• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنت کا تعارف

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سنت کا تعارف

سنت کا لغوی مفہوم
سنت کا لفظ سَنَّ یَسِنُّ سَنٌّ سے بطور اسم ماخوذ ہے۔ سَن کا معنی ہے کسی شے کا آسانی سے چلنا۔ پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے ہونا۔ (لسان العرب ومقاییس اللغۃ: مادہ: س ن ن) ابن فارس لکھتے ہیں: یہ لفظ ایک ہے مگر عربی زبان میں اس کے کئی معانی ہیں جن کا مرجع ایک ہی لفظ سن ہے۔
السِّیْنُ وَالنُّونُ أَصْلٌ وَاحِدٌ مُطَّرَدٌ یَدُلُّ عَلَی جَرَیَانِ الشَّئِ بِالسُّہُوْلَۃِ
س اور ن جس لفظ کی بنیاد ہو اس کے معنی میں کسی بھی شے کا بسہولت جاری و ساری رہنا ہوا کرتا ہے۔
لفظ سنت عربوں کے اس قول سے لیا گیا ہے: سَنَنْتُ الْمَائَ عَلَی وَجْہٍ أَسُنُّہُ سَناًّ: میں نے پانی کو ایک راستہ دے کر چلایا۔ یعنی جب اسے میں نے چھوڑ دیا۔ اسی سے لفظ سنت مشتق ہے۔ جس کا مطلب ہے: راستہ یا طریقہ۔
خالد بن عتبہ الہندلی کہتا ہے:
فَلاَ تَجْزَعَنْ مِنْ سِیْرَۃٍ أَنْتَ سِرْتَہَا وَأَوَّلُ رَاضٍ سُنَّۃَ مَنْ یَسِیْرُہَا
اس سیرت پر اب جزع فزع مت کرو جس پہ تم چلے جو ایسے راستوں پر چلتا ہے وہ اس سے ابتداءََ راضی ہوتا ہے۔
سیدنا حسان ؓبن ثابت کا شعر(دیوان حسان ۲۰۴) میں ہے:
إِنَّ الذَّوَائِبَ مِنْ فِہْرٍ وَإِخْوَتِہِمْ قَدْ بَیَّنُوْا سُنَّۃً لِلنَّاسِ تُتَّبَعُ
قبیلہ فہر کے بھیڑیوں نے اور ان کے بھائیوں نے لوگوں کو ایک ایسا راستہ بتا دیا ہے جسے وہ اپنا رہے ہیں۔
سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کا (شرح المعلقات: ۲۲۷) میں شعر ہے:
مِنْ مَعْشَرٍ سَنَّتْ لَہُمْ آبَائُ ہُمْ وَلِکُلِّ قَوْمٍ سُنَّۃٌ وَإِمَامُہَا
کتنے گروہ ہیں جن کے لئے ان کے آباء نے طریقے چھوڑ دیئے اور ہر قوم کا ایک طریقہ ہوتا ہے اور اس کا امام بھی۔
لغت میں سنت وہ طریقہ یا چال چلن جس پر انسان بڑے محتاط طریقے سے چلے اور عمل کرے۔ خواہ وہ عادت و سیرت اچھی ہو یا بری۔ اس کی جمع سُنَن یا سَنَن آتی ہے۔ عموماً یہ لفظ اچھے مفہوم میں مستعمل ہوتا ہے مگر برے مفہوم کے لئے مقید ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہُ أَجْرُھَا وَ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا إِلٰی یومِ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّۃً فِی الْإسْلَامِ سَیِّئَۃً فَعَلَیْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُمَنْ عَمِلَ بِھَا ِإلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ
(صحیح مسلم) جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کا بھی اجر ملے گا جو قیامت تک اس پر عمل کرے گا اور جس نے اسلام میں برا طریقہ جاری کیا اس پر اس برائی کا گناہ بھی ہو گا اور اس کا گناہ بھی جو قیامت تک اس پر عمل کرے گا۔
علاوہ ازیں یہ لفظ بمعنی عادت کے بھی ہے:
سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ۔۔۔
سُنَّۃَ مَنْ قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ رُّسُلِنَا۔۔(الإسراء: ۷۷) یعنی جنہوں نے ہمارے رسولوں کا کفر کیا ان کے بارے میں ہماری یہی عادت رہی ہے اور انہوں نے اپنے درمیان سے رسول کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا تو ان پر ہمارا عذاب آتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سنت، قرآن میں

