• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9- بَاب تَطْهِيرِ الْمَسَاجِدِ وَتَطْيِيبِهَا
۹- باب: مساجد کو صاف اور معطر رکھنے کا بیان​

757- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <مَنْ أَخْرَجَ أَذًى مِنَ الْمَسْجِدِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۰۰، ومصباح الزجاجۃ: ۲۸۵) (ضعیف)
(سند میں ضعف انقطاع کی وجہ سے ہے کیونکہ سلیمان بن یسار کا سماع ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، اور محمد بن صالح میں ضعف ہے)
۷۵۷- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص مسجد سے کوڑا کرکٹ نکال دے، اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا''۔

758- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، وَأَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، قَالا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَمَرَ بِالْمَسَاجِدِ أَنْ تُبْنَى فِي الدُّورِ، وَأَنْ تُطَهَّرَ وَتُطَيَّبَ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۱۸۰)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۱۳ (۴۵۵)، ت/الجمعۃ ۶۴ (۵۹۴)، حم (۵/۱۲،۲۷۱) (صحیح)

۷۵۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں، اور انہیں پاک و صاف رکھا جائے، اور ان میں خوشبو لگائی جائے۔

759- حَدَّثَنَا رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ فِي الدُّورِ وَأَنْ تُطَهَّرَ وَتُطَيَّبَ ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۳ (۴۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۹۱) (صحیح)

۷۵۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا: ''محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور انہیں پاک و صاف رکھا جائے، اور ان میں خوشبو لگائی جائے''۔

760- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْرَجَ فِي الْمَسَاجِدِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ .
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۰۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۸۶) (ضعیف جداً)
(خالد بن ایاس منکر الحدیث اور متروک راوی ہیں)
۷۶۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مسجدوں میں چراغ جلایا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10- بَاب كَرَاهِيَةِ النُّخَامَةِ فِي الْمَسْجِدِ
۱۰- باب: مسجد میں تھوکنے اور ناک جھاڑنے کی کراہت کا بیان​

761- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍالْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا، ثُمَّ قَالَ: < إذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى >۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۳۴ (۴۰۸)، ۳۵ (۴۱۰)، ۳۶ (۴۱۳)، م/المساجد ۱۳ (۵۴۷)، ن/المساجد ۳۲ (۷۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۹۷، ۱۲۲۸۱)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۲۳ (۴۷۷)، حم (۳/۶، ۲۴، ۵۸، ۸۸، ۹۳) (صحیح)

۷۶۱- ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کی دیوار پر رینٹ دیکھی تو آپ ﷺ نے ایک کنکری لے کر اسے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: ''جب کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنے سامنے اور اپنے دائیں ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے''۱؎۔
وضاحت۱؎: مسجد میں تھوک، بلغم، رینٹ وغیرہ سے طاقت بھر پرہیز لازم ہے، اگر شدید ضرورت ہو، اور مسجد کا فرش ریت یا مٹی کا ہو تو بائیں پیر کے نیچے تھوک کر اس کو دبا دے، لیکن آج کل مساجد کے فرش پختہ ہیں، ان پر کسی بھی صورت میں تھوکنا جائز نہیں، ضرورت کے وقت رومال وغیرہ میں تھوکے، مسجد کو گندہ ہونے سے بچائے۔

762- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ ﷺ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَجَائَتْهُ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا، وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <مَا أَحْسَنَ هَذَا>۔
* تخريج: ن/المساجد ۳۵ (۷۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۶۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۸۸، ۱۹۹، ۲۰۰)(صحیح)

۷۶۲- انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا، تو آپ ﷺ سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، اتنے میں قبیلہ انصار کی ایک عورت آئی اور اس نے اسے کھرچ دیا، اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یہ کتنا اچھا کام ہے''۱؎۔
وضاحت۱ ؎: رسول اکرم ﷺ نے عورت کی تعریف کی کہ اس نے مسجد سے کراہت کی چیز نکال ڈالی اور اس کے بعد قبلہ کی طرف خوشبو لگائی، نبی اکرم ﷺ کے وقت میں دیوار صاف ہوتی تھی جب بھی کوئی اس پر تھوک دیتا وہ واضح طور پر نظر آتا۔

763- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْداللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، وَهُوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ، فَحَتَّهَا، ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلاةِ: <إِنَّ أَحَدَكُمْ، إِذَا كَانَ فِي الصَّلاةِ، كَانَ اللَّهُ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلاةِ>۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۳۳ (۴۰۶)، الأذان ۹۴ (۷۵۳)، العمل في الصلاۃ ۲ (۱۲۱۳)، الأدب ۷۵ (۶۱۱۱)، م/المساجد ۱۳ (۵۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۷۱)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۲۲ (۴۷۹)، ن/المساجد ۳۱ (۷۲۵)، ط/القبلۃ ۳ (۴)، حم (۲/۳۲، ۶۶)، دي/الصلاۃ ۱۱۶ (۱۴۳۷) (صحیح)

۷۶۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا، اس وقت آپ لوگوں کو صلاۃ پڑھا رہے تھے، آپ ﷺ نے وہ بلغم کھرچ دیا، پھر جب صلاۃ سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ''جب کوئی شخص صلاۃ میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس لئے کہ مالک جب سامنے ہو اور اسی طرف تھوکے، تو اس میں بڑی بے ادبی اور گستاخی ہے، اس حدیث میں جہمیہ اور اہل بدعت کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ (معاذ اللہ) ہر مکان اور ہر جہت میں ہے کیونکہ یہ تشبیہ ہے، اور ترمذی کی ایک روایت میں یوں ہے: یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت مصلی کے سامنے ہے، پس معلوم ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے ہونے سے اس کی رحمت کا سامنے ہونا مراد ہوتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہر مکان میں ہوتا جیسے اہل بدعت کا اعتقاد ہے تو بائیں طرف بھی تھوکنا ویسا ہی منع ہوتا، جیسے سامنے تھوکنا، واضح رہے کہ اللہ رب العزت کے لیے علو اور بلندی کی صفت کتاب و سنت سے ثابت ہے، اور وہ آسمان سے بلند عرش پر مستوی ہے، جیسا کہ شروع کتاب السنہ کی احادیث میں گزرا۔

764- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ حَكَّ بُزَاقًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۲۸۷ومصباح الزجاجۃ: ۲۸۷)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۳۳ (۴۰۶)، م/المساجد ۱۳ (۵۴۹)، ط/القبلۃ ۳ (۵)، حم (۴/۱۳۸، ۱۴۸،۲۳۰،۶/۱۳۸) (صحیح)

۷۶۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر لگا ہوا تھوک رگڑ کر صاف کر دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- بَاب النَّهْيِ عَنْ إِنْشَادِ الضَّوَالِّ فِي الْمَسَاجِدِ
۱۱- باب: مساجد میں گمشدہ چیزوں کو پکار کر ڈھونڈنا منع ہے​

765- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < لا وَجَدْتَهُ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ >۔
* تخريج: م/المساجد ۱۸ (۵۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۳۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۴۹،۴۲۰)(صحیح)

۷۶۵- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صلاۃ پڑھائی، تو ایک شخص نے کہا: میرا سرخ اونٹ کس کو ملا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اللہ کرے تمہیں نہ ملے، مسجدیں خاص مقصد کے لئے بنائی گئی ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: مساجد اللہ تعالی کی عبادت اور اس کی یاد کے لئے اور تلاوت قرآن اور وعظ اور تعلیم قرآن اور حدیث کے لئے بنائی گئی ہیں، اور علماء حق ہمیشہ مسجد میں دینی علوم کی تعلیم دیتے رہے، اور تعلیم میں کبھی بحث کی بھی ضرورت ہوتی ہے، حافظ ابن حجر نے کہا کہ مسجد میں نکاح پڑھنا درست ہے بلکہ سنت ہے۔

766- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ، (ح) وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ إِنْشَادِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۲۰ (۱۰۷۹)، ت/الصلاۃ ۱۲۴ (۳۲۲)، ن/المساجد ۲۳ (۷۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷۹)، ن/في الیوم و اللیلۃ ۶۶ (۱۷۳) (حسن)
(سند میں عبد اللہ بن لہیعہ ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن ہے)
۷۶۶- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں گم شدہ چیزوں کے اعلان سے منع فرمایا ہے۔

767- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ الأَسَدِيِّ، أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي عَبْدِاللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ ابْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ سَمِعَ رَجُلا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لا رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا >۔
* تخريج: م/المساجد ۱۸ (۵۶۸)، د/الصلاۃ ۲۱ (۴۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۴۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۴۹)، دي/الصلاۃ ۱۱۸ (۱۴۴۱) (صحیح)

۷۶۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے سنا: '' جو شخص کسی کو مسجد میں کسی گم شدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو کہے: اللہ کرے تمہاری چیز نہ ملے، اس لئے کہ مسجد یں اس کے لئے نہیں بنائی گئی ہیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب الصَّلاةِ فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ وَمُرَاحِ الْغَنَمِ
۱۲- باب: اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں میں صلاۃ پڑھنے کا بیان​

768- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، (ح) وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنْ لَمْ تَجِدُوا إِلا مَرَابِضَ الْغَنَمِ وَأَعْطَانَ الإِبِلِ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۵۵، ۱۴۵۵۹، ومصباح الزجاجۃ: ۲۸۸)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱۴۲ (۳۴۸) مختصراً، دي/الصلاۃ ۱۱۲(۱۴۳۱) (صحیح)

۷۶۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں صلاۃ پڑھو، اونٹ کے باڑے میں صلاۃ نہ پڑھو''۱؎۔
وضاحت۱؎: ہر چند بکری اور اونٹ دونوں حلال جانور ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ بکریوں سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں اور اونٹوں سے جان کا خطرہ ہے، اگر وہ بھڑکیں تو مصلی کو چوٹ آئے اس کا ڈر ہے، اور بعضوں نے کہا اونٹ کی خلقت شیطان سے ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔

769- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ۱؎ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ >۔
* تخريج: نفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۵۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۸۹)، وقد أخرجہ: ن/المساجد ۴۱ (۷۳۶)، وذکر أعطان الإبل، حم (۴/۸۵، ۸۶، ۵/۵۴، ۵۵) (صحیح)
(اس حدیث کا شاہد براء رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جو ابو داود: ۱۸۴ - ۴۹۳ میں ہے، لیکن شاہد نہ ملنے کی وجہ سے ''فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ'' کے لفظ کو البانی صاحب نے ضعیف کہا ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۲۱۰، و تراجع الألبانی: رقم: ۲۹۸)۔
۷۶۹- عبد اللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بکریوں کے باڑے میں صلاۃ پڑھو، اور اونٹوں کے باڑمیں صلاۃ نہ پڑھو، کیوں کہ ان کی خلقت میں شیطنت ہے۲؎''۔
وضاحت۱؎: فؤاد عبد الباقی کے نسخہ میں اور ایسے ہی پیرس کے مخطو طہ میں ''هشيم'' کے بجائے ''أبو نعيم'' ہے، جو غلط ہے۔
وضاحت۲ ؎: شیطنت سے مراد شرارت ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ اونٹ شیطان سے پیدا ہوا، ورنہ وہ حلال نہ ہوتا اور نبی اکرم ﷺ اس کے اوپر صلاۃ ادا نہ کرتے، لیکن شافعی کی روایت میں یوں ہے کہ جب تم اونٹوں کے باڑہ میں ہو اور صلاۃ کا وقت آجائے تو و ہاں سے نکل جاؤ کیوں کہ اونٹ جن ہیں، اور جنوں سے پیدا ہوئے ہیں، اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اونٹوں میں شرارت کا مادہ زیادہ ہے، اور یہی وجہ ہے وہاں صلاۃ پڑھنا منع ہے، اب اختلاف ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے یا تحریمی، ''لمعات التنقيح'' میں ہے کہ اگر کوئی اونٹوں کے باڑے میں صلاۃ ادا کر لے، اور جگہ پاک ہو تو اکثر علماء کے نزدیک صلاۃ صحیح ہو جائے گی، واللہ اعلم۔

770- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ ابْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لايُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ، وَيُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۱۳، ومصباح الزجاجۃ:۲۹۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۰۵، ۵/۱۰۲) (حسن صحیح)

۷۷۰- معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اونٹ کے باڑے میں صلاۃ نہ پڑھی جائے، اور بکریوں کے باڑے میں صلاۃ پڑھ لی جائے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب الدُّعَاءِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ
۱۳- باب: مسجد میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان​

771- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَقُولُ: < بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ >، وَإِذَا خَرَجَ قَالَ: < بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۱۷ (۳۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۴۱)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱۱۷ عن فاطمۃ (۳۱۴)، حم (۶/ ۲۸۲، ۲۸۳) (صحیح)
(تراجع الألبانی: رقم: ۵۱۰)۔
۷۷۱- رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: ''بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ'' (میں اللہ کا نام لے کر داخل ہوتا ہوں، اور رسول اللہ پہ سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے، اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے)، اور جب نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: ''بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ'' (میں اللہ کا نام لے کر جاتا ہوں، اور رسول اللہ پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے، اور اپنے فضل کے دروازے مجھ پر کھول دے)۔

772- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ وَعَبْدُالْوَهَّابِ ابْنُ الضَّحَّاكِ قَالا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ، ثُمَّ لِيَقُلِ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۰ (۷۱۳)، د/الصلاۃ ۱۸ (۴۶۵)، ن/المساجد ۳۶ (۷۳۰)، ت/الصلاۃ ۱۱۷ عن فاطمۃ (۳۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۲۵)، دي/الصلاۃ ۱۱۵ (۱۴۳۴)، الاستئذان ۵۶ (۲۷۳۳) (صحیح)

۷۷۲- ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم ﷺ پر سلام بھیجے، پھر کہے: ''اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ'' (اے اللہ !میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب نکلے تو یہ کہے: ''اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ'' (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں)۔

773- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قال: < إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ >.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۶۲، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۱) (صحیح)

۷۷۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی ﷺ پہ سلام بھیجے اور کہے: ''اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ'' (اے اللہ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے)، اور جب مسجد سے نکلے تو نبی ﷺ پہ سلام بھیجے، اور کہے: ''اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ'' (اے اللہ! مردود شیطان سے میری حفاظت فرما)''۱؎۔
وضاحت۱؎: مسجد سے نکلتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کی وجہ ہے، ابن السنی نے روایت کی ہے کہ تم میں سے جب کوئی مسجد سے نکلنا چاہتا ہے تو ابلیس کے لشکر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں، اور شہد کی مکھیوں کی طرح جو شہد کے چھتے پر جمع ہوتی ہیں جمع ہو جاتے ہیں، پھر جب تم میں سے کوئی مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو تو کہے: ''یا اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ابلیس اور اس کے لشکر سے'' جب یہ کہے گا تو اس کو نقصان نہ ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14- بَاب الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاةِ
۱۴- باب: صلاۃ کے لئے چل کر مسجد جانے کا بیان​

774- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لا يَنْهَزُهُ إِلا الصَّلاةُ، لا يُرِيدُ إِلا الصَّلاةَ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلاةٍ، مَا كَانَتِ الصَّلاةُ تَحْبِسُهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۵۲) (الف)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۳۰ (۶۴۷)، د/الصلاۃ ۴۹ (۵۵۹)، ت/الجمعۃ ۷۰ (۳۳۰)، حم (۲/۱۷۶) (صحیح)

۷۷۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد آئے، اور صلاۃ ہی اس کے گھر سے نکلنے کا سبب ہو، اور وہ صلاۃ کے علاوہ کوئی اور ارادہ نہ رکھتا ہو، تو ہر قدم پہ اللہ تعالی اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جائے، پھر مسجد میں داخل ہو گیا تو جب تک صلاۃ اسے روکے رکھے صلاۃ ہی میں رہتا ہے''۔

775- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا تَمْشُونَ، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَافَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا>۔
* تخريج: حدیث سعید بن المسیب أخرجہ: م/المساجد ۲۸ (۶۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۰۳)، وحدیث أبي سلمۃ أخرجہ: م/المساجد ۲۸ (۶۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۲۸)، وقد أخرجہ: خ/الاذان ۲۱ (۶۳۶)، الجمعۃ ۱۸ (۹۰۸)، د/الصلاۃ ۵۵ (۵۷۲)، ت/الصلاۃ ۱۲۷ (۳۲۷)، ن/الإمامۃ ۵۷ (۸۶۲)، ط/الصلاۃ ۱ (۴)، حم (۲/۲۷۰، ۲۸۲، ۳۱۸، ۳۸۲، ۳۸۷، ۴۲۷، ۴۵۲،۴۶۰، ۴۷۲، ۴۸۹، ۵۲۹، ۵۳۲، ۵۳۳)، دي/الصلاۃ ۵۹ (۱۳۱۹) (صحیح)

۷۷۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب صلاۃ کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان سے چل کر آؤ، امام کے ساتھ جتنی صلاۃ ملے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کرلو''۱؎۔
وضاحت۱؎: امام ترمذی نے کہا: علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے، بعضوں نے کہا: جب تکبیر اولیٰ چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو جلد چلے، اور بعضوں سے دوڑنا بھی منقول ہے، اور بعضوں نے جلدی چلنا، اور دوڑنا دونوں کو مکروہ کہا ہے، اور کہا ہے کہ سہولت اور اطمینان سے چلنا چاہئے، امام احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، اور یہی صحیح ہے، اور اس حدیث میں ایسا ہی حکم ہے دوڑنے اور جلدی کرنے میں سوائے پریشانی کے کوئی فائدہ نہیں۔

776- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟>، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: <إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلاةِ بَعْدَ الصَّلاةِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۴۶، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳، ۱۶، ۹۵) (حسن صحیح)

۷۷۶- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو معاف کرتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟''، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ''دشواری و ناپسندیدگی کے باوجود پورا وضو کرنا، مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا، اور ایک صلاۃ کے بعد دوسری صلاۃ کا انتظار کرنا''۱؎۔
وضاحت۱؎: وضو کا پورا کرنا یہ ہے کہ سب اعضاء کو پانی پہنچائے کوئی مقام سوکھا نہ رہے، اور آداب و سنن کے ساتھ وضو کرے، اور مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانے کا یہ مطلب ہے کہ مسجد مکان سے دور ہو اور جماعت کے لئے وہاں جائے، جتنی مسجد زیادہ دور ہو گی اتنے ہی قدم زیادہ اٹھانے پڑیں گے، اور ہر قدم پر ثواب ملتا رہے گا، اور ایک صلاۃ کے بعد دوسری صلاۃ کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا رہنا بڑا ثواب ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ انتظار میں برابر صلاۃ کا ثواب ملتا رہے گا۔

777- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ ﷺ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَعَمْرِي، لَوْ أَنَّ كُلَّكُمْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلا مُنَافِقٌ، مَعْلُومُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، فَيَعْمِدُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّي فِيهِ، فَمَا يَخْطُو خَطْوَةً إِلا رَفَعَ اللَّهُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۹۵)، وقد أخرجہ: م/المساجد ۴۴ (۶۵۴)، د/الصلاۃ ۴۷ (۵۵۰)، ن/الإمامۃ ۵۰ (۸۵۰)، حم (۱/۳۸۲، ۴۱۴، ۴۱۵) (صحیح)
(سند میں ابراہیم بن مسلم لین الحدیث ہیں، اور صحیح مسلم میں ''ولعمری'' کے بغیر یہ حدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۵۵۹، والإرواء: ۴۸۸ )
۷۷۷- عبد اللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص کو خوشی ہو کہ وہ کل اللہ تعالی سے اسلام کی حالت میں ملاقات کرے تو جب اور جہاں اذان دی جائے ان پانچوں مصلیوں کی پابندی کرے، کیوں کہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اور اللہ تعالی نے تمہارے نبی کے لئے ہدایت کے راستے مقرر کئے ہیں، قسم سے اگر تم میں سے ہر ایک اپنے گھر میں صلاۃ پڑھ لے، تو تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا، اور جب تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا تو گم راہ ہو گئے، ہم یقینی طور پر دیکھتے تھے کہ صلاۃ سے پیچھے صرف وہی رہتا جو کھلا منافق ہوتا، اور واقعی طور پر (عہد نبوی ﷺ میں) ایک شخص دو آدمیوں پر ٹیک دے کر مسجد میں لایا جاتا، اور وہ صف میں شامل ہوتا، اور جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور مسجد کا ارادہ کرکے نکلے، پھر اس حالت میں صلاۃ پڑھے، تو وہ جو قدم بھی چلے گا ہر قدم پر اللہ تعالی اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ صلاۃ باجماعت فرض ہے، جمہور علماء اس کو سنت مؤکدہ کہتے ہیں، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے چھوڑ دینے کو گمراہی قرار دیا، ابو داود کی روایت میں ہے کہ تم کافر ہو جاؤ گے، تارک جماعت کو منافق بتلایا اگر وہ اس کا عادی ہے، ورنہ ایک یا دو بار کے ترک سے آدمی منافق نہیں ہوتا، ہاں نفاق پیدا ہوتا ہے، کبھی کبھی مسلمان بھی جماعت سے پیچھے رہ جاتا ہے۔

778- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُوَفَّقِ أَبُو الْجَهْمِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى الصَّلاةِ فَقَالَ: ''اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ، وَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ مَمْشَايَ هَذَا، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلا بَطَرًا وَلا رِيَائً وَلا سُمْعَةً، وَخَرَجْتُ اتِّقَائَ سُخْطِكَ وَابْتِغَائَ مَرْضَاتِكَ، فَأَسْأَلُكَ أَنْ تُعِيذَنِي مِنَ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ''، أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفِ مَلَكٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۳۲، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۱)
(ضعیف) (سند میں عطیہ العوفی، فضیل بن مرزوق اور فضل بن موفق سب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۴)

۷۷۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اپنے گھر سے صلاۃ کے لئے نکلے اور یہ دعا پڑھے:''اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ، وَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ مَمْشَايَ هَذَا، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلا بَطَرًا وَلا رِيَاءً وَلا سُمْعَةً، وَخَرَجْتُ اتِّقَاءَ سُخْطِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، فَأَسْأَلُكَ أَنْ تُعِيذَنِي مِنَ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ''
(اے اللہ! میں تجھ سے اس حق۱؎ کی وجہ سے مانگتا ہوں جو مانگنے والوں کا تجھ پر ہے، اور اپنے اس چلنے کے حق کی وجہ سے، کیوں کہ میں غرور، تکبر، ریا اور شہرت کی نیت سے نہیں نکلا، بلکہ تیرے غصے سے بچنے اور تیری رضا چاہنے کے لئے نکلا، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے جہنم سے پناہ دے دے، اور میرے گناہوں کو معاف کر دے، اس لئے کہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں معاف کر سکتا) تو اللہ تعالی اس کی جانب متوجہ ہو گا، اور ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کریں گے''۔

