• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
27- بَاب الأَمَلِ وَالأَجَلِ
۲۷- باب: انسان کی آرزو اور عمر کا بیان​


4231- حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي يَعْلَى، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ خَطَّ خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطًّا وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، وَخُطُوطًا إِلَى جَانِبِ الْخَطِّ الَّذِي وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، وَخَطًّا خَارِجًا مِنَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ فَقَالَ: " أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذَا الإِنْسَانُ الْخَطُّ الأَوْسَطُ، وَهَذِهِ الْخُطُوطُ إِلَى جَنْبِهِ الأَعْرَاضُ تَنْهَشُهُ أَوْ تَنْهَسُهُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ، فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا، أَصَابَهُ هَذَا، وَالْخَطُّ الْمُرَبَّعُ الأَجَلُ الْمُحِيطُ، وَالْخَطُّ الْخَارِجُ الأَمَلُ "۔
* تخريج: خ/الرقاق ۴ (۶۴۱۷)، ت/صفۃ القیامۃ ۲۲ (۲۴۵۴)، (تحفۃ الأشراف ۹۲۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۵)، دي/الرقاق ۲۰ (۲۷۷۱) (صحیح)
۴۲۳۱- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک چوکور لکیر کھینچی، اور اس کے بیچ میں ایک لکیر کھینچی ، اور اس بیچ والی لکیر کے دونوں طرف بہت سی لکیریں کھینچیں ، ایک لکیر چوکور لکیر سے باہر کھینچی اور فرمایا:'' کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے '' ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ،آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ درمیانی لکیر انسان ہے، اور اس کے چاروں طرف جو لکیریں ہیں وہ عوارض (بیماریاں ) ہیں، جو اس کو ہر طرف سے ڈستی یانوچتی اور کاٹتی رہتی ہیں، اگرایک سے بچتا ہے تو دوسری میں مبتلا ہو جاتا ہے، چوکور لکیر اس کی عمر ہے ، جس نے احاطہ کر رکھا ہے اور باہر والی لکیر اس کی آرزو ہے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : آدمی اپنی عمر سے زیادہ آرزو کرتا ہے، اور ایسے بندو بست کرتا اور ایسی عمارت بنا تا ہے جن کے مکمل ہو نے سے پہلے ہی اس کی عمر گزر جاتی ہے۔


4232- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " هَذَا ابْنُ آدَمَ، وَهَذَا أَجَلُهُ، عِنْدَ قَفَاهُ " وَبَسَطَ يَدَهُ أَمَامَهُ، ثُمَّ قَالَ: " وَثَمَّ أَمَلُهُ "۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۲۲ (۲۳۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۹)، وقد أخرجہ: خ/الرقاق ۴ (۶۴۱۸)، حم (۳/۱۲۳، ۱۳۵، ۱۴۲، ۲۵۷) (صحیح)
۴۲۳۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' یہ ابن آدم (انسان) ہے اور یہ اس کی موت ہے ، اس کی گردن کے پاس، پھراپنا ہاتھ آگے پھیلا کر فرمایا: ''اور یہاں تک اس کی آرزوئیں اور خواہشات بڑھی ہوئی ہیں '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : حدیث کامطلب یہ ہے کہ پہلے آپ نے قد آدم تک اشارہ کیا کہ یہ آدمی ہے پھر ذرا کم کرکے بتلایا کہ یہ اس کی عمر ہے پھر اس سے بڑھا کر بتلایا کہ یہ آرزو ہے ، یعنی اس کی عمر سے بہت بڑھی ہوئی ہے۔


4233- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ فِي حُبِّ اثْنَتَيْنِ: فِي حُبِّ الْحَيَاةِ وَكَثْرَةِ الْمَالِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۴۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۱۳)، وقد أخرجہ: خ/الرقاق ۵ (۶۴۲۱)، ت/الزھد ۲۸ (۲۳۳۸)، حم (۲/۳۵۸، ۳۹۴، ۴۴۳، ۴۴۷) (صحیح)
۴۲۳۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے: زندگی کی محبت اور مال کی زیادتی کی محبت میں ''۔


4234- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا أَبُوعَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ "۔
* تخريج: م/الزکاۃ ۳۸ (۱۰۴۷)، ت/الزھد ۲۸ (۲۳۳۹)، (تحفۃ لأشراف: ۱۴۳۴)، وقد أخرجہ: خ/الرقاق ۵ (۶۴۲۱)، حم (۳/۱۱۵، ۱۱۹، ۱۶۹، ۱۹۲، ۲۵۶، ۲۷۶) (صحیح)
۴۲۳۴- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' ابن آدم (انسان) بوڑھا ہوجاتا ہے، اور اس کی دوخواہشیں جوان ہو جاتی ہیں : مال کی ہوس ،اور عمر کی زیادتی کی تمنا ''۔


4235- حَدَّثَنَا أَبُومَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " لَوْ أَنَّ لابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ، لأحَبَّ أَنْ يَكُونَ مَعَهُمَا ثَالِثٌ، وَلا يَمْلأُ نَفْسَهُ إِلا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۴۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۱۴) (صحیح)
۴۲۳۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' اگر ابن آدم (انسان) کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ یہ تمنا کرے گا کہ ایک تیسری وادی اور ہو، مٹی کے علاوہ اس کے نفس کو کوئی چیز نہیں بھر سکتی ، اور اللہ تعالی جس کو چاہتا ہے اس کی توبہ قبول کرتا ہے ''۔


4236- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ، وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ "۔
* تخريج: ت/الزھد ۲۳ (۲۳۳۱)، الدعوات ۱۰۲(۳۵۵۰)، (تحغۃ الأشراف: ۱۵۰۳۷) (حسن صحیح)
۴۲۳۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میری امت کے اکثر لوگوں کی عمر ساٹھ سا ل سے سّتر کے درمیان ہوگی، اور بہت کم لوگ اس سے آگے بڑھیں گے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : اب حساب کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ فی لاکھ ایک آدمی اسی۸۰ برس کی عمر تک پہنچتا ہے اور فی کروڑ ایک آدمی سوبرس کی عمر تک پہنچتا ہے اور اوسط عمر انسان کی ۳۵ سال کی رکھی گئی ہے، بھلا اتنی تھوڑی سی مدت کے لئے یہ جھگڑے ،اور قصہ کرنا چار دن کی زندگی اور ہزاروں برس کا بندو بست نری حماقت ہی حماقت ہے،مسلمانو! ذرا آنکھیں کھولو اور غور کرو، اگر تمہاری آنکھ کھل جائے تو رات دن ذکر الہی اور عزلت اور گوشہ نشینی میں گزاروگے، اور صرف ضرورت کے مطابق دنیا پر قناعت کروگے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
28- بَاب الْمُدَاوَمَةِ عَلَى الْعَمَلِ
۲۸- باب: نیک کام کو ہمیشہ کرنے کی فضیلت کابیان​


4237- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُوالأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ ﷺ، مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَكَانَ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَيْهِ، الْعَمَلُ الصَّالِحُ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم: (۱۲۲۵) (صحیح)
۴۲۳۷- ام المو منین امّ سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ا س ذات کی قسم جس نے نبی اکرم ﷺ کو موت دی ، آپ نے انتقال نہیں فرمایا یہاں تک کہ آپ کی اکثر صلاۃ بیٹھ کر ہو تی تھی، اور آپ کو سب سے زیادہ محبوب وہ نیک عمل تھا جس کو بندہ پابندی سے کرتا ہے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : جو کام ہمیشہ کیا جائے گر چہ وہ روزانہ تھوڑا ہی ہو وہی بہت ہو جاتا ہے ، اور جو بہت کیا جائے لیکن ہمیشہ نہ کیا جا ئے وہ تھوڑا ہی رہتا ہے ۔


4238- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ ﷺ، فَقَالَ: " مَنْ هَذِهِ " قُلْتُ: فُلانَةُ، لا تَنَامُ (تَذْكُرُ مِنْ صَلاتِهَا) فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " مَهْ، عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ! لا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا " قَالَتْ: وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينَ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ ۔
* تخريج: م/المسافرین ۳۲ (۷۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۲۱)، وقد أخرجہ: خ/الإیمان ۳۳ (۴۳)، التہجد ۱۸ (۱۱۵۱)، ن/قیام اللیل ۱۵ (۱۶۴۳)، الإیمان ۲۹ (۵۰۳۸)، ، ط/قصرالصلاۃ ۲۴ (۹۰) حم (۶/۵۱) (صحیح)
۴۲۳۸- ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت (بیٹھی ہوئی) تھی ، نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے، اور پوچھا: ''یہ کون ہے '' ؟ میں نے کہا :یہ فلاں عورت ہے، یہ سوتی نہیں ہے( صلاۃ پڑھتی رہتی ہے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : '' چپ رہو تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے کی تمہیں طاقت ہو، اللہ کی قسم !اللہ تعالی نہیں اکتاتا ہے یہاں تک کہ تم خود ہی اکتاجائو ''۔
ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ''آپ ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس کو آدمی ہمیشہ پابندی سے کرتا ہے''۔


4239- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ التَّمِيمِيِّ الأُسَيِّدِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَذَكَرْنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، حَتَّى كَأَنَّا رَأْيَ الْعَيْنِ، فَقُمْتُ إِلَى أَهْلِي وَوَلَدِي، فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ، قَالَ: فَذَكَرْتُ الَّذِي كُنَّا فِيهِ، فَخَرَجْتُ، فَلَقِيتُ أَبَابَكْرٍ، فَقُلْتُ: نَافَقْتُ، نَافَقْتُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّا لَنَفْعَلُهُ، فَذَهَبَ حَنْظَلَةُ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ: " يَا حَنْظَلَةُ! لَوْ كُنْتُمْ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي، لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ (أَوْ عَلَى طُرُقِكُمْ) يَا حَنْظَلَةُ ! سَاعَةً وَسَاعَةً "۔
* تخريج: م/التوبۃ ۳ (۲۷۵۰)، ت/صفۃ القیامۃ ۲۰ (۲۴۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۷۸ا، ۳۴۶) (صحیح)
۴۲۳۹- حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اور ہم نے جنت اور جہنم کا ذکر اس طرح کیا گو یا ہم اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہے ہیں،پھر میں اپنے اہل وعیال کے پاس چلاگیا، اور ان کے ساتھ ہنسا کھیلا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی جو نبی اکرم ﷺ کے پاس تھی، میں گھر سے نکلا، راستے میں مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ مل گئے، میں نے کہا: میں منافق ہو گیا، میں منافق ہو گیا ، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہی ہمارابھی حال ہے ، حنظلہ رضی اللہ عنہ گئے اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس کیفیت کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا :'' اے حنظلہ ! اگر (اہل وعیال کے ساتھ) تمہاری وہی کیفیت رہے جیسی میرے پاس ہوتی ہے تو فرشتے تمہارے بستروں (یا راستوں) میں تم سے مصافحہ کریں ، حنظلہ ! یہ ایک گھڑی ہے، وہ ایک گھڑی ہے ''۔


4240- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ. فَإِنَّ خَيْرَ الْعَمَلِ أَدْوَمُهُ، وَإِنْ قَلَّ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۹۴۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۵۰) (صحیح)
(سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، اور ولید بنمسلم تدلیس التسویہ کرتے ہیں ، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے)
۴۲۴۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' تم خو د کو اتنے ہی کام کا مکلف کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیو نکہ بہترین عمل وہ ہے جس پر مداومت کی جا ئے ، خواہ وہ کم ہی ہو ''۔


