• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیرتِ عائشہ (رضی اللہ عنہا)

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
ساتھ دوڑنا

آپؐ کو شہسواری اور تیر اندازی کا بہت شوق تھا۔صحابہ کو اس کی ترغیب دیتے تھے اور خود اپنے سامنے لوگوں سے اس کی مشق کراتے تھے ۔ ایک جنگ میں حضرت عائشہؓ ساتھ تھیں ۔ تمام صحابہ کو آگے بڑھ جانے کا حکم دیا۔ حضرت عائشہ سے فرمایا آؤ دوڑیں دیکھیں کون آگے نکل جاتا ہے۔ یہ دبلی پتلی تھیں آگے نکل گئیں ۔ کئی سال کے بعد اسی قسم کا پھر ایک اور موقع آیا۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اب میں بھاری بھر کم ہو گئی تھی، اس لئے اس بار آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) آگے نکل گئے ۔ فرمایا عائشہ! یہ اس دن کا جواب ہے۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
ناز و انداز

ناز و انداز عورت کی فطرت ہے۔ اس قسم کے واقعات جو احادیث میں مذکور ہیں لوگ ان کو قابِلِ تنقید سمجھتے ہیں اور اس کو بھول جاتے ہیں کہ ایک بیوی اپنے شوہر سے باتیں کر رہی ہے۔

آپؐ حضرت خدیجہؓ کو اکثر یاد کیا کرتے تھے جس سے دوسری بیویوں کو تکلیف ہوتی تھی۔ ایک دفعہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت خدیجہؓ کی تعریف شروع کی اور بہت دیر تک تعریف فرماتے رہے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ مجھے ان پر رشک آیا تو میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپؐ قریش کی بوڑھیوں میں سے ایک بوڑھی عورت کا جس کے ہونٹ لال تھے اور جس کے مرے ہوئے ایک زمانہ ہو چکا اتنی دیر سے اتنی تعریف فرما رہے ہیں آپؐ کو ان سے بہتر بیویاں خدا نے دی ہیں ۔ یہ سن کر حضورؐ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر فرمایا یہ میری وہ بیوی تھیں کہ جب لوگوں نے میرا انکار کیا تو وہ ایمان لائیں اور جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے تو اس نے اپنی دولت سے میری غم خواری کی اور اس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے اولاد دی جب کہ دوسری بیویوں سے مجھے اولاد سے محروم کیا۔
کہیں سے کوئی قیدی گرفتار ہو کر آیا تھا اور وہ حضرت عائشہؓ کے حجرے میں بند تھا ۔ یہ ادھر عورتوں سے باتیں کر رہی تھیں اور وہ ادھر لوگوں کو غافل پا کر نکل بھاگا۔ آپؐ تشریف لائے تو گھر میں قیدی کو نہ پایا۔ دریافت کیا تو واقعہ معلوم ہوا۔غصّہ میں فرمایا ’’ تمہارے ہاتھ کٹ جائیں ‘‘ پھر باہر نکل کر صحابہ کو خبر کی، وہ گرفتار ہو کر آیا۔ آپؐ جب پھر اندر تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت عائشہؓ اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی ہیں ۔ پوچھا عائشہؓ کیا کرتی ہو؟ عرض کی دیکھتی ہوں کون ہاتھ کٹے گا۔ آپؐ متاثر ہوئے اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے۔

ایک دن در پردہ عرض کیا۔ یارسول اللہ! اگر دو چراگاہیں ہوں ، ایک ا چھوتی اور دوسری چری ہوئی تو آپؐ کس میں اونٹ چرانا پسند فرمائیں گے۔ جواب دیا پہلی میں ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ بیویوں میں صرف حضرت عائشہؓ ہی ایک کنواری تھیں ۔

افک کے واقعہ میں ( جس کا ذکر آگے آئے گا) جب وحی سے حضرت عائشہؓ کی برأت ظاہر ہوئی تو ماں نے کہا لو بیٹی اٹھو اور شوہر کا استقبال کرو۔ تنک کر بولیں ۔ میں اپنے خدا کے سوا جس نے میری برأت ظاہر کی، کسی اور کی شکر گزار نہیں ہوں ۔

آپؐ نے ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ عائشہؓ جب تم مجھ سے خوش رہتی ہو یا ناراض ہوتی ہو تو مجھ کو پتہ لگ جاتا ہے ۔ ناراض ہوتی ہو تو ’’ ابراہیم کے رب کی قسم ‘‘ اور خوش رہتی ہو تو محمدؐ کے رب کی قسم کھاتی ہو۔ عرض کی یا رسول اللہ ! صرف زبان سے نام چھوڑ دیتی ہوں ۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
خدمت گزاری

گھر میں اگر چہ خادمہ موجود تھی لیکن حضرت عائشہؓ آپ کا کام خود اپنے ہاتھ سے انجام دیتی تھیں ۔آٹا خود پیستی تھیں ، خود گوندھتی تھیں ، کھانا خود پکاتی تھیں ، بستر اپنے ہاتھ سے بچھاتی تھیں ، وضو کا پانی خود لا کر رکھتی تھیں ۔ آپؐ قربانی کے جو اونٹ بھیجتے اس کے باندھنے کے لئے خود رسی بٹتی تھیں ۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے سر میں اپنے ہاتھ سے کنگھا کرتی تھیں ، جسم مبارک میں عطر مل دیتی تھیں ، آپؐ کے کپڑے اپنے ہاتھ سے دھوتی تھیں ،سوتے وقت مسواک اور پانی سرہانے رکھتی تھیں ، مسواک کو صفائی کی غرض سے دھو دیا کرتی تھیں ، گھر میں آپؐ کا کوئی مہمان آتا تو مہمانی کی خدمت خود انجام دیتیں ۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
اطاعت اور احکام کی پیروی

