• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب مَا جَاءَ فِي شُهُودِ الْجَنَائِزِ
۱۵- باب: جنازہ میں شرکت کا بیان​

1477- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُنْ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ >۔
* تخريج: خ/الجنائز ۵۱ (۱۳۱۵)، م/الجنائز ۱۶ (۹۴۴)، د/الجنائز۵۰ (۳۱۸۱)، ت/الجنائز۳۰ (۱۰۱۵)، ن/الجنائز ۴۴ (۱۹۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۲۴)، وقد أخرجہ: ط/الجنائز ۱۶ (۵۶)، حم (۲/۲۴۰) (صحیح)

۱۴۷۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جنازہ کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو نیکی کی طرف جلدی پہنچا دو گے اور اگر بد ہے تو بدی کو اپنی گردن سے اتار پھینکو گے''۔

1478- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: مَنِ اتَّبَعَ جِنَازَةً فَلْيَحْمِلْ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ كُلِّهَا فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ إِنْ شَائَ فَلْيَتَطَوَّعْ، وَإِنْ شَائَ فَلْيَدَعْ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۱۲ ، ومصباح الزجاجۃ : ۵۲۶) (ضعیف)
(اس سند میں انقطاع ہے، کیونکہ ابو عبید ۃ (عامر) نے اپنے والد سے کوئی حدیث نہیں سنی ہے)
۱۴۷۸- ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو کوئی جنازہ کے ساتھ جائے تو (باری باری) چار پائی کے چاروں پایوں کو اٹھائے، اس لئے کہ یہ سنت ہے، پھر اگر چاہے تو نفلی طور پہ اٹھائے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔

1479- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ رَأَى جِنَازَةً يُسْرِعُونَ بِهَا، قَالَ: < لِتَكُنْ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۲۹، ومصباح الزجاجۃ: ۵۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۰۳، ۴۰۶، ۴۱۲) (منکر)
(اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث کے معارض ہے، اس لئے یہ حدیث منکر ہے)
۱۴۷۹ - ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک جنازہ دیکھا جسے لوگ دوڑتے ہوئے لے جا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اطمینان سے چلو''۔

1480- حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي، مَرْيَمَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ نَاسًا رُكْبَانًا عَلَى دَوَابِّهِمْ، فِي جِنَازَةٍ، فَقَالَ: < أَلا تَسْتَحْيُونَ أَنَّ مَلائِكَةَ اللَّهِ يَمْشُونَ عَلَى أَقْدَامِهِمْ وَأَنْتُمْ رُكْبَانٌ؟ >۔
* تخريج: ت/الجنائز ۲۸ (۱۰۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۸۱)، وقد أخرجہ: د/الجنائز۴۸ (۳۱۷۷) (ضعیف)
(اس کی سند میں ابو بکر بن ابی مریم ضعیف ہیں، اور بقیہ بن ولید مدلس ہیں)
۱۴۸۰- رسول اللہ ﷺ کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جنازہ میں کچھ لوگوں کو جانوروں پر سوار دیکھا، تو فرمایا: ''تمہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ کے فرشتے پیدل چل رہے ہیں اور تم سوار ہو''۔

1481- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ وَالْمَاشِي مِنْهَا حَيْثُ شَائَ >۔
* تخريج: د/الجنائز ۴۹ (۳۱۸۰)، ت/الجنائز ۴۲ (۱۰۳۱)، ن/الجنائز ۵۵ (۱۹۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۹۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۴۷، ۲۴۸، ۲۴۹،۲۵۲) (صحیح)

۱۴۸۱- مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ''سوار شخص جنازہ کے پیچھے چلے اور پیدل شخص (آگے پیچھے، دائیں، بائیں) جہاں چاہے چلے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب مَا جَاءَ فِي الْمَشْيِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ
۱۶- باب: جنازہ کے آگے چلنے کا بیان​

1482- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ؛ قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ.
* تخريج: د/الجنائز ۴۹ (۱۱۷۹)، ت/الجنائز ۲۶ (۱۰۰۷)، ن/الجنائز ۵۶ (۱۹۴۶)، (تحفۃ الأشراف:۶۸۲۰)، وقد أخرجہ: ط/الجنائز ۳ (۸)، حم (۲/۸، ۱۲۲) (صحیح)