4241- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الأَشْعَرِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي عَلَى صَخْرَةٍ، فَأَتَى نَاحِيَةَ مَكَّةَ، فَمَكَثَ مَلِيًّا، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَوَجَدَ الرَّجُلَ يُصَلِّي عَلَى حَالِهِ، فَقَامَ فَجَمَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " يَاأَيُّهَا النَّاسُ! عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ" ثَلاثًا " فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۲۵۷۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۱۶) (صحیح)
۴۲۴۱- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک چٹان پر صلاۃ پڑھ رہا تھا،آپ مکہ کے ایک جانب گئے، اور کچھ دیرٹھہرے ، پھر واپس آئے ، تو اس شخص کو اسی حالت میں صلاۃ پڑھتے ہوئے پایا، آپ ﷺ کھڑے ہوئے، اپنے دونوں ہاتھوں کو ملایا ،پھر فرمایا:'' لوگو! تم میانہ روی اختیار کرو'' '' کیونکہ اللہ تعالی نہیں اکتاتا ہے (ثواب دینے سے) یہاں تک کہ تم خود ہی(عمل کرنے سے)اکتا جائو'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سنت کی متابعت بہترہے، یعنی اسی قدر صلاۃ اور صوم اور وظائف پر مداومت کرنا جس قدر رسول اکرم ﷺ سے ثابت اور منقول ہے، اور اس میں شک نہیں کہ سنت کی پیروی ہرحال میں بہتر اور باعث برکت اور نور ہے ،او ربہتر طریقہ وہی ہے جو وظاف و اوراد اور نوافل میں رسول اکرم ﷺ سے منقول ہے،انہی وظائف واوراد پر قناعت کرے اور اہل وعیال اور دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ بھی مشغول رہے جیسے رسول اکرم ﷺ کرتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
29- بَاب ذِكْرِ الذُّنُوبِ
۲۹- باب: گناہوں کویاد کرنے کا بیان​


4242- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنُؤَاخَذُ بِمَا كُنَّا نَعْمَلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ أَحْسَنَ فِي الإِسْلامِ، لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ، أُخِذَ بِالأَوَّلِ وَالآخِرِ "۔
* تخريج: خ/استتابۃ المرتدین ۱ (۶۹۲۱)، م/الإیمان ۵۳ (۱۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۷۹، ۴۲۹، ۴۳۱، ۴۶۲)، دي/المقدمۃ ۱ (۱) (صحیح)
۴۲۴۲- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول !کیا ہم سے ان گناہوں کا بھی مواخذہ کیا جائے گا، جو ہم نے (زمانہ) جاہلیت میں کئے تھے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:'' جس نے عہد اسلام میں نیک کام کئے (دل سے اسلام لے آیا) اس سے جاہلیت کے کاموں پر مواخذہ نہیں کیا جائے گا، اور جس نے اسلام لاکر بھی برے کام کئے ، (کفر پر قائم رہاہے) تو اس سے اول و آخر دونو ں برے اعمال پر مواخذہ کیا جائے گا ''۔


4243- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ بَانَكَ، سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَا عَائِشَةُ! إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الأَعْمَالِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ طَالِبًا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۲۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۱۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۷۰،۱۵۱)، دي/الرقاق ۱۷ (۲۷۶۸) (صحیح)
۴۲۴۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: '' حقیر ومعمولی گناہوں سے بچو ، کیوں کہ اللہ تعالی کی طرف سے ان کی بھی تلاشی ہوگی ''۔


4244- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ، إِذَا أَذْنَبَ، كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ، صُقِلَ قَلْبُهُ، فَإِنْ زَادَ زَادَتْ، فَذَلِكَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ {كَلا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ}"۔
* تخريج: ت/تفسیر القرآن ۷۴ (۳۳۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۹۷) (حسن)
۴۲۴۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' جب مو من کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ (داغ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے ، باز آجائے اورمغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے، اور اگر وہ (گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھروہ دھبہ بھی بڑھتا جا تا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں کیا ہے: {كَلاَّ بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ }[سورة المطففين : 14] ( ہر گز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں)''۔


4245- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ خَدِيجٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الأَلْهَانِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: " لأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا، فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَائً مَنْثُورًا " قَالَ ثَوْبَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صِفْهُمْ لَنَا، جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لانَعْلَمُ، قَالَ: " أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ، وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ، وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۹۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۱۸) (صحیح)
۴۲۴۵- ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے ، اللہ تعالی ان کو فضا میں اڑتے ہوئے ذرے کی طرح بنا دے گا''، ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمائیے اور کھول کر بیان فرمایئے تاکہ لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے ہم ان میں سے نہ ہو جائیں، آپ ﷺ نے فرمایا : ''جان لو کہ وہ تمہارے بھائیوں میں سے ہی ہیں، اور تمہاری قوم میں سے ہیں ، وہ بھی راتوں کو اسی طرح عبادت کریں گے ، جیسے تم عبادت کرتے ہو، لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب تنہائی میں ہوں گے تو حرام کاموں کا ارتکاب کریں گے''۔


4246- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ وَعَمِّهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ: مَا أَكْثَرُ مَايُدْخِلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: " التَّقْوَى وَحُسْنُ الْخُلُقِ " وَسُئِلَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّارَ؟ قَالَ: "الأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ "۔
* تخريج: ت/البر۶۲ (۲۰۰۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۴۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۹۱، ۳۹۲، ۴۴۲) (حسن)
۴۲۴۶- ا بو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا: کون سے کام لوگوں کو زیادہ تر جنت میں داخل کریں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : '' تقوی (اللہ تعالی کا خوف) اور حسن خلق (اچھے اخلاق)''، اور پوچھا گیا : کون سے کام زیادہ تر آدمی کو جہنم میں لے جائیں گے؟ فرمایا: '' دو کھو کھلی چیز یں : منہ اور شرمگاہ ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
30-بَاب ذِكْرِالتَّوْبَةِ
۳۰- باب: توبہ کا بیان​


4247- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ،حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْهُ بِضَالَّتِهِ، إِذَا وَجَدَهَا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۹۳۵)، وقد أخرجہ: ت/الدعوات ۹۹ (۳۵۳۸) (صحیح)
۴۲۴۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''بیشک اللہ تعالی تم میں سے کسی کی تو بہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ تم اپنی گم شدہ چیز پانے سے خوش ہو تے ہو ''۔


4248- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:" لَوْأَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَايَاكُمُ السَّمَاءَ، ثُمَّ تُبْتُمْ،لَتَابَ عَلَيْكُمْ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۱۴۸۳۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۱۹) (حسن صحیح)
۴۲۴۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اگر تم گناہ کرو یہاں تک کہ تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں ، پھر تم توبہ کرو تو ( اللہ تعالی ) ضرور تمہاری توبہ قبول کرے گا '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ بندہ کے گناہ چاہے وہ جتنے زیادہ ہوں ،ان کی مغفرت کے لئے کی جانے والی تو بہ کو اللہ تعالی ضرور قبول کرے گا ، بشرطیکہ یہ توبہ خلوصِ دل سے ہو، اس حدیث سے یہ قطعانہ سمجھاجائے کہ گناہ کثرت سے کئے جائیں اور پھر توبہ کر لی جائے ،کیونکہ حدیث میں توبہ کی اہمیت بتائی گئی ہے، نہ کہ بکثرت گناہ کرنے کی۔


4249- حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ أَضَلَّ رَاحِلَتَهُ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ، فَالْتَمَسَهَا،حَتَّى إِذَا أَعْيَى، تَسَجَّى بِثَوْبِهِ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةَ الرَّاحِلَةِ حَيْثُ فَقَدَهَا، فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، فَإِذَا هُوَ بِرَاحِلَتِهِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۳۱، ومصباح الزجاجۃ:۱۵۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۸۳) (منکر)
(سند میں سفیان بن وکیع متروک اور عطیہ العوفی ضعیف ہیں، ثقہ راویوں کی روایات اس کے برخلاف ہے)
۴۲۴۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' اللہ تعالی اپنے بندے کی توبہ سے ایسے ہی خوش ہوتا ہے جیسے کسی آدمی کی سواری چٹیل میدان میں کھو جا ئے ، وہ اس کو تلاش کرے یہاں تک کہ جب وہ تھک جائے تو کپڑے سے اپنا منھ ڈھا نک کر لیٹ جائے، اسی حالت میں اچانک وہ اپنی سواری کے قدموں کی چاپ وہاں سے آتی سنے جہاں اسے کھویا تھا، وہ اپنے چہرے سے اپنا کپڑا اٹھائے تو دیکھے کہ اس کی سواری موجود ہے '' ۔


4250- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لا ذَنْبَ لَهُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۹۶۱۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۲۱) (حسن)
(سند میں ابوعبیدہ کا سماع اپنے والد سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ : ۶۱۵- ۶۱۶)
۴۲۵۰- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ''۔


4251- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّائٌ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ "۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۴۹ (۲۴۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۹۸، دي/الرقاق ۱۸ (۲۷۶۹) (حسن)
۴۲۵۱- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: ''سارے بنی آدم (انسان) گناہ گار ہیں اور بہترین گناہ گار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں ''۔


4252- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِالْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِاللَّهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "النَّدَمُ تَوْبَةٌ " فَقَالَ لَهُ أَبِي: أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: " النَّدَمُ تَوْبَةٌ ؟ " قَالَ: نَعَمْ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃالأشراف: ۹۳۵۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۷۶، ۴۲۲، ۴۲۳، ۴۳۳) (صحیح)
۴۲۵۲- عبداللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تومیں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' ندامت (شرمندگی) توبہ ہے''، میرے والد نے ان سے پوچھاکہ آپ نے نبی اکرم ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت توبہ ہے؟ انہوں نے کہا: ''ہاں ''۔


4253- حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرَو ۱؎ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۷۴، ۸۶۱۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۲۳)، وقد أخرجہ: ت/الدعوات ۹۹ (۳۵۳۷)، حم (۲/۱۳۲، ۱۵۳) (حسن)
(سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ حسن ہے)
وضاحت ۱ ؎ : مزی کہتے ہیں کہ ابن ماجہ میں'' عبد اللہ بن عمرو ''آیا ہے، جو وہم ہے، صحیح'' عبد اللہ بن عمربن ا لخطاب'' ہے)
۴۲۵۳- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' بیشک اللہ (عز و جل ) اپنے بندے کی تو بہ قبول کرتا رہتا ہے جب تک اس کی جان حلق میں نہ آجائے ''۔


4254- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُوعُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، فَجَعَلَ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا، فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ،إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ، ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلِي هَذِهِ؟ فَقَالَ: " هِيَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي "۔
* تخريج: خ/المواقیت ۴ (۵۲۶)، تفسیر القرآن ۶ (۴۶۸۷)، م/التوبۃ ۷ (۲۷۶۳)، ت/تفسیر القرآن ۱۲ (۳۱۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۷۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۵، ۴۳۰) (صحیح)
۴۲۵۴- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر بتایا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے، وہ اس کا کفارہ پوچھنے لگا ، آپ ﷺ نے اس سے کچھ نہیں کہا تو اس پر اللہ عز و جل نے یہ آیت نازل فرمائی: { وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ، إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ، ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} (سورۃ ہود: ۱۱۴) (صلاۃ قائم کرو دن کے دونوں حصوں (صبح و شام) میں اور رات کے ایک حصے میں ، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں، یہ ذکر کرنے والوں کے لئے ایک نصیحت ہے)، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! کیا یہ (خاص) میرے لئے ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : '' یہ میری امت میں سے ہر اس شخص کے لئے ہے جو اس پر عمل کرے ''۔


