• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ذوالحجہ کے دنوں میں مطلق اور مقید تکبیرات

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069

05010046.jpg



ذوالحجہ کے دنوں میں مطلق اور مقید تکبیرات

سوال: عید الاضحی کے موقع پر مطلق تکبیرات کے بارے میں ہے، تو کیا ہر نماز کے بعد کہی جانے والی تکبیرات مطلق تکبیرات میں شامل ہیں یا نہیں؟ اور انکا شرعی حکم سنت ہے یا مستحب،یا پھر بدعت؟

Published Date: 2014-09-25

الحمد للہ:

عید الاضحی کی تکبیرات ذوالحجہ کی ابتدا سے لیکر 13 ذوالحجہ کے آخر تک کہنا شرعی عمل ہے، اس بارے میں فرمان باری تعالی ہے:

{لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ}

ترجمہ: تا کہ وہ اپنے فائدے کی چیزوں کا مشاہد ہ کریں، اور مقررہ دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں[الحج : 28]

یہاں " أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ " سے مراد عشرہ ذو الحجہ [ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن] ہیں۔

اور دوسری جگہ فرمان باری تعالی:

{وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ}

ترجمہ: اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو [البقرة : 203]

اور " أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ "سے مراد ایام تشریق ہیں۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

(ایام تشریق کھانے پینے، اور ذکر الہی کے دن ہیں)مسلم

جبکہ امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں معلق سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما عشرہ ذوالحجہ میں بازار جا کر تکبیرات کہتے، تو لوگ بھی انکی تکبیروں کے ساتھ تکبیرات کہتے۔

اور عمر بن خطاب، آپکے صاحبزادے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منی کے دنوں میں مسجد، اور خیمہ ہر جگہ بلند آواز سے تکبیرات کہتے، حتی کہ پورا منی تکبیروں سے گونج اٹھتا۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ ساتھ متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن [9 ذوالحجہ]کی نماز فجر سے لیکر 13 ذوالحجہ کی عصر تک پانچوں نمازوں کے بعد تکبیرات کہتے تھے، یہ عمل ان لوگوں کیلئے ہے جو حج نہیں کر رہے، جبکہ حجاج کرام اپنے احرام کی حالت میں یوم النحر [10 ذوالحجہ] کو جمرہ عقبہ [بڑے جمرہ]پر رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہیں گے، اور اسکے بعد تکبیرات کہیں گے، چنانچہ یہ تکبیرات مذکورہ جمرہ کو پہلی کنکری مارنے سے شروع ہونگی، اور اگر تلبیہ کیساتھ تکبیرات بھی کہتا رہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (عرفہ کے دن تلبیہ کہنے والے تلبیہ کہتے، اور انہیں کوئی نہیں ٹوکتا تھا، اور تکبیرات کہنے والے تکبیرات کہتے، انہیں بھی کوئی نہیں ٹوکتا تھا)بخاری، لیکن احرام والے شخص کیلئے افضل تلبیہ ہی ہے، جبکہ مذکورہ دنوں میں احرام کھلنے کے بعد تکبیرات افضل ہیں۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ پانچ دنوں میں تکبیر مطلق اور تکبیر مقید اکٹھی ہوجاتی ہیں، اور یہ پانچ دن یوم عرفہ، یوم نحر، اور ایام تشریق کے تین دن[یعنی: 9 ذوالحجہ سے 13 ذوالحجہ تک] اور آٹھ ذو الحجہ اور اس سے پہلے والے ایام میں تکبیرات ابتدائے ذوالحجہ ہی سے مطلق ہیں مقید نہیں ہیں، جیسے کہ گزشتہ آیت اور آثار میں یہ بات گزر چکی ہے، اور مسند احمد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(کوئی نیک عمل کسی دن میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا محبوب اور معظم نہیں جتنا ان دس دنوں میں محبوب اور معظم ہے ، چنانچہ ان دنوں میں کثرت کیساتھ "لا الہ الا اللہ"، "اللہ اکبر"اور "الحمد للہ" کہا کرو) او کما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم .

ماخوذ از کتاب: " مجموع فتاوى ومقالات " از :سماحۃ الشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز - رحمہ الله – (13/17)"

https://islamqa.info/ur/10508
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
عیدین میں تکبیرات کے الفاظ

سوال: عید الاضحی کے موقع پر لوگ تکبیرات کہتے ہوئے کہتے ہیں: "الله اكبر ، الله أكبر ، لا اله إلا الله ، الله أكبر ، الله أكبر ولله الحمد , الله أكبر كبيراً ، والحمد لله كثيراً ، وسبحان الله بكرة وأصيلاً ، لا اله إلا الله وحده ، صدق وعده ، ونصر عبده ، وأعز جنده ، وهزم الأحزاب وحده ، لا اله إلا الله ولا نعبد إلا إياه مخلصين له الدين ولو كره الكافرون" یہ الفاظ نماز عید میں اور مساجد میں نمازوں کے بعد بار بار کہتے ہیں، تو کیا تکبیرات کے یہ الفاظ صحیح ہیں؟ اور اگر یہ غلط ہیں تو صحیح الفاظ کون سے ہیں؟

Published Date: 2016-07-04

الحمد للہ:

تکبیرات کے یہ الفاظ:

" اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ "

[اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں۔ ]

یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر سلف صالحین سے ثابت ہے، چاہے آپ ابتدا میں دو یا تین بار تکبیر کے الفاظ کہیں۔

دیکھیں: "مصنف ابن ابی شیبہ" (2/165-168) ، "إرواء الغلیل" (3/125)

جبکہ تکبیرات کے الفاظ: " اَللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ۔۔۔ الخ" کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص :

" اَللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا اَللهُ أَكْبَرُ وَلَا نَعْبُدُ إلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ له الدَّيْنَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ لَا إلَهَ إلَّا اللهُ وَحْدَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ لَا إلَهَ إلَّا اللهُ وَ اللهُ أَكْبَرُ " کا اضافہ کرے تو یہ بھی اچھا ہے" انتہی

"الأم" (1 /241)

ابو اسحاق شیرازی رحمہ اللہ "المهذب" (1/121) میں کہتے ہیں:

"کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ الفاظ صفا پہاڑی پر کہے تھے" انتہی

اس بارے میں معاملہ وسیع ہے ؛ کیونکہ تکبیرات کہنے کا حکم مطلق ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تکبیرات کیلیے الفاظ کی تعیین نہیں فرمائی، فرمانِ باری تعالی ہے:

(وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ)

ترجمہ: تا کہ تم اللہ تعالی کی اسی طرح بڑائی بیان کرو جیسے اس نے تمھیں سکھایا ہے۔[البقرة:185]

چنانچہ کسی بھی الفاظ میں تکبیرات اور اللہ کی بڑائی بیان کی جائے تو سنت پر عمل ہو جائے گا۔

صنعانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"شروحات میں بہت سے الفاظ ہیں اور ان میں سے متعدد اہل علم نے پسند بھی کیے ہیں، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تکبیرات کے معاملے میں وسعت ہے، ویسے بھی [مذکورہ] آیت کا اطلاق اس کا تقاضا کرتا ہے" انتہی
"سبل السلام" (2 /72)

ابن حبیب رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"میرے نزدیک پسندیدہ ترین تکبیرات کے الفاظ یہ ہیں:

" اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَلِلهِ الْحَمْدُ عَلَى مَا هَدَانَا، اَللَّهُمَّ اجْعَلْنَا لَكَ مِنَ الشَّاكِرِيْنَ"

[ ترجمہ: اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ بہت بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہمیں [اپنی بڑائی] سکھائی، یا اللہ! ہمیں اپنا شکر گزار بنا]"

اصبغ بن یزید رحمہ اللہ تکبیرات کیلیے کہا کرتے تھے:

" اَللهُ أَكْبَرُ كَبِيْراً ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيْراً ، وَ سُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَّأَصِيْلاً ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"

[ترجمہ: میں اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرتا ہوں جو کہ بہت ہی بڑا ہے، اور اللہ تعالی کی ڈھیروں تعریفیں کرتا ہوں، اور صبح شام اللہ تعالی کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں، نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر نہیں ہے]

پھر اصبغ کہتے تھے کہ: آپ تکبیرات کیلیے کمی بیشی یا اس کیلیے دوسرے الفاظ بھی استعمال کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔" انتہی

"عقد الجواهر الثمينة" (3/242)

سحنون رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"میں نے ابن قاسم سے کہا: کیا امام مالک نے آپ کو تکبیرات کے الفاظ بتلائے تھے؟ تو ابن قاسم نے جواب دیا: "نہیں بتلائے"، نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ : امام مالک تکبیرات کیلیے الفاظ کی تعیین نہیں کیا کرتے تھے" انتہی

"المدونة" (1/245)

امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"عید کی تکبیرات کا معاملہ وسعت والا ہے"

ابن العربی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"ہمارے علمائے کرام نے تکبیرات کے الفاظ کو مطلق رکھا ہے [یعنی: الفاظ متعین نہیں کیے] قرآن کریم کا ظاہری حکم بھی یہی ہے، اور میرے نزدیک بھی یہی موقف راجح ہے" انتہی

"الجامع لأحكام القرآن" (2 /307)

سلف صالحین سے تکبیرات یہ الفاظ بھی ثابت ہیں:

" اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ، اَللهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اَللهُ أَكْبَرُ عَلَى مَا هَدَانَا"

ان الفاظ کو بیہقی (3/315) نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے "ارواء الغلیل" (3/126) میں صحیح قرار دیا ہے۔

ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:

تکبیرات کے الفاظ سے متعلق صحیح ترین الفاظ عبد الرزاق نے اپنی سند کے ساتھ سلمان رضی اللہ عنہ سے نقل کیے ہیں کہ: "آپ کہتے ہیں اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرنے کیلیے کہو:

" اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ كَبِيْرًا " انتہی

فتح الباری: (2/462)

تاہم صحابہ کرام سے منقول تکبیرات کے الفاظ پر پابندی کرنا بہتر ہے۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب

https://islamqa.info/ur/158543
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
مطلق اور مقید تکبیرات کے فضائل، وقت، اور تکبیرات کے الفاظ

سوال: مطلق اور مقید تکبیرات کیا ہیں؟ اور یہ کس وقت شروع کی جاتی ہیں؟

Published Date: 2014-09-23

الحمد للہ:

اول: تکبیرات کی فضیلت

ذو الحجہ کے پہلے دس دنوں کی اللہ تعالی نے قرآن مجید میں قسم اٹھائی ہے، اور کسی بھی چیز کی قسم اٹھانا اسکی اہمیت، اور اسکے عظیم فوائد کی دلیل ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:

{وَالْفَجْرِ (1) وَلَيَالٍ عَشْرٍ (2)}

قسم ہے فجر کی[2] اور دس راتوں کی[الفجر : 1 - 2]

ان دس راتوں کی بارے میں ابن عباس، ابن زبیر، مجاہد اور انکے علاوہ متعدد علمائے سلف کا کہنا ہے کہ: اس سے عشرہ ذو الحجہ مراد ہے۔

اور ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: "یہی تفسیر صحیح ہے" تفسير ابن كثير: (8/413)

