سوکنوں کے ساتھ برتاؤ
عورت کے لئے دنیا کی سب سے تلخ چیز ایک سوکن کا وجود ہے۔ حضرت عائشہؓ کی ایک سے لیکر 8،8 سوکنوں تک ایک ساتھ رہی ہیں ۔تاہم صحبتِ رسولؐ کے اثر سے آپ کا دل ہر طرح کے گرد و غبار سے پاک تھا۔
حضرت خدیجہؓ کے بعد آپؐ نے کئی اسباب سے مختلف اوقات میں دس نکاح کئے۔ ان میں سے ام المساکین حضرت زینبؓ جن سے 3 ھ میں نکاح ہوا تھا جو صرف دو تین مہینے زندہ رہیں ۔ باقی نو بیویاں آپؐ کی وفات تک زندہ تھیں ۔ یہ بیویاں حسب ذیل سالوں میں آپؐ کے نکاح میں آئیں ۔ اس سے معلوم ہو گا کہ حضرت عائشہؓ کو کس سال تک کتنی سوکنوں سے سابقہ رہا۔
شمار نام نکاح کا سال
1۔ حضرت سودہؓ بنت زمعہ 10 نبوی
2۔ حضرت حفصہؓ بنت عمر فاروقؓ 3 ھ
3۔ حضرت امّ سلمہؓ 4 ھ
4۔ حضرت جویریہؓ بنی مصطلق کی رئیس زادی 5 ھ
5۔ حضرت زینبؓ بنت جحش قریشیہ 5 ھ
6۔ حضرت ام حبیبہؓ بنت ابی سفیان 6 ھ
7۔ حضرت میمونہؓ 7 ھ
8۔ حضرت صفیہؓ خیبر کی رئیس زادی 7 ھ
حضرت عائشہ اور حضرت سودہؓ گو آگے پیچھے ایک ساتھ نکاح میں آئیں تاہم چونکہ حضرت عائشہؓ تقریباً نکاح کے بعد ساڑھے 3 برس تک میکہ ہی میں رہیں اس بناء پر اس عرصہ میں عملاً حضرت سودہؓ گویا آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی تنہا بیوی تھیں ۔ 1ھ میں جب عائشہؓ رخصت ہو کر آئیں تو حضرت سودہؓ سوکن موجود تھیں ۔ لیکن ان کے درمیان آپس میں بہت محبت تھی ۔ اکثر خانگی مشوروں میں وہ حضرت عائشہؓ کی رفیق تھیں ۔ دوچار برس کے بعد جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ کو دیدی اور انہوں نے خوشی سے قبول کر لی ۔ حضرت سودہؓ کی وہ بے حد تعریف کرتی تھیں ۔ فرماتی تھیں کہ ’’سودہؓ کے علاوہ کسی عورت کو دیکھ کر مجھے یہ خیال نہیں ہوا کہ اس کے قالب میں میری روح ہوتی‘‘۔
حضرت حفصہؓ ۳ ھ میں ازواج میں داخل ہوئیں اس بنا پر تقریباً آٹھ برس حضرت عائشہ کے ساتھ رہیں ۔ ان دونوں میں ایک صدیق اکبرؓ کی پارہ بیٹی تھی تو دوسری فاروق اعظمؓ کی ۔ دونوں میں نہایت لطف و محبت تھی۔ تمام گھریلو معاملات میں دونوں کی ایک رائے ہوتی اور برابر کی شریک رہتی تھیں ۔ دوسری ازواج کے مقابلہ میں یہ دونوں ایک دوسرے کی حامی تھیں ۔
حضرت جویریہؓ اور حضرت عائشہؓ میں بھی کوئی اختلاف مذکور نہیں ہے۔ البتہ وہ ان کے حسن وجمال کو دیکھ کر پہلے گھبرا اُٹھی تھیں کہ ان کے مقابلہ میں ان کا رتبہ کم نہ ہو جائے لیکن آخر ان کا خیال غلط ثابت ہوا کہ ان کی قدر و منزلت کے اسباب ہی کچھ اور تھے ۔ اس کا تعلّق ظاہری حسن سے کچھ نہ تھا۔
حضرت زینب بن جحش آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی پھوپھی زاد بہن تھیں ۔ خود دار اور مزاج کی تیز تھیں ۔وہ رشتہ میں سب بیویوں سے زیادہ آپؐ سے قریب تھیں اس بنا پر وہ اپنے کو اوروں سے زیادہ عزت کا مستحق سمجھتی تھیں ۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ’’تمام بیویوں میں یہی میرا مقابلہ کرتی تھیں ‘‘۔ بعض بیویوں نے حضرت ام سلمہؓ کی خاموشی کے بعد ان کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں سفیر بنا کر بھیجا۔ انہوں نے بڑی دلیری سے آ کر تقریر کی۔ حضرت عائشہ چپ چاپ ان کی باتیں سنتیں اور کنکھیوں سے آپ کی طرف دیکھتی جاتی تھیں ۔ حضرت زینب جب خاموش ہوئیں تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی مرضی پا کر یہ کھڑی ہوئیں اور ایسی مسکت اور مدلل گفتگو کی کہ حضرت زینبؓ لا جواب ہو کر رہ گئیں ۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے مسکرا کر فرمایا’’ کیوں نہ ہو آخر ابو بکرؓ کی بیٹی ہے‘‘۔