۱۴۸۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ، ابو بکر اورعمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جنازہ کے آگے چلتے تھے۔
وضاحت۱؎: جنازہ کے ساتھ جنازہ سے قریب ہو کر آگے پیچھے دائیں بائیں ہر طرح سے چلنا جائز ہے، البتہ پیچھے چلنا افضل ہے، اور سوار کے لئے آگے چلنا صحیح نہیں۔

1483- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْحَمَّالُ قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الأَيْلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ۔
* تخريج:ت/الجنائز ۲۶ (۱۰۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۲) (صحیح)

۱۴۸۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم جنازہ کے آگے چلتے تھے۔

1484- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِاللَّهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ الْحَنَفِيِّ، عنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَيْسَتْ بِتَابِعَةٍ، لَيْسَ مَعَهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا >۔
* تخريج: د/الجنائز۵۰ (۳۱۸۴)، ت/الجنائز ۲۷ (۱۰۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۳۷) ، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۷۸، ۳۹۴، ۴۱۵، ۴۱۹،۴۳۲) (ضعیف)
(اس کی سند میں ابو ماجدہ حنفی ضعیف ہیں)
۱۴۸۴- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جنازہ کے پیچھے چلنا چاہئے، اس کے آگے نہیں چلنا چاہئے، جو کوئی جنازہ کے آگے ہو وہ اس کے ساتھ نہیں ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّسَلُّبِ مَعَ الْجِنَازَةِ
۱۷- باب: جنازہ کے ساتھ ماتمی لباس پہننے کی ممانعت​

1485- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ، عَنْ نُفَيْعٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، وَأَبِي بَرْزَةَ قَالا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي جِنَازَةٍ، فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدِيَتَهُمْ يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ؟ أَوْ بِصُنْعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ؟ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ > قَالَ، فَأَخَذُوا أَرْدِيَتَهُمْ وَلَمْ يَعُودُوا لِذَلِكَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۶۴، ۱۱۶۰۲، ومصباح الزجاجۃ: ۵۲۸) (موضوع)
(اس کی سند میں نفیع بن حارث متروک الحدیث اور متہم بالوضع ہے، نیز علی بن الحزور متروک و منکر الحدیث ہے، نیزملاحظہ ہو: المشکاۃ : ۱۷۵۰)۔
۱۴۸۵- عمران بن حصین اور ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی چادریں پھینک دیں اور صرف قمیصیں پہنے ہوئے چل رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تم لوگ دورِ جاہلیت کا طریقہ اپناتے ہو یا جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کرتے ہو؟ میں نے ارادہ کیا کہ تم پر ایسی بددعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے علاوہ دوسری صورتوں میں اپنے گھروں کو لوٹو '' یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنی چادریں لے لیں، اور دوبارہ ایسا نہ کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب مَا جَاءَ فِي الْجِنَازَةِ لا تُؤَخَّرُ إِذَا حَضَرَتْ وَلا تُتْبَعُ بِنَارٍ
۱۸- باب: جنازہ تیار ہو تو (اس کے دفنانے میں) دیر نہ کرنے اور جنازہ کے ساتھ آگ نہ لے جانے کا بیان​

1486- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ،أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْجُهَنِيُّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا تُؤَخِّرُوا الْجِنَازَةَ إِذَا حَضَرَتْ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۲۷(۱۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۵۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۰۵، ۱۰۲۵۱) (ضعیف)
(اس میں سعید بن عبد اللہ اور ان کے شیخ محمد بن عمر بن علی مجہول ہیں)
۱۴۸۶- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب جنازہ تیار ہو تو اس (کے دفنانے) میں دیر نہ کرو''۔

1487- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، أَنْبَأَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ قَالَ: أَوْصَى أَبُومُوسَى الأَشْعَرِيُّ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ، فَقَالَ: لا تُتْبِعُونِي بِمِجْمَرٍ، قَالُوا لَهُ: أَوَ سَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفۃ الأشراف: ۹۱۱۰ ، ومصباح الزجاجۃ: ۵۲۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۹۷) (حسن)
(شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ابو حریز عبد اللہ بن حسین ہیں، جن کے بارے میں ابن حجر نے ''صدوق یخطی'' کہا ہے)
۱۴۸۷- ابو بُردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت ہوا، تو انہوں نے وصیت کی کہ میرے جنازے کے ساتھ آگ نہ لے جانا، لوگوں نے پوچھا: کیا اس سلسلے میں آپ نے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: جنازہ کے ساتھ آگ لے جانے میں فال بد ہے، اس لئے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ صَلَّى عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
۱۹- باب: جس شخص پر مسلمانوں کی ایک جماعت نے صلاۃ جنازہ پڑھی اس کی فضیلت کا بیان​