4255- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَلا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ؟ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ فَقَالَ: إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ ذَرُّونِي فِي الرِّيحِ، فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ! لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ أَحَدًا، قَالَ: فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلأَرْضِ: أَدِّي مَا أَخَذْتِ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ: خَشْيَتُكَ (أَوْ مَخَافَتُكَ) يَا رَبِّ! فَغَفَرَ لَهُ لِذَلِكَ "۔
* تخريج: خ/أحادیث الأنبیاء ۵۴ ( ۳۴۸۱)، التوحید ۳۵ (۷۵۰۸)، م/التوبۃ ۴ (۲۷۵۶)، ن/الجنائز ۱۱۷ (۲۰۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۸۰)،وقد أخرجہ: حم (۲/۲۶۹) (صحیح)
۴۲۵۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ایک آدمی نے اپنے اوپر بہت زیادتی کی تھی ، (یعنی گناہوں کا ارتکاب کیا تھا) جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجائوں تو مجھے جلا ڈالنا، پھر مجھے پیس کر سمندر کی ہوا میں اڑادینا، اللہ کی قسم ! اگر میرا رب میرے اوپر قادر ہوگا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو کسی کونہ دیا ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا: '' اس کے بیٹوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا، اللہ تعالی نے زمین سے کہا کہ جو تونے لیا ہے اسے حاضر کر،اتنے میں وہ کھڑا ہو گیا، تو اللہ تعالی نے اس سے کہا : تجھے اس کام پر کس نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا :تیرے ڈر اور خوف نے اے رب! تو اللہ تعالی نے اس کو اسی وجہ سے معاف کردیا ''۔


4256- قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ، فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ ".
قَالَ الزُّهْرِيُّ: لِئَلا يَتَّكِلَ رَجُلٌ، وَلا يَيْئَسَ رَجُلٌ ۔
* تخريج: م/السلام ۴۰ (۲۲۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۱۷، ۱۲۲۸۷) (صحیح)
۴۲۵۶- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''ایک عورت اس بلی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی جس کو اس نے باندھ رکھا تھا، وہ نہ اس کو کھانا دیتی تھی ،اور نہ چھوڑتی ہی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالے یہاں تک کہ وہ مرگئی''۔
زہری کہتے ہیں :( ان دونوں حدیثوں سے یہ معلوم ہوا کہ) کوئی آدمی نہ اپنے عمل پر بھروسا کرے اور نہ اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس ہی ہو ۔


4257- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ الْمُسَيَّبِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: يَا عِبَادِي! كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلا مَنْ عَافَيْتُ، فَسَلُونِي الْمَغْفِرَةَ فَأَغْفِرَ لَكُمْ، وَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي بِقُدْرَتِي غَفَرْتُ لَهُ،وَكُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلا مَنْ هَدَيْتُ،فَسَلُونِي الْهُدَى أَهْدِكُمْ، وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلا مَنْ أَغْنَيْتُ، فَسَلُونِي أَرْزُقْكُمْ، وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ، وَأَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا فَكَانُوا عَلَى قَلْبِ أَتْقَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي ــ لَمْ يَزِدْ فِي مُلْكِي جَنَاحُ بَعُوضَةٍ، وَلَوِاجْتَمَعُوا فَكَانُوا عَلَى قَلْبِ أَشْقَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي ــ لَمْ يَنْقُصْ مِنْ مُلْكِي جَنَاحُ بَعُوضَةٍ، وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ، وَأَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا، فَسَأَلَ كُلُّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ ـ مَا نَقَصَ مِنْ مُلْكِي إِلا كَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ مَرَّ بِشَفَةِ الْبَحْرِ، فَغَمَسَ فِيهَا إِبْرَةً ثُمَّ نَزَعَهَا، ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ، مَاجِدٌ عَطَائِي كَلامٌ، إِذَا أَرَدْتُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقُولُ لَهُ: كُنْ فَيَكُونُ "۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۴۸ (۲۴۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۶۴)، وقد أخرجہ: م/البر والصلۃ ۱۵ (۲۵۷۷)، حم (۵/۱۵۴، ۱۷۷) (ضعیف)
(سند شہر بن حوشب کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن صحیح مسلم میں حدیث کے اکثر جملے ثابت ہیں)
۴۲۵۷- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے : میرے بندو! تم سب گناہ گار ہو سوائے اس کے جس کو میں بچائے رکھوں، تو تم مجھ سے مغفرت طلب کرو، میں تمہیں معاف کردوں گا، اور تم میں سے جو جانتا ہے کہ میں مغفرت کی قدرت رکھتا ہو ں اور وہ میری قدرت کی وجہ سے معافی چا ہتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں ، تم سب کے سب گم راہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں ، تم مجھ ہی سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا، تم سب کے سب محتاج ہوسوائے اس کے جس کو میں غنی (مالدار)کردوں، تم مجھ ہی سے مانگو میں تمہیں روزی دوں گا ،اور اگر تمہارے زندہ ومردہ، اول و آخر اور خشک و تر سب جمع ہو جائیں، اور میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ پرہیزگار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہ ہوگا، اور اگر یہ سب مل کر میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ بدبخت کی طرح ہو جائیں تو میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہ ہو گی، اور اگر تمہارے زندہ و مردہ، اوّل و آخر اور خشک و تر سب جمع ہو جائیں ،اور ا ن میں سے ہر ایک مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی آرزوئیں پہنچیں، تو میری سلطنت میں کوئی فرق واقع نہ ہوگا،مگر اس قدر جیسے تم میں سے کوئی سمندر کے کنارے پر سے گزرے اور اس میں ایک سوئی ڈبوکر نکال لے، یہ اس وجہ سے ہے کہ میں سخی ہوں ، بزرگ ہوں ، میرادینا صرف کہہ دینا ہے، میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو کہتا ہوں ''ہوجا'' اور وہ ہوجاتی ہے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
31- بَاب ذِكْرِ الْمَوْتِ وَالاسْتِعْدَادِ لَهُ
۳۱- باب: موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان​


4258- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ" يَعْنِي: الْمَوْتَ۔
* تخريج: ت/الزھد ۴ (۲۳۰۷)، ن/الجنائز ۳ (۱۸۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۸۰، ۱۵۰۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۹۳) (حسن صحیح)


۴۲۵۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' لذتوں کوتوڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : موت کی یا د سے دنیا کی بے ثباتی ذہن میں جمتے ہی آخرت کا خیال پیدا ہوتا ہے ، یہی فائدہ قبروں کی زیارت کا بھی ہے، نبی اکرم ﷺ نے موت کو لذتوں کو مٹانے والی کہا یعنی موت کی یاد آدمی کے دل ودماغ کو دنیا کی لذتوں سے دورکردیتے ہیں، یا موت کے آتے ہی آدمی کا تعلق دنیاکی لذتوںاورنعمتوں سے خودبخود ختم ہوجاتا ہے ،امام قرطبی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یہ بڑا مختصرجملہ ہے ، جوتذکیرو نصیحت میںبلیغ اور جامع ہے، کیونکہ جس نے صحیح معنوں میں موت کو یادکیا تواس سے اس پر دنیاوی لذت کرکری ہوجاتی ہے،اور مستقبل میں اس کی تمنا اورآرزو کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے ، اورجن نعمتوں کے بارے میں وہ سوچتاتھا ، اس میں بڑی کمی آجاتی ہے ، لیکن غافل دل اورٹھہری ہوئی طبیعتیں لمبے چوڑے وعظ ونصیحت اورتفنن کلام کی محتاج ہوتی ہیں، ورنہ حدیث رسول :لذتوں کو ختم کردینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یادکرو، اورآیت کریمہ : {كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ } [سورة الأنبياء:35] (ہر نفس کو موت کا مزا چکنا ہے) ہی سامع کے لیے کافی ہے ، اور دیکھنے والے کو مشغول کردینے والی ہے ، نیز کہتے ہیں:موت کی یاد کے نتیجے میں اس دار فانی سے بے رغبتی کا شعورو احسا س پیداہوتا ہے ، اورہر لحظہ باقی رہنے والی آخرت کی طرف توجہ ہوجاتی ہے ، توانسان دو حالات میں گھر کررہ جاتاہے ، ایک تنگی اوروسعت کی حالت اوردوسری نعمت وابتلا ء کی حالت توتنگی اورابتلاء کی صورت میں موت کی یاد سے یہ صورت حال اس کے لیے آسان ہوجاتی ہے کہ یہ حالت ہمیشہ برقرار رہنے والی نہیں ہے ، بلکہ موت اس سے زیادہ سخت ہے ، اورنعمت اوروسعت کی حالت میں موت کی یاد اس کو دنیاوی نعمتوں اوروسعتوں سے دھوکہ کھانے اور اس سے سکون حاصل کرنے سے روک دیتی ہے ،اورموت انسان کو ان چیزوں سے دورکردیتی ہے ، موت کی کوئی معلوم عمرنہیں ہے ، اورنہ اس کا زمانہ ہی معلوم ہے اورنہ اس کی بیماری ہی معلوم ہے ، تو آدمی کو اس کے لیے ہر وقت تیاررہنا چاہئے ۔ ملاحظہ ہو: التذکرۃ بأحوال الموتیٰ وأمورالآخرۃ (الفریوائی)


4259- حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ فَرْوَةَ بنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: فَجَائَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " قَالَ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ؟ قَالَ: "أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا، وَأَحْسَنُهُمْ لِمَا بَعْدَهُ اسْتِعْدَادًا،أُولَئِكَ الأَكْيَاسُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۳۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۲۴) (حسن )
(سند میں فروہ بن قیس اور نافع بن عبد اللہ مجہول ہیں، لیکن حدیث دوسرے شواہد سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۳۸۴)
۴۲۵۹- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا کہ آپ کے پاس ایک انصاری شخص آیا، اس نے آپ کو سلام کیا ، پھرکہنے لگا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے کون سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا '' جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہے''، اس نے کہا: ان میں سب سے عقل مند کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''جو ان میں موت کو سب سے زیادہ یاد کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لئے سب سے اچھی تیاری کرے، وہی عقل مند ہے '' ۔


4260- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي يَعْلَى شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا، ثُمَّ تَمَنَّى عَلَى اللَّهِ "۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۲۵ (۲۴۵۹)، تحفۃ الأشراف: (۴۸۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۲۴) (ضعیف)
(سند میں بقیہ مدلس اور ابن ابی مریم ضعیف ہیں)
۴۲۶۰- ابو یعلی شّداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو رام کرلے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لئے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشوں پر لگادے ،پھر اللہ تعالی سے تمنّائیں کرے۔


4261- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ عَلَى شَابٍّ، وَهُوَ فِي الْمَوْتِ، فَقَالَ: " كَيْفَ تَجِدُكَ؟ " قَالَ: أَرْجُو اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَأَخَافُ ذُنُوبِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لايَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ، فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ، إِلا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُو، وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ "۔
* تخريج: ت/الجنائز ۱۱ (۹۸۳)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۲) (حسن)
(سند میں سیاربن حاتم ضعیف ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۰۵۱)
۴۲۶۱- انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک نوجوان کے پاس آئے جومرض الموت میں تھا ، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا : ''تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو'' ؟ اس نے عرض کیا:اللہ کے رسول ! اللہ کی رحمت کی امید کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''جس بندے کے دل میںایسے وقت میں یہ دونوں کیفیتیں جمع ہو جائیں، اللہ تعالی اس کو وہ چیز دے گا جس کی وہ امید کرتا ہے ،اور جس چیز سے ڈرتا ہے، اس سے محفو ظ رکھیگا ''۔


