• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم دوسرا مرحلہ : کھلی تبلیغ

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207

دوسرا مرحلہ :
کھلی تبلیغ


اظہارِ دعوت کا پہلا حکم:
جب مومنین کی ایک جماعت اخوت و تعاون کی بنیاد پر قائم ہو گئی۔ جو اللہ کا پیغام پہنچانے اور اس کو اس کا مقام دلانے کا بوجھ اٹھا سکتی تھی تو وحی نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کو مکلف کیا گیا کہ اپنی قوم کو کھلم کھلا دعوت دیں اور ان کے باطل کا خوبصورتی کے ساتھ رخ کریں۔
اس بارے میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نازل ہوا وَأَنذِرْ‌ عَشِيرَ‌تَكَ الْأَقْرَ‌بِينَ (۲۶:۲۱۴) ''آپ اپنے نزدیک ترین قرابتداروں کو (عذاب الٰہی سے) ڈرایئے'' یہ سورۃ شعراء کی آیت ہے اور اس سورت میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے یعنی یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا آغاز ہوا۔ پھر آخر میں انہوں نے بنی اسرائیل سمیت ہجرت کر کے فرعون اور قومِ فرعون سے نجات پائی اور فرعون و آل فرعون کو غرق کیا گیا۔ بلفظ دیگر یہ تذکرہ ان تمام مراحل پر مشتمل ہے جن سے حضرت موسیٰ علیہ السلام، فرعون اور قومِ فرعون کو اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہوئے گزرے تھے۔
میرا خیال ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو اپنی قوم کے اندر کھل کر تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس موقعے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کی یہ تفصیل اس لیے بیان کر دی گئی تاکہ کھلم کھلا دعوت دینے کے بعد جس طرح کی تکذیب اور ظلم و زیادتی سے سابقہ آنے والا تھا اس کا ایک نمونہ آپ اور صحابہ کرامؓ کے سامنے موجود رہے۔
دوسری طرف اس سورت میں پیغمبروں کو جھٹلانے والی اقوام مثلاً: فرعون اور قومِ فرعون کے علاوہ قومِ نوح، عاد، ثمود قومِ ابراہیم، قومِ لوط اور اصحاب الأیکہ کے انجام کا بھی ذکر ہے۔ اس کا مقصد غالباً یہ ہے کہ جو لوگ آپ کو جھٹلائیں انہیں معلوم ہو جائے کہ تکذیب پر اصرار کی صورت میں ان کا انجام کیا ہونے والا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کس قسم کے مؤاخذے سے دوچار ہوں گے، نیز اہل ایمان کو معلوم ہو جائے کہ اچھا انجام انھیں کا ہو گا، جھٹلانے والوں کا نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قرابت داروں میں تبلیغ:
بہرحال اس آیت کے نزول کے بعد نبی ﷺ نے پہلا کام یہ کیا کہ بنی ہاشم کو جمع کیا ان کے ساتھ بنی مطلب بن عبد مناف کی بھی ایک جماعت تھی۔ کل پینتالیس آدمی تھے لیکن ابو لہب نے بات لپک لی اور بولا: دیکھو یہ تمہارے چچا اور چچیرے بھائی ہیں، بات کرو لیکن نادانی چھوڑ دو اور یہ سمجھ لو کہ تمہارا خاندان سارے عرب سے مقابلے کی تاب نہیں رکھتا اور میں سب سے زیادہ حق دار ہوں کہ تمہیں پکڑ لوں۔ پس تمہارے لیے تمہارے باپ کا خانوادہ ہی کافی ہے اور اگر تم اپنی بات پر قائم رہے تو یہ بہت آسان ہو گا کہ قریش کے سارے قبائل تم پر ٹوٹ پڑیں اور بقیہ عرب بھی ان کی مدد کریں۔ پھر میں نہیں جانتا کہ کوئی شخص اپنے باپ کے خانوادے کے لیے تم سے بڑھ کر شر (اور تباہی) کا باعث ہو گا۔ اس پر نبی ﷺ نے خاموشی اختیار کر لی۔ اوراس مجلس میں کوئی گفتگو نہ کی۔
اس کے بعد آپ نے انہیں دوبارہ جمع کیا اور ارشاد فرمایا: ساری حمد اللہ کے لیے ہے، میں اس کی حمد کرتا ہوں اور اس سے مدد چاہتا ہوں۔ اس پر ایمان رکھتا ہوں، اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، پھر آپ نے فرمایا: رہنما اپنے گھر کے لوگوں سے جھوٹ نہیں بول سکتا۔ اس اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں تمہاری طرف خصوصاً اور لوگوں کی طرف عموماً اللہ کا رسول (فرستادہ) ہوں۔ واللہ! تم لوگ اسی طرح موت سے دوچار ہو گے جیسے سو جاتے ہو اور اسی طرح اٹھائے جاؤ گے جیسے سو کر جاگتے ہو۔ پھر جو کچھ تم کرتے ہو اس کا تم سے حساب لیا جائے گا۔ اس کے بعد یا تو ہمیشہ کے لیے جنت ہے یا ہمیشہ کے لیے جہنم۔
اس پر ابو طالب نے کہا (نہ پوچھو) ہمیں تمہاری معاونت کس قدر پسند ہے۔ تمہاری نصیحت کس قدر قابلِ قبول ہے اور ہم تمہاری بات کس قدر سچی جانتے اور مانتے ہیں اور یہ تمہارے والد کا خانوادہ جمع ہے اور میں بھی ان کا ایک فرد ہوں، فرق اتنا ہے کہ میں تمہاری پسند کی تکمیل کے لیے ان سب سے پیش پیش ہوں۔ لہٰذا تمہیں جس بات کا حکم ہوا ہے اسے انجام دو۔ واللہ! میں تمہاری مسلسل حفاظت و اعانت کرتا رہوں گا۔ البتہ میری طبیعت عبد المطلب کا دین چھوڑنے پر راضی نہیں۔
