے دعوے کے مطابق رب ہوتا تو یہ نشانیاں مٹا لیتا ،اور دوسری طرف انبیاء علیہم السلام کی نشانیاں ہر قسم کے عیب سے پاک ہوتے ہیں ، پس یہ نشانیاں ایک سی نہیں ہیں


خطابی کا قول صحیح ہے لیکن دجال مردوں کو زندہ نہیں کرتا رہے گا روایت میں یہ ایک خاص واقعہ ہے اور متن دلالت کرتا ہے کہ یہ صرف ایک بار ہو گا اسی بنا پر متقدمین محدثین نے اس میں شخص کو خضر کہا ہے کہ وہ ان کے نزدیک زندہ ہیں لہذا دجال کا اس میں کوئی کمال نہ ہو گا

کتاب شرح مصابيح السنة للإمام البغوي از الكَرمانيّ، الحنفيُّ، المشهور بـ ابن المَلَك (المتوفى: 854 هـ) کے مطابق

قال الكلاباذي: في الحديث دليل على أنَّ الدجال لا يقدر على ما يريده، وإنما يفعل الله ما يشاء عند حركته في نفسه، ومحل قدرته ما شاء الله أن يفعله؛ اختبارًا للخلق وابتلاء لهم؛ ليهلك من هلك عن بينة، ويحيى من حي عن بينة، ويضل الله الظالمين، ويفعل الله ما يشاء.


الكلاباذي نے کہا : اس حدیث میں دلیل ہے کہ دجال ہر اس چیز پر قادر نہ ہو گا جو وہ چاہے گا اور بے شک الله تعالی یہ کریں گے جو وہ چاہیں گے ، دجال کی ان حرکات پر اور اس (دجال) کی قدرت کا مقام ، الله کے چاہنے میں ہے – یہ ایک آزمائش ہے خلق کے لئے اور ابتلاء ہے ان کے لئے کہ جو ہلاک ہو وہ نشانی پر ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ نشانی پر زندہ رہے اور الله ظالموں کو گمراہ کرتا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے


یعنی دجال کی ان حرکات کے پیچھے الله تعالی کی قدرت کارفرما ہو گی وہ اس کے ذریعہ انسانوں کو آزمائش میں ڈالے گا اور مخلوق کا امتحان لے گا- دجال دھوکہ میں ہو گا کہ یہ سب وہ کر رہا ہے اور اس کے ساتھ لوگ بھی یہی سمجھیں گے لیکن حقیقت میں یہ سب الله کے حکم سے پس پردہ ہو رہا ہو گا

عصر حاضر میں بعض لوگوں نے اس کو شعبدہ بازی اور بعض نے سائنسی ٹیکنا لوجی کہہ کر اس روایت کو قبول کیا ہے

متقدمین محدثین نے اس روایت کو اس شرح کے تحت قبول کیا ہے کہ خضر علیہ اسلام زندہ ہیں اور دجال کا تماشہ انہی کے ساتھ ہو گا

بحر الحال روایات میں دجال کے اور بھی واقعات ہیں مثلا جنت جہنم پیش کرنا اس کا پانی برسانا وغیرہ ان کی تاویل محدثین سے منقول نہیں ہے لیکن انہوں نے ان روایات کو صحیح کہا ہے
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,107
ری ایکشن اسکور
321
پوائنٹ
156
عصر حاضر میں بعض لوگوں نے اس کو شعبدہ بازی اور بعض نے سائنسی ٹیکنا لوجی کہہ کر اس روایت کو قبول کیا ہے
آپ اس سلسلے میں مفتی ابو لُبانہ شاہ منصور صاحب کی کتاب ”دجال کون ؟ کہاں؟ کب ؟“ کا مطالعہ کریں۔ میری نظر میں مسیح الدجال کے محیر العقول افعال کو موجودہ دور کی سائنسی ٹیکنالوجی کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔و اللہ اعلم !
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,366
ری ایکشن اسکور
2,669
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
یہ بات صیغہ تمریض سے ہے لیکن یہ بات یاد رہے کہ قرون ثلاثہ کے محدثین جب صیغہ تمریض استمعال کریں اور تضعیف نہ کریں تو وہ قول قبولیت پر بوتا ہے
اللہ خیر کرے!
علم الحدیث کے وہ وہ مطالب منظر پر آرہے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے آج سے قبل محدثین خواہ متاخرین سے ہوں، یا متقدمین سے ان کو تو ان مطالب کی ہوا بھی نہ لگی!
غالباً علم الحدیث کی رفارمیشن کی مشق کی جا رہی ہے!
 