4262- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِوبْنِ عَطَائٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "الْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ الْمَلائِكَةُ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ! كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، اخْرُجِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ، حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُفْتَحُ لَهَا، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ فُلانٌ،َيُقَالُ: مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ، قَالَ: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ! كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، اخْرُجِي ذَمِيمَةً، وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ، وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ، فَلا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَلا يُفْتَحُ لَهَا، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلانٌ فَيُقَالُ: لا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً، فَإِنَّهَا لاتُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَيُرْسَلُ بِهَا مِنَ السَّمَاءِ، ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۸۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۲۵) (صحیح)
۴۲۶۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''مر نے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں ، اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتے ہیں : نکل اے پاک جان !جو کہ ایک پاک جسم میں تھی، نکل تولائق تعریف ہے، اور خوش ہوجا، اللہ کی رحمت وریحان (خوشبو) سے اور ایسے رب سے جو تجھ سے ناراض نہیں ہے ، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نکل پڑتی ہے ، پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھاکرلے جایا جاتا ہے ، اس کے لئے آسمان کا دروازہ کھولتے ہوئے پوچھا جاتاہیکہ یہ کون ہے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ یہ فلاں ہے،کہا جاتا ہے: خوش آمدید! پاک جان جو کہ ایک پاک جسم میں تھی، تو داخل ہو جا ، تو نیک ہے اور خوش ہوجا اللہ کی رحمت وریحان (خوشبو) سے، اور ایسے رب سے جو تجھ سے ناخوش نہیں ، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ روح اس آسمان تک پہنچ جاتی ہے جس کے اوپر اللہ عز و جل ہے، اور جب کوئی برا شخص ہوتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: نکل اے ناپاک نفس، جو ایک ناپاک بدن میںتھی، نکل تو بری حالت میں ہے، خوش ہوجا گرم پانی اور پیپ سے، اور اس جیسی دوسری چیزوں سے، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نکل جاتی ہے، پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھا کر لے جایا جاتاہے ، لیکن اس کے لئے دروازہ نہیں کھولا جاتا، پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ جواب ملتا ہے: یہ فلا ں ہے ، کہا جاتا ہے: ناپاک روح کے لئے کوئی خوش آمدید نہیں، جو کہ ناپاک بدن میں تھی، لوٹ جا اپنی بری حالت میں ، تیرے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، اس کو آسمان سے چھوڑ دیاجاتا ہے پھروہ قبر میں آجاتی ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : اس حدیث سے اللہ تعالی کا آسمان کے اوپر بلندی میں ہونا ثابت ہے، فاسد عقائد والے اس کا انکار کرتے ہیں ، اور اہل حدیث اور اہل حق کو مشبہہ اور مجسمہ کہتے ہیں۔جبکہ اللہ تعالیٰ کے آسمان کے اوپر بلندی میں ہو نے کے عقیدے پر کتاب وسنت کے بے شمار دلائل ہیں ، اور صحابہ وتابعین وتبع تابعین اورائمہ دین کا اس پر اتفاق ہے ، اوریہ چیز انسان کی فطرت میں ہے کہ اپنے خالق ومالک کو پکارتے ہی اس کے ہاتھ اوپر اٹھ جاتے ہیں، اورنگاہیں اوپردیکھنے لگتی ہیں۔


4263- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ وَعُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " إِذَا كَانَ أَجَلُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضٍ، أَوْثَبَتْهُ إِلَيْهَا الْحَاجَةُ، فَإِذَا بَلَغَ أَقْصَى أَثَرِهِ، قَبَضَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ، فَتَقُولُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَبِّ! هَذَا مَا اسْتَوْدَعْتَنِي "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۹۴۱، ومصباح الزجاجۃ: ۹۵۴۱) (صحیح)
۴۲۶۳- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کسی کی موت کسی زمین میں لکھی ہوتی ہے تو ضرورت اس کو وہاںلے جاتی ہے ، جب وہ اپنے آخری نقشِ قدم کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالی اس کی روح قبض کرلیتا ہے، زمین قیامت کے دن کہے گی : اے رب! یہ تیری امانت ہے جو تونے میرے سپردکی تھی '' ۔


4264- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَائَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَائَهُ " فَقِيلَ: يَارَسُولَ اللَّهِ! كَرَاهِيَةُ لِقَائِاللَّهِ فِي كَرَاهِيَةِ لِقَاءِ الْمَوْتِ، فَكُلُّنَا يَكْرَهُ الْمَوْتَ، قَالَ: "لا، إِنَّمَا ذَاكَ عِنْدَ مَوْتِهِ، إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَمَغْفِرَتِهِ، أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ،فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَائَهُ، وَإِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ، كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَائَهُ "۔
* تخريج: خ/الرقاق ۴۱ (۶۵۰۷، ۶۵۰۸ تعلیقاً)، م/الذکروالدعاء (۲۶۸۴)، ت/الجنائز ۶۸ (۱۰۶۷)، ن/الجنائز ۱۰ (۱۸۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۴، ۵۵، ۲۰۷، ۲۱۸، ۲۳۶) (صحیح)
۴۲۶۴- ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' جو اللہ تعالی سے ملاقات پسند کرتا ہے اللہ تعالی بھی اس سے ملاقات پسند کرتاہے، اور جو اللہ تعالی سے ملاقات ناپسند کرتا ہے اللہ تعالی بھی اس سے ملاقات ناپسند کرتا ہے''، آپ سے عرض کیاگیا : اللہ تعالی سے ملنے کو برا جاننا یہ ہے کہ موت کو برا جانے، اور ہم میں سے ہرشخص موت کو برا جا نتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:''نہیں، بلکہ یہ موت کے وقت کا ذکر ہے، جب بندے کو اللہ تعالی کی رحمت اور اس کی مغفرت کی خوش خبری دی جاتی ہے، تو وہ اس سے ملناپسندکرتا ہے ،تو اللہ تعالی بھی اس سے ملنا پسندکرتا ہے، اور جب اس کو اللہ تعالی کے عذاب کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالی سے ملنا ناپسند کرتا ہے تو اللہ تعالی بھی اس سے نہیں ملنا چاہتا ''۔


4265- حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، فَإِنْ كَانَ لا بُدَّ مُتَمَنِّيًا الْمَوْتَ، فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًاِلي "۔
* تخريج: د/الجنائز ۱۳ (۳۱۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۷)، وقد أخرجہ: خ/المرضی ۱۹ (۵۶۷۲)، الدعوات ۳۰ (۶۳۵۱)، م/الذکر ۴ (۲۶۸۰)، ت/الجنائز ۳ (۹۷۱)، ن/الجنائز ۲ (۱۸۲۲)، حم (۳/۱۰۱، ۱۰۴، ۱۶۳، ۱۷۱، ۱۹۵، ۲۰۸، ۲۴۷، ۲۸۱) (صحیح)
۴۲۶۵- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' تم میں سے کوئی کسی مصیبت کی وجہ سے جو اس کو پیش آئے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی خواہش کی ضرورت پڑہی جائے تو یوں کہے: اے اللہ ! مجھے زندہ رکھ جب تک جینا میرے لئے بہتر ہو، اور مجھے موت دے اگر مرنا میرے لئے بہتر ہو ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
32- بَاب ذِكْرِ الْقَبْرِ وَالْبِلَى
۳۲- باب: قبر اور مردے کے گل سڑ جانے کا بیان​


4266- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُومُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لَيْسَ شَيْئٌ مِنَ الإِنْسَانِ إِلا يَبْلَى، إِلا عَظْمًا وَاحِدًا،وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۵۲)، وقد أخرجہ: خ/تفسیر الزمر ۴ (۴۸۱۴)، تفسیر النبأ ۱ (۴۹۳۵)، م/الفتن ۲۸ (۲۹۵۵)، د/السنۃ ۲۴ (۴۷۴۳)، ن/الجنائز ۱۱۷ (۲۰۷۹)، ط/الجنائز ۱۶ (۴۸)، حم (۲/۳۱۵، ۳۲۲، ۴۲۸) (صحیح)
۴۲۶۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''انسان کے جسم کی ہر چیز سڑ گل جاتی ہے، سوائے ایک ہڈی کے اور وہ ریڑھ کی ہڈی ہے، اور اسی سے قیامت کے دن انسان کی پیدائش ہو گی '' ۔
وضاحت ۱ ؎ : صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ليس من الإنسان شئ إلا يبلى إلا عظما واحدا، (انسان کی ہر چیز ایک ہڈی کے علاوہ بوسیدہ ہوجائے گی) اورایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں : إن في الإنسان عظما لا تأكله الأرض أبدا فيه يركب يوم القيامة، قالوا: أي عظم هو قال: عظم الذنب ،(انسان میں ایک ایسی ہڈی ہے جسے زمین کبھی بھی نہیں کھائے گی ، قیامت کے دن اسی میں دوبارہ اس کی تخلیق ہوگی، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول وہ کونسی ہڈی ہے؟ تو آپ نے کہا :وہ دم کی ہڈی ہے)
مستدرک علی الحیحین اورمسند أبی یعلی میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے : قيل: يارسول الله! ما عجب الذنب؟ قال: مثل حبة خردل (کہا گیا: اللہ کے رسول! دم کی ہڈی کیا ہے ؟ آپ نے کہا : رائی کے دانے کے برابر)۔
عجب: ع کے فتحہ اورج کے سکون کے ساتھ اوراس کو عجم بھی کہتے ہیں ، ریڑھ کی ہڈی کی جڑ میں یہ ایک باریک ہڈی ہوتی ہے ، یہ دم کی ہڈی کا سرا ہے ، یہ چاروں طرف سے ریڑھ کی باریک والی ہڈی کا سرا ہے ، ابن أبی الدنیا ، ابوداود اورحاکم کے یہاں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث میں ہے کہ یہ رائی کے دانے کے مثل ہے ، علامہ ابن الجوزی کہتے ہیں کہ ابن عقیل نے فرمایا: اللہ رب العزت کا اس میں کوئی راز ہے ، جس کا علم صرف اسی کو ہے ، اس لیے کہ جو ذات عدم سے وجود بخشے وہ کسی ایسی چیز کی محتاج نہیں ہے جس کو وہ نئی خلقت کی بنیاد بنائے، اس بات کا احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو فرشتوں کے لیے نشانی بنایا ہے کہ وہ ہر انسان کو اس کے جوہر کے ساتھ زندہ کرے ، اورفرشتوں کو اس کا علم صرف اسی طریقے سے ہوگا کہ ہرشخص کی ہڈی باقی اورموجودہو، تاکہ وہ اس بات کو جانے کہ روحوں کو ان کے اعیان میں ان اجزاء کے ذریعے سے لوٹایا جائے، اورحدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ويبلى كل شئ من الإنسان (انسان کی ہرچیز بوسیدہ ہوجائے گی ) تو اس میں احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد اس کا فنا ہوجانا ہے یعنی اس کے اجزاء کلی طورپر ختم ہوجائیں گے اوراس بات کا بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد اس کا پگھلنا اورتحلیل ہوناہے ، تو معہود صورت ختم ہوجائے گی اوروہ مٹی کی شکل میں ہوجائے گی ، پھراس کی دوبارہ ترکیب میں اپنی اصل کی طرف لوٹ آئے ، بعض شراح حدیث کے خیال میںاس سے مراد اس کے بقاکا طویل ہونا ہے ، نہ یہ کہ اصل میں وہ ہڈی فنا نہیں ہو گی ، اس میں حکمت یہ ہے کہ یہ ہڈی انسان کی تخلیق کی بنیاد ہے ، جوسب سے زیادہ سخت ہے ، جیسے دیوار کی بنیاداورجب زیادہ سخت ہوگی تو اس کو زیادہ بقائے دوام حاصل ہوگا، اوریہ قابل رد ہے اس لیے کہ یہ ظاہر کے خلاف ہے ، اوراس پر کوئی دلیل نہیں ہے ،اور علماء کہتے ہیں کہ یہ حدیث عام ہے ، اس سے مراد خصوصیت سے انبیاء ہیں ،اس لیے کہ زمین ان کے جسم کو نہ کھائے گی ، ابن عبد البر نے ان کے ساتھ شہداء کو رکھا ، اورقرطبی نے ثواب کے خواہاں موذن کو ، قاضی عیاض کہتے ہیں کہ حدیث کا معنی یہ ہوگا کہ ہرآدمی کومٹی کھالے گی اوربہت سے اجسام جیسے انبیاء ہیں کو مٹی نہیں کھائے گی ۔
حدیث میں إلا عجب ذنبه ہے (یعنی انسان کے جسم میں اس کے دم کی ہڈی ہی بچے گی ) جمہور اس کے ظاہرکودیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ دم کی ہڈی نہ بوسیدہ ہوگی ، اورنہ اس سے مٹی کھائے گی ، مزنی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ إلایہاںواو عطف کے معنی میں ہے ،یعنی دم کی ہڈی بھی پرانی ہوجائے گی ، اور اس معنی کو فراء اوراخفش نے ثابت کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ''واو '' ''إلا ''کے معنی میں آتا ہے ، مزنی کی اس شاذ اورمنفرد رائے کی تردید حدیث میں وارد وہ صراحت ہے جو ہمام کی روایت میں ہے کہ زمین اس کو کبھی بھی نہ کھائے گی ، اوراعرج کی روایت میں ہے:'' منہ خلق ''اس کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی میں سب سے پہلے اسی کی پیدائش ہوئی ، اوراس کی معارض سلمان رضی اللہ عنہ کی حدیث : إن أول ما خلق من آدم رأسه نہیں ہے اس لیے کہ ان دونوں میں توفیق وتطبیق اس طرح سے ہوگی کہ یہ آدم علیہ السلام کے حق میں ہے ، اوردم کی ہڈی کی تخلیق اولاد آدم میں پہلے ہے ، یا سلمان رضی اللہ عنہ کے قول کا مقصدیہ ہو کہ آدم میں روح پھونکی گئی نہ کہ ان کے جسم کی تخلیق ہوئی ۔( ملاحظہ ہو: فتح الباری ۸/۵۵۲-۵۵۳، حدیث نمبر۴۸۱۴ )