ابو لہب نے کہا: یہ اللہ کی قسم! برائی ہے۔ اس کے ہاتھ دوسروں سے پہلے تم لوگ خود ہی پکڑ لو۔ اس پر ابو طالب نے کہا : اللہ کی قسم! جب تک جان میں جان ہے، ہم ان کی حفاظت کرتے رہیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کوہِ صفا پر:
جب نبی ﷺ نے اچھی طرح اطمینان کر لیا کہ اللہ کے دین کی تبلیغ کے دوران ابو طالب ان کی حمایت کریں گے۔ تو ایک روز آپ کوہِ صفا پر تشریف لے گئے اور سب سب سے اونچے پتھر پر چڑھ کر یہ آواز لگائی: یا صَبَاحَاہ۔ ہائے صبح! (اہل عرب کا دستور تھا کہ دشمن کے حملے یا کسی سنگین خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے کسی بلند مقام پر چڑھ کر انہی الفاظ سے پکارتے تھے)
اس کے بعد آپ نے قریش کی ایک ایک شاخ اور ایک ایک خاندان کو آواز لگائی۔ اے بنی فہر! اے بنی عدی! اے بنی فلاں اوراے بنی فلاں! اے بنی عبد مناف! اے بنی عبد المطلب!
جب لوگوں نے یہ آواز سنی تو کہا: کون پکار رہا ہے؟ جواب ملا: محمد ہیں، اس پر لوگ تیزی سے آئے۔ اگر کوئی خود نہ آ سکا تو اپنا آدمی بھیج دیا کہ دیکھے کیا بات ہے۔ یوں قریش کے لوگ آ گئے اور ان میں ابو لہب بھی تھا۔
جب سب جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا: یہ بتاؤ اگر میں خبر دوں کہ ادھر اس پہاڑ کے دامن میں وادی کے اندر شہسواروں کی ایک جماعت ہے جو تم پر چھاپہ مارنا چاہتی ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا مانو گے؟
لوگوں نے کہا: ہاں! ہاں! ہم نے آپ پر کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا، ہم نے آپ پر سچ ہی کا تجربہ کیا ہے۔
آپ نے فرمایا: اچھا تو میں ایک سخت عذاب سے پہلے تمہیں خبردار کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ میری اور تمہاری مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی آدمی نے دشمن کو دیکھا پھر اس نے کسی اونچی جگہ چڑھ کر اپنے خاندان والوں پر نظر ڈالی تو اسے اندیشہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے پہنچ جائے گا، لہٰذا اس نے وہیں سے پکار لگانی شروع کر دی یا صباحاہ! ہائے صبح!
اس کے بعد آپ نے لوگوں کو حق کی دعوت دی اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور خاص کو بھی خطاب کیا اور عام کو بھی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قریش کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو، جہنم سے بچا لو۔ میں تمہارے نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ نہ تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام آ سکتا ہوں۔
بنو کعب بن لؤی! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو، کیونکہ مجھے تمہارے نفع و نقصان کا اختیار نہیں۔
بنو مرہ بن کعب! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو۔
بنو قصی! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو کیونکہ مجھے تمہارے نفع و نقصان کا اختیار نہیں۔
بنو عبد مناف! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو! کیونکہ مجھے تمہارے نفع و نقصان کا اختیار نہیں۔ نہ میں تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام آ سکتا ہوں۔
بنو عبد شمس! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو۔
بنو ہاشم! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو۔
بنو عبد المطلب! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو کیونکہ میں تمہارے نفع و نقصان مالک نہیں۔ اور نہ تمہیں! اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام آ سکتا ہوں، میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو۔ مگر میں تمہیں اللہ سے بچانے کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔
عباس بن مطلب! میں تمہیں بھی اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام نہیں آ سکتا۔
رسول اللہ کی پھوپھی، صفیہ بنت عبد المطلب! میں تمہیں بھی اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام نہیں آ سکتا۔
فاطمہ بنت محمد رسول اللہ! میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو مگر اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، کیونکہ میں تمہارے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں، اور نہ تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام آ سکتا ہوں۔
جب تم لوگوں سے پوچھا جائے تو یہ کنایات ہیں۔ جسے میں اس کی تری کے مطابق تر کروں گا۔
جب یہ انذار ختم ہوا تو لوگ بکھر گئے۔ ان کے کسی قوی رد عمل کا کوئی ذکر نہیں ملتا، البتہ ابو لہب نے بد تمیزی کی، کہنے لگا: تو سارے دن غارت ہو۔ تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا۔ اس پر سورۂ تبت یدا أبی لہب نازل ہوئی کہ ابو لہب کے دونوں ہاتھ غارت ہوں اور وہ خود غارت ہو۔ (صحیح بخاری ۱/۲۷۵۳، ۳۵۲۵، ۳۵۲۶، ۳۵۲۷، ۴۷۷۱، صحیح مسلم ۱/۱۱۴، فتح الباری ۵/ ۴۴۹، ۶/۶۳۷، ۸/۳۶۰، جامع ترمذی تفسیر سورۂ شعراء وغیرہ، میں نے تمام روایات کے الفاظ کو مرتب کر دیا ہے۔)