Last edited:
شمولیت
جون 11، 2015
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
79
میں سمجھنے سے قاصر ہوں ۔۔کبھی کہتے ہیں
اسے "(دجال کو)شعبدہ کا فن اللہ نے لوگوں کی آزمائش و امتحان کیلئے دیا ہوگا"
۔۔جبکہ جھوٹ بولنا،مکاریاں کرنا،لوگوں کو دھوکا دینا،اللہ کے مقابل آنا،اپنے آپ کو رب کہنا ،غلط دعویٰ کرنا یہ تو سب شیطان کی تبلیغ ہے یہ تو سب کچھ شیطان انسانوں اور جنوں کو سیکھاتا ہے یہ کام اللہ تعالیٰ کا تو نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ تو مکاری مزاق میں بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی مزاق میں بھی کسی سے جھوٹ بولے کسی کو تنگ کرے۔اللہ تعالیٰ تو صرف حق ،سچ کی تبلیغ کرتا ہے ، اللہ لوگوں کو صرف حق،سچ کا فن دیتا ہے باطل کا فن نہیں ۔اسحاق صاحب نے جواب میں فرمایا ہے۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ : وقتی طور پر بظاہر دجال کا مردوں کو زندہ کرنا بندوں کی آزمائش و امتحان کیلئے ہوگا (میں یہاں پھر استغفراللہ کہنا پسند کروں گا)یعنی آپ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ کوئی سچ مچ کسی کو موت دے کر پھر کہے کہ زندہ ہو جا اور وہ ہو بھی کافر ،مشرک اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اللہ اسے وقتی تو پر لوگوں کی آزمائش کے لئے زندہ کر دے گا۔۔۔استغفراللہ۔۔۔میں مجبور ہوں یہ کہنے کے لئے ۔۔یہ جھوٹ ہے اللہ تعالیٰ پر۔۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس فتنہ میں نہ ڈالے۔اگر آپ یہ کہیں گے کہ اللہ آزمائش اس طرح سے لے سکتا ہے تو میرے اور بہت سے سوالات ہیں۔
شکریہ۔
٭کبھی کہتے ہیں
۔۔۔
وہ شعبدہ بازی کرے گا۔۔۔اس کے پاس سائنسی ٹیکنالوجی ایسی ہو گی وہ ایک زندہ انسان کے دو حصے سچ مچ کے کرے گا پھر اس کے دونوں حصوں کے درمیاں چلے گا اور پھر اسے کہے گا زندہ ہو جا وہ سچ مچ زندہ ہو جائے گا۔یا بادل کو حکم سے لائے گا بغیر کوئی کیمیکل استعمال کر کے بغیر کوئی ذریع استعمال کر کے اور پھر بادل کو حکم دے گا اور وہ اس کے حکم سے برسے گا سچ مچ ۔۔ تو بھائی میں اتفاق نہیں کرتا ۔۔
٭اگر آپ کہیں کہ وہ ایک جادوگر ہو گا یا سائنس دان ۔اپنے دماغ کی چلاقی،ہوشیاری،مختلف تدبیر کر کےیا کرتب کے ذریعہ صرف لوگوں کی نظر کو دھوکا دے گا۔مکاری کرے گا تو میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔شکریہ۔

بات ہمشہ صاف کریں تاکہ سامنے والے کو کوئی غلط فہمی نہ ہو۔کہنے والا کیا کہہ رہا ہے۔شکریہ۔
 