4267- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ،يَبْكِي. حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَلا تَبْكِي وَتَبْكِي، مِنْ هَذَا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ، فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ، فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ " قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ "۔
* تخريج: ت/الزھد ۵ (۲۳۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۶۳) (حسن)
۴۲۶۷- ہانی بربری مولیٰ عثمان کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو رونے لگتے یہاں تک کہ ان کی ڈاڑھی تر ہو جاتی، ان سے پوچھا گیا کہ آپ جنت اور جہنم کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر روتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاـ ہے: '' قبر آخر ت کی پہلی منزل ہے ، اگر وہ اس منزل پر نجات پاگیا تو اس کے بعد کی منزلیں آسان ہوں گی، اور اگر یہاں اس نے نجات نہ پائی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے سخت ہیں ''اور کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' میں نے کبھی قبر سے زیادہ ہولناک کوئی چیز نہیں دیکھی ''۔


4268- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِوابْنِ عَطَائٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ الْمَيِّتَ يَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ، فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فِي قَبْرِهِ، غَيْرَ فَزِعٍ وَلا مَشْعُوفٍ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: فِيمَ كُنْتَ؟ فَيَقُولُ: كُنْتُ فِي الإِسْلامِ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، جَائَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِاللَّهِ فَصَدَّقْنَاهُ، فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ اللَّهَ؟ فَيَقُولُ: مَا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَرَى اللَّهَ؛ فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ، ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ قِبَلَ الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ، وَيُقَالُ لَهُ: عَلَى الْيَقِينِ كُنْتَ، وَعَلَيْهِ مُتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ،إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السُّوءُ فِي قَبْرِهِ فَزِعًا مَشْعُوفًا، فَيُقَالُ لَهُ: فِيمَ كُنْتَ؟ فَيَقُولُ: لا أَدْرِي، فَيُقَالُ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ؟ فَيَقُولُ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ قَوْلا فَقُلْتُهُ، فَيُفْرَجُ لَهُ قِبَلَ الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا صَرَفَ اللَّهُ عَنْكَ، ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا، يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ، عَلَى الشَّكِّ كُنْتَ، وَعَلَيْهِ مُتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۸۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۴۰،۳۶۴، ۶/۱۳۹) (صحیح)
۴۲۶۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ـ: '' مر نے والا قبر میں جاتاہے، نیک آدمی تو اپنی قبر میں بیٹھ جاتا ہے، نہ کوئی خوف ہوتا ہے نہ دل پریشان ہوتا ہے، اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تو کس دین پر تھا؟ تو وہ کہتاہے: میں اسلام پر تھا ، پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہیں؟ وہ کہتا ہے :یہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، یہ ہمارے پاس اللہ تعالی کی جانب سے دلیلیں لے کر آئے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے اللہ تعالی کو دیکھاہے؟ جواب دیتا ہے کہ اللہ تعالی کو بھلا کون دیکھ سکتا ہے ؟ پھر اس کے لئے ایک کھڑکی جہنم کی جانب کھولی جاتی ہے، وہ اس کی شدت اشتعال کو دیکھتاہے ، اس سے کہا جاتا ہے : دیکھ، اللہ تعالی نے تجھ کو اس سے بچا لیا ہے ، پھر ایک دوسرا دریچہ جنت کی طرف کھولا جاتا ہے، وہ اس کی تازگی اور لطافت کو دیکھتا ہے ، اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا ٹھکانا ہے،اور اس سے کہا جا تا ہے کہ تو یقین پر تھا ، یقین پر ہی مرا ،اور یقین پر ہی اٹھے گااگر اللہ تعالی نے چاہا ۔
اور برا آدمی اپنی قبر میں پریشان اور گھبرایا ہوا اٹھ بیٹھتا ہے ،اس سے کہا جاتا ہے کہ تو کس دین پر تھا؟ تو وہ کہتا ہے : میں نہیں جانتا ، پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہیں؟ جواب دیتا ہے کہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہا، اس کے لئے جنت کا ایک دریچہ کھولا جاتا ہے، وہ اس کی لطافت و تازگی کو دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ دیکھ! اس سے اللہ تعالی نے تجھے محروم کیا، پھر جہنم کا دریچہ کھولا جاتا ہے، وہ اس کی شدت اور ہولناکی کو دیکھتا ہے ، اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا ٹھکانا ہے ، تو شک پر تھا ، شک پر ہی مرا اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا اگر اللہ تعالی نے چاہا ''۔


4269- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ} قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ، يُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ فَذَلِكَ قَوْلُهُ { يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ}۔
* تخريج: خ/الجنائز ۸۶ (۱۳۶۹)، التفسیرسورۃ ابراہیم ۲ (۴۶۹۹)، م/الجنۃ ۱۷ (۲۸۷۱)، د/السنۃ ۲۷ (۴۷۵۰ ت/تفسیرالقران سورۃ ٕابراہیم ۱۵ (۳۱۲۰)، ن/الجنائز ۱۱۴(۲۰۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۸۲، ۲۹۱) (صحیح)
۴۲۶۹- براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' یہ آیت : {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ} عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہو ئی ہے، اس (مردے) سے پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا کہ میرا رب اللہ ہے، اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں، یہی مراد ہے اس آیت : {يثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ}[سورة ابراهيم: 72] (اللہ ایمان والو ں کو مضبوط قول پر ثابت رکھتا ہے دنیوی زندگی میں بھی آخرت میں بھی)سے۔


4270- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ عُرِضَ عَلَى مَقْعَدِهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، يُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى تُبْعَثَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۰۱۵)، وقد أخرجہ: خ/الجنائز ۸۹ (۱۳۷۹)، بدء الخلق ۸ (۳۲۴۰)، الرقاق ۴۲ (۶۵۱۵)، م/الجنۃ ۱۷ (۲۸۶۶)، ت/الجنائز ۷۰ (۱۰۷۲)، ن/الجنائز ۱۱۶ (۲۰۷۲)، ط/الجنائز ۱۶ (۴۷)، حم (۲/۱۶، ۵۱،۱۱۳،۱۲۳) (صحیح)
۴۲۷۰- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:'' جب تم میں سے کوئی مرجاتاہے ،تواس کے سامنے اس کا ٹھکانا صبح و شام پیش کیا جاتا ہے، اگر اہل جنت میں سے تھا تو اہل جنت کا ٹھکانا ،اور اگرجہنمی تھا تو جہنمیوں کا ٹھکانا، اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ''۔


4271- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ كَعْبٍ الأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يُبْعَثُ "۔
* تخريج: ت/فضائل الجہاد ۱۳ (۱۶۴۱)، ن/الجنائز ۱۱۷ (۲۰۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۸)، وقد أخرجہ: ط/الجنائز ۱۶ (۴۹)، حم (۳/۴۵۵، ۴۵۶، ۴۶۰) (صحیح)
۴۲۷۱- کعب رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مومن کی روح ایک پرندے کی شکل میں جنت کے درخت میں لٹکتی رہے گی ، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اپنے اصلی بدن میں لوٹ جائے گی''۔


4272- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصٍ الأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ مُثِّلَتِ الشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا، فَيَجْلِسُ يَمْسَحُ عَيْنَيْهِ وَيَقُولُ: دَعُونِي أُصَلِّي "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۳۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۲۸) (حسن)
۴۲۷۲- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' جب مردہ قبر میں جاتا ہے تو اسے ایسا لگتا ہے کہ سورج ڈوبنے کا وقت قریب ہے، وہ بیٹھتا ہے اپنی دونوں آنکھوں کو ملتے ہوئے ،اور کہتا ہے: مجھے صلاۃ پڑھنے کے لئے چھو ڑ دو ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
33- بَاب ذِكْرِ الْبَعْثِ
۳۳- باب: حشر کا بیان​


4273- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ صَاحِبَيِ الصُّورِ بِأَيْدِيهِمَا (أَوْ فِي أَيْدِيهِمَا) قَرْنَانِ يُلاحِظَانِ النَّظَرَ مَتَى يُؤْمَرَانِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۹۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۲۹) (منکر)
(سند میں حجاج بن ارطاہ وعطیہ العوفی ضعیف ہیں ، اور حجاج نے ثقات کی مخالفت کی ہے، اس لئے یہ لفظ منکر ہے، محفوظ حدیث ''صاحب القرن'' ملاحظہ ہو: الصحیحہ : ۱۰۷۹)
۴۲۷۳- ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: '' بیشک صور والے دونوں فرشتے اپنے ہاتھوں میں صور ۱؎ لئے برابر دیکھتے رہتے ہیں کہ کب پھو نکنے کا حکم ہو '' ۔
وضاحت ۱ ؎ : صور کی جمع اصوار یعنی نرسنگا، اور بگل ۔


4274- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، بِسُوقِ الْمَدِينَةِ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ! فَرَفَعَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَدَهُ فَلَطَمَهُ، قَالَ: تَقُولُ هَذَا؟ وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ؟ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ " فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلا أَدْرِي أَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي،أَوْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ، وَمَنْ قَالَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى، فَقَدْ كَذَبَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۷۶، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۳۱)، وقد أخرجہ: م/الفضائل ۴۲ (۲۳۷۳) (حسن صحیح)
۴۲۷۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا : اس ذات کی قسم جس نے موسی کو تمام لوگوں سے برگزیدہ بنایا ، یہ سن کر ایک انصاری نے اس کو ایک طمانچہ مارا، اور کہا: تم ایسا کہتے ہو جب کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں ؟ آپ ﷺ کے سامنے جب اس کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: '' اللہ عزو جل فرماتاہے: {وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ} (سورۃزمر:۶۸ ) (اورصور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان والے سب بے ہوش ہوجائیں گے، سوائے اس کے جس کو اللہ چاہے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تب وہ سب کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے) ،میں سب سے پہلے اپنا سر اٹھائوں گا، تو دیکھوں گا کہ موسی (علیہ السلام ) عرش کا ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں ، میں نہیں جانتا کہ انہوں نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا ، یا وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالی نے مستثنیٰ کر دیاہے، اورجس نے یہ کہا: میں یونس بن متی سے بہتر ہو ں تو اس نے غلط کہا '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : یونس علیہ السلام سے غلطی ہوئی تھی، لیکن اللہ تعالی نے انہیں معاف کردیا تھا ، رسول اکرم ﷺ کا مطلب یہ ہے کہ تمام انبیاء کی شان بڑی ہے اور نبوت اور رسالت کا مرتبہ سب کو حاصل ہے لہذا اپنی رائے سے ایک کو دوسرے پر فضیلت مت دو ، بعضوں نے کہا کہ یہ حدیث پہلے کی ہے، جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ آپ تمام انبیاء کے سردا ر ہیں اور انجیل مقدس میں مذکور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے آپ کے بارے میں فرمایا کہ اس جہاں کا سردار آتا ہے، یا حدیث کامطلب یہ ہے کہ ایک نبی کو دوسرے نبی پر اس طرح فضیلت مت دو کہ دوسرے نبی کی تحقیر یا تو ہین نکلے کیونکہ کسی نبی کی تحقیر یا تو ہین کفر ہے۔