یہ بانگ درا غایت تبلیغ تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے قریب ترین لوگوں پر واضح کر دیا تھا کہ اب اس رسالت کی تصدیق ہی پر تعلقات موقوف ہیں اور جس نسلی اور قبائلی عصبیت پر عرب قائم ہیں وہ اس الٰہی انذار کی حرارت میں پگھل کر ختم ہو چکی ہے۔
اس آواز کی گونج ابھی مکے کے اطراف میں سنائی ہی دے رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا ایک اور حکم نازل ہوا:
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ‌ وَأَعْرِ‌ضْ عَنِ الْمُشْرِ‌كِينَ (۱۵: ۹۴)
''آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اس کھول کر بیان کر دیجیے اور مشرکین سے رخ پھیر لیجئے۔''
چنانچہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کے مجمعوں اور ان کی محفلوں میں کھلے عام دعوت دینی شروع کر دی۔ آپ لوگوں پر اللہ کی کتاب تلاوت کرتے اور ان سے وہی فرماتے جو پچھلے پیغمبروں نے اپنی قوموں سے فرمایا تھا کہ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّـهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُ‌هُ (۷: ۵۹) ''اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لیے اس کے سوا کوئی اور لائق عبادت نہیں۔'' اس کے ساتھ آپ نے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے، دن دھاڑے مجمعِ عام کے روبرو اللہ کی عبادت بھی شروع کر دی۔
آپ کی دعوت کو مزید قبولیت حاصل ہوئی اور لوگ اللہ کے دین میں اکا دکا داخل ہوتے گئے۔ پھر جو اسلام لاتا اس میں اور اس کے گھر والوں میں بغض، دوری اور اختلاف کھڑا ہو جاتا۔ قریش اس صورتِ حال سے تنگ ہو رہے تھے اور جو کچھ ان کی نگاہوں کے سامنے آرہا تھا انہیں ناگوار محسوس ہو رہا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حجاج کو روکنے کے لیے مجلس شوریٰ:
ان ہی دنوں قریش کے سامنے ایک اور مشکل آن کھڑی ہوئی، یعنی ابھی کھُم کھلا تبلیغ پر چند ہی مہینے گزرے تھے کہ موسم حج قریب آ گیا۔ قریش کو معلوم تھا کہ اب عرب کے وفود کی آمد شروع ہو گی۔ اس لیے وہ ضروری سمجھتے تھے کہ نبی ﷺ کے متعلق کوئی ایسی بات کہیں کہ جس کی وجہ سے اہل عرب کے دلوں پر آپ کی تبلیغ کا اثر نہ ہو۔ چنانچہ وہ اس بات پر گفت و شنید کے لیے ولید بن مغیرہ کے پاس اکٹھے ہوئے۔ ولید نے کہا: اس بارے میں تم سب لوگ ایک رائے اختیار کر لو تم میں باہم کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے کہ خود تمہارا ہی ایک آدمی دوسرے آدمی کی تکذیب کر دے اور ایک کی بات دوسرے کی بات کاٹ دے۔ لوگوں نے کہا: آپ ہی کہئے۔ اس نے کہا: نہیں تم لوگ کہو، میں سنوں گا۔ اس پر چند لوگوں نے کہا: ہم کہیں گے وہ کاہن ہے۔ ولید نے کہا: نہیں واللہ! وہ کاہن نہیں ہے، ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ اس شخص کے اندر نہ کاہنوں جیسی گنگناہٹ ہے نہ ان کے جیسی قافیہ گوئی اور تُک بندی۔
اس پر لوگوں نے کہا: تب ہم کہیں گے کہ وہ پاگل ہے۔ ولید نے کہا: نہیں، وہ پاگل بھی نہیں، ہم نے پاگل بھی دیکھا ہے اور اس کی کیفیت بھی۔ اس شخص کے اندر نہ پاگلوں جیسی دَم گھٹنے کی کیفیت اور الٹی سیدھی حرکتیں ہیں۔ اورنہ ان کے جیسی بہکی بہکی باتیں۔
لوگوں نے کہا: تب ہم کہیں گے کہ وہ شاعر ہے۔ ولید نے کہا: وہ شاعر بھی نہیں۔ ہمیں رَجَز، ہجز، قریض، مقبوض، مبسوط سارے ہی اصنافِ سخن معلوم ہیں۔ اس کی بات بہرحال شعر نہیں ہے۔
لوگوں نے کہا: تب ہم کہیں کہ وہ جادوگر ہے۔ ولید نے کہا یہ شخص جادوگر بھی نہیں۔ ہم نے جادوگر اور ان کا جادو بھی دیکھا ہے، یہ شخص نہ تو ان کی طرح جھاڑ پھونک کرتا ہے نہ گرہ لگا تا ہے۔
لوگوں نے کہا: تب ہم کیا کہیں گے؟ ولید نے کہا: اللہ کی قسم! اس کی بات بڑی شیریں ہے۔ اس کی جڑ پائیدار ہے اور اس کی شاخ پھلدار۔ تم جوبات بھی کہو گے لوگ اسے باطل سمجھیں گے۔ البتہ اس کے بارے میں سب سے مناسب بات یہ کہہ سکتے ہو کہ وہ جادوگر ہے۔ اس نے ایسا کلام پیش کیا ہے جو جادو ہے۔ اس سے باپ بیٹے، بھائی بھائی، شوہر بیوی اور کنبے قبیلے میں پھوٹ پڑ جاتی ہے بالآخر لوگ اسی تجویز پر متفق ہو کر وہاں سے رخصت ہوئے۔ (ابن ہشام ۱/۲۷۱)