بیوی کا سب سے بڑا جوہر شوہر کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔ حضرت عائشہؓ نے نو برس کی شب و روز کی طویل صحبت میں آپؐ کے کسی حکم کی کبھی مخالفت نہیں کی بلکہ اندازو اشارہ سے بھی کوئی بات ناگوار سمجھی تو فوراً ترک کر دی ۔ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے بڑے شوق سے دروازہ پر ایک تصویر والا پردہ لٹکا یا آپؐ نے اندر داخل ہونا چاہا تو پردہ پر نظر پڑی۔ فوراً تیوری پر بل پڑ گئے۔ حضرت عائشہؓ یہ دیکھ کر سہم گئیں ۔ عرض کی یا رسول اللہ مجھ سے کیا خطا ہو گئی۔ فرمایا، جس کے گھر میں تصویریں ہوں فرشتے اس میں نہیں داخل ہوتے۔ یہ سن کر حضرت عائشہؓ نے فوراً پردہ چاک کر ڈالا اور اس کو اور مصرف میں لے آئیں ۔ ایک صحابی کو ولیمہ کی دعوت کرنی تھی لیکن گھر میں سامان نہ تھا۔ آپؐ نے فرمایا جاؤ عائشہؓ سے جا کر کہو کہ غلّہ کی ٹوکری بھیج دیں ۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ کو آ کر پیغام سنایا تو اسی وقت حضرت عائشہؓ نے پوری ٹوکری بھجوا دی اور گھر میں شام کے کھانے کو کچھ نہیں رہا۔

اوپر گزر چکا ہے کہ آپؐ نے حضرت عائشہؓ کو سخاوت کی تعلیم دی تھی۔ اس کا یہ اثر تھا کہ وہ مرتے دم تک اس فرض سے غافل نہ رہیں ۔ یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ انہوں نے جہاد کی اجازت چاہی تھی تو آپؐ نے فرمایا تھا کہ عورتوں کا جہاد حج ہے ۔ اس حکم کے سننے کے بعد وہ اس کی پابندی اس شدّت سے کرتی تھیں کہ ان کا کوئی سال حج سے خالی نہ جاتا تھا۔ ایک دفعہ ایک شخص نے ان کی خدمت میں کچھ کپڑا اور کچھ نقد روپیہ بھیجا۔ پہلے واپس کر دیا پھر لوٹا کر قبول کر لیا اور فرمایا کہ آپؐ کی ایک بات یاد آگئی ہے۔ ایک دفعہ عرفہ کے دن روزہ سے تھیں گرمی اس قدر شدید تھی کہ سر پر پانی کے چھینٹے دئیے جارہے تھے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ روزہ توڑ دیجئے ، فرمایا کہ ’’ جب آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) سے سن چکی ہوں کہ عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے سال بھر کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو میں کیسے روزہ توڑ سکتی ہوں ؟‘‘
رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھ کر وہ بھی برابر چاشت کی نماز پڑھا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ ’’ اگر میرے باپ بھی قبر سے اٹھ کر آئیں اور منع کریں تو میں نہ مانوں ۔ ‘‘ ایک دفعہ ایک عورت نے آ کر پوچھا کہ ام المؤمنین !مہندی لگانا کیسا ہے؟ جواب دیا میرے محبوبؐ کو اس کا رنگ پسند لیکن بو پسند نہ تھی اس لئے حرام نہیں ہے تم چاہو تو لگاؤ۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
باہمی مذہبی زندگی

حضرت عائشہؓ کا گھر ایک پیغمبر کا گھر تھا ۔ یہاں نہ دولت تھی اور نہ ہی ان کو اس کی پرواہ تھی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ کا معمول تھا کہ جب گھر میں تشریف لاتے تو کسی قدر آواز سے یہ الفاظ دہراتے:
’’آدم کے بیٹے کی ملکیت میں اگر دولت و مال سے بھرے ہوئے دو میدان ہوں تو وہ تیسرے کی حرص کرے گا۔ اس کی حرص کے منہ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ ہم نے دولت تو اپنی یاد دلانے اور مسکینوں کی مدد کرنے کے لئے پیدا کی ہے۔ جو خدا کی طرف لوٹے تو خدا بھی اس کی طرف لوٹے گا‘‘۔
ان الفاظ کی روزانہ تکرار سے مقصود یہ تھا کہ تمام گھر والوں کو دنیا کی بے ثباتی اور دولت کا ہیچ ہونا یاد رہے۔

عشاء نماز پڑھ کر آپ حجرے میں داخل ہوتے، مسواک کر کے فوراً سو رہتے ، پچھلے پہر بیدار ہوتے اور تہجد کی نماز ادا فرماتے۔ جب رات آخر ہوتی تو حضرت عائشہؓ کو اٹھاتے اور وہ اٹھ کر آپؐ کے ساتھ نماز میں شریک ہو جاتیں اور وتر ادا کرتیں ۔ جب صبح ہو جاتی تو آپ صبح کی سنت پڑھ کر کروٹ لیٹ جاتے اور حضرت عائشہؓ سے باتیں کرتے۔ پھر فریضۂ صبح کے لئے باہر نکلتے۔ کبھی رات بھر وہ اور رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) دونوں عبادت الٰہی میں مشغول رہتے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) امام ہوتے، وہ مقتدی ہوتیں ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) مسجد میں امامت کرتے ، یہ اپنے حجرے میں کھڑی ہو کر اقتدا کر لیتیں ۔
نماز پنجگانہ اور تہجد کے علاوہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کو دیکھ کر چاشت کی نماز بھی پڑھا کرتی تھیں ۔ اکثر روزے رکھا کرتیں ۔ کبھی وہ اور رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) دونوں مل کر ایک ساتھ روزے رکھتے ۔ رمضان کے آخری عشرہ میں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) مسجد میں اعتکاف کرتے تھے۔ کبھی حضرت عائشہؓ بھی اس فرض میں شریک ہو جاتی تھیں ۔ مسجد کے صحن میں خیمہ لگوا لیتیں ، صبح کی نماز پڑھ کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی تھوڑی دیر کو وہاں آ جاتے۔ 11 ھ میں حج کے لئے بھی ساتھ ہی گئیں ۔ حج و عمرہ دونوں کی نیت کی تھی لیکن زنانہ مجبوری سے وہ طواف سے معذور ہو گئیں تو ان کو اس قدر صدمہ ہوا کہ رونے لگیں ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) باہر تشریف لائے تو سبب دریافت کیا اور تسلّی دیکر مسئلہ بتایا۔ پھر اپنے بھائی عبد الرحمن بن ابی بکرؓ کے ساتھ جا کر باقی فرائض ادا کئے۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
گھر میں فرائض نبوت