4275- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " يَأْخُذُ الْجَبَّارُ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدِهِ{وَقَبَضَ يَدَهُ، فَجَعَلَ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا} ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْجَبَّارُ،أَنَا الْمَلِكُ،أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ " قَالَ: وَيَتَمَايَلُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْئٍ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ: أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟۔
* تخريج: م/صفۃ القیامۃ نحوہ (۲۷۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۷۲، ۸۷) (صحیح)
۴۲۷۵- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا: ( اللہ )' 'جبار آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا''، (آپ نے مٹھی بند کی پھر اس کو بند کرنے اور کھولنے لگے) پھر فرمائے گا:میں جبار ہوں، میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں دوسرے جبار؟ کہاں ہیں دوسرے متکبر ؟ یہ کہہ کر رسول اللہ ﷺ دائیں اور بائیں جھک رہے تھے، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ منبر کچھ نیچے سے ہل رہاتھا ،حتیٰ کہ میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو لے کر گر نہ پڑے۔


4276- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ،عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: " حُفَاةً، عُرَاةً " قُلْتُ: " وَالنِّسَاءُ " قَالَ: "وَالنِّسَاءُ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَمَا يُسْتَحْيَا؟ قَالَ: " يَا عَائِشَةُ! الأَمْرُ أَهَمُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ "۔
* تخريج: خ/الرقاق ۴۵ (۶۵۲۷)، م/الجنۃ ۱۴ (۲۸۵۹)، ن/الجنائز ۱۱۸ (۲۰۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۶۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۵۳، ۹۰) (صحیح)
۴۲۷۶- ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسو ل! لوگ قیامت کے دن کیسے اٹھائے جائیںگے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: '' ننگے پائو ں ، ننگے بدن''،میں نے کہا : عورتیں بھی اسی طرح؟آپ ﷺ نے فرمایا: '' عورتیں بھی''،میں نے کہا : اللہ کے رسول ! پھر شرم نہیں آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایاـ : '' عائشہ !معاملہ اتنا سخت ہو گا کہ (کوئی) ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھے گا '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : اپنی جان بچانے کی فکر ہو گی ایسے وقت میں بد نظر ی کیسی۔


4277- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلاَثَ عَرَضَاتٍ، فَأَمَّا عَرْضَتَانِ، فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الأَيْدِي، فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ وَآخِذٌ بِشِمَالِهِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۸۶، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۱۴) (ضعیف)
(حسن بصری کا سماع ابو موسیٰ سے ثابت نہیں ہے، اس لئے انقطاع کی وجہ سے سند ضعیف ہے)
۴۲۷۷- ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی، دوبار کی پیشی میں بحث وتکرار اور عذر وبہانے ہو ں گے اور تیسری بارمیں اعمال نامے ہاتھو ں میں اڑرہے ہوں گے ، تو کوئی اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں اور کوئی بائیں ہاتھ میں پکڑے ہو گا ''۔


4278- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ،عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،{يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} قَالَ: " يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ "۔
* تخريج: خ/تفسیر القرآن ۸۳ (۴۹۳۸)، الرقاق ۴۷ (۶۵۳۱)، م/الجنۃ وصفۃ نعیمہا ۱۵ (۲۸۶۲)، ت/صفۃ القیامۃ ۲(۲۴۲۲)، التفسیر ۷۴ (۳۳۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۳، ۳۱، ۳۳) (صحیح)
۴۲۷۸- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہنبی اکرم ﷺ نے : {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} (سورۃ المطففین:۶) (جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہو ں گے) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: '' لوگ اس طرح کھڑے ہوں گے کہ نصف کان تک اپنے پسینے میں غرق ہوں گے ''۔


4279- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ {يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ} فَأَيْنَ تَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ: " عَلَى الصِّرَاطِ "۔
* تخريج: م/صفۃ القیامۃ ۲ (۲۷۹۱)، ت/تفسیر القرآن ۱۵ (۳۱۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۱۷)، وقد أخرجہ: حم ۶/۳۵)، دي/الرقاق ۸۸ (۲۸۵۱) (صحیح)
۴۲۷۹- ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے{ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَاوَا تُ } [سورة إبراهيم: 48] (جس دن زمین اور آسمان بدل دئیے جائیں گے ) سے متعلق پوچھا کہ لوگ اس وقت کہاں ہوں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: '' پل صراط پر''۔


4280- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَاعَبْدُالأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ بْنِ الْعُتْوَارِيِّ، أَحَدِ بَنِي لَيْثٍ قَالَ: (وَكَانَ فِي حَجْرِ أَبِي سَعِيدٍ) قَالَ: سَمِعْتُهُ (يَعْنِي: أَبَا سَعِيدٍ) يَقُولُ: سَمعتُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " يُوضَعُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ، عَلَى حَسَكٍ كَحَسَكِ السَّعْدَانِ، ثُمَّ يَسْتَجِيزُ النَّاسُ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوجٌ بِهِ، ثُمَّ نَاجٍ وَمُحْتَبَسٌ بِهِ، وَمَنْكُوسٌ فِيهَا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۶۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۳۰)، وقد أخرجہ: م/الإیمان ۸۱ (۲۸۳)، حم (۲/۲۹۳،۳/۱۱،۱۷) (صحیح)
۴۲۸۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' پل صراط جہنم کے دونوں کناروں پر رکھا جائے گا، اس پر سعدان کے کانٹوں کی طرح کانٹے ہوں گے، پھر لوگ اس پر سے گزرنا شروع کریں گے، تو بعض لوگ صحیح سلامت گزرجائیں گے، بعض کے کچھ اعضاء کٹ کر جہنم میں گر پڑیں گے، پھر نجات پائیں گے ، بعض اسی پر اٹکے رہیں گے، اور بعض اوندھے منہ جہنم میں گریں گے '' ۔


4281- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " إِنِّي لأَرْجُو أَلا يَدْخُلَ النَّارَ أَحَدٌ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ " قَالَتْ: قُلْتُ: يَارَسُولَ اللَّهِ! أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا} قَالَ: " أَلَمْ تَسْمَعِيهِ يَقُولُ: {ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا؟} "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۲۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۳۳)، وقد أخرجہ: حم ۶/۲۸۵) (صحیح) (الصحیحہ: ۲۴۰۵)
۴۲۸۱- ام المو منین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''مجھے امید ہے جو لوگ بدر و حدیبیہ کی جنگوں میں شریک تھے، ان میں سے کوئی جہنم میں نہ جائے گا، ( إ ن شاء اللہ ) اگر اللہ نے چاہا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول !کیا اللہ تعالی کا یہ ارشاد نہیں ہے : { وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا}[سورة مريم: 71] (تم میں سے ہر ایک کو اس میں وارد ہونا ہے، یہ تیرے رب کا حتمی فیصلہ ہے) ؟! ، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: '' کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ قول نہیں سنا: {ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا} [سورة مريم: 72] (پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں اوندھے منھ چھوڑدیں گے)''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
34- بَاب صِفَةِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ
۳۴- باب: امت محمدیہ کی صفات​


4282- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ،سِيمَاءُ أُمَّتِي، لَيْسَ لأَحَدٍ غَيْرِهَا "۔
* تخريج: م/الطہارۃ ۱۲ (۲۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۹۹) (صحیح)
۴۲۸۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' تم میرے پاس آئو گے اس حال میں کہ وضو کی وجہ سے تمہارے ہاتھ پائو ں اور پیشانیاں روشن ہوں گی، یہ میری امت کا نشان ہوگا، اور کسی امت کا یہ نشان نہ ہوگا ''۔


4283- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ: " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ " قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لا يَدْخُلُهَا إِلا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلا كَالشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ، أَوْ كَالشَّعَرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَحْمَرِ "۔
* تخريج: خ/الرقاق ۴۵ (۶۵۲۶)، م/الإیمان ۹۵ (۲۲۱)، ت/صفۃ الجنۃ ۱۳ (۲۵۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۸۳)، وقد أخرجہ: ط/قصرالصلاۃ ۲۴ (۸۸)، حم (۱/۳۸۶، ۴۳۷، ۴۴۵) (صحیح)
۴۲۸۳- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک خیمے میں تھے،تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تم اس پر راضی اور خوش ہوگے کہ تم جنت والوں کے چو تھائی ر ہو''، ہم نے کہا: کیو ں نہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تم خوش ہوگے کہ جنت والوں کے ایک تہائی رہو''، ہم نے کہا: ہاں ،آپ ﷺ نے فرمایا: '' اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کے آدھا ہوگے ، ایسا اس لئے ہے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا،اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کالے بیل کی جلد پر سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پر کالا بال '' ۔


4284- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَجِيئُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلانِ، وَيَجِيئُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الثَّلاثَةُ، وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ، فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ بَلَّغْتَ قَوْمَكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُدْعَى قَوْمُهُ، فَيُقَالُ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: لا، فَيُقَالُ: مَنْ يَشْهَدُ لَكَ ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَتُدْعَى أُمَّةُ مُحَمَّدٍ فَيُقَالُ: هَلْ بَلَّغَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيَقُولُ: وَمَا عِلْمُكُمْ بِذَلِكَ؟ فَيَقُولُونَ: أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا بِذَلِكَ أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا، فَصَدَّقْنَاهُ، قَالَ: فَذَلِكُمْ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا} "۔
* تخريج: خ/أحادیث الأنبیاء ۳ (۳۳۳۹)، ت/تفسیر القرآن ۳ (۲۹۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۹، ۳۲، ۵۸) (صحیح)
۴۲۸۴- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' (قیامت کے دن) ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ دو ہی آدمی ہوں گے، اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ تین آدمی ہوں گے، اور کسی نبی کے ساتھ زیادہ لوگ ہوں گے، کسی کے ساتھ کم ، اس نبی سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہے گا: ''ہاں '' پھر اس کی قوم بلائی جائے گی اور پوچھا جائے گا : کیا اس نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے :''نہیں '' نبی سے پوچھا جائے گا: تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہے گا: محمد اور ان کی امت ، پھر محمد کی امت بلائی جائے گی اور کہا جائے گا: کیا اس نے اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دیاتھا؟ وہ کہے گی: ''ہاں'' اس سے پوچھا جائے گا :تمہیں کیسے معلوم ہوا ؟ جواب دے گی کہ ہمارے نبی نے ہم کو یہ بتایا کہ رسولوں نے پیغام پہنچادیا ہے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھرآپ ﷺ نے فرمایا : '' یہی اللہ تعالی کے قول: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا} [سورة البقرة : 143] ( اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا تاکہ تم گواہ رہو لوگوں پر اور رسول گواہ رہیں تمہارے اوپر) کا مطلب ہے ''۔


4285- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْمِنُ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلا سُلِكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَرْجُو أَلا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّئُوا أَنْتُمْ، وَمَنْ صَلَحَ مِنْ ذَرَارِيِّكُمْ، مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ، وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي ـ عَزَّ وَجَلَّ ـ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۱۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶) (صحیح)
۴۲۸۵- رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لوٹے تو آپ ﷺ نے فرمایا: '' اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، کوئی بندہ ایسا نہیں ہے، جو ایمان لائے ،پھر اس پر جما رہے مگروہ اس کی وجہ سے جنت میں داخل کیا جائے گا، اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری اولاد میں جو لوگ نیک ہوئے جنت کے مکانات میں ٹھکانا نہ بنا لیں،اور مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب وکتا ب جنت میں داخل کرے گا ''۔


4286- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الأَلْهَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " وَعَدَنِي رَبِّي سُبْحَانَهُ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا، لا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلا عَذَابَ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا، وَثَلاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي، عَزَّ وَجَلَّ "۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۱۲ (۲۴۳۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۶۸) (صحیح)
۴۲۸۶- ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : '' میرے رب (سبحا نہ وتعالی ) نے مجھ سے و عدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہوگا، اور نہ ان پر کوئی عذاب ، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب عز وجل کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے''۔