شمولیت
جون 11، 2015
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
79
السلام علیکم ! عمر اثری صاحب ۔ دلیل دیں ۔۔۔۔۔وضاحت کریں ۔۔۔یہ کیسے کہہ سکتے ہیں
دجال مردوں کو اپنی ذاتی قدرت سے تو زندہ نہیں کرے گا ، اسے شعبدہ کا فن اللہ نے لوگوں کی آزمائش و امتحان کیلئے دیا ہوگا
۔۔۔اس تہمت کی وضاحت کریں ۔۔۔۔کہاں ہے اس کی دلیل۔؟
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,366
ری ایکشن اسکور
2,669
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
۔۔جبکہ جھوٹ بولنا،مکاریاں کرنا،لوگوں کو دھوکا دینا،اللہ کے مقابل آنا،اپنے آپ کو رب کہنا ،غلط دعویٰ کرنا یہ تو سب شیطان کی تبلیغ ہے یہ تو سب کچھ شیطان انسانوں اور جنوں کو سیکھاتا ہے یہ کام اللہ تعالیٰ کا تو نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ تو مکاری مزاق میں بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی مزاق میں بھی کسی سے جھوٹ بولے کسی کو تنگ کرے۔اللہ تعالیٰ تو صرف حق ،سچ کی تبلیغ کرتا ہے ، اللہ لوگوں کو صرف حق،سچ کا فن دیتا ہے باطل کا فن نہیں ۔
اللہ تعالیٰ کا کسی فعل کو پسند ، نا پسند کرنا الگ بات ہے!
اور کسی فعل کی صلاحیت دینا الگ بات ہے!
اللہ تعالیٰ ہر ہر فعل کو پسند نہیں کرتا ، درست!
لیکن ہر ہر فعل کی صلاحیت اللہ ہی کی پیدا کردہ ہے!
کوئی شیطان کوئی مخلوق کسی میں کوئی صلاحیت پیدا نہیں کرسکتا!
اگر کوئی اس کا قائل ہے کہ برے فعل کی صلاحیت اللہ کے علاوہ کسی اور کی پیدا کردہ ہے ، تو یہ عقیدہ اسلام کا نہیں، بلکہ زرتشتوں کا ہے کہ ان کے ہاں ایک'' یزداں'' ہے، خیر کا خالق وخدا اور ایک ''اہرمن'' شر کا خالق و خدا!
 
Last edited:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,447
پوائنٹ
791
تو اس کا جواب یہ ہے کہ : وقتی طور پر بظاہر دجال کا مردوں کو زندہ کرنا بندوں کی آزمائش و امتحان کیلئے ہوگا (میں یہاں پھر استغفراللہ کہنا پسند کروں گا)یعنی آپ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ کوئی سچ مچ کسی کو موت دے کر پھر کہے کہ زندہ ہو جا اور وہ ہو بھی کافر ،مشرک اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اللہ اسے وقتی تو پر لوگوں کی آزمائش کے لئے زندہ کر دے گا۔۔۔استغفراللہ۔۔۔میں مجبور ہوں یہ کہنے کے لئے ۔۔یہ جھوٹ ہے اللہ تعالیٰ پر
آپ کیا سمجھے اور کیا نہیں سمجھے یہ میرا مسئلہ نہیں ،
میرا کام یہ تھا کہ حدیث رسول ﷺ پوچھی گئی میں نے پیش کردی ، دوبارہ پھر پیش ہے
أن أبا سعيد، قال: حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما حديثا طويلا عن الدجال، فكان فيما يحدثنا به أنه قال: " يأتي الدجال، وهو محرم عليه أن يدخل نقاب المدينة، فينزل بعض السباخ التي تلي المدينة، فيخرج إليه يومئذ رجل، وهو خير الناس - أو من خيار الناس - فيقول أشهد أنك الدجال الذي حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم [ص:61] حديثه، فيقول الدجال: أرأيتم إن قتلت هذا، ثم أحييته، هل تشكون في الأمر؟ فيقولون: لا، فيقتله ثم يحييه، فيقول: والله ما كنت فيك أشد بصيرة مني اليوم، فيريد الدجال أن يقتله فلا يسلط عليه "
ترجمہ :
ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دجال کے متعلق ایک طویل حدیث بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں یہ بھی تھا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”
دجال آئے گا اور اس کے لیے ناممکن ہو گا کہ مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہو۔ چنانچہ وہ مدینہ منورہ کے قریب کسی شور والی زمین پر قیام کرے گا۔ پھر اس دن اس کے پاس ایک مرد مومن جائے گا اور وہ افضل ترین لوگوں میں سے ہو گا۔ اور اس سے کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا تھا۔ اس پر دجال کہے گا کیا تم دیکھتے ہو اگر میں اسے قتل کر دوں اور پھر زندہ کروں تو کیا تمہیں میرے معاملہ میں شک و شبہ باقی رہے گا؟
اس کے پاس والے لوگ کہیں گے کہ نہیں، چنانچہ وہ اس صاحب کو قتل کر دے گا اور پھر اسے زندہ کر دے گا۔
اب وہ صاحب کہیں گے کہ واللہ! آج سے زیادہ مجھے تیرے معاملے میں پہلے اتنی بصیرت حاصل نہ تھی۔ اس پر دجال پھر انہیں قتل کرنا چاہے گا لیکن اس مرتبہ اسے مار نہ سکے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب حدیث کو ماننا۔۔ نہ ماننا ۔آپ کا مسئلہ ، جو مزاج یار آئے کیجئے
اس حدیث میں صاف الفاظ ہیں :
(فيقتله ثم يحييه ) دجال اس مومن کو قتل کردے گا اور پھر زندہ کرےگا ،
اور قرآن مجید میں ارشاد ہے :
وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
اللہ ہی نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو بھی جو تم بناتے ہو
یا یوں کہہ لیں :
’’اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے تم کو اور جو تم عمل کرتے ہو ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آپ کہیں کہ وہ ایک جادوگر ہو گا یا سائنس دان ۔اپنے دماغ کی چلاقی،ہوشیاری،مختلف تدبیر کر کےیا کرتب کے ذریعہ صرف لوگوں کی نظر کو دھوکا دے گا۔مکاری کرے گا تو میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔شکریہ۔
دجال کے مکر و فن پر آپ بڑا پکا ایمان ہے ، اس پر قائم رہیئے ،
آپ اگر کسی استاد سے پوچھ لیتے کہ ’’ شعبدہ ‘‘ کیا ہوتا ہے ، تو شاید اتنی چنیں چناں کی ضرورت پیش نہ آتی ،
شَعْبَذ شَعبذةً : مهر في الاحتيال وأرى الشيءَ على غير حقيقته ، معتمدًا على خداع الحواس ‘‘ المعجم الوسیط
یعنی : دھوکہ اور مکرو فریب میں مہارت سے کام لینا ، کسی چیز کو اس کی حقیقت کے برخلاف دکھانا حواس سلب کرکے ۔