بعض روایات میں یہ تفصیل بھی مذکور ہے کہ جب ولید نے لوگوں کی ساری تجویزیں رد کر دیں تو لوگوں نے کہا کہ پھر آپ ہی اپنی بے دماغ رائے پیش کیجیے۔ اس پر ولید نے کہا: ذرا سوچ لینے دو۔ اس کے بعد وہ سوچتا رہا سوچتا رہا یہاں تک کہ اپنی مذکورہ بالا رائے ظاہر کی۔ (یہ واقعہ حاکم نے مستدرک ۲/۳۶۱ میں، ابن ابی شیبہ نے مصنف ۱۱/۴۹۸(حدیث نمبر ۱۱۸۱۷) میں، ابویعلیٰ نے مسند ۴/۲۴۶ (حدیث نمبر ۲۳۵۸) میں، اسماعیل اصبہانی نے دلائل النبوۃ ص ۷۱ (حدیث نمبر ۵۴) میں، اور طبرانی اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ سیاق میں ہلکا سا اختلاف ہے)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اسی معاملے میں ولید کے متعلق سورۂ مدثر کی سولہ آیات (۱۱ تا ۲۶) نازل ہوئیں۔ جن میں سے چند آیات کے اندر اس کے سوچنے کی کیفیت کا نقشہ بھی کھینچا گیا۔ چنانچہ ارشاد ہوا:
إِنَّهُ فَكَّرَ‌ وَقَدَّرَ‌ ﴿١٨﴾ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ‌ ﴿١٩﴾ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ‌ ﴿٢٠﴾ ثُمَّ نَظَرَ‌ ﴿٢١﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ‌ ﴿٢٢﴾ ثُمَّ أَدْبَرَ‌ وَاسْتَكْبَرَ‌ ﴿٢٣﴾ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ‌ يُؤْثَرُ‌ ﴿٢٤﴾ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ‌ ﴿٢٥﴾ (۷۴: ۱۸ تا ۲۵)
''اس نے سوچا اور اندازہ لگا یا۔ وہ غارت ہو۔ اس نے کیسا اندازہ لگا یا۔ پھر غارت ہوا س نے کیا اندازہ لگا یا پھر نظر دوڑائی، پھر پیشانی سکیڑی اور منہ بسورا۔ پھر پلٹا اور تکبر کیا۔ آخرکار کہا کہ یہ نرالا جادو ہے جو پہلے سے نقل ہوتا آ رہا ہے۔ یہ محض انسان کا کلام ہے۔''
بہرحال یہ قرار داد طے پا چکی تو اسے جامۂ عمل پہنانے کی کارروائی شروع ہوئی کچھ کفارِ مکہ عازمین حج کے مختلف راستوں پر بیٹھ گئے اور وہاں سے ہر گزرنے والے کو آپ کے ''خطرے'' سے آگاہ کرتے ہوئے آپ کے متعلق تفصیلات بتانے لگے۔ (ابن ہشام ۱/۲۷۱)
جہاں تک رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے تو آپ حج کے ایام میں لوگوں کے ڈیروں اور عُکاظ، مجنہ اور ذو المجازکے بازاروں میں تشریف لے جاتے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے۔ ادھر ابو لہب آپ کے پیچھے پیچھے لگا رہتا اور کہتا کہ اس کی بات نہ ماننا یہ جھوٹا بد دین ہے۔ (مسند احمد ۳/۴۹۲، ۴/۳۴۱ میں اس کی یہ حرکت مروی ہے۔ نیز دیکھئے: البدایۃ والنہایۃ ۵/۷۵، کنزل العمال ۱۲/۴۴۹، ۴۵۰)
اس دوڑ دھوپ کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اس حج سے اپنے گھروں کو واپس ہوئے تو ان کے علم میں یہ بات آ چکی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی نبوت کیا ہے اور یوں ان کے ذریعے پورے دیارِ عرب میں آپ کا چرچا پھیل گیا۔
محاذ آرائی کے مختلف انداز:
جب قریش نے دیکھا کہ محمد ﷺ کو تبلیغ دین سے روکنے کی حکمت کارگر نہیں ہو رہی ہے تو ایک بار پھر انہوں نے غور و خوض کیا اور آپ کی دعوت کا قلع قمع کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جن کا خلاصہ یہ ہے۔
ہنسی، ٹھٹھا، تحقیر، استہزا، اور تکذیب:... اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو بد دل کر کے ان کے حوصلے توڑ دیئے جائیں۔ اس کے لیے مشرکین نے نبی ﷺ کو ناروا تہمتوں اور بیہودہ گالیوں کا نشانہ بنا یا۔
چنانچہ وہ کبھی آپ کو پاگل کہتے، جیسا کہ ارشاد ہے :
وَقَالُوا يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ‌ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ (۱۵: ۶)
''ان کفار نے کہا کہ اے وہ شخص جس پر قرآن نازل ہوا تو یقینا پاگل ہے۔''
اور کبھی آپ پر جادوگر اور جھُوٹے ہونے کا الزام لگاتے۔ چنانچہ ارشاد ہے :
وَعَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ‌ مِّنْهُمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُ‌ونَ هَـٰذَا سَاحِرٌ‌ كَذَّابٌ (۳۸: ۴)
''انہیں حیرت ہے کہ خود انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافر کہتے ہیں کہ یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
یہ کفار آپ کے آگے پیچھے پُر غضب، منتقمانہ نگاہوں اور بھڑکتے ہوئے جذبات کے ساتھ چلتے تھے ارشاد ہے :
وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِ‌هِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ‌ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ (۶۸: ۵۱)
''اور جب کفار اس قرآن کو سنتے ہیں تو آپ کو ایسی نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ گویا آپ کے قدم اکھاڑ دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ یقینا پاگل ہے۔''
اور جب آپ کسی جگہ تشریف فرما ہوتے اور آپ کے ارد گرد کمزور اور مظلوم صحابہ کرام ؓ موجود ہوتے تو انہیں دیکھ کر مشرکین استہزاء کرتے ہوئے کہتے :
أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا (۶: ۵۳)
''اچھا! یہی حضرات ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان سے احسان فرمایا ہے؟''
جواباً اللہ کا ارشاد ہے :
أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِ‌ينَ (۶: ۵۳)
''کیا اللہ شکر گزاروں کو سب سے زیادہ نہیں جانتا۔''
عام طور پر مشرکین کی کیفیت وہی تھی جس کا نقشہ ذیل کی آیات میں کھینچا گیا ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَ‌مُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ ﴿٢٩﴾ وَإِذَا مَرُّ‌وا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ ﴿٣٠﴾ وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ ﴿٣١﴾ وَإِذَا رَ‌أَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ ﴿٣٢﴾ وَمَا أُرْ‌سِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ ﴿٣٣﴾ (۸۳: ۲۹تا۳۳)
''جو مجرم تھے وہ ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اورجب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مارتے تھے اور جب اپنے گھروں کو پلٹتے تو لُطف اندوز ہوتے ہوئے پلٹتے تھے اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے کہ یہی گمراہ ہیں۔ حالانکہ وہ ان پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔''
انہوں نے سخریہ اور استہزاء کی بڑی کثرت کی اور طعن و تضحیک میں رفتہ رفتہ آگے بڑھتے گئے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی طبیعت پر اس کا اثر پڑا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُ‌كَ بِمَا يَقُولُونَ (۱۵: ۹۷)
''ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں اس سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے۔''
لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات قدمی عطا فرمائی اور بتلایا کہ سینے کی یہ تنگی کس طرح جا سکتی ہے چنانچہ فرمایا:
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَ‌بِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ ﴿٩٨﴾ وَاعْبُدْ رَ‌بَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ ﴿٩٩﴾ (۱۵:۹۸،۹۹)
یعنی ''اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور سجدہ گزاروں میں سے ہو جاؤ اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے جاؤ یہاں تک کہ موت آ جائے۔''
اور اس سے پہلے یہ بھی بتلا دیا کہ ان استہزاء کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ چنانچہ فرمایا :
إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ﴿٩٥﴾ الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ‌ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ (الحجر: ۹۵، ۹۶)
''ہم آپ کے لیے استہزاء کرنے والوں سے (نمٹنے کو) کافی ہیں جوا للہ کے ساتھ دوسرے کو معبود ٹھہراتے ہیں، انہیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا۔''
اللہ نے یہ بھی بتلایا کہ ان کا یہ فعل جلد ہی وبال بن کر ان پر پلٹے گا۔ چنانچہ ارشاد ہوا:
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُ‌سُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُ‌وا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (الانعام:۱۰۔ الانبیاء:۴۱)
''آپ سے پہلے پیغمبروں سے بھی استہزاء کیا گیا۔ تو ان کی ہنسی اڑانے والے جو استہزاء کر رہے تھے اس نے انہیں کو گھیر لیا۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
محاذ آرائی کی دوسری صورت شکوک و شبہات پیدا کرنا، اور سخت جھوٹا پروپیگنڈا کرنا: ... یہ کام انہوں نے اس کثرت سے کیا اور ایسے ایسے انداز سے کیا کہ عوام کو آپ کی دعوت و تبلیغ پر غور و فکر کا موقع ہی نہ مل سکا، چنانچہ وہ قرآن کے بارے میں کہتے کہ:
یہ پریشان خواب ہیں جنہیں محمد رات میں دیکھتے اور دن میں تلاوت کر دیتے ہیں۔ کبھی کہتے بلکہ اسے انہوں نے خود ہی گھڑ لیا ہے۔ کبھی کہتے انہیں کوئی انسان سکھاتا ہے۔ کبھی کہتے یہ قرآن تو محض جھوٹ ہے۔ اسے محمد نے گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر ان کی مدد کی ہے۔ یعنی آپ اور آپ کے ساتھیوں نے مل کر اسے گھڑ لیا ہے۔ اور یہ بھی کہا کہ یہ پہلوں کے افسانے ہیں جنہیں اس نے لکھوا لیا ہے۔ اور اب یہ اس پر صبح و شام پڑھے جاتے ہیں۔ کبھی یہ کہتے کہ کاہنوں کی طرح آپ پر بھی کوئی جن یا شیطان اترتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا: هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ ﴿٢٢١﴾ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٢٢٢﴾ (۲۶:۲۲۱، ۲۲۲) آپ کہہ دیں میں بتلاؤں کس پر شیطان اترتے ہیں؟ ہر جھوٹ گھڑنے والے گنہگار پر اترتے ہیں۔ یعنی شیطان کا نزول جھوٹے اور گناہوں میں لت پت لوگوں پر ہوتا ہے اور تم لوگوں نے مجھ سے نہ کبھی کوئی جھوٹ سنا، اور نہ مجھ میں کبھی کوئی فسق پایا؟ پھر قرآن کو شیطان کا نازل کیا ہوا کیسے قرار دے سکتے ہو؟