آپسی لطف و محبت کے جو واقعات اوپر گزر چکے ہیں ان کو پڑھ کر ایک ناسمجھ خیال کر سکتا ہے کہ آپؐ گھر میں آ کر فرائضِ نبوت کو بھول جاتے تھے ۔ لیکن خود عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ’’ آپؐ باتوں میں مشغول ہوتے دفعۃً اذان ہوتی۔ آپؐ اُٹھ جاتے پھر یہ معلوم ہوتا کہ ہم کو پہچانتے بھی نہیں ‘‘

ایک شب آپؐ حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف لائے اور پھر چپکے سے اٹھ کر ایک طرف کو روانہ ہوئے۔ حضرت عائشہؓ بھی چھپ کر پیچھے پیچھے روانہ ہوئیں ۔ آپؐ بقیع کے قبرستان میں پہنچے، وہاں ہاتھ اٹھا کر دعا میں مشغول ہو گئے۔ حضرت عائشہؓ چھپی کھڑی رہیں ۔ واپسی میں آپؐ نے دیکھ لیا۔ حضرت عائشہؓ لپک کر کمرہ کے اندر داخل ہو گئیں ۔ آپؐ نے پوچھا عائشہؓ یہ کیا تھا ؟ چونکہ یہ تجسس میں داخل تھا ، جو منع ہے۔ عرض کی ’’ میرے ماں باپ قربان‘‘ اور پھر سارا واقعہ بیان کر دیا۔
اگر چہ ریشم اور سونے کا استعمال اسلام میں عورتوں کے لئے جائز ہے لیکن چونکہ دنیا کے آرائشی تکلفات سے آپؐ کو طبعاً نفرت تھی ۔ اس بنا پر اپنے گھر میں اس قدر تکلف بھی نا پسند تھا۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ نے سونے کے کنگن پہنے ۔ آپ نے فرمایا ۔ ’’میں تم کو اس سے بہتر تدبیر نہ بتاؤں ۔ تم ان کنگنوں کو اتار دو اور چاندی کے دو کنگن بنوا کر ان پر زعفران کا رنگ چڑھا دو‘‘۔ حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ آپؓ نے ہم کو پانچ چیزوں کے استعمال سے منع فرمایا۔ ریشمی کپڑے ، سونے کے زیور ، سونے اور چاندی کے برتن ، سرخ نرم گدّے اور کتان آمیز ریشمی کپڑے ۔میں نے عرض کی اگر تھوڑا سا سونا ہو جس میں مشک باندھا جا سکے تو کچھ مضائقہ ہے۔ فرمایا نہیں ، چاندی کو تھوڑی زعفران سے رنگ لیا کرو۔
عرب میں سو سمار (ایک جانور) کھانے کا دستور تھا۔ لیکن آپؐ اس کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ ایک بار کسی نے اس کا گوشت تحفۃً بھیجا ۔آپ نے نہیں کھایا۔ حضرت عائشہؓ نے کہا ’’یا رسول اللہ ! محتاجوں کو نہ کھلا دیں ‘‘ فرمایا ’’ جس کو تم خود کھانا پسند نہ کرو وہ دوسروں کو بھی نہ کھلاؤ‘‘۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
سوکنوں کے ساتھ برتاؤ

عورت کے لئے دنیا کی سب سے تلخ چیز ایک سوکن کا وجود ہے۔ حضرت عائشہؓ کی ایک سے لیکر 8،8 سوکنوں تک ایک ساتھ رہی ہیں ۔تاہم صحبتِ رسولؐ کے اثر سے آپ کا دل ہر طرح کے گرد و غبار سے پاک تھا۔
حضرت خدیجہؓ کے بعد آپؐ نے کئی اسباب سے مختلف اوقات میں دس نکاح کئے۔ ان میں سے ام المساکین حضرت زینبؓ جن سے 3 ھ میں نکاح ہوا تھا جو صرف دو تین مہینے زندہ رہیں ۔ باقی نو بیویاں آپؐ کی وفات تک زندہ تھیں ۔ یہ بیویاں حسب ذیل سالوں میں آپؐ کے نکاح میں آئیں ۔ اس سے معلوم ہو گا کہ حضرت عائشہؓ کو کس سال تک کتنی سوکنوں سے سابقہ رہا۔
شمار نام نکاح کا سال
1۔ حضرت سودہؓ بنت زمعہ 10 نبوی
2۔ حضرت حفصہؓ بنت عمر فاروقؓ 3 ھ
3۔ حضرت امّ سلمہؓ 4 ھ
4۔ حضرت جویریہؓ بنی مصطلق کی رئیس زادی 5 ھ
5۔ حضرت زینبؓ بنت جحش قریشیہ 5 ھ
6۔ حضرت ام حبیبہؓ بنت ابی سفیان 6 ھ
7۔ حضرت میمونہؓ 7 ھ
8۔ حضرت صفیہؓ خیبر کی رئیس زادی 7 ھ
حضرت عائشہ اور حضرت سودہؓ گو آگے پیچھے ایک ساتھ نکاح میں آئیں تاہم چونکہ حضرت عائشہؓ تقریباً نکاح کے بعد ساڑھے 3 برس تک میکہ ہی میں رہیں اس بناء پر اس عرصہ میں عملاً حضرت سودہؓ گویا آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی تنہا بیوی تھیں ۔ 1ھ میں جب عائشہؓ رخصت ہو کر آئیں تو حضرت سودہؓ سوکن موجود تھیں ۔ لیکن ان کے درمیان آپس میں بہت محبت تھی ۔ اکثر خانگی مشوروں میں وہ حضرت عائشہؓ کی رفیق تھیں ۔ دوچار برس کے بعد جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ کو دیدی اور انہوں نے خوشی سے قبول کر لی ۔ حضرت سودہؓ کی وہ بے حد تعریف کرتی تھیں ۔ فرماتی تھیں کہ ’’سودہؓ کے علاوہ کسی عورت کو دیکھ کر مجھے یہ خیال نہیں ہوا کہ اس کے قالب میں میری روح ہوتی‘‘۔