اور یہ حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ :
مخلوق کے ہر فعل کا خالق اللہ ہی ہے ، جیسا کہ اوپر ابن داود بھائی نے آسان لفظوں میں بتایا ہے جزاہ اللہ خیراً
امام بخاریؒ جیسے عظیم محدث نے اس پر مستقل ایک کتاب پیش کی ہوئی ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Last edited:

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,107
ری ایکشن اسکور
321
پوائنٹ
156
متقدمین محدثین کی رائے

امام مسلم کے شاگرد امام ابو اسحاق کے مطابق یہ خضر علیہ السلام ہیں لہذا صحیح مسلم میں محدث ابو اسحاق کا قول اس روایت کے تحت لکھا ہوا ہے

قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: “يُقَالُ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ هُوَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَامُ


ابو اسحاق إبراهيم بن سفيان نے کہا: کہا جاتا ہے یہ خضر ہوں گے


یہ صحیح مسلم کی کتاب کے راوی ہیں –

یہ بات صیغہ تمریض سے ہے لیکن یہ بات یاد رہے کہ قرون ثلاثہ کے محدثین جب صیغہ تمریض استمعال کریں اور تضعیف نہ کریں تو وہ قول قبولیت پر بوتا ہے

اس پر تھریڈ صیغہ تمریض سے کیا مراد ہے ؟ میں تفصیل موجود ہے

صحیح ابن حبان کے مطابق

قَالَ مُعْمَرٌ: يَرَوْنَ أَنَّ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي يَقْتُلُهُ الدَّجَّالُ ثُمَّ يُحْيِيهِ: الْخَضِرُ


مُعْمَرٌ نے کہا محدثین دیکھتے تھے کہ یہ شخص جس کو دجال قتل کرنے کے بعد زندہ کر سکے گا یہ خضر ہوں گے