اور ان ایام میں کئے جانے والے اعمال اللہ تعالی کو بہت زیادہ پسند ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

(کوئی نیک عمل کسی دن میں اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند نہیں جتنا ان دس دنوں میں پسند ہے)

صحابہ کرام نے کہا: "اللہ کے رسول! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں!؟"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، ہاں جو شخص اپنے مال و جان کیساتھ جہاد کیلئے نکلا اور ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز واپس نہیں آئی)


بخاری: (969)، الفاظ ترمذی (757)کے ہیں، اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح ترمذی: (605) میں صحیح کہا ہے۔

اور ان ایام کے دوران عمل صالح میں تکبیرات، اور "لا الہ الا اللہ" کہنا بھی درج ذیل دلائل کی رو سے شامل ہے:

1- فرمان باری تعالی ہے:

{لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ}

ترجمہ: تا کہ وہ اپنے فائدے کی چیزوں کا مشاہد ہ کریں، اور مقررہ دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں[الحج : 28]

یہاں " أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ " سے مراد عشرہ ذو الحجہ [ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن] ہیں۔

2- اور فرمانِ الہی: {وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ}

ترجمہ: اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو [البقرة : 203]

اور " أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ "سے مراد ایام تشریق ہیں۔

3- اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

(ایام تشریق کھانے پینے، اور ذکر الہی کے دن ہیں)مسلم: (1141)

دوم: تکبیرات کے الفاظ

علمائے کرام کے ان تکبیرات کے بارے میں متعدد اقوال ہیں:

1- اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ۔۔۔ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔

2- اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔

3- اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔

کوئی بھی الفاظ تکبیرات کیلئے آپ کہہ سکتے ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تکبیرات کے معین الفاظ منقول نہیں ہیں۔

سوم: تکبیرات کا وقت

تکبیرات کی دو قسمیں ہیں:

1- مطلق تکبیرات: یعنی جن کیلئے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے، بلکہ ہر وقت، صبح وشام، نمازوں سے پہلے اور بعد میں کسی بھی لمحے کہی جاسکتی ہیں۔

2- مقید تکبیرات: یعنی وہ تکبیرات جو صرف نمازوں کے بعد کہی جاتی ہیں۔

چنانچہ مطلق تکبیرات عشر ذو الحجہ ، اور ایام تشریق کے دوران کسی بھی وقت کہی جاسکتی ہیں، جسکا وقت ذو الحجہ کی ابتدا ہی سے شروع ہوجائےگا (یعنی: ذو القعدہ کے آخری دن سورج غروب ہونے سے وقت شروع ہوگا) اور ایام تشریق کے آخر تک جاری رہے گا (یعنی: 13 ذو الحجہ کے دن سورج غروب ہونے تک)

جبکہ مقید تکبیرات کا وقت عرفہ کے دن فجر سے شروع ہوکر آخری یوم تشریق کے ختم ہونے تک جاری رہتا ہے-اس دوران مطلق تکبیرات بھی کہی جائیں گی- چنانچہ جس وقت امام فرض نماز سے سلام پھیر کر تین بار: "اَسْتَغْفِرُ اللَّهَ" کہنے کے بعد: "اَللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " کہہ لے تو تکبیرات کہے گا۔

مذکورہ بالا مقید تکبیرات کی تفصیل ان لوگوں کیلئے ہے جو حج نہیں کر رہے، جبکہ حجاج کرام مقید تکبیرات یوم نحر [دس ذو الحجہ] کی ظہر سے شروع کرینگے۔

واللہ اعلم

دیکھیں: "مجموع فتاوى ابن باز " رحمہ الله (13/17 ) اور "الشرح الممتع " از: ابن عثيمين رحمہ الله (5/220-224) .

الاسلام سوال وجواب

https://islamqa.info/ur/36627


 
شمولیت
جولائی 20، 2016
پیغامات
116
ری ایکشن اسکور
29
پوائنٹ
75
الفاظ تکبیرات
1.تکبیر ابن مسعود﷜
الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله ,الله اكبر الله اكبر ولله الحمد
اخرجه المحاملي في العيدين وغيره واسناده حسن لذاته.
2.تكبير ابن عباس﷜
الله اكبر كبيرا الله اكبر كبيرا الله اكبر واجل الله اكبر ولله الحمد
اخرجہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف واسنادہ صحیح .
3.تکبیر سلمان الفارسی ﷜
الله اكبر الله اكبر كبيرا اللهم ربنا لك الحمد انت اعلي واجل ان تتخذ صاحبة او ولدا او يكون لك شريك في الملك ولم يكن لك ولي من الذل وكبره تكبيرا الله اكبر كبيرا الله اكبر كبيرا اللهم اغفرلنا اللهم ارحمنا
اخرجہ ابن المبارک فی الزھد وعبد الرزاق فی المصنف بسند صحیح.
کتبہ :الشیخ الدکتور عبدالباری بن حماد الانصاری ﷾
المدرس فی کلیۃ الحدیث النبوی الشریف فی الجامعۃ الاسلامیۃ بالمدینۃ المنورۃ
(منقول)
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,632
پوائنٹ
791
سلف صالحین سے تکبیرات یہ الفاظ بھی ثابت ہیں:

" اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ، اَللهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اَللهُ أَكْبَرُ عَلَى مَا هَدَانَا"


ان الفاظ کو بیہقی (3/315) نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے "ارواء الغلیل" (3/126) میں صحیح قرار دیا ہے۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,632
پوائنٹ
791
تکبیر سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ
امام عبداللہ ابن المبارکؒ نے " الزہد " میں روایت کیا ہے کہ :
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: كَانَ سَلْمَانُ يَقُولُ لَنَا: " قُولُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ أَعْلَى وَأَجَلُّ أَنْ تَتَّخِذَ صَاحِبَةً أَوْ وَلَدًا، أَوْ يَكُونَ لَكَ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ، وَلَمْ يَكُنْ لَكَ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ، وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ تَكْبِيرًا، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا، اللَّهُمَّ ارْحَمْنَا "
(السنن الکبریٰ للبیہقی ؒ6282 )
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ

اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو
البقرة 203
 
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
429
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
79
عشرہ ذوالحجہ کی تکبیرات کا آغاز و اختتام

~~~~~~~~~~~~~ ؛

عشرہ ذو الحجہ میں تکبیرات کا آغاز و اختتام کب کیا جائے اس بارے علماء کے مختلف اقوال و مذاہب ہیں :

( 1 ) احمد بن حنبل ، ابو یوسف اور امام محمد کا موقف ہے کہ تکبیرات کا محل عرفہ ( نو ذو الحجہ ) کی فجر سے لے کر ایام تشریق ( تیرہ ذو الحجہ ) کے آخر تک ہر نماز کے بعد ہے ۔

( 2 ) عثمان بن عفانؓ ، عبداللہ بن عباسؓ ، زید بن علیؓ ، امام مالک کا قول اور امام شافعی کا ایک قول ہے کہ تکبیرات کا وقت دس ذو الحجہ کی ظہر سے لے کر تیرہ ذو الحجہ کی فجر تک ہے ۔

( 3 ) امام شافعی کا ایک قول یہ بھی ہے کہ تکبیرات کا وقت دس ذو الحجہ کی نمازِ مغرب سے لے کر تیرہ ذو الحجہ کی فجر تک ہے ۔

( 4 ) امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ تکبیرات کا وقت عرفہ نو ذو الحجہ کی فجر سے لے کر دس ذو الحجہ کی عصر تک ہے ۔
( نیل الاوطار : 3 ، 333 )

( 5 ) داؤد ظاہری ، زہری اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ تکبیرات کا وقت دس ذو الحجہ کی ظہر تا تیرہ ذو الحجہ کے عصر تک ہے ۔

راجح قول :
………………؛
حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ عید الاضحی کے دنوں میں تکبیرات کی تعین کے بارے میں نبیؐ سے صحیح حدیث ثابت نہیں اور صحابہ کرام میں سیدنا علیؓ اور ابن مسعودؐ سے صحیح منقول اقوال کی رو سے راجح ترین موقف یہ ہے کہ تکبیرات کا وقت عرفہ نو ذو الحجہ کی صبح سے لے کر آخر دن ( تیرہ ذو الحجہ ) کی عصر تک ہے ۔
( فتح البخاری : 2 ، 595 )


اس موقف کے قرین صواب ہونے کے دلائل حسب ذیل ہیں :
…………………………………؛

( 1 ) عمر بن سعید بیان کرتے ہیں کہ علیؓ بن ابی طالب : کان یکبر من صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق
( مصنف ابن ابی شیبہ اسنادہ صحیح )

عرفہ کے دن نماز فجر سے لے کر تشریق کے آخری دن ( تیرہ ذو الحجہ ) کی عصر تک تکبیرات کہتے ہیں ۔

( 2 ) حکم بن فروخ بیان کرتے ہیں :
أن ابن عباس كان يكبر من غداة عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق
( مستدرک حاکم : 1 ، 299 بیہقی : 3 ، 314 اسنادہ صحیح )

بلاشبہ ابن عباسؓ عرفہ ( نو ذو الحجہ ) کی صبح سے لےکر ایام تشر یق کے آخری دن ( تیرہ ذو الحجہ ) کی نماز عصر تک تکبیرات کہا کرتے تھے ۔

( 3 ) امام اوزاعی کا فتوی :
ولید بن مزید بیان کرتے ہیں کہ امام اوزاعی سے عرفہ کےدن تکبیرات کہنے کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے کہا :

يكبر من غداة عرفة إلى آخر أيام التشريق كما كبر علي و عبد الله ـ
( مستدرک حاکم : 1 ، 300 اسنادہ صحیح ۔ عباس بن ولید بن مزید صادق راوی ہیں )

یوم عرفہ کی صبح سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن ( کی نماز عصر ) تک تکبیرات کہی جائیں جیسے ( ان دنوں میں ) علیؓ اور عبد اللہ بن مسعودؓ نے تکبیرات کہی ہیں ۔


ضعیف روایات کی نشاندہی :
…………………………………؛

یوم عرفہ کی صبح سے لے کر تیرہ ذو الحجہ کی عصر تک تکبیرات کے بارے میں جتنی روایات منقول ہیں وہ ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں ۔

( 1 ) جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله ﷺ إذا صلى الصبح من غداة عرفة يقبل على أصحابه فيقول :
" على مكانكم " و يقول :
الله أكبر، الله أكبر، لاإله إلا الله والله أكبر ولله الحمد
فيكبر من غداة عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق
( دار قطنی : 1719 ارواء الغلیل : 3 ، 124 ضعیف جداً اس حدیث کی سند میں عمرو بن شمر متروک راوی اور جابر جعفی ضعیف راوی ہے )

رسول اللہ ﷺ جب یوم عرفہ کی صبح نماز فجر ادا کرتے تو صحابہ کرامؓ کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرماتے اپنی جگہوں پر ٹکے رہو اور یہ کلمات
الله أكبر ، الله أكبر ، الله أكبر لاإله إلا الله ، والله أكبر ، ولله الحمد کہتے ۔ پھر آپ ﷺ عرفہ کی صبح سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر تک تکبیرات کہتے رہتے تھے ۔

( 2 ) جابر بن عبد اللہؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله ﷺ يكبر صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق حين يسلم من المكتوبات
( دار قطنی : 2 ، 1718 ضعیف جداَ )

رسول اللہ ﷺ عرفہ کے دن نماز فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر تک فرض نمازوں سے سلام کے بعد تکبیرات کہا کرتے تھے ۔

اس میں عمرو بن شمر متروک ہے اور جابر جعفی ضعیف و کذاب راوی ہے ۔

اس بارے میں کئی اور ضعیف روایات بھی موجود ہیں لیکن بخوف طوالت انہیں بیان کرنے سے اجتناب کیا گیا ہے ۔


کیا یکم ذو الحجہ سمیت ذو الحجہ کے ابتدائی آٹھ دنوں میں تکبیرات کہنا مشروع ہے؟
~~~~~~~~~~~~~ ؛