حضرت حفصہؓ ۳ ھ میں ازواج میں داخل ہوئیں اس بنا پر تقریباً آٹھ برس حضرت عائشہ کے ساتھ رہیں ۔ ان دونوں میں ایک صدیق اکبرؓ کی پارہ بیٹی تھی تو دوسری فاروق اعظمؓ کی ۔ دونوں میں نہایت لطف و محبت تھی۔ تمام گھریلو معاملات میں دونوں کی ایک رائے ہوتی اور برابر کی شریک رہتی تھیں ۔ دوسری ازواج کے مقابلہ میں یہ دونوں ایک دوسرے کی حامی تھیں ۔

حضرت جویریہؓ اور حضرت عائشہؓ میں بھی کوئی اختلاف مذکور نہیں ہے۔ البتہ وہ ان کے حسن وجمال کو دیکھ کر پہلے گھبرا اُٹھی تھیں کہ ان کے مقابلہ میں ان کا رتبہ کم نہ ہو جائے لیکن آخر ان کا خیال غلط ثابت ہوا کہ ان کی قدر و منزلت کے اسباب ہی کچھ اور تھے ۔ اس کا تعلّق ظاہری حسن سے کچھ نہ تھا۔

حضرت زینب بن جحش آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی پھوپھی زاد بہن تھیں ۔ خود دار اور مزاج کی تیز تھیں ۔وہ رشتہ میں سب بیویوں سے زیادہ آپؐ سے قریب تھیں اس بنا پر وہ اپنے کو اوروں سے زیادہ عزت کا مستحق سمجھتی تھیں ۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ’’تمام بیویوں میں یہی میرا مقابلہ کرتی تھیں ‘‘۔ بعض بیویوں نے حضرت ام سلمہؓ کی خاموشی کے بعد ان کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں سفیر بنا کر بھیجا۔ انہوں نے بڑی دلیری سے آ کر تقریر کی۔ حضرت عائشہ چپ چاپ ان کی باتیں سنتیں اور کنکھیوں سے آپ کی طرف دیکھتی جاتی تھیں ۔ حضرت زینب جب خاموش ہوئیں تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی مرضی پا کر یہ کھڑی ہوئیں اور ایسی مسکت اور مدلل گفتگو کی کہ حضرت زینبؓ لا جواب ہو کر رہ گئیں ۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے مسکرا کر فرمایا’’ کیوں نہ ہو آخر ابو بکرؓ کی بیٹی ہے‘‘۔

ایک دفعہ شب کو حضرت زینبؓ حضرت عائشہؓ کے گھر آئیں ۔ اس زمانہ میں گھروں میں چراغ نہیں جلتے تھے ۔ اسی وقت آپ تشریف لائے تو سیدھے ایک طرف کو بڑھے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا کہ وہ زینب ہیں ۔ ان کو اس پر غصہ آیا اور کچھ بول گئیں ۔ حضرت عائشہ نے بھی برابر کا جواب دیا۔ باہر مسجد نبویؐ میں ابوبکر تھے۔ انہوں نے جو یہ آوازیں سنیں تو آنحضرتؐ سے عرض کیا کہ آپ باہر تشریف لے آئیں ۔حضرت عائشہؓ باپ کی ناراضی دیکھ کر سہم گئیں ۔ نماز کے بعد حضرت ابو بکرؓ بیٹی کے گھر آئے اور گو ابتدائی قصور ان کا نہ تھا ، تا ہم بہت کچھ سمجھایا اور تنبیہ کی۔
ان چند واقعات سے یہ قیاس نہ کرنا چاہئے کہ باہم ان کے دل صاف نہ تھے جہاں چند آدمی ایک جگہ رہتے ہیں ، ان میں کیسی ہی موافقت اور میل ملاپ ہو، نا ممکن ہے کہ کبھی کبھی حقیقت میں یا غلط فہمی سے وقتی رنجش نہ پیدا ہو خاص کر جہاں عورتوں کا مجمع ہو اور وہ بھی سوکنو ں کا۔ پھر بھی اتفاقی اور فوری جذبات کو چھوڑ کر تمام سوکنوں میں لطف و محبت کی بہتر سے بہتر مثال قائم تھی۔
یہی حضرت زینب جب حلقۂ ازواج میں داخل ہوئیں تو حضرت عائشہؓ نے آپؐ کو مبارکباد دی۔ مدینہ کے بعض منافقوں نے حب حضرت عائشہؓ پر الزام لگایا ہے تو بہن کی محبت میں حمنہ بنت جحش (حضرت زینب کی بہن) بھی سازش میں مبتلا ہو گئیں ۔ لیکن حضرت زینبؓ کا قدم حق کے راستے سے ذرا بھی نہیں ہٹا۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے جب اُن سے حضرت عائشہؓ کی نسبت دریافت فرمایا تو انہوں نے صاف صاف کہا کہ میں انکی نسبت خوبی کے سوا کچھ نہیں جانتی۔