کبھی انہوں نے نبی ﷺ کے بارے میں یہ کہا کہ آپ ایک قسم کے جنون میں مبتلا ہیں۔ جس کی وجہ سے آپ معانی کا تخیل کرتے ہیں، اور انہیں عمدہ اور نادر قسم کے کلمات میں ڈھال لیتے ہیں۔ جس طرح شعراء اپنے خیالات کو حسین الفاظ کا جامہ پہنایا کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ بھی شاعر ہیں، اور ان کا کلام شعر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا: وَالشُّعَرَ‌اءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ﴿٢٢٤﴾ أَلَمْ تَرَ‌ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ ﴿٢٢٥﴾ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ﴿٢٢٦﴾ (۲۶: ۲۲۴ تا ۲۲۶) یعنی شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلتے ہیں تم دیکھتے نہیں کہ وہ ہر وادی کا چکر کاٹتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جنہیں کرتے نہیں، یعنی یہ شعراء کی تین خصوصیات ہیں اور ان میں سے کوئی بھی خصوصیت نبی ﷺ میں موجود نہیں۔ چنانچہ جو لوگ آپ کے پیروکار ہیں وہ ہدایت یاب و ہدایت کار ہیں۔ اپنے دین، اخلاق، اعمال اور تصرفات ہر چیز میں صالح اور پرہیزگار ہیں۔ ان پر ان کی زندگی کے کسی بھی معاملے میں گمراہی کا نام و نشان نہیں۔ پھر نبی ﷺ شعراء کی طرح ہر وادی کا چکر نہیں کاٹتے، بلکہ ایک رب، ایک دین، اور ایک راستے کی دعوت دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ وہی کہتے ہیں جو کرتے ہیں، اور وہی کرتے ہیں جو کہتے ہیں۔ لہٰذا آپ کو شعراء اور ان کی شاعری سے کیا واسطہ؟ اور شعراء اور ان کی شاعری کو آپ سے کیا واسطہ؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
یوں وہ لوگ نبی ﷺ کے خلاف اور قرآن و اسلام کے خلاف جو شبہ بھی اٹھاتے تھے، اللہ تعالیٰ اس کا کافی و شافی جواب دیتا تھا۔
ان کے زیادہ تر شبہات توحید، محمد ﷺ کی رسالت اور مرنے کے بعد قیامت کے روز دوبارہ اٹھائے جانے سے متعلق ہوا کرتے تھے۔ قرآن نے توحید کے متعلق ان کے ہر شبہے کا ردّ کیا ہے۔ بلکہ مزید اتنی باتیں بیان کی ہیں جن سے اس قضیے کا ہر پہلو واضح ہو گیا ہے اور اس کا کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوٹا ہے۔ اس ضمن میں ان کے معبودوں کی عاجزی و مجبوری اس طرح کھول کر بیان کی ہے کہ اس پر اضافے کی گنجائش نہیں اور شاید اسی بات پر ان کا غصہ بھڑک اٹھا اور پھر جو کچھ پیش آیا وہ معلوم ہے۔
جہاں تک نبی ﷺ کی پیغمبری کے بارے میں ان کی شبہات کا تعلق ہے تو وہ تو یہ تسلیم کرتے تھے کہ آپ ﷺ سچے، امانتدار اور انتہائی صلاح و تقویٰ پر قائم ہیں، لیکن وہ سمجھتے تھے کہ منصب نبوت و رسالت اس سے کہیں زیادہ عظیم و جلیل ہے کہ وہ کسی انسان کو دیا جائے۔ یعنی ان کا عقیدہ تھا کہ جو بشر ہے وہ رسول نہیں ہو سکتا اور جو رسول ہو وہ بشر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا اور اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دی تو انہیں حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا: وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّ‌سُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرً‌ا ﴿٧﴾ (۲۵:۷) یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا: قَالُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ عَلَىٰ بَشَرٍ‌ مِّن شَيْءٍ (۶:٩١) اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں اتاری ہے۔ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا: قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَىٰ نُورً‌ا وَهُدًى لِّلنَّاسِ (۶: ۹۱)آپ کہہ دیں وہ کتاب کس نے اتاری ہے جسے موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے اور جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت ہے۔ وہ چونکہ جانتے تھے اور مانتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام بشر ہیں۔ اس لیے جواب نہ دے سکے۔ اللہ نے ان کے رد میں یہ بھی فرمایا کہ ہرقوم نے اپنے پیغمبروں کی پیغمبری کا انکار کرتے ہوئے یہی کہا تھا کہ: أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ‌ مِّثْلُنَا (۱۴: ۱۰) تم لوگ ہمارے ہی جیسے بشر ہو نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ‌ مِّثْلُكُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ (۱۴:۱۱) اور اس کے جواب میں پیغمبروں نے ان سے کہا تھا کہ ہم لوگ یقینا تمہارے ہی جیسے بشر ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ انبیاء و رسل ہمیشہ بشر ہی ہوا کیے ہیں۔ بشریت اور رسالت میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