لفظ سنت مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
قرآن مجید میں یہ لفظ پسندیدہ و مختار راستہ کے معنی ہی میں استعمال ہوا ہے مثلاً:
سُنَّۃَ مَنْ قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ رُّسُلِنَا۔۔ ( الإسراء:۷۷) یہی وہ راستہ ہے جس پر ہم نے آپ سے قبل اپنے رسولوں کو بھیجا۔
آیات قرآنیہ میں سنت کا مفہوم:
مثلاً: کفار کے بارے میں کڑھنا اور متفکر رہنا یہ سنت رسول ہے۔
لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ أَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ (الشعراء: ۳) شاید آپ اپنے آپ کو گھلا دیں گے کہ یہ مومن کیوں نہیں ہو رہے۔
ساتھی کو مستقبل کا فکر نہ کرنے اور رب پر بھروسہ کی تسلی دینا یہ بھی سنت ہے۔
إذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہِ لَا تَحْزَنْ إنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔۔ جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے مت غم کر بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔
رب کریم کے احسانات اور انعامات کا ذکر کرنا بھی سنت رسول ہے۔
فَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ تو اپنے رب کے انعامات کو بیان و ظاہر کیجئے۔
رسول کا رات کو قیام کرنا، نمازیوں میں آپ کا اٹھنا بیٹھنا اور تادم آخر اللہ کی عبادت پر جمے رہنا یہ بھی سنت رسول ہے۔
الَّذِیْ یَرَاکَ حِیْنَ تَقُوْمُ، وَتَقَلُّبُکَ فِی السَّاجِدِیْنَ وہ جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم قیام کرتے ہو اور سجدہ کرنے والوں کے ساتھ تم بھی ہوتے ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حدیث میں لفظ سنت

بطور قانون اور دین کا اصل مصدر استعمال ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
تَرَکْتُ فِیْکُمْ أَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَھُمَا: کِتَابُ اﷲِ وَ سُنَّتِیْ۔“ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ان کے ہوتے ہوئے تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔

النِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔ نکاح کرنا میری سنت ہے جو بھی اس سے منہ موڑے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔
نکاح میں گواہ، حق مہر اور ولی کی موجودگی ہوتی ہے نیز یہ علانیہ ہوتا ہے جبکہ زنا، متعہ یا حلالہ میں کوئی شے بھی ان میں سے نہیں ہوتی اس لئے یہ ممنوع اور حرام ہے۔ یہ بھی سنت سے ہی ثابت ہے۔ اسی طرح اپنی طرف سے کسی اچھے اور بھلے طریقے کو سنت قرار دینا بھی غلط ہے۔
صحیح بخاری (ح: ۸۹۸) میں ہے:
آپ ﷺ نے عید الأضحی کے دن ترتیب میں نماز کو پہلے اور قربانی کو بعد میں رکھا ہے اور فرمایا:
جس نے ہماری ترتیب پر عمل کیا فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا۔ اس نے یقیناً ہماری سنت پر عمل کیا۔
(ح: ۱۵۵۰) میں ہے:
حج کے موقع پر حجاج کو سیدنا ابن عمرؓ نے فرمایا:
إِنْ کّنْتَ تُرِیدُ السُّنَّۃَ۔۔۔۔ اگر سنت پر عمل کا ارادہ ہے تو خطبہ مختصر کرو اور وقوف میں جلدی کرو۔
(ح: ۱۴۶۱) میں ہے:
سیدنا عثمانؓ نے حج تمتع سے منع فرمایا تو سیدنا علیؓ نے حج تمتع کا احرام باندھا اور فرمایا:
میں کسی کے قول پر سنت رسول کو نہیں چھوڑ سکتا۔
(ح: ۳۷۶) میں ہے:
سیدنا حذیفہ ؓ نے جلد باز نمازی کو دیکھ کر فرمایا:
تو ایسی نماز پڑھتے پڑھتے مر گیا تو تیری موت سنت رسول پر نہیں ہو گی۔
(ح: ۱۵۹۸) میں ہے :
ابن عمر ؓ نے ایک شخص کو جو اونٹ ذبح کر رہا تھا فرمایا:
اسے کھڑا کرکے اس کا گھٹنا باندھو اور سنت کے مطابق اسے نحر کرو۔
(ح: ۲۳۸۳) میں ہے:
آپ ﷺ نے اپنا مشروب دائیں طرف سے شروع کیا جبکہ بائیں طرف ابو بکر تشریف فرما تھے۔ انسؓ یہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
یہی سنت ہے۔ یہی سنت ہے۔ یہی سنت ہے۔
یہ چند نمونے ہیں کہ سنت کا اطلاق ۔۔علماء اسلاف۔۔ کے ہاں عمومی طور پر ہر اس قول و عمل اور تقریر رسول پر ہوا جو کفار کے مذہبی شعائر، عادات، کلچر، تہذیب یا جاہلی رسوم و عادات کے خلاف تھا۔ یہ شخصی مزاج نہیں اور نہ ہی قومی طرز معاشرت ہے کہ جس کا تعلق ایک خاص عہد کے تمدن سے ہو۔ اس لئے صحیح عقائد، عبادات و معاملات کے احکام، سیاسی، اجتماعی، اقتصادی ثقافتی، تربیتی، فکری، صلح و جنگ میں قومی اور بین الاقوامی قوانین و ضابطے حدیث رسول مہیا کرتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سنت خلفاء راشدین