1488- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ مِائَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غُفِرَ لَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۱۲، ومصباح الزجاجۃ: ۵۳۰) (صحیح)

۱۴۸۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص کی صلاۃِ جنازہ سو مسلمانوں نے پڑھی اسے بخش دیا جائے گا''۔

1489- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ الْخَرَّاطُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: هَلَكَ ابْنٌ لِعَبْدِاللَّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لِي: يَاكُرَيْبُ! قُمْ فَانْظُرْ هَلِ اجْتَمَعَ لابْنِي أَحَدٌ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: وَيْحَكَ! كَمْ تَرَاهُمْ؟ أَرْبَعِينَ؟ قُلْتُ: لا، بَلْ هُمْ أَكْثَرُ،قَالَ: فَاخْرُجُوا بِابْنِي، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَا مِنْ أَرْبَعِينَ مِنْ مُؤْمِنٍ يَشْفَعُونَ لِمُؤْمِنٍ إِلا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ >۔
* تخريج: م/الجنائز ۱۹ (۹۴۸)، د/الجنائز ۴۵ (۳۱۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۵۴)، حم (۱/۲۷۷) (صحیح)

۱۴۸۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے کریب! جاؤ، دیکھو میرے بیٹے کے جنازے کے لئے کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے، ان کی تعداد کتنی سمجھتے ہو؟ کیا وہ چالیس ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ اس سے زیادہ ہیں، تو انہوں نے کہا: تو پھر میرے بیٹے کو نکالو، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ''اگر چالیس۱؎ مومن کسی مومن کے لئے شفاعت کریں تو اللہ تعالی ان کی شفاعت کو قبول کرے گا''۔
وضاحت۱؎: اوپر کی حدیث میں سو مسلمان کا ذکر ہے، اور اس حدیث میں چالیس کا، بظاہر دونوں میں تعارض ہے، تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلے نبی اکرم ﷺ کو سو کی تعداد بتائی گئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پرمزید احسان فرمایا، اور اس تعداد میں تخفیف فرما دی، اور سو سے گھٹا کر چالیس کر دی، نیز چالیس کا عدد مغفرت کے لئے کافی ہے، اب اگر سو ہوں گے تو اور زیادہ مغفرت کی امید ہے، ان شاء اللہ العزیز۔

1490- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ الشَّامِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: كَانَ إِذَا أُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَتَقَالَّ مَنْ تَبِعَهَا، جَزَّأَهُمْ ثَلاثَةَ صُفُوفٍ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَا صَفَّ صُفُوفٌ ثَلاثَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مَيِّتٍ إِلاأَوْجَبَ >۔
* تخريج: د/الجنائز ۴۳ (۳۱۶۶)، ت/الجنائز۴۰ (۱۰۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۷۹) (ضعیف)
(اس میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۳۶۳)
۱۴۹۰- مالک بن ہبیرہ شامی رضی اللہ عنہ (انہیں صحبت رسول کا شرف حاصل تھا) کہتے ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا، اور وہ اس کے ساتھ آنے والوں کی تعداد کم محسوس کرتے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کر دیتے، پھر اس کی صلاۃ جنازہ پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ''جس کسی میت پہ مسلمانوں کی تین صفوں نے صف بندی کی، تو اس کے لئے جنت واجب ہو گئی''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب مَا جَاءَ فِي الثَّنَائِ عَلَى الْمَيِّتِ
۲۰- باب: میت کی مدح و ثنا کا بیان​

1491- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ: < وَجَبَتْ >، ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ: < وَجَبَتْ >، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْتَ لِهَذِهِ وَجَبَتْ، وَلِهَذِهِ وَجَبَتْ، فَقَالَ: <شَهَادَةُ الْقَوْمِ، وَالْمُؤْمِنُونَ شُهُودُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ >۔
* تخريج:خ/الجنائز ۸۵ (۱۳۶۷)، الشہادات ۶ (۲۶۴۲)، م /الجنائز ۲۰ (۹۴۹)، (تحفۃ الأشراف:۲۹۴)، وقد أخرجہ: ت/الجنائز ۶۴ (۱۰۵۸)، ن/الجنائز۵۰ (۱۹۳۴)، حم (۳/۱۷۹،۱۸۶،۷ ۱۹،۲۴۵،۲۸۱) (صحیح)