عید الاضحی کا چاند نظر آنے پر تکبیرات شروع کرنے کے بارے میں کوئی واضح صحیح دلیل موجود نہیں ہے ۔ بلکہ اس بارے میں منقول مرفوع و موقوف روایات ضعیف اور نا قابل حجت ہیں لہذا صحیح موقف کی رو سے عید الاضحی میں تکبیرات کا آغاز نو ذو الحجہ کی فجر کے وقت کرنا چاہئے اور اختتام تیرہ ذو الحجہ کی عصر کے بعد کرنا چاہئے جیسا کہ گزشتہ بحث میں مفصل وضاحت بیان ہوئی ہے ۔

ضعیف روایات کا بیان
…………………………؛

( 1 ) عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا :
ما من أيام أعظم عند الله و لا أحب إليه من العمل فيهن من هذه الأيام العشر فاكثروا فيهن من التهليل و التكبير و التحميد
( مسند احمد : 2 ، 2 ، 75 ، 131 اسنادہ ضعیف ، اس میں یزید بن ابی زیاد کوفی ضعیف مدلس راوی ہے اور اس حدیث میں اس کا عنعنہ بھی ہے )

ذو الحجہ کے ابتدائی دس دنوں سے بڑھ کر اللہ تعالی کے ہاں عظیم دن نہیں ہیں اور ان دنوں کے اعمال سے بڑھ کر عام دنوں کے اعمال اللہ تعالی کو زیادہ محبوب نہیں ہیں سو تم ان دنوں میں تہلیل و تکبیر اور تحمید کا کثرت سے اہتمام کرو ۔

( 2 ) ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
ما من أيام أفضل عند الله و لا العمل فيهن أحب إلى الله عزوجل من هذه الأيام العشر فأكثروا فيهن من التهليل و التكبير و ذكر الله فإنها أيام التهليل و ذكر الله
( شعب الایمان للبیہقی : 3 ، 356 ضعیف ترغیب و ترہیب : 7305 اسنادہ ضعیف اسنادہ ضعیف جداً عبد اللہ بن محمد بن وہب دینوری متہم بالکذب اور یحیی بن عیسی رملی ضعیف راوی ہے )

اللہ تعالی کے نزدیک ذو الحجہ کے ابتدائی دس دن باقی دنوں سے افضل ہیں اور ان کے اعمال باقی دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں ۔ چنانچہ ان دنوں میں تہلیل و تکبیر اور ذکر کا بکثرت اہتمام کرو کیونکہ یہ تہلیل و تکبیر اور ذکر اللہ کے دن ہیں ۔

( 3 ) كان ابن عمر و أبوهريرة يخرجان إلى السوق في أيام العشر يكبران و يكبر الناس بتكبيرهما
( صحیح بخاری ، کتاب العیدین ، باب فضل العمل فی ایام العشر ، اسنادہ ضعیف ۔ یہ اثر معلق اور بے سند ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں یہ اثر مجھے مفصل سند کے ساتھ نہیں ملا اور امام بیہقی اور امام بغوی نے بھی اس اثر کو معلق روایت کیا ہے
( فتح الباری : 3 ، 590 ) )

ابن عمر ؓ اور ابو ہریرہؓ ذو الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں بازار میں نکل کر تکبیرات کہتے اور لوگ بھی ان کی تکبیرات کے ساتھ تکبیرات کہتے تھے ۔

( 4 ) ابن عباسؓ نے و يذكرو اسم الله فى أيام معلومات کی تفسیر بیان کی ہے کہ ایام معلومات سےمراد ذو الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں ۔

صحیح بخاری ، کتاب العیدین ، باب فضل العمل في أیام التشریق

ابن عباسؓ کے اس تفسیری قول سے یہ استدلال لینا کہ ذو الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں تکبیرات مشروع ہیں درست نہیں کیونکہ ابن عباسؓ سے یہ قول بھی مروی ہے کہ ، ایام معلومات ، یوم نحر اور اس کے بعد کے تین دن ہیں اور امام طحاوی نے اس مؤخر الذکر قول کو راجح قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالی کے فرمان :
﴿وَ يَذكُرُوا اسمَ اللَّهِ فى أَيّامٍ مَعلومـٰتٍ عَلىٰ ما رَزَقَهُم مِن بَهيمَةِ الأَنعـٰمِ ...﴿٢٨﴾... سورة الحج ، اور وہ چند معلوم دنوں میں اللہ کا ذکر کریں جو اللہ نے انہیں پالتو جانور عطا کئے ہیں ) سےمعلوم ہوتا ہے کہ ایام معلومات سے مراد قربانی کے دن ہیں ( فتح الباری 2 ، 590 ) ۔ ( ذو الحجہ کے ابتدائی دس دن نہیں ہیں ) نیز عبد اللہ بن عباسؓ کا ذاتی فعل بھی ان کے اول الذکر قول کے مخالف ہے جیسا کہ عکرمہ بیان کرتے ہیں :