ایک دفعہ شب کو حضرت زینبؓ حضرت عائشہؓ کے گھر آئیں ۔ اس زمانہ میں گھروں میں چراغ نہیں جلتے تھے ۔ اسی وقت آپ تشریف لائے تو سیدھے ایک طرف کو بڑھے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا کہ وہ زینب ہیں ۔ ان کو اس پر غصہ آیا اور کچھ بول گئیں ۔ حضرت عائشہ نے بھی برابر کا جواب دیا۔ باہر مسجد نبویؐ میں ابوبکر تھے۔ انہوں نے جو یہ آوازیں سنیں تو آنحضرتؐ سے عرض کیا کہ آپ باہر تشریف لے آئیں ۔حضرت عائشہؓ باپ کی ناراضی دیکھ کر سہم گئیں ۔ نماز کے بعد حضرت ابو بکرؓ بیٹی کے گھر آئے اور گو ابتدائی قصور ان کا نہ تھا ، تا ہم بہت کچھ سمجھایا اور تنبیہ کی۔
ان چند واقعات سے یہ قیاس نہ کرنا چاہئے کہ باہم ان کے دل صاف نہ تھے جہاں چند آدمی ایک جگہ رہتے ہیں ، ان میں کیسی ہی موافقت اور میل ملاپ ہو، نا ممکن ہے کہ کبھی کبھی حقیقت میں یا غلط فہمی سے وقتی رنجش نہ پیدا ہو خاص کر جہاں عورتوں کا مجمع ہو اور وہ بھی سوکنو ں کا۔ پھر بھی اتفاقی اور فوری جذبات کو چھوڑ کر تمام سوکنوں میں لطف و محبت کی بہتر سے بہتر مثال قائم تھی۔
یہی حضرت زینب جب حلقۂ ازواج میں داخل ہوئیں تو حضرت عائشہؓ نے آپؐ کو مبارکباد دی۔ مدینہ کے بعض منافقوں نے حب حضرت عائشہؓ پر الزام لگایا ہے تو بہن کی محبت میں حمنہ بنت جحش (حضرت زینب کی بہن) بھی سازش میں مبتلا ہو گئیں ۔ لیکن حضرت زینبؓ کا قدم حق کے راستے سے ذرا بھی نہیں ہٹا۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے جب اُن سے حضرت عائشہؓ کی نسبت دریافت فرمایا تو انہوں نے صاف صاف کہا کہ میں انکی نسبت خوبی کے سوا کچھ نہیں جانتی۔
ایک دفعہ حضرت زینبؓ نے حضرت صفیہؓ کو یہودیہ کہہ دیا۔ اس پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) ان سے ناراض ہو گئے اور دو مہینے تک ان سے بات نہیں کیا۔ آخر وہ حضرت عائشہؓ کے پاس آئیں کہ تم بیچ میں پڑ کر میرا قصور معاف کرا دو ۔ اب وہی موقع حضرت عائشہؓ کو بھی حاصل تھا لیکن انہوں نے خاص اس غرض سے اہتمام کے ساتھ بناؤ سنگار کیا اور آپؐ آئے تو اس سلیقہ سے گفتگو کی کہ معاملہ ختم ہو گیا۔
ایک دفعہ مرض الموت میں حضرت ام حبیبہؓ نے حضرت عائشہؓ کو بلوا بھیجا۔ وہ آئیں تو حضرت امّ حبیبہؓ نے کہا ’’سوکنوں میں کچھ نہ کچھ کبھی ہو ہی جاتا ہے ، اگر کچھ ہوا ہو تو خدا ہم دونوں کو معاف کرے‘‘ حضرت عائشہؓ نے کہا ’’ خدا سب معاف اور اس سے تم کو بری کرے‘‘ حضرت ام حبیبہؓ نے کہا ’’ تم نے مجھے اس وقت خوش کیا، خدا تم کو بھی خوش رکھے‘‘۔
حضرت میمونہؓ نے جب وفات پائی تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا ’’وہ ہم میں سب سے زیادہ پرہیز گار تھیں‘‘۔
حضرت صفیہؓ کو کھانا پکانے کا خاص سلیقہ تھا۔ خود حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے ان سے بہتر کھانا پکانے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ ایک دن دونوں نے آپؐ کیلئے کھانا پکایا۔ حضرت صفیہؓ کا کھانا جلد تیار ہو گیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت عائشہؓ کے حجرے میں تھے ۔ انہوں نے وہیں ایک لونڈی کے ہاتھ کھانا بھجوا دیا۔ حضرت عائشہؓ اپنی محبت کی بربادی کو دیکھ کر جھنجلا اٹھیں اور ایک ہاتھ ایسا مارا کہ لونڈی کے ہاتھ سے پیالہ چھوٹ کر گر پڑا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ آپؐ خاموشی کے ساتھ پیالہ کے ٹکڑوں کو چننے لگے ۔ اور خادمہ سے فرمایا کہ ’’ تمہاری ماں کو غصّہ آگیا‘‘ چند لمحوں کے بعد حضرت عائشہ کو اپنے کئے پر خود ندامت ہوئی۔ عرض کی ’’ یا رسول اللہ! اس جرم کا کیا کفارہ ہو سکتا ہے‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’ ایسا ہی پیالہ اور ایسا ہی کھانا‘‘ چنانچہ نیا پیالہ ان کو واپس کیا گیا۔
آپ نے دیکھا کہ حضرت عائشہؓ اپنی سوکنوں کے ساتھ کس لطف ، کس انصاف اور کس عزت کا برتاؤ کرتی ہیں اور کس کھلے دل سے ان کی خوبیوں اور نیکیوں اور تعریفوں کا اظہار کرتی ہیں کبھی کبھی انسانی فطرت سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو کس قدر جلد نادم ہو جاتی ہیں ۔