۱۴۹۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، لوگوں نے اس کی تعریف کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس پر(جنت) واجب ہو گئی'' پھر آپ کے سامنے سے ایک اور جنازہ لے جایا گیا، تو لوگوں نے اس کی برائی کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس پر(جہنم) واجب ہو گئی''، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے لئے بھی فرمایا: ''واجب ہو گئی''، اور اس کے لئے بھی فرمایا: ''واجب ہو گئی'' تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''لوگوں کی گواہی واجب ہو گئی، اور مومن زمین میں اللہ تعالی کے گواہ ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پکے سچے مسلمان جن کا شیوہ عدل و انصاف ہے، جس شخص کی دینی اور اخلاقی بنیادوں پر تعریف کریں، گویا وہ اللہ تعالی کے نزدیک جنتی ہے، اور جس کی وہ ہجو اور برائی کریں وہ اللہ تعالی کے نزدیک برا ہے، کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ موت سے تمام دنیاوی عداوتیں اور دشمنیاں ختم ہو جاتی ہیں، اور دشمن بھی اس وقت دشمن نہیں رہتا، لہذا اب جو کوئی اس کی برائی بیان کرے گا تو اس کا سبب دنیوی عداوت نہ ہو گا، بلکہ حقیقت میں اس کے اخلاق یا دین میں کوئی برائی ہو گی۔

1492- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ بِجِنَازَةٍ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فِي مَنَاقِبِ الْخَيْرِ، فَقَالَ: < وَجَبَتْ >، ثُمَّ مَرُّوا عَلَيْهِ بِأُخْرَى، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فِي مَنَاقِبِ الشَّرِّ، فَقَالَ: < وَجَبَتْ، إِنَّكُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۷۴، ومصباح الزجاجۃ: ۵۳۱)، وقد أخرجہ: د/الجنائز۸۰ (۳۲۳۳)، ن/الجنائز ۵۰ (۱۹۳۵)، حم (۲/۲۶۱،۴۹۹) (صحیح)

۱۴۹۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی خصلتوں کی تعریف کی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس پہ (جنت) واجب ہو گئی'' پھر آپ کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا، اس کی بری خصلتوں کا تذکرہ ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس پہ (جہنم) واجب ہو گئی''، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب مَا جَاءَ فِي: أَيْنَ يَقُومُ الإِمَامُ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ ؟
۲۱- باب: صلاۃ جنازہ پڑھا تے وقت امام کہاں کھڑا ہو؟​

1493- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، أَخْبَرَنِي، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ الْفَزَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ وَسَطَهَا۔
* تخريج: خ/الحیض۲۹ (۳۳۲)، الجنائز۶۲ (۱۳۳۲)، ۶۳ (۱۳۳۳)، م/الجنائز۲۷ (۹۶۴)، د/الجنائز ۵۷ (۳۱۹۵)، ت/الجنائز۴۵ (۱۰۳۵)، ن/الحیض۲۵ (۳۹۳)، الجنائز۷۳ (۱۹۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۴، ۱۹) (صحیح)

۱۴۹۳- سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کی صلاۃ جنازہ پڑھائی جو زچگی میں مر گئی تھی۱؎، تو آپ اس کے بیچ میں کھڑے ہوئے۔
وضاحت۱؎: اس عورت کی کنیت ام کعب ہے جیسا کہ نسائی کی روایت میں اس کی وضاحت ہے۔

1494- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَلَّى عَلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ، فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِهِ، فَجِيئَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، بِامْرَأَةٍ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ ! صَلِّ عَلَيْهَا، فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ، فَقَالَ الْعَلائُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ ! هَكَذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَامَ مِنَ الْجِنَازَةِ مُقَامَكَ مِنَ الرَّجُلِ، وَقَامَ مِنَ الْمَرْأَةِ مُقَامَكَ مِنَ الْمَرْأَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: احْفَظُوا۔
* تخريج: د/الجنائز۵۷ (۳۱۹۴)، ت/الجنائز۴۵ (۱۰۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۱)، وقد أخرجہ: حم(۳/۱۱۸، ۱۵۱، ۲۰۴) (صحیح)