أن ابن عباس كان يكبر من غداة عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق

( مستدرک حاکم : 1 / 299 ، بیهقی : 3 / 314 ، اسنادہ صحیح )

بلاشبہ ابن عباسؓ عرفہ کی فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر تک تکبیرات کہا کرتے تھے ۔


تکبیرات کے اوقات :
~~~~~~~~~~~~~ ؛

تکبیرات کہنے کے مخصوص اوقات نہیں ہیں بلکہ ان دنوں تمام اوقات میں تکبیرات کا اہتمام مستحب ہے ۔ اس کے دلائل درج ذیل ہیں :

( 1 ) كان عمر رضى الله عنه يكبر فى قبته بمنى فيسمعه أهل المسجد فيكبرون و يكبر أهل الأسواق حتى ترتج منى تكبيرا

عمرؓ منی میں اپنے خیمے میں تکبیرات کہتے اور ان کی تکبیرات سن کر اہل مسجد اور بازار میں موجود لوگ تکبیرات کہتے حتی کہ منی تکبیر کی آواز سے گونج اٹھتا ۔

( 2 ) وكان ابن عمر يكبر بمنى تلك الأيام و خلف الصلوات و على فراشه و في فسطاطه و مجلسه و ممشاه و تلك الأيام جميعا

ابن عمر منی میں ، منی کے دنوں میں ، نمازوں کے بعد ، اپنے خیمے میں ، اپنی مجلس میں اور چلتے پھرتے ان تمام دنوں میں تکبیرات کہا کرتے تھے ۔

( 3 ) كان النساء يكبرن خلف أبان بن عثمان و عمر بن عبدالعزيز ليالي التشريق مع الرجال في المسجد
( صحیح بخاری ، کتاب العیدین ، باب التکبیر أيام منى و إذا غدا إلى العرفة )

اور عورتیں تشریق کی راتوں میں ابان بن عثمان اور عمر بن عبد العزیز کے پیچھے مردوں کے ساتھ مسجد میں تکبیرات کہتی تھیں ۔


فوائد :
( 1 ) حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں :
امام بخاری نے اس موقف کو اختیار کیا ہے کہ تکبیرات کے دنوں میں تمام اوقات میں سبھی افراد ( مرد و زن اور مقیم و مسافر ) کے لئے تکبیرات کہنا مشروع ہیں اور مذکورہ بالا آثار اس موقف کی تائید کرتے ہیں ۔
( فتح الباری : 2 ، 595 )

( 2 ) امام شوکانی کہتے ہیں :
راجح مسئلہ یہ ہے کہ محض نمازوں کے بعد مخصوص اوقات میں تکبیرات کہنا مستحب نہیں بلکہ تکبیرات کےتمام دنوں میں ہر وقت تکبیرات کہنا مستحب فعل ہے اور اوپر بیان کردہ آثار اس کی دلیل ہیں ۔
( نیل الاوطار : 3 ، 334 )

( 3 ) ایام تشریق میں تکبیرات کے مخصوص اوقات نہیں بلکہ ان دنوں میں ہر وقت تکبیرات کہنا مستحب فعل ہے
( فقہ السنۃ : 1 ، 307 ) ۔

نیز جس روایت میں فرض نمازوں کے بعد تکبیرات کہنے کی تخصیص ہے وہ روایت ضعیف ہے جو جابر بن عبداللہؓ بیان کرتےہیں :

كان رسول الله ﷺ يكبر في صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق حين يسلم من المكتوبات
( دار قطنی : 2 ، 49 : 1717 نصب الرایہ : 3 ، 406 اسنادہ ضعیف جداً ، عمرو بن شمر متروک اور جابر بن یزید بن حارث جعفی اور کذاب راوی ہے )

رسول اللہ ﷺ عرفہ کے دن نماز فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر تک ( اس وقت ) فرض نمازوں سے سلام پھیرتے وقت تکبیرات کہا کرتے تھے ۔


عورتیں بھی تکبیرات کہیں گی؟
~~~~~~~~~~~~~ ؛

جس طرح عیدین میں مردوں کو تکبیرات کہنے کا حکم ہے عورتیں بھی اس حکم میں شامل ہیں اور عورتوں کے لئے بھی تکبیرات کہنا مستحب فعل ہے ۔ اس کے مزید دلائل حسب ذیل ہیں :

( 1 ) صحیح بخاری میں ترجمۃ الباب میں مذکور ہے :
و كان النساء يكبرن خلف أبان بن عثمان و عمر بن عبد العزيز ليالي التشريق مع الرجال في المسجد
( صحیح بخاری ، کتاب العیدین ، باب التكبير أيام منى وإذا غدا إلى العرفة )

اور عورتیں تشریق کی راتوں میں ابان بن عثمان اور عمر بن عبد العزیز کے پیچھے مسجد میں مردوں کے ساتھ تکبیرات کہتی تھیں ۔


تاہم عورتوں کے تکبیرات کہنے کی مشروعیت کے بارے میں علماء کی مختلف آرا ہیں :
…………………………………؛

( 1 ) مالک اور شافعی کا مذہب ہے کہ ایام تشریق میں نمازوں کے بعد عورتوں پر تکبیرات کہنا لازم ہیں ۔

( 2 ) ابو حنیفہ کہتے ہیں : ایام تشریق میں عورتیں تکبیرات نہیں کہیں گی ۔

( 3 ) ابو یوسف اور محمد کا موقف ہے کہ عورتوں کےلئے تکبیرات ایسے مشروع ہیں جیسے مردوں کےلئے تکبیرات مشروع ہیں ۔
( شرح ابن بطال : 4 ، 192 )