وضاحت۱؎: اگرچہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی ایسا حق لازم نہیں ہے جس کا کرنا اس کو ضروری ہو کیونکہ وہ ہمارا مالک و مختار ہے جو چاہے سو کرے، اس سے کسی کی مجال نہیں کہ کچھ پوچھ بھی سکے، پر ہمارے مالک نے اپنی عنایت اور فضل سے بندوں کے حق اپنے ذمے لئے ہیں، جن کو وہ ضرور پورا کرے گا، اس لئے کہ وہ سچا ہے، اس کا وعدہ بھی سچا ہے، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔
معتزلہ اپنی گمراہی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر نیک بندوں کو جنت میں لے جانا، اور بروں کو سزا دینا واجب ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا وعدہ کیا ہے، لیکن واجب اس پر کچھ نہیں ہے، نہ کسی کا کوئی زور بھی اس پر چل سکتا ہے، نہ کسی کی مجال ہے کہ اس کے سامنے کوئی ذرا بھی چون وچرا کر سکے، اگر وہ چاہے تو دم بھر میں سب بد کاروں اور کافروں اور منافقوں کو بخش دے، اور ان کو جنت میں لے جائے، اور جتنے نیک اور عابد اور متقی بندے ہیں، ان سب کو جہنم میں ڈال دے، غرض یہ سب کچھ اس کی قدرت کے لحاظ سے ممکن ہے، اور اس کو ایسا اختیار ہے، اگرچہ ایسا ظہور میں نہ آئے گا، کیونکہ اس کا وعدہ سچا ہے، اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ نیک بندوں کو میں جنت میں لے جاؤں گا، اور کافروں کو جہنم میں، ایسا ہی ہو گا اور اس کی بعینہ مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ خاتم النبیین ہیں، اور آپ کا مثل نہیں بناؤں گا، لیکن اگر وہ چاہے تو دم بھر میں آپ کی مثل ہزاروں لاکھوں بندے بنا ڈالے کیونکہ اس کی قدرت بے انتہا وسیع ہے، اور افسوس ہے کہ ایک ایسی کھلی بات بعض لوگوں کے سمجھ میں نہیں آتی۔

779- حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <الْمَشَّائُونَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ، أُولَئِكَ الْخَوَّاضُونَ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۵۵، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۴) (ضعیف)
(اس حدیث کی سند میں ابو رافع اسماعیل بن رافع ضعیف ہیں، نیز ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور یہاں عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: ا لضعیفہ: ۲۰۵۹)
۷۷۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والے ہی (قیامت کے دن) اللہ تعالی کی رحمت میں غوطہ مارنے والے ہیں''۔

780- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحُلَبِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الشِّيرَازِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لِيَبْشَرِ الْمَشَّائُونَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِنُورٍ تَامٍّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۷۶، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۵) (صحیح)
(طرق و شواہد کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، ورنہ ابراہیم الحلبی صدوق ہیں، لیکن غلطیاں کرتے ہیں، اور یحییٰ شیرازی مقبول ہیں، عراقی نے اسے حسن غریب کہا ہے، نیز حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے، اور ذہبی نے موافقت کی ہے، (مستدرک الحاکم ۱/ ۲۱۲)، اور ابن خزیمہ نے بھی تصحیح کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ۵۶۴، وصحیح ابی داود: ۵۷۰)
۷۸۰- سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تاریکیوں میں (صلاۃ کے لئے) چل کر جانے والے خوش ہو جائیں کہ ان کے لئے قیامت کے دن کامل نور ہو گا''۔

781- حَدَّثَنَا مَجْزَأَةُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدٍ مَوْلَى ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الصَّائِغُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۶) (صحیح)
(سند میں سلیمان بن داود الصائغ ضعیف ہیں، لیکن دوسری سند سے یہ صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۵۶۴، نیز بوصیری نے دس شاہد کا ذکر لیا ہے)
۷۸۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت سنا دو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب الأَبْعَدُ فَالأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا
۱۵- باب: مسجد سے جو جنتا زیادہ دور ہو گا اس کو مسجد میں آنے کا ثواب اسی اعتبار سے زیادہ ہو گا​

782- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الأَبْعَدُ فَالأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۴۹ (۵۵۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۵۱، ۴۲۸) (صحیح)

۷۸۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مسجد میں جو جتنا ہی دور سے آتا ہے، اس کو اتنا ہی زیادہ اجر ملتا ہے''۔

783- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ لا تُخْطِئُهُ الصَّلاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ فَتَوَجَّعْتُ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا فُلانُ! لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ الرَّمَضَ، وَيَرْفَعُكَ مِنَ الْوَقَعِ وَيَقِيكَ هَوَامَّ الأَرْضِ! فَقَالَ: وَاللَّهِ، مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي بِطُنُبِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ ﷺ قَالَ، فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلا حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ، فَذَكَرَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ >۔
* تخريج: م/المساجد ۴۹ (۶۶۳)، د/الصلاۃ ۴۹ (۵۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۳۳) دي/الصلاۃ ۶۰ (۱۳۲۱) (صحیح)

۷۸۳- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک انصاری شخص کا مکان انتہائی دوری پر تھا، اس کے باوجود رسول اکرم ﷺ کے ساتھ اس کی کوئی صلاۃ نہیں چھوٹتی تھی، مجھے اس کی یہ مشقت دیکھ کر اس پر رحم آیا، اور میں نے اس سے کہا: اے ابو فلاں! اگر تم ایک گدھا خرید لیتے جو تمہیں گرم ریت پہ چلنے، پتھروں کی ٹھوکر اور زمین کے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتا (تو اچھا ہوتا)! اس انصاری نے کہا: اللہ کی قسم میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد ﷺ کے گھر کے کسی گوشے سے ملا ہو، اس کی یہ بات مجھے بہت ہی گراں گزری۱؎ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے اس کو بلایا اور اس سے پوچھا، تو اس نے آپ کے سامنے بھی وہی بات کہی، اور کہا کہ مجھے نشانات قدم پر ثواب ملنے کی امید ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس ثواب کی تم امید رکھتے ہو وہ تمہیں ملے گا''۔
وضاحت۱؎: یہ یعنی کہ کیسا مسلمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس رہنا پسند نہیں کرتا ہے۔

784- حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَرَادَتْ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْ دِيَارِهِمْ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَكَرِهَ النَّبِيُّ ﷺ أَنْ يُعْرُوا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: < يَا بَنِي سَلِمَةَ، أَلا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ؟ > فَأَقَامُوا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۴ )، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۳۳ (۶۵۵)، حم (۳/۱۰۶، ۱۸۲، ۲۶۳) (صحیح)

۷۸۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے پرانے گھروں کو جو مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھے چھوڑ کر مسجد نبوی کے قریب آرہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے مدینہ کی ویرانی کو مناسب نہ سمجھا، اور فرمایا: ''بنو سلمہ! کیا تم اپنے نشانات قدم میں ثواب کی نیت نہیں رکھتے؟''، یہ سنا تو وہ وہیں رہے جہاں تھے۔

785- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتِ الأَنْصَارُ بَعِيدَةً مَنَازِلُهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادُوا أَنْ يَقْتَرِبُوا فَنَزَلَتْ: +وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ" قَالَ: فَثَبَتُوا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۲۷، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۷) (صحیح)
(سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے)
۷۸۵- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کے مکانات مسجد نبوی سے کافی دور تھے، ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب آجائیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: {وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ} [يسين:۱۲] (ہم ان کے کئے ہوئے اعمال اور نشانات قدم لکھیں گے) تو وہ اپنے مکانوں میں رک گئے۱؎۔
وضاحت ا؎: ان حدیثوں کے خلاف وہ حدیث نہیں ہے کہ گھر کی نحوست یہ ہے کہ وہاں اذان سنائی نہ دے، کیونکہ یہ نحوست اس وجہ سے ہے کہ اکثر ایسے گھر میں رہنے سے جماعت چھوٹ جاتی ہے، صلاۃ کا وقت معلوم نہیں ہوتا، اور ان حدیثوں میں اس شخص کی فضیلت ہے جو دور سے مسجد آئے، اور جماعت میں شریک ہو، اور ابن کثیر نے تصریح کی ہے کہ جو گھر مسجد سے زیادہ دور ہو وہی افضل ہے، امام مسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہمارے گھر مسجد سے زیادہ دور تھے ہم نے چاہا کہ ان کو بیچ ڈالیں اور مسجد کے قریب آرہیں تو نبی اکرم ﷺ نے ہم کو منع کیا، اور فرمایا: ''تم کو ہر قدم پر ایک درجہ ملے گا''، اور امام احمد نے روایت کی ہے کہ مسجد سے دور جو گھر ہو اس کی فضیلت مسجد سے قریب والے گھر پر ایسی ہے جیسے سوار کی فضیلت بیٹھے ہوئے شخص پر۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب فَضْلِ الصَّلاةِ فِي جَمَاعَةٍ
۱۶- باب: جماعت سے صلاۃ پڑھنے کی فضیلت​

786- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <صَلاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلاتِهِ فِي سُوقِهِ؛ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً>۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۸۷ (۴۷۷)، الأذان ۳۰ (۶۴۷)، ۳۱ (۶۴۸)، البیوع ۴۹(۲۱۱۹)، م/المساجد ۴۲ (۶۴۹)، ۴۹ (۶۴۹)، د/الصلاۃ ۴۹ (۵۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۰۲)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۴۷ (۲۱۵)، ن/الإمامۃ ۴۲ (۸۳۸)، ط/الجماعۃ ۱ (۲)، حم (۲/۲۵۲، ۲۶۴، ۲۶۶، ۲۷۳، ۳۲۸، ۳۹۶، ۴۵۴، ۴۷۳، ۴۷۵، ۴۸۵، ۴۸۶، ۵۲۰، ۵۲۵، ۵۲۹)، دي/الصلاۃ ۵۶ (۱۳۱۲) (صحیح)

۷۸۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''آدمی کا جماعت کے ساتھ صلاۃ پڑھنا گھر میں یا بازار میں تنہا صلاۃ پڑھنے سے بیس سے زیادہ درجہ افضل ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ جب ہے کہ گھر میں وہ اکیلے صلاۃ ادا کرے، اسی طرح بازار میں، دوسری روایت میں ستائیس درجے زیادہ کا ذکر ہے۔

787- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <فَضْلُ الْجَمَاعَةِ عَلَىصَلاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ جُزْئًا>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۱۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۶۴، ۳۹۶)، دي/الصلاۃ ۵۶ (۱۳۱۲) (صحیح)

۷۸۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جماعت کی فضیلت تم میں سے کسی کے اکیلے صلاۃ پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ ہے''۔

788- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلالِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <صَلاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاتِهِ فِي بَيْتِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً>۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۴۹ (۵۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۵۷)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۳۰ (۶۴۷)، حم (۳/۵۵) (صحیح)

۷۸۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''آدمی کا جماعت کے ساتھ صلاۃ پڑھنا گھر میں تنہا صلاۃ پڑھنے سے پچیس درجہ افضل ہے''۔

789- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ رُسْتَةُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <صَلاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَفْضُلُ عَلَى صَلاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً>۔
* تخريج: م/المساجد ۴۲ (۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۸۱۸۴)، وقد أخرجہ: خ/الأذان۳۰ (۶۴۵)، ۳۱ (۶۴۹)، ت/الصلاۃ ۴۷ (۲۱۵)، ن/الامامۃ ۴۲ (۸۳۶)، ط/الجماعۃ ۱ (۱)، حم (۲/۱۷، ۶۵، ۱۰۲، ۱۱۲)، دي/الصلاۃ ۵۶ (۱۳۱۳) (صحیح)