۱۴۹۴- ابو غالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کی صلاۃ جنازہ پڑھائی تو اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، پھر ایک دوسرا جنازہ ایک عورت کا لایا گیا، تو لوگوں نے کہا: اے ابو حمزہ ! ۱؎ اس کی صلاۃ جنازہ پڑھائیے، تو وہ چار پائی کے بیچ میں کھڑے ہوئے، تو ان سے علاء بن زیاد نے کہا: اے ابو حمزہ ! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح مرد اور عورت کے جنازے میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا، جس طرح آپ کھڑے ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: سب لوگ یاد کر لو۔
وضاحت۱؎: ابو حمزہ انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب مَا جَاءَ فِي الْقِرَائَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ
۲۲- باب: صلاۃِ جنازہ میں قراءت قرآن کا بیان​

1495- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَرَأَ عَلَى الْجِنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ۔
* تخريج: ت/الجنائز۳۹ (۱۰۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۴۶۸)، وقد أخرجہ: خ/الجنائز۶۵ (۱۲۳۵) (صحیح)

۱۴۹۵- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے صلاۃ جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھی۱؎۔
وضاحت۱؎: یہی محققین علماء کا مذہب ہے یعنی چار تکبیریں ہیں اور تکبیر اولیٰ کے بعد سورہ فاتحہ اور سورئہ اخلاص پڑھے۔

1496- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، النَّبِيلُ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ الأَنْصَارِيَّةُ قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نَقْرَأَ عَلَى الْجِنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۳۲، ومصباح الزجاجۃ : ۵۳۲) (ضعیف)
(اس سند میں شہر بن حوشب کثیر الارسال ہیں، اور حماد بن جعفر بھی متکلم فیہ ہیں)
۱۴۹۶- ام شریک انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صلاۃ جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الصَّلاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ
۲۳- باب: صلاۃِ جنازہ کی دعا
1497- حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ >۔
* تخريج: د/الجنائز۶۰ (۳۱۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۹۳) (حسن)

۱۴۹۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''جب تم میت کی صلاۃ جنازہ پڑھو، تو اس کے لئے خلوص دل سے دعا کرو''۔

1498- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، إِذَا صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، يَقُولُ: < اللَّهُمَّ ! اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ! مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الإِسْلامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الإِيمَانِ، اللَّهُمَّ! لا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۹۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۶۸) (صحیح)

۱۴۹۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی صلاۃ جنازہ پڑھتے تو یہ دعاپڑھتے: ''اللَّهُمَّ ! اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ! مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الإِسْلامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الإِيمَانِ، اللَّهُمَّ! لاتَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلاتُضِلَّنَا بَعْدَهُ'' (اے اللہ! ہمارے زندوں کو، ہمارے مردوں کو، ہمارے حاضر لوگوں کو، ہمارے غائب لوگوں کو، ہمارے چھوٹوں کو، ہمارے بڑوں کو، ہمارے مَردوں کو اور ہماری عورتوں کو بخش دے، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے اس کو اسلام پر زندہ رکھ، اور جس کو وفات دے، تو ایمان پر وفات دے، اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر)۔

1499- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ابْنُ جَنَاحٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَأَسْمَعُهُ يَقُولُ: < اللَّهُمَّ إِنَّ فُلانَ بْنَ فُلانٍ فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ >۔
* تخريج: د/الجنائز۶۰ (۳۲۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۵۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۹۱) (صحیح)

۱۴۹۹- واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مسلمان کے صلاۃ جنازہ پڑھائی، تو میں آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سن رہاتھا: ''اللَّهُمَّ إِنَّ فُلانَ بْنَ فُلانٍ فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ'' (اے اللہ ! فلاں بن فلاں، تیرے ذمہ میں ہے، اور تیری پناہ کی حد میں ہے، تو اسے قبر کے فتنے اور جہنم کے عذاب سے بچا لے، تو عہد اور حق پورا کرنے والا ہے، تو اُسے بخش دے، اور اس پر رحم کر، بیشک تو غفور (بہت بخشنے والا) اور رحیم (رحم کرنے والا ہے)۔

1500- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ الْفَضَالَةِ، حَدَّثَنِي عِصْمَةُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: < اللَّهُمَّ! صَلِّ عَلَيْهِ وَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَاغْسِلْهُ بِمَائٍ وَثَلْجٍ وَبَرَدٍ، وَنَقِّهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ بِدَارِهِ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ "، قَالَ عَوْفٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي مُقَامِي ذَلِكَ أَتَمَنَّى أَنْ أَكُونَ مَكَانَ ذلك الرَّجُلِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۰۷)، وقد أخرجہ: م/الجنائز۲۶ (۹۶۳)، ت/الجنائز۳۸ (۱۰۲۵)، ن/الطہارۃ۵۰ (۶۲)، الجنائز ۷۷ (۱۹۸۵)، حم (۶/۲۳، ۲۸) (صحیح)