بغوی نے شرح السنہ میں یہی قول نقل کیا ہے کہ معمر نے کہا

وَبَلَغَنِي أَنَّهُ الْخَضِرُ الَّذِي يَقْتُلُهُ الدَّجَّالُ، ثُمَّ يُحْيِيهِ


مجھ تک پہنچا کہ یہ خضر ہیں


یعنی ان محدثین کے نزدیک یہ واقعہ خاص صرف ایک دفعہ کا ہے عموم نہیں ہے

فتح الباری میں ابن حجر نے خطابی کا قول دیا ہے

قال الخطابي فإن قيل كيف يجوز أن يجري الله الآية على يد الكافر فإن إحياء الموتى آية عظيمة من آيات الأنبياء فكيف ينالها الدجال وهو كذاب مفتر يدعي الربوبية فالجواب أنه على سبيل الفتنة للعباد إذ كان عندهم ما يدل على أنه مبطل غير محق في دعواه وهو أنه أعور مكتوب على جبهته كافر يقرؤه كل مسلم فدعواه داحضة مع وسم الكفر ونقص الذات والقدر إذ لو كان إلها لأزال ذلك عن وجهه وآيات الأنبياء سالمة من المعارضة فلا يشتبهان


خطابی نے کہا : اگر یہ کہا جائے کہ ایک کافر کے ہاتھ سے الله نشانی کو کیسے جاری کرے جبکہ مردوں کو زندہ کرنا ایک عظیم معجزہ ہے جو انبیاء کو دیا گیا ،تو یہ معجزہ دجال کو کیسے ملے گا جبکہ وہ مفتری کذاب ہے اور رب ہونے کا دعویدار ہوگا پس اس کا جواب یہ ہے کہ : یہ بندوں کی آزمائش کیلئے ہوگا ، کیونکہ ان کے پاس دجال دعوی کے جھوٹا ہونے کے دلیل ہوں گی کہ وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا ، اس کی پیشانی پر ’’ کافر ‘‘ لکھا ہوگا جسے ہر مسلم پڑھ سکے گا تو ان ذاتی نقائص و عیوب کی موجودگی میں اس کا دعوی باطل ثابت ہورہا ہوگا ،کیونکہ اگر وہ اپنے دعوے کے مطابق رب ہوتا تو یہ نشانیاں مٹا لیتا ،اور دوسری طرف انبیاء علیہم السلام کی نشانیاں ہر قسم کے عیب سے پاک ہوتے ہیں ، پس یہ نشانیاں ایک سی نہیں ہیں


خطابی کا قول صحیح ہے لیکن دجال مردوں کو زندہ نہیں کرتا رہے گا روایت میں یہ ایک خاص واقعہ ہے اور متن دلالت کرتا ہے کہ یہ صرف ایک بار ہو گا اسی بنا پر متقدمین محدثین نے اس میں شخص کو خضر کہا ہے کہ وہ ان کے نزدیک زندہ ہیں لہذا دجال کا اس میں کوئی کمال نہ ہو گا

کتاب شرح مصابيح السنة للإمام البغوي از الكَرمانيّ، الحنفيُّ، المشهور بـ ابن المَلَك (المتوفى: 854 هـ) کے مطابق

قال الكلاباذي: في الحديث دليل على أنَّ الدجال لا يقدر على ما يريده، وإنما يفعل الله ما يشاء عند حركته في نفسه، ومحل قدرته ما شاء الله أن يفعله؛ اختبارًا للخلق وابتلاء لهم؛ ليهلك من هلك عن بينة، ويحيى من حي عن بينة، ويضل الله الظالمين، ويفعل الله ما يشاء.


الكلاباذي نے کہا : اس حدیث میں دلیل ہے کہ دجال ہر اس چیز پر قادر نہ ہو گا جو وہ چاہے گا اور بے شک الله تعالی یہ کریں گے جو وہ چاہیں گے ، دجال کی ان حرکات پر اور اس (دجال) کی قدرت کا مقام ، الله کے چاہنے میں ہے – یہ ایک آزمائش ہے خلق کے لئے اور ابتلاء ہے ان کے لئے کہ جو ہلاک ہو وہ نشانی پر ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ نشانی پر زندہ رہے اور الله ظالموں کو گمراہ کرتا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے


یعنی دجال کی ان حرکات کے پیچھے الله تعالی کی قدرت کارفرما ہو گی وہ اس کے ذریعہ انسانوں کو آزمائش میں ڈالے گا اور مخلوق کا امتحان لے گا- دجال دھوکہ میں ہو گا کہ یہ سب وہ کر رہا ہے اور اس کے ساتھ لوگ بھی یہی سمجھیں گے لیکن حقیقت میں یہ سب الله کے حکم سے پس پردہ ہو رہا ہو گا