ایک دفعہ حضرت زینبؓ نے حضرت صفیہؓ کو یہودیہ کہہ دیا۔ اس پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) ان سے ناراض ہو گئے اور دو مہینے تک ان سے بات نہیں کیا۔ آخر وہ حضرت عائشہؓ کے پاس آئیں کہ تم بیچ میں پڑ کر میرا قصور معاف کرا دو ۔ اب وہی موقع حضرت عائشہؓ کو بھی حاصل تھا لیکن انہوں نے خاص اس غرض سے اہتمام کے ساتھ بناؤ سنگار کیا اور آپؐ آئے تو اس سلیقہ سے گفتگو کی کہ معاملہ ختم ہو گیا۔

ایک دفعہ مرض الموت میں حضرت ام حبیبہؓ نے حضرت عائشہؓ کو بلوا بھیجا۔ وہ آئیں تو حضرت امّ حبیبہؓ نے کہا ’’سوکنوں میں کچھ نہ کچھ کبھی ہو ہی جاتا ہے ، اگر کچھ ہوا ہو تو خدا ہم دونوں کو معاف کرے‘‘ حضرت عائشہؓ نے کہا ’’ خدا سب معاف اور اس سے تم کو بری کرے‘‘ حضرت ام حبیبہؓ نے کہا ’’ تم نے مجھے اس وقت خوش کیا، خدا تم کو بھی خوش رکھے‘‘۔
حضرت میمونہؓ نے جب وفات پائی تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا ’’وہ ہم میں سب سے زیادہ پرہیز گار تھیں‘‘۔

حضرت صفیہؓ کو کھانا پکانے کا خاص سلیقہ تھا۔ خود حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے ان سے بہتر کھانا پکانے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ ایک دن دونوں نے آپؐ کیلئے کھانا پکایا۔ حضرت صفیہؓ کا کھانا جلد تیار ہو گیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت عائشہؓ کے حجرے میں تھے ۔ انہوں نے وہیں ایک لونڈی کے ہاتھ کھانا بھجوا دیا۔ حضرت عائشہؓ اپنی محبت کی بربادی کو دیکھ کر جھنجلا اٹھیں اور ایک ہاتھ ایسا مارا کہ لونڈی کے ہاتھ سے پیالہ چھوٹ کر گر پڑا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ آپؐ خاموشی کے ساتھ پیالہ کے ٹکڑوں کو چننے لگے ۔ اور خادمہ سے فرمایا کہ ’’ تمہاری ماں کو غصّہ آگیا‘‘ چند لمحوں کے بعد حضرت عائشہ کو اپنے کئے پر خود ندامت ہوئی۔ عرض کی ’’ یا رسول اللہ! اس جرم کا کیا کفارہ ہو سکتا ہے‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’ ایسا ہی پیالہ اور ایسا ہی کھانا‘‘ چنانچہ نیا پیالہ ان کو واپس کیا گیا۔
آپ نے دیکھا کہ حضرت عائشہؓ اپنی سوکنوں کے ساتھ کس لطف ، کس انصاف اور کس عزت کا برتاؤ کرتی ہیں اور کس کھلے دل سے ان کی خوبیوں اور نیکیوں اور تعریفوں کا اظہار کرتی ہیں کبھی کبھی انسانی فطرت سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو کس قدر جلد نادم ہو جاتی ہیں ۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
سوتیلی اولاد کے ساتھ برتاؤ

حضرت خدیجہؓ کے بطن سے حضرت عائشہؓ کی چار سوتیلی بیٹیاں تھیں ۔ حضرت زینبؓ ، حضرت رقیہؓ ، حضرت ام کلثومؓ ، حضرت فاطمہؓ زہرا۔ لیکن حضرت عائشہؓ کی رخصتی سے پہلے حضرت فاطمہؓ کے سوا اور سب اپنی اپنی سسرال جا چکیں تھیں ۔
حضرت عائشہؓ کی رخصتی کے وقت حضرت فاطمہؓ گو کنواری تھیں ۔ لیکن ان سے سن میں پا نچ چھ برس بڑی تھیں ۔ایک سال یا اس سے بھی کچھ کم دونوں ماں بیٹی ایک ساتھ رہی ہو گی کہ 2 ھ کے بیچ میں وہ حضرت علی مرتضیؓ سے بیاہ دی گئیں ۔ شادی کے لئے جن ماؤں نے سامان درست کیا تھا اُن میں حضرت عائشہؓ بھی تھیں اور آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے حکم سے انہوں نے خاص طور پر اس کا اہتمام کیا ۔ مکان لیپا ، بستر لگایا، اپنے ہاتھ سے کھجور کی چھال دھنکر تکئے بنائے ، چھوہارے اور منقے دعوت میں پیش کئے ، لکڑی کی ایک الگنی تیار کی کہ اس پر پانی کی مشک اور کپڑے لٹکائے جائیں ۔ وہ خود بیان کرتی ہیں کہ ’’ فاطمہ کے بیاہ سے کوئی اچھا بیاہ میں نے نہیں دیکھا‘‘ شادی کے بعد حضرت فاطمہؓ جس گھر میں گئیں اس میں اور حضرت عائشہؓ کے حجرے میں صرف ایک دیوار کا فصل تھا۔ بیچ میں کھڑکی تھی جس سے کبھی کبھی آپس میں بات چیت ہوتی تھی۔