4287- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ الرَّمْلِيُّ وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ قَالا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " نُكْمِلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أُمَّةً، نَحْنُ آخِرُهَا، وَخَيْرُهَا "۔
* تخريج: ت/تفسیر القرآن ۴ (۳۰۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۴۴۷۴، ۵/۳، ۵)، دي/الرقاق ۴۷ (۲۸۰۲) (حسن)
۴۲۸۷- معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' ہم قیامت کے دن ستر امتوں کا تکملہ ہوں گے، اور ہم ان سب سے آخری اور بہتر امت ہو ں گے '' ۔


4288- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ وَفَّيْتُمْ سَبْعِينَ أُمَّةً، أَنْتُمْ خَيْرُهَا،وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ "۔
* تخريج: انظر ماقبلہ (حسن)
۴۲۸۸- معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : '' تمہیں لے کر ستر امتیں پوری ہوئیں ،اور تم ان میں سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ با عزت ہو ''۔


4289- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ الأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: " أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ، ثَمَانُونَ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ، وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الأُمَمِ "۔
* تخريج: ت/صفۃ الجنۃ ۱۳ (۲۵۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۴۷، ۳۵۵، ۳۶۱) دي/الرقاق ۱۱۱ (۲۸۷۷) (صحیح)
۴۲۸۹- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' جنت والوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسّی صفیں اس امت کے لوگوں کی ہوں گی، اور چالیس صفیں اور امتوں میں سے ''۔


4290- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: " نَحْنُ آخِرُ الأُمَمِ، وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ، يُقَالُ: أَيْنَ الأُمَّةُ الأُمِّيَّةُ وَنَبِيُّهَا؟ فَنَحْنُ الآخِرُونَ الأَوَّلُونَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۰۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶) (صحیح)
۴۲۹۰- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فر مایا : '' ہم آخری امت ہیں اور سب سے پہلے حساب کے لئے بلائے جائیں گے، کہا جائے گا: امت اور اس کے نبی کہاں ہیں ؟ تو ہم اول بھی ہیں اور آخر بھی '' ۔


4291- حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْخَلائِقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أُذِنَ لأُمَّةِ مُحَمَّدٍ فِي السُّجُودِ، فَيَسْجُدُونَ لَهُ طَوِيلا، ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعُوا رُئُوسَكُمْ، قَدْ جَعَلْنَا عِدَّتَكُمْ فِدَائَكُمْ مِنَ النَّارِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجۃ، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۱۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۳۶) (ضعیف جدا)
(جبارہ بن المغلس ضعیف اور عبد الاعلی بن ابی المساورمتروک راوی ہیں )
۴۲۹۱- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' جب اللہ تعالی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جمع کرے گا، تو محمد ﷺ کی امت کو سجدے کا حکم دے گا، وہ بڑی دیر تک اس کو سجدہ کرتے رہیں گے ، پھر حکم ہوگا اپنے سروں کو اٹھائو ہم نے تمہاری تعداد کے مطابق تمہارے فدئیے جہنم سے کر دئیے '' ۔


4292- حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ مَرْحُومَةٌ، عَذَابُهَا بِأَيْدِيهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، دُفِعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَيُقَالُ: هَذَا فِدَاؤُكَ مِنَ النَّارِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۴۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۳۷) (صحیح)
(سند میں جبارہ وکثیر ضعیف ہیں لیکن صحیح مسلم میں ابو موسیٰ اشعری کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
۴۲۹۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''بیشک یہ امت امت مرحومہ ہے، اس کا عذاب اسی کے ہاتھوں میں ہے، جب قیامت کا دن ہوگا تو ہر مسلمان کے حوالے ایک مشرک کیا جائے گا، اور کہا جائے گا : یہ تیرا فدیہ ہے جہنم سے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
35- بَاب مَا يُرْجَى مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۳۵-باب: روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید​


4293- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالْمَلِكِ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ، قَسَمَ مِنْهَا رَحْمَةً بَيْنَ جَمِيعِ الْخَلائِقِ، فَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ، وَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ،وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى أَوْلادِهَا، وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً، يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "۔
* تخريج: م/التوبۃ ۴ (۲۷۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۱۸۳)، وقد أخرجہ: خ/الأدب ۱۹ (۶۰۰۰)، الرقاق ۱۹ (۶۴۶۹) ت/الدعوات ۱۰۰ (۳۵۴۱)، حم (۲/۴۳۴)، دي/الرقاق ۶۹ (۲۸۲۷) (صحیح)
۴۲۹۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' اللہ تعالی کی سو رحمتیں ہیں ، ان میں سے ایک رحمت کو تمام مخلوقات کے درمیان تقسیم کر دیا ہے ، اسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت کرتے ہیں،اور اسی وجہ سے وحشی جانور اپنی اولاد پر رحم کرتے ہیں ، اللہ تعالی نے ننانوے رحمتیں محفوظ کر رکھی ہیں، ان کے ذریعے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کرے گا ''۔


4294- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " خَلَقَ اللَّهُ، عَزَّوَجَلَّ، يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَجَعَلَ فِي الأَرْضِ مِنْهَا رَحْمَةً، فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا، وَالْبَهَائِمُ،بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ،وَالطَّيْرُ، وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، أَكْمَلَهَا اللَّهُ بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۲۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۵۵) (صحیح)
۴۲۹۴- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' اللہ عزو جل نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ، سو رحمتیں پیدا کیں ،زمین میں ان سو رحمتوں میں سے ایک رحمت بھیجی، اسی کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر رحم کرتی ہے، اور چرندوپرند جانوربھی ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اور ننانوے رحمتوں کو اس نے قیامت کے دن کے لئے اٹھا رکھا ہے ، جب قیامت کا دن ہو گا، تو اللہ تعالی ان رحمتو ں کو پورا کرے گا ''۔


4295- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍالأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاعَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ: إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي "۔
* تخريج: انظر حدیث (رقم : ۱۸۹) (صحیح)
۴۲۹۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جب اللہ عز و جل نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر یہ لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ''۔


4296- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ، فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ! هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟ " قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلايُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ، إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ،أَنْ لا يُعَذِّبَهُمْ "۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۴۶)، وقد أخرجہ: خ/الجہاد ۴۶ (۲۸۵۶)، م/الإیمان ۱۰ (۳۰)، د/الجہاد ۵۳ (۲۵۵۹)، ت/الإیمان ۱۸ (۲۶۴۳)، حم (۵/۲۲۸، ۲۳۰، ۲۳۴) (صحیح)
۴۲۹۶- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ میرے پاس گزرے اور میں ایک گدھے پر سوار تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: '' معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالی کا حق بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالی پر کیا ہے''؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا : '' اللہ تعالی کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور بندوں کا حق اللہ تعالی پر یہ ہے کہ جب وہ ایسا کریں تو وہ ان کو عذاب نہ دے ''۔


4297- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا إِسْماعِيلُ بْنُ يَحْيَى الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ، فَمَرَّ بِقَوْمٍ، فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ؟ فَقَالُوا: نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ، وَامْرَأَةٌ تَحْصِبُ تَنُّورَهَا، وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا، فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجُ التَّنُّورِ، تَنَحَّتْ بِهِ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي! أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمِ الرَّاحِمِينَ؟ قَالَ: " بَلَى " قَالَتْ: أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمَ بِعِبَادِهِ مِنَ الأُمِّ بِوَلَدِهَا؟ قَالَ: " بَلَى " قَالَتْ: فَإِنَّ الأُمَّ لا تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ! فَأَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَبْكِي، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لايُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهِ إِلا الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ، الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللَّهِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۳۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۳۹) (موضوع)
( سند میں اسماعیل بن یحییٰ متہم بالکذب ہے، اور عبد اللہ بن عمر العمر ی ضعیف )
۴۲۹۷- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے کہ آپ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو پوچھا : ''تم کون لوگ ہو'' ؟ انہو ں نے کہا: ہم مسلمان ہیں ، ان میں ایک عورت تنور میں ایندھن جھوک رہی تھی، اوراس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا، جب تنور کی آگ بھڑک اٹھی وہ اپنے بیٹے کو لے کر ہٹ گئی، اس نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا :''ہاں'' عورت نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا اللہ سارے رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیوں نہیں'' وہ بولی: کیا اللہ تعالی اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحم نہیں کرے گا جتنا ماں اپنے بچے پر کرتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ''کیوں نہیں ''؟ اس نے کہا : ماں تو اپنے بچے کوآگ میں نہیں ڈالتی ، آپ ﷺ نے سر جھکا دیا، اور روتے رہے پھر اپنا سر اٹھایا، اور فرمایا :اللہ تعالی اپنے انہی بندوں کو عذاب دے گا جو بہت سرکش وشریر ہیں، اور جو اللہ تعالی کے باغی ہوتے ہیں اور'لاإلٰہَ إلا اللّٰہُ' کہنے سے انکا ر کرتے ہیں''۔


4298- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لايَدْخُلُ النَّارَ إِلا شَقِيٌّ " قِيلَ: يَارَسُولَ اللَّهِ! وَمَنِ الشَّقِيُّ؟ قَالَ: " مَنْ لَمْ يَعْمَلْ لِلَّهِ بِطَاعَةٍ، وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُ مَعْصِيَةً "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۷۴، ومصباح الزجاجۃ:۱۵۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۴۹) (ضعیف)
(سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں)
۴۲۹۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جہنم میں کوئی نہیں جائے گا سوائے بدبخت کے'' لوگو ں نے پوچھا:اللہ کے رسول ! بدبخت کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: '' جس نے کبھی اللہ تعالی کی اطاعت نہیں کی ، اور کوئی گناہ نہ چھوڑا ''۔


4299- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ أَخُوحَزْمٍ الْقُطَعِيِّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَرَأَ (أَوْ تَلا) هَذِهِ الآيَةَ {هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ}، فَقَالَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى، فَلا يُجْعَلْ مَعِي إِلَهٌ آخَرُ، فَمَنِ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا آخَرَ،فَأَنَا أَهْلٌ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ ".
* تخريج: ت/تفسیر القرآن ۷۰ (۳۳۲۸)، (تحفۃ الأشراف:۴۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۴۲، ۲۴۳)، دي/الرقاق ۱۶ (۲۷۶۶) (ضعیف)
(سند میں سہیل بن عبد اللہ ضعیف ہیں)
۴۲۹۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت : {هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ} (سورۃ المدثر : ۵۶) (یعنی اللہ ہی سے ڈرنا چاہیے اور وہی گناہ بخشنے کا اہل ہے ) تلاوت فرمائی، اور فرمایا: ''اللہ عزو جل فرماتا ہے میں اس کے لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے ،اور میرے ساتھ کو ئی اور معبود نہ بنایا جائے، تو جو میرے ساتھ کوئی دوسرا معبود بنانے سے بچے تو میں ہی اس کا اہل ہوں کہ اس کو بخش دوں''۔
[ز] 4299/أ- قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ فِي هَذِهِ الآيَةِ: {هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ}، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " قَالَ رَبُّكُمْ: أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى، فَلايُشْرَكَ بِي غَيْرِي، وَأَنَا أَهْلٌ، لِمَنِ اتَّقَى أَنْ يُشْرِكَ بِي، أَنْ أَغْفِرَ لَهُ "۔[ز] ۴۲۹۹/أ- اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت: {هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ} کے با رے میں کہ تمہارے رب نے فرمایا: '' میں ہی اس بات کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے ، میرے سا تھ کسی اور کو شریک نہ کیا جا ئے، اور جو میرے سا تھ شر یک کر نے سے بچے میں اہل ہوں اس بات کا کہ اسے بخش دوں'' ۱؎ ۔