عصر حاضر میں بعض لوگوں نے اس کو شعبدہ بازی اور بعض نے سائنسی ٹیکنا لوجی کہہ کر اس روایت کو قبول کیا ہے

متقدمین محدثین نے اس روایت کو اس شرح کے تحت قبول کیا ہے کہ خضر علیہ اسلام زندہ ہیں اور دجال کا تماشہ انہی کے ساتھ ہو گا

بحر الحال روایات میں دجال کے اور بھی واقعات ہیں مثلا جنت جہنم پیش کرنا اس کا پانی برسانا وغیرہ ان کی تاویل محدثین سے منقول نہیں ہے لیکن انہوں نے ان روایات کو صحیح کہا ہے
کیا آپ کا بھی یہی کہنا ہے کہ مقتول شخص حضرت خضر ؑ ہوں گے ؟
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,527
پوائنٹ
304
آپ اس سلسلے میں مفتی ابو لُبانہ شاہ منصور صاحب کی کتاب ”دجال کون ؟ کہاں؟ کب ؟“ کا مطالعہ کریں۔ میری نظر میں مسیح الدجال کے محیر العقول افعال کو موجودہ دور کی سائنسی ٹیکنالوجی کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔و اللہ اعلم !
السلام و علیکم و رحمت الله -

مجھے مفتی ابو لُبانہ شاہ منصور صاحب کی کتاب ”دجال کون ؟ کہاں؟ کب ؟“ اور مولانہ عاصم عمر کی کتابیں ١-تیسری صلیبی جنگ اور دجال۔ ٢:برمودہ تکون اور دجال جیسی کتابیں وغیرہ پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے - دونوں کتابیں بلکل بھی مؤثر انداز میں نہیں لکھی گئی ہیں - جدید سائنسی ایجادات اور نظریات کو زبردستی دجال کی آمد سے نتھی کردیا گیا ہے -احادیث نبوی میں موجود اس کے کمالات سے متعلق ان علماء نے عجیب و غریب تشریحات کی ہیں - حتیٰ کہ لوگوں کو محظوظ کرنے کے لئے اس کی آمد کے ممکنہ سال تک بتا دیے ہیں جو شائد اس ٢١ ویں صدی کے دوسری یا تیسری دہائی کے ہیں- اور یہ بھی فرما دیا ہے کہ وہ اس وقت برمودا ٹرائی اینگل (بحر اوقیانوس) یا پھر ڈریگون ٹرائی اینگل بحر الکاہل کے وسط میں) کے کسی جزیرے پر موجود ہے اور کفار (یہود) کو اپنے پیغامات بھیج رہا ہے -یہ کتابیں پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی بچوں کی horror story کی کتاب ہو- اکثر بے سروپا باتیں آپ کو ان کتابوں میں بکثرت ملیں گی-

نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کا فرمان ہے کہ :
قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لَغَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَى أُمَّتِي " قَالَهَا ثَلَاثًا. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذَا الَّذِي غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: "أَئِمَّةً مُضِلِّينَ "


"ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
میں ایک دن اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و آ له وسلم کے ساتھ تھا اور میں نے آپ صل اللہ علیہ و آ له وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
"مجھے میری امت کے لئے دجال سے بھی زیادہ خدشہ (ایک اور چیز کا) ہے"-آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا ۔ میں نے کہا ! اے اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و آ له سلم، وہ کیا چیز ہے جس کا آپ دجال کے علاوہ اپنی امت پر خوف کر تے ہیں ؟ تو فرمایا "گمراہ ائمہ"- ( مسند امام احمد - حکم صحیح لغیرہ)
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,403
ری ایکشن اسکور
1,094
پوائنٹ
412
السلام علیکم ! عمر اثری صاحب ۔ دلیل دیں ۔۔۔۔۔وضاحت کریں ۔۔۔یہ کیسے کہہ سکتے ہیں
دجال مردوں کو اپنی ذاتی قدرت سے تو زندہ نہیں کرے گا ، اسے شعبدہ کا فن اللہ نے لوگوں کی آزمائش و امتحان کیلئے دیا ہوگا
۔۔۔اس تہمت کی وضاحت کریں ۔۔۔۔کہاں ہے اس کی دلیل۔؟
وعلیکم السلام
شیوخ نے کافی اچھی وضاحت کر دی ہے
 
Top