بیٹی کی تعریف میں کہتی ہیں ’’ میں نے فاطمہؓ سے ان کے باپؐ کے سوا کوئی اور بہتر انسان کبھی نہیں دیکھا ‘‘ ایک تابعی نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ ’’ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا ؟ ‘‘بولیں ’’ فاطمہ‘‘ ۔کہتی ہیں کہ ’’ میں نے فاطمہ سے زیادہ اٹھنے بیٹھنے کے طور طریقہ میں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) سے ملتا جلتا کسی اور کو نہیں دیکھا۔ جب آپؐ کی خدمت میں وہ آتیں آپ سرو قد کھڑے ہو جاتے ، پیشانی چوم لیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ اسی طرح جب آپؐ ان کے گھر تشریف لے جاتے تو وہ بھی کھڑی ہو جاتیں ۔ باپ کو بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں ‘‘۔
حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ایک دن ہم سب بیویاں آپؐ کے پاس بیٹھی تھیں کہ فاطمہ سامنے سے آئیں ۔ بالکل آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی چال تھی ذرا بھی فرق نہ تھا ۔آپؐ نے بڑے تپاک سے بلا کر پاس بٹھا لیا پھر چپکے چپکے ان کے کان میں کچھ کہا وہ رونے لگیں ۔ ان کی بے قراری دیکھ کر آپؐ نے پھر ان کے کان میں کچھ کہا، وہ ہنسنے لگیں ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا ’’ فاطمہ! تمام بیویوں کو چھوڑ کر صرف تم سے آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے راز کی باتیں کہتے ہیں اور تم روتی ہو ‘‘۔ آپؐ جب اٹھ گئے تو میں نے واقعہ دریافت کیا بولیں ’’ میں باپ کا راز نہیں فاش کروں گی‘‘۔ جب آپؐ کا انتقال ہو گیا تو میں نے دوبارہ کہا ’’فاطمہ ! میرا جو تم پر حق ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں ، اس دن کی بات مجھ سے کہہ دو‘‘ انہوں نے کہا ہاں اب ممکن ہے۔ میرے رونے کا سبب یہ تھا کہ آپؐ نے اپنی جلد وفات کی اطلاع دی تھی اور ہنسنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے فرمایا کہ ’’ فاطمہ کیا تم کو یہ پسند نہیں کہ تم تمام دنیا کی عورتوں کی سردار بنو ‘‘۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
واقعہ افک ،تحریم، ایلا و تخییر

مدینہ میں مسلمانوں کو جن مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ان میں سب سے خطرناک منافقین کی سازشیں تھیں ۔ یہ لوگ آستین کا سانپ بن کر ہمیشہ مسلمانوں کے اخلاق و کردار پر طرح طرح سے حملے کرنے کی کوشش کرتے۔ان کوششوں کی سب سے ذلیل مثال اِفک یعنی حضرت عائشہؓ پر تہمت لگانے کا واقعہ ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ نجد کے قریب مریسیع نام کا بنی مصطلق کا ایک چشمہ تھا۔ شعبان 5 ھ میں مسلمانوں نے اسی چشمہ کے پاس پڑاؤ ڈالا تھا۔ چونکہ یہ معلوم تھا کہ یہاں کوئی خونریز جنگ نہیں ہو گی ، اس لئے منافقوں کی ایک بہت بڑی تعداد فوج میں شریک ہو گئی تھی۔ اس سفر میں حضرت عائشہؓ ساتھ تھیں ۔ چلتے وقت اپنی بہن اسماء کا ایک ہار پہننے کو مانگ لیا تھا۔ وہ ان کے گلے میں تھا۔ ہار کی لڑیاں اتنی کمزور تھیں کہ ٹوٹ ٹوٹ جاتیں ۔ اس وقت حضرت عائشہؓ کی عمر 14 برس کی تھی۔یہ عورت کا وہ زمانہ ہے جس میں اس کے نزدیک معمولی سے معمولی زیور بھی وہ گراں قیمت سامان ہے جس کے شوق میں ہر زحمت گوارا کر لی جا سکتی ہے۔
سفر میں حضرت عائشہؓ اپنے محمل پر سوار ہوتیں ۔ ساربان محمل اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے تھے اور چل کھڑے ہوتے تھے۔ اس وقت کم سنی اور اچھی غذا نہ ملنے کے باعث اس قدر دبلی پتلی اور ہلکی پھلکی تھیں کہ محمل اٹھانے میں ساربانوں کو بالکل محسوس نہیں ہوتا تھا کہ اس میں کوئی سواری بھی ہے ۔

