• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سلسلہ فتاوی علمائے اھل حدیث

شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
10
پوائنٹ
62
لوگوں کے استفسارات اور علماء کے جوابات کو مرتب کیا گیا ہے اس سے عام لوگوں کے لیے دین کی فہم حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے اور یہ فتاوی فی ذاتھا حجت نہیں ہیں اگر یہ قرآن مجید اور حدیث کی فہم کے مطابق ہوں گے تو مقبول وگرنہ غیر مقبول لہذا دین میں اضافہ نہیں
بھائی فتویٰ دینے کی بجائے قرآن و احادیث کی طرف رجوع کا کیوں نہیں کہہ دیا جاتا؟
ہر کوئی قرآن حدیث پڑھے سمجھے اور اس پر عمل کرے۔
 
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
10
پوائنٹ
62
خضر حیات صاحب اگر میرا مراسلہ ’غیر متعلق‘ تھا تو پھر ان دو حضرات نے جواب کیوں لکھا؟
کیا یہ علم والے نہیں؟
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,233
پوائنٹ
402
بھائی فتویٰ دینے کی بجائے قرآن و احادیث کی طرف رجوع کا کیوں نہیں کہہ دیا جاتا؟
ہر کوئی قرآن حدیث پڑھے سمجھے اور اس پر عمل کرے۔
اگر ان فتاوی کے بارے میں یہ کہا جائے کہ قرآن و حدیث کی طرف رجوع کا کیوں نہیں کہا جاتا تو پھر تو معاملہ ہی ختم ہو جاتا ہے کہ صحابہ ، تابعین ، محدثین و فقہاء کے فتاوی و علمی جہود سب ختم ، براہ راست سب قرآن مجید کی طرف مراجعہ کریں
اصل بات صرف اتنی ہے کہ یہ لوگوں کے سوالات پر جوابات ہیں اور یہ جوابات بھی قرآن مجید اور احادیث کی بنیاد پر دیے گئے ہیں اپنی ذاتی رائے پر نہیں ، قیاس آرائیاں نہیں ہیں
 
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
10
پوائنٹ
62
اگر ان فتاوی کے بارے میں یہ کہا جائے کہ قرآن و حدیث کی طرف رجوع کا کیوں نہیں کہا جاتا تو پھر تو معاملہ ہی ختم ہو جاتا ہے کہ صحابہ ، تابعین ، محدثین و فقہاء کے فتاوی و علمی جہود سب ختم ، براہ راست سب قرآن مجید کی طرف مراجعہ کریں
اصل بات صرف اتنی ہے کہ یہ لوگوں کے سوالات پر جوابات ہیں اور یہ جوابات بھی قرآن مجید اور احادیث کی بنیاد پر دیے گئے ہیں اپنی ذاتی رائے پر نہیں ، قیاس آرائیاں نہیں ہیں
سوال پوچھنے والے انہی نصوص کی طرف رجوع کیوں نا کریں جن سے یہ فتاویٰ دیئے جا رہے؟
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,695
ری ایکشن اسکور
757
پوائنٹ
290
کاش ہر مسلمان اتنا فہم و ادراک کا حامل هو پاتا ۔ آہ آج هم میں کوئی بهی فقہی اختلاف نا ہوتا ۔ اگر رہ جاتا فرق امت تو صرف عقائدمیں ہی رہ جاتا ۔ همارا تو حال اتنی صدیوں کے بعد یہ هیکہ عربی زبان سے ہم سمجه ہی نا سکے اور صد حیف کہ اردو سے سمجهنا بهی نہیں چاہتے ۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,233
پوائنٹ
402
سوال پوچھنے والے انہی نصوص کی طرف رجوع کیوں نا کریں جن سے یہ فتاویٰ دیئے جا رہے؟
میں آپ سے کچھ سوالات کروں گا تو آپ نے ان کے جوابات انہی نصوص کی مدد سے دینے ہیں
اگر آپ اتفاق کرتے ہیں تو میں سوالات لکھوں ؟؟؟
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,233
پوائنٹ
402
اور یہ بات واضح رہے کہ جواب صرف نصوص پر مشتمل ہو آپ اپنی رائے نہیں بیان کریں گے
 
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
10
پوائنٹ
62
کاش ہر مسلمان اتنا فہم و ادراک کا حامل هو پاتا ۔ آہ آج هم میں کوئی بهی فقہی اختلاف نا ہوتا ۔ اگر رہ جاتا فرق امت تو صرف عقائدمیں ہی رہ جاتا ۔ همارا تو حال اتنی صدیوں کے بعد یہ هیکہ عربی زبان سے ہم سمجه ہی نا سکے اور صد حیف کہ اردو سے سمجهنا بهی نہیں چاہتے ۔
میں آپ سے کچھ سوالات کروں گا تو آپ نے ان کے جوابات انہی نصوص کی مدد سے دینے ہیں
اگر آپ اتفاق کرتے ہیں تو میں سوالات لکھوں ؟؟؟
اور یہ بات واضح رہے کہ جواب صرف نصوص پر مشتمل ہو آپ اپنی رائے نہیں بیان کریں گے
آپ لوگوں کی بات سے جو مین سمجھ پایا ہوں وہ یہ کہ؛
ہر آدمی میں اتنا ملکہ نہیں ہوتا کہ وہ نصوص سے مسائل اخذ کر سکے۔
اس کو کسی ایسے شخص کی بات کو ماننا ہوگا جو اس پر قادر ہو۔
پوچھنا یہ ہے کہ جو شخص نصوص سے مسائل اخذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اسے نصوص سے دلائل دینا فائدہ مند ہوگا؟
خصوصاً آج کل کے حالات میں کہ علمائے حق اور علمائے سوء میں امتیاز کرنا ہی مشکل ہو چکا۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,233
پوائنٹ
402
آپ لوگوں کی بات سے جو مین سمجھ پایا ہوں وہ یہ کہ؛
ہر آدمی میں اتنا ملکہ نہیں ہوتا کہ وہ نصوص سے مسائل اخذ کر سکے۔
اس کو کسی ایسے شخص کی بات کو ماننا ہوگا جو اس پر قادر ہو۔
پوچھنا یہ ہے کہ جو شخص نصوص سے مسائل اخذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اسے نصوص سے دلائل دینا فائدہ مند ہوگا؟
خصوصاً آج کل کے حالات میں کہ علمائے حق اور علمائے سوء میں امتیاز کرنا ہی مشکل ہو چکا۔
میرے بھائی ہم یہ کوشش تو کریں گے کہ عام آدمی کو نصوص کی فہم کا ذوق دیں تاکہ کم از کم وہ کسی عالم دین سے مسئلہ پوچھے تو دلیل کی بنیاد پر سمجھ سکے نہ کہ تقلید کی بنیاد پر کہ جو کچھ مولوی صاحب نے کہہ دیا وہ کافی ہے
 
Top