( 4 ) سفیان ثوری کی رائے ہے کہ عورتیں نماز با جماعت ادا کرنے کی صورت میں تکبیرات کہیں گی ۔ امام احمد نے اسی قول کو احسن کہا ہے ۔

( 5 ) البتہ امام احمد سے ایک دوسرا قول منقول ہے کہ عورتیں تکبیرات نہ کہیں کیونکہ تکبیر ایسا ذکر ہے جس میں آواز بلند کرنا مشروع ہے اور آذان کی طرح تکبیرات میں آواز بلند کرنا عورت کےلئے جائز نہیں ۔
( المغنی مع الشرح الکبیر : 2 ، 248 )

اس مسئلہ میں راجح موقف یہ ہے کہ بلا تعین و تخصیص عورتیں بھی تکبیرات کے دنوں میں ہر وقت تکبیرات کہہ سکتی ہیں

جیسا کہ حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں :
تکبیرات کے اوقات ( اور تکبیرات کون کہے ) اس بار ے میں کافی اختلاف ہے :

( 1 ) بعض علما نے تکبیرات کا وقت نماز کے بعد مخصوص کیا ۔

( 2 ) کچھ علما نے نوافل کی بجائےفرض نمازوں کے بعد کا وقت تکبیرات کےلئے خاص کیا ہے ۔

( 3 ) بعض علما نے تکبیرات کو عورتوں کی بجائے مردوں کے ساتھ خاص کیا ہے ۔

( 4 ) کچھ نے منفرد کی بجائے نماز باجماعت کی تخصیص کی ہے ۔

( 5 ) بعض نے قضا نماز کو چھوڑ کر ادا نماز کی شرط عائد کی ہے ۔

کچھ علماء نے مسافر کے سوا مقیم کی قید لگائی ہے لیکن امام بخاری نے اس مسئلہ کو اختیار کیا ہے کہ تکبیرات کہنا ( تمام اوقات اور ) تمام افراد ( مرد ، عورت اور مقیم و مسافر سبھی کےلیے ) مشروع و جائز ہے اور ترجمۃ الباب میں منقول آثار اس موقف کی تائید کرتے ہیں ۔
( فتح الباری : 2 ، 595 )


حائضہ عورتیں بھی تکبیرات کہیں گی؟
………………………………؛

عیدین میں حائضہ عورتوں کو بھی تلقین ہے کہ وہ تکبیرات کا اہتمام کریں ۔ سیدہ عطیہ بیان کرتی ہیں :
كنا نؤمر أن نخرج يوم العيد حتى نخرج البكر من خدرها حتى نخرج الحيض فيكن خلف الناس فيكبرن بتكبيرهم و يدعون بدعائهم يرجون بركة ذلك اليوم وطهرته
( صحیح البخاری : 971 )

ہمیں عید کے دن ( عید گاہ میں ) پہنچنے کا حکم دیا جاتا تھا ۔ حتی کہ ( ہمیں حکم ہوتا کہ ) ہم دوشیزہ کو اس کی خلوت گاہ سے اور حائضہ عورتوں کو بھی نکالیں اور وہ حائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے رہیں اور ان کی تکبیرات کے ساتھ تکبیرات کہیں ۔ ان کی دعاؤں کے ساتھ دعائیں کریں اور وہ اس دن کی برکت اور گناہوں سے پاکی کی امید رکھیں ۔


البتہ واضح رہے کہ عورتوں کی آواز مردوں تک نہ پہنچے
…………………………………؛

جیسا کہ ابن قدامہ لکھتے ہیں :

وينبغى لهن أن يخفضن أصواتهن حتى لا يسمعهن الرجال
( المغنی لابن قدامه مع الشرح الکبیر : 2 ، 248 )

عورتوں کےلئے مناسب ہے کہ وہ پست آواز میں تکبیرات کہیں حتی کہ مرد ان کی آواز نہ سن سکیں ۔

اور ابن رجب حنبلی رقم طراز ہیں :
جب عورتیں با جماعت نماز ادا کریں تو وہ بھی مردوں کے ساتھ تکبیرات کہیں اس میں کوئی اختلاف نہیں ۔ ولكن المرأة تخفض صوتها بالتكبير
تاہم تکبیرات کہتے وقت عورت اپنی آواز پست رکھے ۔