سنت خلفائے راشدین رضی اﷲ عنہم: کو بھی آپ ﷺ نے سنت فرمایا ہے۔
فَاِنَّہُ مَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرَی اخْتِلاَفاً کَثِیْرًا فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ۔ (رواہ السنن واحمد)۔جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ لہٰذا تم میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین رضی اﷲ عنہم کی سنت کو تھامے رکھنا۔
ملا علی القاری ؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
خلفائے راشدین نے اصل میں آپ ﷺ ہی کی سنت پر عمل کیا اور ان کی طرف سنت کی نسبت یا تو اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اس پر عمل کیا یا اس لئے کہ انہوں نے آپ ﷺ کی سنت سے استنباط کر کے اس کو اختیار کیا۔ (مرقاۃ ج ا، ص: ۳۰)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سنت، کتاب اللہ بھی ہے

لفظ کتاب اللہ بھی اسی سنت کے معنی میں استعمال ہوا جس طرح سنت کا لفظ کتاب اللہ کے ساتھ مستعمل ہوا۔ مثلاً ایک شادی شدہ عورت اور غیر شادی شدہ نوجوان مزدور (عسیف) کا مقدمہ جب آپ ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا تو فرمایا:
وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَأَقْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَابِ اللّٰہِ جَلَّ ذِکْرُہُ۔ واللہ میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔
فیصلہ رجم کی سزا کا تھا جو مقدمہ کے فریقین نے قبول کیا۔ مگر کیا یہ فیصلہ قرآن کریم میں ہے؟ نہیں! بلکہ احادیث میں ہے جو عین کتاب اللہ اور منشأ الٰہی کے مطابق ہے۔ اس لئے اسے آپ ﷺ نے خود کتاب اللہ سے تعبیر کیا۔ آپ ﷺ کے فیصلے سے قبل یہی سزا دیگر صحابہ بھی اسے بتاتے رہے جو انہیں معلوم تھی۔ ورنہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہو گی کہ صرف حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ سے قرآن کریم ہی مراد لیا جائے کیونکہ اس سے سارے ذخیرہ ٔحدیث کا انکار ہوتا ہے اور کسی کو محروم کرنا بھی مراد ہے۔ شیخ عبد الرحمن کیلانی ؒ لکھتے ہیں: صحابہ کرام رسول اکرم ﷺ سے کتاب اللہ کا مفہوم جان چکے تھے کہ اس سے مراد شریعت کے وہ تمام عقائد و احکام ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرما دیئے ہیں۔
٭… اُم المؤمنین نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کرنا چاہا۔ سیدہ بریرہ ؓ کے مالک نے حق تولیت اپنے پاس رکھنے کی شرط لگا دی۔ آپ ﷺ کے علم میں جب یہ بات آئی تو خطبہ عام دیا اور فرمایا:مَا بَالُ النَّاسِ یَشْتَرِطُونَ شُرُوْطاً لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللّٰہِ۔۔ لوگ کیوں ایسی شروط رکھتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں۔ مگر کیا یہ شرط اَلْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ تولیت اسی کی ہو گی جو آزاد کرے گا۔ قرآن کریم میں ہے؟ کتاب اللہ سے مراد کیا یہی مجلد کتاب ہے یا اس سے مراد آپ ﷺ نے وہ شریعت لی جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی تھی؟ صحابۂ رسول نے بھی یہی سمجھا۔ اس لئے بریرہ رضی اللہ عنہا کا حق تولیت ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہی آپ ﷺ نے دیا اس لئے کہ اسے خرید کر آزاد کرنے والی وہی تھیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الشروط)