چونکہ انہیں اقرار تھا کہ ابراہیم اور اسماعیل اور موسیٰ پیغمبر تھے اور بشر بھی تھے، اس لیے وہ اپنے اس شبہ پر زیادہ اصرار نہ کر سکے۔ اس لیے انہوں نے پینترا بدلا اور کہنے لگے: اچھا اگر ایسا ہے بھی کہ بشر پیغمبر ہو سکتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کو اپنی پیغمبری کے لیے یہی یتیم و مسکین انسان ملا تھا؟ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مکہ اور طائف کے بڑے بڑے لوگوں کو چھوڑ کر اس مسکین کو پیغمبر بنا لے۔ لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْ‌آنُ عَلَىٰ رَ‌جُلٍ مِّنَ الْقَرْ‌يَتَيْنِ عَظِيمٍ (۴۳: ۳۱) یہ قرآن ان دونوں آبادیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا۔
اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:
کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وحی و رسالت تو اللہ کی رحمت ہے اور اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِ‌سَالَتَهُ (۶: ۱۲۴) اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ اسے اپنی پیغمبری کہاں رکھنی چاہیے۔ ان جوابات کے بعد مشرکین نے ایک اور پہلو بدلا اور کہنے لگے کہ دنیا کے بادشاہوں کے ایلچی تو خدم و حشم کے جلو میں چلتے ہیں، ان کا بڑا جاہ و جلال ہوا کرتا ہے اور ان کے لیے ہر طرح کے سامان زندگی مہیا رہا کرتے ہیں۔ پھر محمد کا کیا معاملہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور انہیں لقمۂ زندگی کے لیے بازاروں کے چکر بھی کاٹنا پڑتے ہیں۔ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرً‌ا ﴿٧﴾ أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا ۚ (۲۵:۷،۸) ان پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا جو ان کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔ یا ان کی طرف خزانہ کیوں نہیں ڈال دیا گیا۔ یا ان کا کوئی باغ ہی ہوتا جس سے وہ کھاتے اور ظالموں نے کہا کہ تم لوگ تو ایک جادو کیے ہوئے آدمی کی پیروی کر رہے ہو۔
اللہ نے اس ساری کٹ حجتی کا ایک مختصر سا جواب دیا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ یعنی آپ کی مہم یہ ہے کہ آپ ہر چھوٹے بڑے، کمزور اور طاقتور، شریف اور پست، آزاد اور غلام تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں۔ لہٰذا اگر ایسا ہوتا کہ آپ بھی بادشاہوں کے ایلچیوں کی طرح جاہ و جلال، خدم و حشم، اردلی اور جلو میں چلنے والوں کے ساتھ بھیجے جاتے تو کمزور اور چھوٹے لوگ تو آپ تک پہنچ ہی نہیں سکتے تھے کہ آپ سے کسی طرح کا استفادہ کر سکیں۔ حالانکہ یہی جمہور ہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں پیغمبر بنانے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا اور اس کا کوئی قابل ذکر فائدہ نہ ہوتا۔
جہاں تک مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے معاملے کا تعلق ہے تو اس کے انکار کے لیے مشرکین کے پاس، حیرت و استعجاب اورعقلی استبعاد کے علاوہ کوئی دلیل نہ تھی۔ وہ تعجب سے کہتے تھے: وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَ‌ابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ﴿٤٧﴾ أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ ﴿٤٨﴾ (۵۶: ۴۷، ۴۸) کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے تو پھر اٹھا دیئے جائیں گے کیا ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (الصافات :۱۶، ۱۷) پھر خود ہی کہتے تھے:
یہ دور کی واپسی ہے۔ وہ تعجب سے کہتے: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَىٰ رَ‌جُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ ﴿٧﴾ أَفْتَرَ‌ىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا أَم بِهِ جِنَّةٌ (۳۴: ۷،۸) کیا ہم تمہیں ایک ایسا آدمی نہ بتلائیں جو خبر دیتا ہے کہ جب تم لوگ بالکل ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تو پھر تمہاری ایک نئی پیدائش ہو گی۔ معلوم نہیں اس نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے یا اس کو پاگل پن ہے۔ کہنے والے نے یہ بھی کہا:
أموت ثم بعث ثم حشر
حدیث خرافۃ یا أم عمرو
''کیا موت، اس کے بعد زندگی، اس کے بعد حشر؟ ام عمرو! یہ تو خرافات کی بات ہے۔''