تکبیرات کے الفاظ :
~~~~~~~~~~~~~ ؛

تکبیرات کے متعلق متعین الفاظ رسول اللہ ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں بلکہ اس بارے میں آپ ﷺ کی طرف منسوب روایت انتہائی ضعیف ہے جسے جابر بن عبد اللہ سے روایت کیا گیا ہے :

كان رسول الله ﷺ إذا صلى الصبح من غداة عرفة يقبل على أصحابه فيقول : "على مكانتكم " و يقول :
الله أكبر ، الله أكبر ، الله أكبر ، لاإله إلا الله ، والله أكبر ، ولله الحمد

رسول اللہ ﷺ کی عرفہ کی صبح جب نماز فجر ادا کرتے تو اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر کہتے اپنی جگہوں پر برقرار رہیے اور آپؐ یہ کلمات :
الله أكبر ، الله أكبر ، الله أکبر ، لاإله إلا الله ، و الله أكبر ، و لله الحمد کہتے تھے ۔

اس میں عمرو بن شمر متروک اور جابر بن زید بن حارث جعفی ضعیف اور کذاب ہے ۔


البتہ بعض صحابہ کرامؓ سے بسند صحیح تکبیرات کے الفاظ منقول ہیں :
…………………………………؛

( 1 ) عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباسؓ ( بایں الفاظ ) الله أكبر كبيرا ، الله أكبر كبيرا ، الله أكبر و أجل ، الله أكبر و لله الحمد

( 2 ) ابو عثمان نہدی بیان کرتے ہیں :
كان سلمان يعلمنا التكبير يقول : كبروا الله ، الله أكبر ، الله أكبر مرارا اللهم أنت أعلى و أجل من أن يكون لك صاحبة أو يكون لك ولد أو يكون لك شريك فى الملك أو يكون لك ولي من الذل و كبره تكبيرا ، الله أكبر تكبيرا ، اللهم اغفرلنا اللهم ارحمنا

سلمان فارسیؓ ہمیں تکبیرات کے الفاظ کی تعلیم دیتے تھے ۔ وہ کہتے تم اللہ کی کبریائی بیان کرو ۔ یعنی بار بار اللہ اکبر کہو ( پھر یہ کلمات کہو ) اللهم أنت أعلى و أجل من أن تكون لك صاحبة أويكون لك ولي من الذل و كبره تكبيرا ، الله أكبر تكبيرا ، اللهم اغفرلنا ، اللهم ارحمنا .

اے اللہ! تو اس سے بالا و برتر ہے کہ تیری بیوی ہو یا تیری اولاد ہو یا بادشاہت میں تیرا کوئی شریک ہو یا کمزوری میں تیرا کوئی مددگار ہو اور اس کی خوب بڑائی بیان کرو اللہ واقعی سب سے بڑا ہے اے اللہ! ہمیں معاف فرما ہم پر رحم فرما ۔
( مصنف عبدالرزاق : 11 ، 290 ، 20581 بیہقی : 3 ، 316 اسنادہ صحیح حافظ ابن حجر نے اس اثر کو باعتبار سند صحیح ترین قرار دیا ہے ۔ فتح الباری : 2 ، 595 )


ضعیف آثار :
……………؛

اس بارے میں صحابہ کرامؓ سےبعض روایات بھی مروی ہیں جیسا کہ

( 1 ) عبداللہ بن مسعودؓ ایام تشریق میں ان الفاظ میں
الله أكبر ، الله أكبر ، لا إله إلا الله و الله أكبر ، و لله الحمد
تکبیرات کہتے تھے ۔
( مصنف ابن ابی شیبہ : 5632 اسنادہ صحیح... ابواسحاق سبیعی کی تدلیس ہے )

( 2 ) شریک بن عبد اللہ قاضی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو اسحاق سبیعی سے پوچھا کہ علیؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ تکبیرات کیسے کہتے تھے؟ انہوں نے بیان کیا کہ یہ دونوں حضرات ( ان الفاظ میں )
الله أكبر ، الله أكبر ، لا إله إلا الله ، و الله أكبر ، و لله الحمد
تکبیرات کہا کرتے تھے ۔
( مصنف ابن ابی شیبہ : 5652 اسنادہ ضعیف...شریک بن عبداللہ قاضی سیئ الحفظ ہے )

الغرض چونکہ کتاب و سنت میں تکبیرات کے مخصوص الفاظ وارد نہیں ہیں اس لئے صحیح آثار صحابہ سے ثابت تکبیرات کے الفاظ کا اہتمام کرنا ہی افضل ہے تاہم ضعیف روایت اور آثار میں مذکور الفاظ کا اہتمام کرنا بھی جائز ہے کیونکہ اس سے اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا مقصود پورا ہو جاتا ہے ۔

محدث لاہور اکتوبر 2011ء
عشرہ ذوالحجہ کے فضائل و مسائل
محقق شیخ الحدیث مولانا فاروق رفیع
جامعہ اسلامیہ لاہور

.
 
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
429
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
79
.

تکبیرات عیدین کے الفاظ


سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عیدین کی تکبیرات جس کے الفاظ یہ ہیں:

"الله اكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة واصيلا ً۔

اس تکبیر میں کیا حرج ہے ؟ اس کی وضاحت کریں
(ابو طلحہ حافظ ثناء اللہ شاہد القصوری )


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میرے علم کے مطابق یہ الفاظ ، تکبیرات عیدین میں ثابت نہیں البتہ نماز میں ضرور ثابت ہیں

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا :الله اكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة واصيلا"

تو اپ ﷺ نے پوچھا یہ کلمات کس نے کہے ہیں ؟اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے، تو آپ نے فرمایا: مجھے ان ( کلمات ) کے لیے تعجب ہے ،ان کے لیے آسمان لے دروازے کھل گئے ہیں( صحیح مسلم کتاب المساجد باب مایقال بین تکبیرۃ الاحرام والقراۃ ح 601)

تکبیرات عیدین میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے "الله اكبر كبيرا الله اكبر كبيرا واجل ‘الله اكبر ولله الحمد "اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے " الله اكبر الله اكبر كبيرا کے الفاظ ثابت ہیں ۔ ( دیکھئے ابن ابی شیبہ 2/168 ح5645 السنن الکبری اللبیہقی 3/316)

اس سلسلے میں مرفوعا " الله اكبر ّالله اكبر ‘لااله الاالله والله اكبر ‘الله اكبر ولله الحمد " کے الفاظ جو سنن دارقطنی (2/49ح1721) کی روایت میں آئے ہیں وہ روایت عمرو بن شمر( کذاب ) وغیرہ کی وجہ سے موضوع ہے ۔

اسے حافظ ذہبی نے سخت ضعیف بلکہ مو ضوع ( من گھڑت ) کہا ہے ۔ لیکن یاد رہے کہ یہ الفاظ ابراہیم نخعی سے باسند صحیح ثابت ہیں ۔

( دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (2/167ح 5649 وسندہ صحیح ( شہادت ، نومبر 2001)

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

علامہ زبیر علی زئی
فتاوی علمیہ
جلد 1 ۔ كتاب الدعاء ۔ صفحہ 479
محدث فتویٰ

.
 
Top