۱۵۰۰- عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری شخص کی صلاۃ جنازہ پڑھائی، میں حاضر تھا، تو میں نے آپ ﷺ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: ''اللَّهُمَّ! صَلِّ عَلَيْهِ وَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَاغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَثَلْجٍ وَبَرَدٍ، وَنَقِّهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ بِدَارِهِ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ'' ''(اے اللہ! اس پر اپنی رحمت نا زل فر ما، اسے بخش دے، اس پر رحم کر، اسے اپنی عافیت میں رکھ، اسے معاف کر دے، اور اس کے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے، اور اسے غلطیوں اور گناہوں سے ایسے ہی پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے پاک کیا جاتا ہے، اور اس کے اس گھر کو بہتر گھر سے، اور اہل خانہ کو بہتر اہل خانہ سے بدل دے، اور اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے''۔
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت میں نے تمنا کی کاش اس میت کی جگہ میں ہوتا۔


1501- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَا أَبَاحَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَلا أَبُو بَكْرٍ، وَلا عُمَرُ فِي شَيْئٍ مَا أَبَاحُوا فِي الصَّلاةِ عَلَى الْمَيِّتِ يَعْنِي لَمْ يُوَقِّتْ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۷۸، ومصباح الزجاجۃ: ۵۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۵۷) ضعیف)
(اس میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
۱۵۰۱- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، ابو بکر اورعمر رضی اللہ عنہما نے جس قدر صلاۃ جنازہ میں چھوٹ دی اتنی کسی چیز میں نہ دی یعنی اس کا وقت مقرر نہیں کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَابُ مَا جَاءَ فِيْ التَّكْبِيْرِ عَلَي الْجَنَازَةِ اَرْبَعا
۲۴- باب: صلاۃِ جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان​

1502- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الإِيَاسِ، عَنْ إِسمَاعِيلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّى عَلَى عُثْمَانَ بنِ مَظْعُونٍ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۲۸، ومصباح الزجاجۃ: ۵۳۴) (ضعیف)
(اس میں خالد بن ایاس ضعیف ہیں)
۱۵۰۲- عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی صلاۃ جنا زہ پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔

1503- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَجَرِيُّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الأَسْلَمِيِّ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَلَى جِنَازَةِ ابْنَةٍ لَهُ، فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، فَمَكَثَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ شَيْئًا، قَالَ فَسَمِعْتُ الْقَوْمَ يُسَبِّحُونَ بِهِ مِنْ نَوَاحِي الصُّفُوفِ، فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي مُكَبِّرٌ خَمْسًا؟ قَالُوا: تَخَوَّفْنَا ذَلِكَ، قَالَ: لَمْ أَكُنْ لأَفْعَلَ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَمْكُثُ سَاعَةً، فَيَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ يُسَلِّمُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۵۲، ومصباح الزجاجۃ: ۵۳۵) وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵۶، ۳۸۳) (حسن)
(متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ابراہیم بن مسلم الہجری الکوفی ضعیف ہیں)
۱۵۰۳- ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول عبد اللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے ایک بیٹے کی صلاۃ جنازہ پڑھی،تو انہوں نے اس میں چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد کچھ دیرٹھہرے، (اور سلام پھیرنے میں توقف کیا) تو میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ صف کے مختلف جانب سے''سبحان الله'' کہہ رہے ہیں، انہوں نے سلام پھیرا، اور کہا: کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں پانچ تکبیریں کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: ہمیں اسی کا ڈر تھا، عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں تھا، لیکن چوں کہ رسول اللہ ﷺ چار تکبیریں کہنے کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے تھے، اور جو اللہ توفیق دیتا وہ پڑھتے تھے، پھر سلام پھیرتے تھے۔

1504- حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَبَّرَ أَرْبَعًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۹۱) (صحیح)
(دوسری سند سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں حجاج بن أرطاۃ مدلس ہیں)
۱۵۰۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چار بار ''اللہ اکبر'' کہیں۔
 
Top