٭… سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی صحابہ رسول اور نئی نسل کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا: الرَّجْمُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ حَقٌّ مَنْ زَنٰی إِذَا أُحْصِنَ جب شادی شدہ زنا کرے تو اس کے لئے رجم کی سزا کتاب اللہ سے واقعتاً ثابت ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب المحاربین، باب رجم الحبلی)۔ مگرکیا رجم کا حکم کتاب اللہ میں ہے؟ اس لئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ پر تبسم بکھیرنے کی ضرورت نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک باب باندھ کر یوں واضح کیا ہے۔ بَابُ الْمُکَاتَبِ وَمَا لاَیَحِلُّ مِنَ الشُّروطِ الَّتِی تُخَالِفُ کِتَابَ اللّٰہِ۔ مکاتب اور ایسی شروط جو کتاب اللہ کی رو سے ناجائز ہیں۔
٭… ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کی بیماری نے شدت اختیار کر لی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
اِیْتُوْنِیْ بِکِتَابٍ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لاَ تَضِلُّوْا بَعْدَہُ میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ میں تمہیں کچھ تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو سکو۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم ﷺ پر بیماری کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے۔حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ یہ ہمارے لئے کافی ہے۔ لوگ آپس میں بحث و تکرار کرنے لگے۔ نبی کریم ﷺ کو یہ بحث ناگوار گذری۔ فرمایا: قُوْمُوْا عَنِّیْ لاَ یَنْبَغِیْ عِنْدِی التَّنَازُعُ۔ یہاں سے اٹھ جاؤ میرے پاس ایسی بات مناسب نہیں۔ سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:
إنَّ الرَّزِیْئَۃَ کُلَّ الرَّزِیْئَۃِ مَا حَالَ بَیْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَبَیْنَ کِتَابِہِ۔ نبی کریم ﷺ اور ان کی طرف سے تحریر کے درمیان حائل ہونا انتہائی افسوسناک بات تھی۔ (صحیح بخاری: ۱۴۴)
سیدنا عمر ؓ نے کہا تھا: أَہَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ؟(صحیح مسلم) کیا نبی کریم ﷺ کوئی نامعقول بات کہہ سکتے ہیں؟ مراد یہ کہ ہرگز نہیں۔ اگر یہ بات غلط ہوتی تو آپ ﷺ سیدنا عمرؓ کی اصلاح فرما کے انہیں خاموش کرا دیتے۔ اس لئے ان کی اس رائے کو آپ ﷺ نے برقرار رکھا ورنہ حتمی ارادہ ہوتا تو آپ ضرور وہ تحریر لکھوا دیتے۔
رسول اکرم ﷺ حال صحت و حالت مرض کسی صورت میں بھی شرعی احکام تبدیل نہ کر سکتے تھے۔ اور نہ ہی اپنے فرائض منصبی میں کوئی کوتاہی کر سکتے تھے۔ آپ ﷺ کے بیمار ہو جانے سے نہ تو آپ ﷺ کے مرتبے میں کوئی فرق پڑ سکتا تھا اور نہ ہی شریعت میں کوئی نقص پیدا ہو سکتا تھا۔
وہ کتابت آپ کیا کروانا چاہتے تھے؟ اس بارے میں سبھی اندازے ہیں یا بدگمانیاں۔ کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس لئے نہ لکھوانے کا فیصلہ بھی وحی کے مطابق ہوا اور لکھوانے کا پہلا حکم منسوخ ہو گیا۔