ایک جگہ رات کو قافلہ نے پڑاؤ کیا۔ پچھلے پہر وہ پھر روانگی کو تیار تھا کہ حضرت عائشہؓ قضائے حاجت کے لئے قافلہ سے ذرا دور نکل کر باہر آڑ میں چلی گئیں ۔ فارغ ہو کر جب لوٹیں تو اتفاق سے گلے پر ہاتھ پڑ گیا، دیکھا تو ہار نہ تھا۔ ایک تو کم سنی اور پھر مانگے کی چیز، گھبرا کر وہیں ڈھونڈنے لگیں ۔ سفر کی نا تجربہ کاری کی بنا پر انکو یقین تھا کہ قافلہ کی روانگی سے پہلے ہی ہار ڈھونڈھ کر واپس آ جائینگی اس بنا پر نہ کسی کو واقعہ کی اطلاع دی اور نہ آدمیوں کو اپنے انتظار کا حکم دے کر گئیں ۔ ساربان حسبِ دستور یہ سمجھ کر کہ اندر عائشہؓ موجود ہیں محمل کو اونٹ پر رکھ کر قافلہ کے ساتھ روانہ ہو گئے ۔تھوڑی دیر کی تلاش میں ہار مل گیا۔ ادھر قافلہ چل چکا تھا۔ پڑاؤ پر آئیں تو یہاں سنّاٹا تھا۔مجبوراً چادر اوڑھ کر وہیں پڑ رہیں کہ جب لوگ محمل میں نہ پائیں گے تو خود ہی لینے آئیں گے۔ صفوان بن معطل ایک صحابی تھے جو ساقہ (ریر گارڈ) یعنی چھوٹے چھاٹے سپاہیوں اور فوج کی گری پڑی چیزوں کے انتظام کے لئے لشکر کے پیچھے پیچھے رہتے تھے۔ صبح کو جب وہ پڑاؤ پر آئے تو دور سے کوئی نظر آیا۔ حکم پردہ سے پہلے جو اسی سال نازل ہو چکا تھا ۔ انہوں نے حضرت عائشہ کو دیکھا تھا۔ دیکھتے ہی پہچان لیا اور پاس آ کر انّا للہ پڑھا ۔ آواز سُن کر حضرت عائشہؓ سوتے سے چونک پڑیں ۔ صفوان نے اپنا اونٹ بٹھایا اور ان کو سوار کر کے اگلی منزل کا راستہ لیا۔ قافلہ نے دوپہر کے وقت پڑاؤ کیا ہی تھا کہ محمل سامنے سے نظر آیا۔ صفوان کے ہاتھ میں اونٹ کی مہار تھی اور حضرت عائشہ محمل میں سوار تھیں ۔ یہ نہایت معمولی واقعہ تھا اور اکثر سفر میں پیش آتا ہے۔ آج ریل کے زمانہ میں بھی اس قسم کے واقعات کثرت سے پیش آتے ہیں ۔
منافقین نے اس واقعے سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار تھا۔ ۔ ۔ نے یہ مشہور کیا کہ نعوذ باللہ اب وہ پاک دامن نہ رہیں ۔ جا بجا اس خبر کو پھیلانا شروع کیا۔ نیک دل مسلمانوں نے اس افواہ کو سنتے ہی کانوں پر ہاتھ رکھا کہ یہ تو سخت بہتان ہے ۔حضرت ابو ایوبؓ نے اپنی بیوی سے کہا ’’ ام ایوب اگر تم سے یہ کوئی کہتا کیا تم مان لیتیں ‘‘ بولیں ’’استغفر اللہ کسی شریف کا بھی یہ کام ہے ‘‘ حضرت ابو ایوبؓ نے کہا ،تو عائشہ ؓ تم سے کہیں زیادہ شریف ہیں ، کیا ان سے ایسا ہو سکتا ہے ۔‘‘

دنیا میں عزت سے زیادہ کوئی چیز نازک نہیں ۔ یہ وہ شیشہ ہے جو پتھر پھینکنے سے نہیں بلکہ پتھر پھینکنے کے ارادے سے بھی چور چور ہو جاتا ہے۔ غلط سے غلط بات بھی جب کسی آبرو دار اور نیک آدمی کی نسبت کوئی شریر کہہ بیٹھتا ہے تو وہ یا تو شرم سے پانی پانی یا غصّہ سے آگ بگولا ہو جاتا ہے۔ اب تک حضرت عائشہؓ ان واقعات سے بے خبر تھیں ۔ جب انہیں معلوم ہوا تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ ان کو اتنی بڑی بات کا یقین نہیں آیا۔ سیدھی میکہ آئیں ، ماں سے پوچھا تو انہوں نے تسکین دی ۔ اتنے میں ایک انصاریہ آ گئی، اس نے پوری داستان دہرائی ۔اب شک کا کیا موقع تھا ، سنتے ہی غش کھا کر گر پڑیں ۔ والدین نے سنبھالا اور سمجھا بجھا کر گھر رخصت کیا۔ یہاں پہنچ کر شدّت کا بخار اور لرزہ آیا۔ اس حالت میں انسان کو طرح طرح کا خیال آتا ہے اور ذرا ذرا سی بات سے بد گمان ہوتا ہے۔ آپؐ باہر سے تشریف لاتے اور کھڑے کھڑے پوچھ لیتے کہ اب ان کا کیا حال ہے۔ حضرت عائشہؓ کو خیال ہوا کہ بیماری میں پہلی سی توجہ میرے حال پر نہیں ، اس بنا پر اجازت لے کر وہ پھر میکہ چلی آئیں ۔ دن رات آنکھوں سے آنسو جاری رہتے ۔ کہتی ہیں کہ نہ آنسو تھمتا تھا اور نہ آنکھوں میں نیند تھی۔ باپ لطف و محبت سے سمجھاتے تھے کہ روتے روتے تمہارا کلیجہ نہ پھٹ جائے۔ ماں دلاسا دیتی تھیں کہ بیٹی! جو بیوی اپنے شوہر کو چہیتی ہوتی ہے اس کو اس قسم کے صدمے اٹھانے ہی پڑتے ہیں ۔ ایک بار غیرت سے ارادہ کیا کہ کنویں میں گر کر جان دیدیں ۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
گو امّ المؤمنین کی بے گناہی مسلّم تھی ۔ تاہم شریروں کے منھ بند کرنے کے لئے تحقیق ضروری تھی ۔ آپ نے حضرت علی اور حضرت اسامہؓ سے مشورہ طلب کیا ۔ حضرت اسامہؓ نے تسکین دی اور حضرت عائشہؓ کو بے گناہ بتایا۔ حضرت علیؓ نے کہا دنیا میں عورتوں کی کمی نہیں (یعنی اگر لوگوں کے کہنے کی پرواہ ہے تو طلاق دے دیجئے) اور خادمہ سے پوچھ لیجئے وہ سچ سچ بتا دے گی۔ اس سے سوال کیا گیا، اس نے کہا ’’ سبحان اللہ خدا کی قسم جس طرح سونار کھرے سونے کو جانتا ہے اسی طرح میں ان کو جانتی ہوں ‘‘ ۔