4300- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يُصَاحُ بِرَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُئُوسِ الْخَلائِقِ، فَيُنْشَرُ لَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ سِجِلا، كُلُّ سِجِلٍّ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَلْ تُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا؟ فَيَقُولُ: لا، يَا رَبِّ! فَيَقُولُ أَظَلَمَتْكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ ثُمَّ يَقُولُ: أَلَكَ عَنْ ذَلِكَ حَسَنَةٌ ؟ فَيُهَابُ الرَّجُلُ، يَقُولُ: لا، فَيَقُولُ: بَلَى،إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَاتٍ،وَإِنَّهُ لاظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ، فَتُخْرَجُ لَهُ بِطَاقَةٌ فِيهَا: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ! فَيَقُولُ: إِنَّكَ لا تُظْلَمُ، فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كِفَّةٍ، وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ، فَطَاشَتِ السِّجِلاتُ،وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: الْبِطَاقَةُ الرُّقْعَةُ، وَأَهْلُ مِصْرَ يَقُولُونَ لِلرُّقْعَةِ: بِطَاقَةً۔
* تخريج: ت/الایمان ۱۷ (۲۶۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۱۳، ۲۲۱) (صحیح)
۴۳۰۰- عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' قیامت کے دن تمام لوگوں کے سامنے میری امت کے ایک شخص کی پکار ہو گی، اور اس کے ننانوے دفتر پھیلادئیے جائیں گے ، ہر دفتر حد نگاہ تک پھیلا ہوگا ، پھر اللہ عز و جل فرمائے گا :کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکا ر کرتے ہو؟ وہ کہے گا: نہیں،اے رب!: اللہ تعالی فرمائے گا :کیا میرے حافظ کاتبوں نے تم پر ظلم کیا ہے؟ پھر فرمائے گا:کیا تمہارے پاس کوئی نیکی بھی ہے ؟ وہ آدمی ڈرجائے گا، اور کہے گا:نہیں، اللہ تعالی فرمائے گا: نہیں، ہمارے پاس کئی نیکیاں ہیں، اور آج کے دن تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، پھر ایک پرچہ نکالاجائے گا جس پر '' أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ '' لکھا ہوگا، وہ کہے گا: اے میرے رب ! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے ؟ اللہ تعالی فرمائے گا: آج تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا ،پھر وہ تمام دفتر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں، وہ سارے دفتر ہلکے پڑ جائیں گے اور پرچہ بھاری ہوگا ۱؎ ۔
محمد بن یحییٰ کہتے ہیں :بطاقہ پرچے کو کہتے ہیں ، اہل مصر رقعہ کو بطاقہ کہتے ہیں ''۔
وضاحت ۱ ؎ : یہ حدیث حدیث بطاقۃ کے نام سے مشہورہے، اور اس میں گنہگار مسلمانوں کے لئے بڑی امید ہے ،شرط یہ ہے کہ ان کا خاتمہ ایمان پر ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
36-بَاب ذِكْرِ الْحَوْضِ
۳۶-باب: حوضِ کو ثر کا بیان​


4301- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: " إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ، أَبْيَضَ مِثْلَ اللَّبَنِ، آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، وَإِنِّي لأَكْثَرُ الأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۹۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۴۱) (صحیح)
(سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو : الصحیحہ: ۳۹۴۹، تراجع الألبانی: رقم : ۴۸۹)
۴۳۰۱- ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' میرا ایک حوض ہے ، کعبہ سے لے کر بیت المقدس تک ، دودھ جیساسفید ہے، اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہیں، اور قیامت کے دن میرے پیروکار اور متبعین تمام انبیاء کے پیروکاروں اور متبعین سے زیادہ ہو ں گے''۔


4302- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ حَوْضِي لأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدَنَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ، وَلَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! إِنِّي لأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَعْرِفُنَا؟ قَالَ: " نَعَمْ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ، لَيْسَتْ لأَحَدٍ غَيْرِكُمْ "۔
* تخريج: م/الطہارۃ ۱۲ (۲۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۸۳، ۴۰۶) (صحیح)
۴۳۰۲- حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے بھی زیادہ بڑا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںمیری جان ہے! اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ،میں اس حوض سے کچھ لوگوں کو ایسے ہی دھتکاروں اور بھگائوں گا جیسے کوئی آدمی اجنبی اونٹ کو اپنے حوض سے دھتکارتا اور بھگاتا ہے''، سوال کیا گیا: اللہ کے رسول ! کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں، تم میرے پاس اس حالت میں آؤگے کہ تمہارے ہاتھ اور منہ وضو کے نشان سے روشن ہوں گے ، اور یہ نشان تمہارے علاوہ اور کسی کا نہیں ہوگا ''۔


4303- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سَالِمٍ الدِّمَشْقِيُّ، نُبِّئْتُ، عَنْ أَبِي سَلامٍ الْحَبَشِيِّ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ، فَأَتَيْتُهُ عَلَى بَرِيدٍ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَيْهِ، قَالَ: لَقَدْ شَقَقْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا سَلامٍ! فِي مَرْكَبِكَ، قَالَ: أَجَلْ،وَاللَّهِ! يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَاللَّهِ! مَا أَرَدْتُ الْمَشَقَّةَ عَلَيْكَ، وَلَكِنْ حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فِي الْحَوْضِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُشَافِهَنِي بِهِ، قَالَ فَقُلْتُ: حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " إِنَّ حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى أَيْلَةَ، أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، أَكَاوِيبُهُ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا، وَأَوَّلُ مَنْ يَرِدُهُ عَلَيَّ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، الدُّنْسُ ثِيَابًا وَالشُّعْثُ رُئُوسًا، الَّذِينَ لا يَنْكِحُونَ الْمُنَعَّمَاتِ، وَلا يُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ " قَالَ: فَبَكَى عُمَرُ حَتَّى اخْضَلَّتْ لِحْيَتُهُ، ثُمَّ قَالَ: لَكِنِّي قَدْ نَكَحْتُ الْمُنَعَّمَاتِ وَفُتِحَتْ لِيَ السُّدَدُ، لا جَرَمَ أَنِّي لا أَغْسِلُ ثَوْبِي الَّذِي عَلَى جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ، وَلا أَدْهُنُ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ ۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۱۵ (۲۴۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۷۵) (صحیح)
( عباس بن سالم اور ابو سلام کے مابین انقطاع کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث دوسرے طریق سے ثابت ہے ، ملاحظہ ہو: الصحیحہ : ۱۰۸۲، السنۃ لابن ابی عاصم : ۷۰۷ - ۷۰۸)
۴۳۰۳- ابوسلّام حبشی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے مجھ کو بُلا بھیجا، میں ان کے پاس ڈاک کے گھوڑے پر بیٹھ کر آیا ، جب میں پہنچا تو انہوں نے کہا: اے ابو سلام! ہم نے آپ کو زحمت دی کہ آپ کو تیزسواری سے آنا پڑا، میں نے کہا:بیشک، اللہ کی قسم! اے امیر المومنین! ( ہاں واقعی تکلیف ہوئی ہے)، انہوں نے کہا، اللہ کی قسم، میں آپ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا ، لیکن مجھے پتا چلا کہ آپ ثوبان رضی اللہ عنہ ( رسول اکرم ﷺ کے غلام ) سے حوض کوثر کے بارے میں ایک حدیث روایت کرتے ہیں تومیں نے چاہا کہ یہ حدیث برا ہ راست آپ سے سن لوں ، تو میں نے کہا کہ مجھ سے ثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' میرا حوض اتنا بڑا ہے جتناعدن سے ا یلہ تک کا فاصلہ ، دودھ سے زیادہ سفید، اور شہد سے زیادہ میٹھا، اس کی پیالیاں آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر ہیں، جو شخص اس میں سے ایک گھونٹ پی لے گا کبھی پیاسا نہ ہو گا،اور سب سے پہلے جو لوگ میرے پاس آئیں گے(پانی پینے) وہ میلے کچیلے کپڑوں اور پراگندہ بالوںوالے فقراء مہاجرین ہوں گے، جونازو نعم میں پلی عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے اور نہ ان کے لئے دروازے کھولے جاتے'' ۔
ابو سلام کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رونے لگے یہاں تک کہ ان کی داڑھی تر ہوگئی ، پھر بولے: میں نے تو نازو نعم والی عورتوں سے نکاح بھی کیا، اور میرے لئے دروازے بھی کھلے ،اب میں جو کپڑا پہنوں گا ، اس کو ہرگز نہ دھووں گا، جب تک وہ میلانہ ہو جائے، اور اپنے سر میں تیل نہ ڈالوں گا جب تک کہ وہ پراگندہ نہ ہو جائے ۔


4304- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ، أَوْ كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعُمَانَ "۔
* تخريج: م/الفضائل ۱۰ (۲۳۰۳)، (تحفۃ الأشراف:۱۳۷۰)، وقد أخرجہ: خ/الرقاق ۵۳ (۶۵۹۱)، حم (۳/۱۳۳، ۲۱۶، ۲۱۹) (صحیح)
۴۳۰۴- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' میرے حوض کے دونوں کناروں کا فاصلہ اتنا ہے جتنا صنعاء اور مدینہ میں یا مدینہ و عمان میں ہے ''۔


4305- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ: " يُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ "۔
* تخريج: م/الفضائل ۹ (۲۳۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۳۸) (صحیح)
۴۳۰۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' حوض کو ثر پر چاندی اور سونے کے جگ آسمان کے تارو ں کی تعدادکے برابر ہوں گے'' ۔


4306- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ أَتَى الْمَقْبَرَةَ فَسَلَّمَ عَلَى الْمَقْبَرَةِ، فَقَالَ: " السَّلامُ عَلَيْكُمْ، دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ! وَإِنَّا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، بِكُمْ لاحِقُونَ " ثُمَّ قَالَ: " لَوَدِدْنَا أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ؟ قَالَ: " أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي، وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ رَجُلا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهَا؟ " قَالُوا: بَلَى، قَالَ: "فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ، مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ " قَالَ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " ثُمَّ قَالَ: " لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، فَأُنَادِيهِمْ أَلاهَلُمُّوا! فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، وَلَمْ يَزَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ،فَأَقُولُ: أَلاسُحْقًا! سُحْقًا! "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۰۰، ۳۷۵) (صحیح)
۴۳۰۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قبرستان میں آئے، اورقبر والوں کو سلام کرتے ہوئے فرمایا: ''السَّلامُ عَلَيْكُمْ، دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ! وَإِنَّا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، بِكُمْ لاحِقُونَ'' ( اے مومن قوم کے گھر والو! آپ پر سلامتی ہو ، ان شاء اللہ ہم آپ لوگوں سے جلدہی ملنے والے ہیں) ، پھر فرمایا: '' میری آرزو ہے کہ میں اپنے بھایئو ں کو دیکھوں''، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ فرمایا : '' تم سب میرے اصحاب ہو ، میرے بھائی وہ ہیں جو میرے بعد آئیں گے، اور میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا '' صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! آپ کی امت میں سے جو لوگ ابھی نہیں آئے ہیں آپ ان کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : '' کیا وہ آدمی جس کے گھوڑے سفید پیشانی، اور سفید ہاتھ پائو ں والے ہو ں خالص کالے گھوڑوں کے بیچ میں ان کو نہیں پہچانے گا''؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: کیوں نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا: ''میرے اخوان قیامت کے دن وضو کے نشانات سے (اسی طرح) سفید پیشانی ،اور سفید ہاتھ پائو ں ہو کر آئیں گے''،پھر فرمایا : '' میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا کچھ لوگ میرے حو ض سے بھولے بھٹکے اونٹ کی طرح ہانک دئیے جائیں گے، میں انہیں پکاروں گا کہ ادھرآئو، تو کہا جائے گا کہ انہوں نے تمہارے بعد دین کو بدل دیا، اور وہ الٹے پائوں لوٹ جائیں گے ، میں کہوں گا: خبردار! دور ہٹو ، دور ہٹو '' ۔
 
Top