۷۸۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''آدمی کا جماعت کی صلاۃ تنہا پڑھی گئی صلاۃ پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سے پہلی والی حدیث میں صلاۃ باجماعت کی فضیلت (۲۵) گنا کا ذکر ہے اور اس حدیث میں (۲۷) گنا فضیلت بتائی گئی ہے، اس کی توجیہ علماء نے یہ کی ہے کہ یہ فضیلت رسول اللہ ﷺ کو پہلے (۲۵) گنا بتلائی گئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مزید اضافہ فرما کر اسے (۲۷) گنا کر دیا، اور بعض نے کہا کہ یہ کمی بیشی صلاۃ میں خشوع و خضوع اور اس کے سنن و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔

790- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <صَلاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً>۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۴۸ (۵۵۴)، ن/الإمامۃ ۴۵ (۸۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۶) (صحیح أبی داود: ۵۶۳) (حسن)

۷۹۰- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''آدمی کا جماعت کی صلاۃ تنہا پڑھی ہوئی صلاۃ پر چوبیس یا پچیس درجہ فضیلت رکھتی ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب التَّغْلِيظِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ
۱۷- باب: جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان​

791- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لا يَشْهَدُونَ الصَّلاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۴۷ (۵۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۲۷)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۲۹ (۶۴۴)، ۳۴ (۶۵۷)، الخصومات ۵ (۲۴۲۰)، الأحکام ۵۲ (۷۲۲۴)، م/المساجد ۴۲ (۶۵۱)، ن/الإمامۃ ۴۹ (۸۴۹)، ط/الجماعۃ ۱ (۳)، حم (۲/۲۴۴، ۳۷۶، ۴۸۹،۴۸۰،۵۳۱)، دي/الصلاۃ ۵۴ (۱۳۱۰) (صحیح)

۷۹۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میرا پختہ ارادہ ہوا کہ صلاۃ پڑھنے کا حکم دوں اور اس کے لئے اقامت کہی جائے، پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو صلاۃ پڑھائے، اور میں کچھ ایسے لوگوں کو جن کے ساتھ لکڑیوں کا گٹھر ہو، لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو صلاۃ میں حاضر نہیں ہوتے ہیں، اور ان کے ساتھ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں''۱؎۔
وضاحت۱؎: ابن القیم کہتے ہیں: ظاہر ہے کہ گھر کا جلانا صغیرہ گناہ پر نہیں ہوتا، تو جماعت کا ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے شروع سے اپنی وفات تک جماعت پر مواظبت فرمائی، اور جس نے اذان سنی گرچہ وہ اندھا ہو اس کو جماعت کے ترک کی اجازت نہ دی۔

792- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ ﷺ: إِنِّي كَبِيرٌ، ضَرِيرٌ، شَاسِعُ الدَّارِ، وَلَيْسَ لِي قَائِدٌ يُلاوِمُنِي، فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ قَالَ: < هَلْ تَسْمَعُ النِّدَائَ؟ > قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: < مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۴۷ (۵۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۸۸)، وقد أخرجہ: ن/الإمامۃ ۵۰ (۸۵۲)، حم (۳/۴۲۳) (صحیح)

۷۹۲- عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: میں بوڑھا اور نابینا ہوں، میرا گھر دور ہے اور مجھے مسجد تک لانے والا میرے مناسب حال کوئی آدمی بھی نہیں ہے، تو کیا آپ میرے لئے (جماعت سے غیر حاضری کی) کوئی رخصت پاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تم اذان سنتے ہو؟''، میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''میں تمہارے لئے کوئی رخصت نہیں پاتا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے جماعت کی بڑی اہمیت و تاکید ثابت ہوتی ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہ دی، حالانکہ وہ اندھے تھے، اور انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی آدمی بھی نہیں ہے جو مجھ کو پکڑ کر لائے، کیونکہ ان کا گھر مسجد سے بہت دور نہ تھا، وہ اذان کی آواز سنتے تھے اور بغیر آدمی کے آسکتے تھے، اور بعضوں نے کہا: حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمہارے لیے جماعت کا ترک جائز نہیں کیونکہ اندھا ہونا جماعت سے معافی کے لئے قوی عذر ہے، اور آپ ﷺ نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی جماعت ان کے اندھے ہونے کی وجہ سے معاف کی، بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے ایسی رخصت نہیں پاتا کہ تم جماعت میں حاضر نہ ہو، اور جماعت کا ثواب نہ پاؤ، واللہ اعلم۔

793- حَدَّثَنَا عَبْدُالْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ ابْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قال: < مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ، فَلاصَلاةَ لَهُ، إِلا مِنْ عُذْرٍ».
* تخريج: د/الصلاۃ ۴۷ (۵۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۶۰) (صحیح)

۷۹۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے اذان سنی لیکن مسجد میں نہیں آیا تو اس کی صلاۃ نہیں ہو گی، الا یہ کہ کوئی عذر ہو''۔

794- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَائَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ عُمَرَ أَنَّهُمَا سَمِعَا النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِهِ: <لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجَمَاعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ >۔
* تخريج: م/الجمعۃ ۱۲ (۸۶۵)، ن/الجمعۃ ۲ (۱۳۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳۹، ۲۵۴، ۳۳۵، ۲/۸۴)، دي/الصلاۃ ۲۰۵ (۱۶۱۱) (صحیح)
(صحیح مسلم میں یہ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور اس میں ''الجمعات'' ہے، جس کو البانی صاحب نے محفوظ بتایا ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۲۹۶۷)
۷۹۴- عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم خبر دیتے ہیں کہ ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ''لوگ صلاۃ باجماعت چھوڑنے سے ضرور باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالی ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر ان کا شمار غافلوں میں ہونے لگے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی ایمان کا نور ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، اور عبادت کی لذت اور حلاوت ان کو حاصل نہ ہو گی، یا عبادت کا اثر ان کے دلوں پر نہ ہو گا، اور دل میں غفلت اور تاریکی بھر جائے گی، یہ فرمودہ آپ ﷺ کا مجرب ہے۔

795- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْهُذَلِيُّ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزَّبْرِقَانِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ عَنْ تَرْكِ الْجَمَاعَةِ، أَوْ لأُحَرِّقَنَّ بُيُوتَهُمْ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۰، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۰۶)
(صحیح)
(سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور عثمان مجہول اور زبرقان کا سماع اسامہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن حدیث سابقہ شواہد سے صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۳۸۱)
۷۹۵- اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لوگ جماعتوں کے چھوڑنے سے ضرور باز رہیں، ورنہ میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں گا''۔
وضاحت۱؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ صلاۃ جماعت فرض ہے، جماعت کی حاضری بہت ضروری ہے جماعت کے ترک کی رخصت صرف چند صورتوں میں ہے: سخت سردی، بارش کی رات، کوئی سخت ضرورت ہو جیسے بھوک لگی ہو اور کھانا تیار ہو، پیشاب و پاخانہ کی حاجت ہو بصورت دیگر سستی یا کاہلی کے سبب جماعت ترک کرنا جائز نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب صَلاةِ الْعِشَائِ وَالْفَجْرِ فِي جَمَاعَةٍ
۱۸- باب: عشاء اور فجر باجماعت پڑھنے کی فضیلت​

796- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيِّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي صَلاةِ الْعِشَاءِ وَصَلاةِ الْفَجْرِ، لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۲۸)، وقد أخرجہ: حم ( ۶/۸۰) (صحیح)

۷۹۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر لوگوں کو عشاء اور فجر کی صلاۃ کا ثواب معلوم ہو جائے، تو وہ ان دونوں صلاتوں میں ضرور آئیں، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اگر چل نہ سکے تو ہاتھ اور سرین (چوتڑ) کے بل جماعت میں آئیں، اس حدیث سے عشاء اور فجر کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان دونوں صلاتوں کا وقت نیند اور سستی کا وقت ہوتا ہے، اور نفس پر بہت شاق ہوتا ہے کہ آرام چھوڑ کر صلاۃ کے لئے حاضر ہو، اور جو عبادت نفس پر زیادہ شاق ہو اس میں زیادہ ثواب ہے۔

797- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلاةُ الْعِشَاءِ وَصَلاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا>۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۲۸ (۶۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۲۱)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۹ (۶۱۵)،۳۲ (۶۵۴)، ۷۲ (۷۲۱)، الشہادات۳۰ (۲۶۸۹)، ت/الصلاۃ ۵۲ (۲۲۵)، ن/المواقیت ۲۱ (۵۴۱)، ط/الصلاۃ ۱ (۳)، حم (۲/۲۳۶، ۲۷۸، ۳۰۳، ۳۷۵، ۳۷۶، ۴۲۴، ۴۶۶)، دي/الصلاۃ ۵۳ (۱۳۰۹) (صحیح)

۷۹۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''منافقین پر سب سے بھاری عشاء اور فجر کی صلاۃ ہے، اگر وہ ان دونوں صلاتوں کا ثواب جان لیں تو مسجد میں ضرور آئیں گے، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے''۔

798- حَدَّثَنَا عُثْمَان بْنُ أَبِيْ شَيْبَةَ، ثَنَا إِسْمَاعِيْلُ بْنُ عَيَاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِ يَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيَّ ﷺ أَنَّهُ كَانَ يَقُوْلُ: <مَنْ صَلَّى فِىْ مَسْجِدٍ جَمَاعَةً أَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً لاَتَفُوْتُهُ الرَّكْعَةُ الأُوْلَى مِنْ صَلاةِ الْعِشَاءِ، كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا عِتْقاً مِنَ النَّارِ>.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۴۱۵، ومصباح الزجاجۃ: ۲۹۹) (حسن)
(سند میں عمارۃ کی ملاقات انس رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، اور اسماعیل بن عیاش مدلس ہیں، اس لئے ''لاَتَفُوْتُهُ الرَّكْعَةُ الأُوْلَى مِنْ صَلاةِ الْعِشَاءِ'' کا ٹکڑا صحیح نہیں، بقیہ حدیث دوسرے شواہد کی بناء پر درجہ حسن تک پہنچتی ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۲۶۵۲)
۷۹۸- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: ''جس شخص نے مسجد میں چالیس دن تک جماعت کے ساتھ صلاۃ پڑھی، اور صلاۃ عشاء کی پہلی رکعت فوت نہ ہوئی، تو اللہ تعالی اس کے بدلہ میں اس کے لئے جہنم سے آزادی لکھ دے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اور ابو داود میں ہے کہ ہر شے کی ایک عمدگی ہے، اور صلاۃ کی عمدگی تکبیر اولی ہے، اس لئے اس پر محافظت کرو، نیز اس حدیث کی روشنی میں بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جس شخص نے جماعت کی پہلی رکعت پائی اس نے گویا تکبیر تحریمہ امام کے ساتھ پائی، کیونکہ دوسری روایت میں رکعت اولی کے بدل تکبیر اولی ہے، اور تکبیر اولی پانے میں تین قول ہیں، ایک یہ کہ امام کی تکبیر کے ساتھ ہی شریک ہو، دوسرے یہ کہ امام کی قرأت سے پہلے صلاۃ میں شریک ہو جائے، تیسرے یہ کہ رکوع سے پہلے شریک ہو جائے، اور اخیر قول میں آسانی ہے، مولانا وحید الزمان فرماتے ہیں کہ صرف رکوع پانے سے بہت سے اہل حدیث کے نزدیک رکعت نہیں ہوتی، پس تکبیر اولی بھی نہ پائے، ہاں اگر اتنی مہلت پائے کہ سورہ فاتحہ پڑھ لے تو وہ رکعت مل جائے گی، اور اس صورت میں گویا تکبیر اولی اس نے پا لی، واللہ اعلم۔
 
Top