سوکنوں میں حضرت زینبؓ کو حضرت عائشہؓ کی ہمسری کا دعویٰ تھا اور ان کی بہن حمنہ اس سازش میں شریک بھی تھیں ۔اس لحاظ سے آپؐ نے ان کی رائے بھی دریافت کی۔ انہوں نے کانوں پر ہاتھ رکھا کہ عائشہؓ میں بھلائی کے سوا میں اور کچھ نہیں جانتی۔ اس کے بعد آپؐ نے مسجد میں تمام صحابہ کو جمع کر کے ایک مختصر تقریر میں حرم نبوت کی پاکی و طہارت اور عبد اللہ بن ابی کی خباثت کا تذکرہ کیا۔آپ نے فرمایا۔ مسلمانو! اس شریر کو میری طرف سے کون سزا دے گا، جس کی نسبت مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ اہل بیت پر عیب لگاتا ہے۔ قبیلہ اوس کے رئیس حضرت سعد بن معاذؓ نے اٹھ کر کہا،میں ۔ یا رسول اللہ ! اگر وہ ہمارے قبیلہ کا آدمی ہے تو ابھی اس کا سر اڑا دیں گے اور اگر ہمارے بھائی خزرج میں سے ہے تو آپؐ حکم دیجئے ہم تعمیل ارشاد کو تیار ہیں ۔ بہر حال بات آئی گئی ہو گئی۔یہاں سے اٹھ کر آپ حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف لے گئے ۔ وہ بستر علالت پر پڑی تھیں ، آنکھیں آنسوؤں سے پر نم تھیں ، والدین داہنے بائیں تیمار داری میں مصروف تھے۔ آپؐ قریب جا کر بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ سے خطاب کر کے فرمایا۔ عائشہ اگر تم مجرم ہو تو توبہ کرو خدا قبول کرے گا ۔ ورنہ خدا خود تمہاری طہارت اور پاکی کی گواہی دے گا۔ والدین کو اشارہ کیا کہ آپؐ کو جواب دیں لیکن ان سے کچھ کہتے نہ بنا ۔ یہ دیکھ کر حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میرے آنسو دفعۃً خشک ہو گئے ، ایک قطرہ بھی آنکھوں میں نہ تھا۔ دل نے اپنی برأت (بے گناہی )کے یقین کی بنا پر اطمینان محسوس کیا ۔ پھر خود جواب میں اس طرح گویا ہوئیں ۔ اگر میں اقرار کر لوں حالانکہ خدا خوب جانتا ہے کہ میں بالکل بے گناہ ہوں ، تو اس الزام کے صحیح ہونے میں کسی کو شک رہ جائے گا؟ اگر انکار کروں تو لوگ کب مانیں گے؟ میرا حال اس وقت یوسف کے باپ (کہتی ہیں کہ سوچنے پر بھی حضرت یعقوب کا نام یاد نہ آیا) کا سا ہے جنہوں نے کہا تھا فصبر جمیل ۔

منافقوں نے اس فتنہ انگیزی سے جو مقاصد پیشِ نظر رکھے تھے یعنی
(1) نعوذ باللہ پیغمبر اور صدیقؓ کے خاندان کی اہانت اور بدنامی
(2) خاندان نبویؐ میں تفریق
(3) اسلام کے برادرانہ اتحاد اور اجتماعی قوت میں رخنہ ڈالنا وہ سب ایک ایک کر کے حاصل ہو چکے تھے۔
اب وہ وقت تھا کہ عالمِ غیب کی زبان گویا ہو۔ بالآخر وہ گویا ہوئی۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپؐ پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی۔ پھر مسکراتے ہوئے سر اٹھایا ۔ پیشانی پر پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح ڈھلک رہے تھے اور یہ آیتیں تلاوت فرمائیں :
"جن لوگوں نے یہ افترا باندھا ہے وہ تم ہی میں کچھ لوگ ہیں ۔ تم اس کو برا نہ سمجھو بلکہ اس میں تمہاری بہتری تھی (کہ مومنین اور منافقین کی تمیز ہو گئی) ہر شخص کو حصّہ کے مطابق گناہ اور جس کا اس میں بڑا حصہ تھا کو بڑا عذاب ہو گا ۔ جب تم نے یہ سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے بھائی بہنوں کی نسبت نیک گمان کیوں نہیں کیا اور یہ کیوں نہیں کہا کہ یہ صریح تہمت ہے اور کیوں نہیں ان افترا پردازوں نے چار گواہ پیش کئے اور جب گواہ پیش نہیں کئے تو خدا کے نزدیک جھوٹے ٹھہرے۔ اگر خدا کی عنایت و مہربانی دین و دنیا میں تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو جو افواہ تم نے اڑائی تھی اس پر تم کو سخت عذاب پہنچتا۔ جب تم اپنی زبان سے اس کو پھیلا رہے تھے اور منھ سے وہ بات نکال رہے تھے جس کا تم کو علم نہ تھا اور تم اس کو ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے۔ حالانکہ خدا کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی۔ تم نے سننے کے ساتھ یہ کیوں نہیں کہا کہ ہم کو ایسی ناروا بات منھ سے نہیں نکالنی چاہئے۔خدا پاک ہے۔ یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ خدا نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو پھر ایسی بات نہ کرو ۔ خدا اپنے احکام بیان کرتا ہے اور وہ دانا اور حکمت والا ہے۔ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں برائی پھیلے ان کیلئے دین و دنیا دونوں میں بڑی دردناک سزا ہے۔ خدا سب جانتا ہے اور تم کچھ نہیں جانتے۔"(النور 19۔11)
ماں نے کہا۔ لو بیٹی اٹھو اور شوہر کا استقبال کرو۔ حضرت عائشہ نے نسوانی غرور و ناز کے ساتھ جواب دیا۔ میں صرف اپنے خدا کی شکر گزار ہوں کسی اور کی ممنون نہیں ۔
اس کے بعد قانون کے مطابق تین مجرموں کو اسّی اسّی کوڑے کی سزا دی گئی۔
 
Top