سوال یہ ہے کہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے یہ جملہ کیوں ارشاد فرمایا؟ کیا یہ ان کی فراست اور دقت نظر نہ تھی کہ کچھ لکھوانے کے بعد اگر امت اس پر عمل نہ کر سکی تو وہ لائق سزا ہو گی۔ نیز آپ ﷺ کا لکھا ہوا نص ہو جاتا جس میں اجتہاد کی گنجائش باقی نہ رہتی۔ یہ تھا ان کا دین کے بارے میں کامل یقین کہ امت اب گمراہ نہیں ہو سکتی۔ اس لئے انہوں نے نبی کریم ﷺ کا بوجھ گھٹانے کی کوشش کی۔ یہی ان کی فقاہت تھی۔ اس لئے اس واقعے پر نہ کوئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر خفا ہوا اور نہ ہی کسی نے خوشی کا اظہار کیا۔
٭… دیگر فقہاء کرام بھی کتاب اللہ کے مفہوم سے مراد سارا دین اور بالخصوص رسول اکرم ﷺ کا فرمایا ہوا حکم و فیصلہ ہی لیتے ہیں۔ صحابہ کرام بھی رسول اکرم ﷺ سے کتاب اللہ کا مفہوم جان چکے تھے کہ اس سے مراد شریعت کے وہ تمام عقائد و احکام ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرما دیئے ہیں۔ بے شمار خطبات میں آپ ﷺ نے کتاب اللہ کے الفاظ ارشاد فرمائے اور ان کا یہی مفہوم صحابہ کرام کو باور کرایا۔ (فتنہ پرویزیت: ۱۴۱)
٭… اس لئے جو کام اللہ و رسول کے تھے صحابہ کرام نے انہیں اپنے ہاتھ نہیں لیا بلکہ ان کی حدود میں رہنے کی کوشش کی۔ اپنی رائے دینے میں بہت محتاط تھے۔ چہ جائیکہ وہ قرآن کریم سے سارے مطالب لے کر اس کی اصطلاحات تک بدل دیں۔ اس سوچ نے غالباً انہیں یہ جرات بھی دی کہ نص کے خلاف کسی کا کوئی فیصلہ یا حکم سنا تو برملا اس کی اصلاح چاہی یا کر دی۔ خلیفہ راشد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دیئے ہوئے آرڈینینس کو ان کے بیٹے عبد اللہ بن عمر نے یہ کہہ کر رد کر دیا تھا: مَنْ أَبِی؟ آپ ﷺ کی اجازت اگر حج تمتع کے بارے میں ہے تو میرا باپ کون ہوتا ہے؟ جو اسے منع کرے (مسند احمد)
منبر پر جب مجمع عام میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حقِ مہر زیادہ دینے پر منع فرمایا تو خواتین کی مجلس میں بیٹھی ایک خاتون نے برملا کہا: عمر! اگر اللہ اس کی اجازت دیتا ہے تو آپ کون ہیں اسے روکنے والے؟ سنتے ہی فرمایا: أَصَابَتِ امْرَأَۃٌ وَأَخْطَأَ عُمَرُ۔ عورت نے درست بات کہی اور عمر سے غلطی ہو گئی۔ رضی اللہ عنہ۔
جمہور فقہاء اس رائے، قیاس یا اجماع کو تسلیم ہی نہیں کرتے جو سنت کے مخالف ہو۔ اس لئے امام مالک رحمہ اللہ کا اصول عمل اہل مدینہ ہی صحیح حدیث پر ترجیح پائے گا علماء موالک نے اس کی بہت سی تعبیرات پیش کی ہیں یہی حال اس اجماع کو تسلیم نہ کرنے کا ہے جو فقہاء اربعہ کے نام سے ان کے بعد نام پا گیا۔ اس لئے من مانے مفہوم کو اخذ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی چہ جائے کہ اسے شریعت مانا جائے۔

حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم - حقیقت، اعتراضات اور تجزیہ
 

abulwafa80

رکن
شمولیت
مئی 28، 2015
پیغامات
64
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
57
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا کسی عمل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار کیا ہو
تو کیا سے بہی سنت کہا جا سکتا ہے؟

جیسے بلا سر دھاکے بلا ٹوپی عمامہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو کیا وہ بہی سنت ہے یا نہی؟
 
Top