آپ سے ایک بار پھر گزارش ہے کہ دوبارہ شروع سے آخر تک پڑھیں ۔اور جہاں دلائل میں کمی یا نقص ہے تو ان دلائل پر بات کریں۔ذہنی گاڑی پر سوار ہوکر ڈرائیو (امید ہے کہ ڈرائیور معلوم ہوہی گیا ہوگا) کسی اور کے ہاتھ میں چلے جانے سے بچیں۔اللہ سے ہی ہدایت کا سوال ہے۔کیا اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے
جاہل سے دینی مسلہ معلوم نہیں کرنا چاہیے۔ عالم مفتی سے معلوم کرنا چاہیے۔