اللہ نے اس کی تردید کے لیے دنیا میں پیش آنے والے حالات پر ان کی نظر ڈلوائی کہ دیکھو! ظالم اپنے ظلم کی جزا پائے بغیر دنیا سے گزر جاتا ہے اور مظلوم بھی ظالم سے اپنا حق وصول کیے بغیر موت سے دوچار ہو جاتا ہے۔ محسن اور صالح اپنے احسان اور صلاح کا بدلہ پائے بغیر فوت ہو جاتا ہے اور فاجر اور بدکار اپنی بدعملی کی سزا پائے بغیر مر جاتا ہے۔ اب اگر انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھایا جائے اور اس کے عمل کا بدلہ نہ دیا جائے تو دونوں فریق برابر ہو جائیں گے۔ بلکہ ظالم اور فاجر مظلوم اور نیکوکار سے زیادہ ہی خوش قسمت ہوں گے اور یہ بات قطعاً غیر معقول ہے اور اللہ کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہ اپنی مخلوق کے نظام کی بنیاد ایسے فساد پر رکھے گا۔ اللہ فرماتا ہے: أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِ‌مِينَ ﴿٣٥﴾ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ﴿٣٦﴾ (۶۸: ۳۵،۳۶) کیا ہم تابعداروں کو مجرموں جیسا ٹھہرائیں گے۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم کیسے فیصلے کر رہے ہو؟ نیز فرمایا: أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْ‌ضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ‌ (۳۸: ۲۸) کیا ہم ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو زمین کے اندر فساد برپا کرنے والوں جیسا بنائیں گے؟ یا کیا ہم پرہیز گاروں کو فاجروں جیسا ٹھہرائیں گے اور فرمایا: أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ (۲۹: ۴) کیا برائیاں کرنے والے سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں جیسا بنائیں گے کہ ان (دونوں گروہوں) کی زندگی اور موت یکساں ہو۔ برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں۔
جہاں تک ان کے عقل استبعاد کا تعلق ہے تو اللہ نے اس کا رد کرتے ہوئے فرمایا: أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا (۷۹: ۲۷) کیا تم پیدائش میں زیادہ سخت ہو یا آسمان؟ اور فرمایا: أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ‌ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ (۴۶: ۳۳) کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کو پیدا کرنے سے نہیں تھکا، وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے؟ کیوں نہیں، یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ نیز فرمایا: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُ‌ونَ (۵۶: ۶۲) تم پہلی پیدائش تو جانتے ہی ہو، پھر حقیقت کیوں نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ بات بھی بتلائی جو عقلاً اور عرفاً دونوں طرح معروف ہے کہ کسی چیز کو دوبارہ کرنا پہلی بار سے زیادہ آسان ہوتا ہے۔ فرمایا: كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ (۲۱: ۱۰۴) جیسے ہم نے پہلی بار پیدائش کی ابتدا کی تھی اسی طرح پلٹا بھی لیں گے اور فرمایا:
کیا پہلی بار پیدا کرنے سے ہم تھک گئے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایک ایک شبہے کا نہایت اطمینان بخش جواب دیا۔ جس سے ہر سوجھ بوجھ والا آدمی مطمئن ہو سکتا ہے لیکن کفار مکہ ہنگامہ پسند تھے۔ ان میں استکبار تھا۔ وہ زمین پر بڑے بن کر رہنا چاہتے تھے اور مخلوق پر اپنی رائے لاگو کرنا چاہتے تھے، اس لیے اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
محاذ آرائی کی تیسری صورت: ... پہلوں کے واقعات اور افسانوں سے قرآن کا مقابلہ کرنا اور لوگوں کو قرآن کی سماعت سے دور رکھنا۔
مشرکین اپنے مذکورہ شبہات کو پھیلانے کے علاوہ ہر ممکن طریقے سے لوگوں کو قرآن کی سماعت سے دور رکھنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ چنانچہ وہ لوگوں کو ایسی جگہوں سے بھگا تے اور جب دیکھتے کہ نبی ﷺ دعوت و تبلیغ کے لیے اٹھنا چاہتے ہیں یا نماز میں قرآن کی تلاوت فرما رہے ہیں تو شور کرتے اور تالیاں اور سیٹیاں بجاتے۔ اللہ فرماتا ہے: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَا تَسْمَعُوا لِهَـٰذَا الْقُرْ‌آنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ (۴۱: ۲۶) کفار نے کہا: یہ قرآن نہ سنو، اور اس میں شور مچاؤ تاکہ تم غالب رہو۔ اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ تھا کہ نبی ﷺ کو ان کے مجمعوں اور محفلوں کے اندر پہلی بار قرآن تلاوت کرنے کا موقع پانچویں سن نبوت کے اخیر میں مل سکا۔ وہ بھی اس طرح کہ آپ نے اچانک کھڑے ہو کر قرآن کی تلاوت شروع کر دی اور پہلے سے کسی کو اس کا اندازہ نہ ہو سکا۔
نضر بن حارث قریش کے شیطانوں میں سے ایک شیطان تھا۔ وہ حیرہ گیا۔ وہاں بادشاہوں کے واقعات اور رستم و اِسْفَنْدیار کے قصے سیکھے۔ پھر واپس آیا تو جب رسول اللہ ﷺ کسی جگہ بیٹھ کر اللہ کی باتیں کرتے اور اس کی گرفت سے لوگوں کو ڈراتے تو آپ کے بعد یہ شخص وہاں پہنچ جاتا اور کہتا کہ واللہ! محمد کی باتیں مجھ سے بہتر نہیں، اس کے بعد وہ فارس کے بادشاہوں اور رُستم و اسفندیار کے قصے سناتا پھر کہتا۔ آخر کس بنا پر محمد کی بات مجھ سے بہتر ہے۔ (ملخص از ابن ہشام ۱/۲۹۹، ۳۰۰، ۳۵۸)
 
Top