کلیم حیدر
ناظم خاص
- شمولیت
- فروری 14، 2011
- پیغامات
- 9,747
- ری ایکشن اسکور
- 26,385
- پوائنٹ
- 995
واقعہ تیمم
ایک سفر میں حضرت عائشہؓ ساتھ تھیں ۔ وہی ہار گلے میں تھا۔ قافلہ واپس ہو کر مقام ذات الجیش میں پہنچا تو وہ ٹوٹ کر گر پڑا۔ گزشتہ واقعہ سے ان کو تنبیہ ہو گئی تھی۔ فوراً آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کو خبر دی۔ صبح قریب تھی۔آپؐ نے پڑاؤ ڈال دیا اور ایک آدمی اس کے ڈھونڈنے کو دوڑایا۔ اتفاق یہ کہ جہاں فوج ٹھہری تھی وہاں پانی بالکل نہ تھا۔ نماز کا وقت آگیا ۔لوگ گھبرائے ہوئے حضرت ابو بکرؓ کے پاس پہنچے کہ عائشہؓ نے فوج کو کس مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ وہ سیدھے حضرت عائشہؓ کے پاس پہنچے۔ دیکھا تو حضور انور(صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے زانوں پر سر رکھے آرام فرما رہے ہیں ۔بیٹی کو کہا کہ ہر روز تم نئی مصیبت سب کے سر لاتی ہو اور غصّہ سے ان کے پہلو میں کئی کونچے دیئے اور وہ آپؐکی تکلیف کے خیال سے ہل بھی نہ سکیں ۔
آپؐ صبح کو بیدار ہوئے تو واقعہ معلوم ہوا۔ چنانچہ اس موقع پر قرآن مجید کی حسب ذیل آیت نازل ہوئی ۔ جس میں تیمم کا حکم ہے :
ایک سفر میں حضرت عائشہؓ ساتھ تھیں ۔ وہی ہار گلے میں تھا۔ قافلہ واپس ہو کر مقام ذات الجیش میں پہنچا تو وہ ٹوٹ کر گر پڑا۔ گزشتہ واقعہ سے ان کو تنبیہ ہو گئی تھی۔ فوراً آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کو خبر دی۔ صبح قریب تھی۔آپؐ نے پڑاؤ ڈال دیا اور ایک آدمی اس کے ڈھونڈنے کو دوڑایا۔ اتفاق یہ کہ جہاں فوج ٹھہری تھی وہاں پانی بالکل نہ تھا۔ نماز کا وقت آگیا ۔لوگ گھبرائے ہوئے حضرت ابو بکرؓ کے پاس پہنچے کہ عائشہؓ نے فوج کو کس مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ وہ سیدھے حضرت عائشہؓ کے پاس پہنچے۔ دیکھا تو حضور انور(صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے زانوں پر سر رکھے آرام فرما رہے ہیں ۔بیٹی کو کہا کہ ہر روز تم نئی مصیبت سب کے سر لاتی ہو اور غصّہ سے ان کے پہلو میں کئی کونچے دیئے اور وہ آپؐکی تکلیف کے خیال سے ہل بھی نہ سکیں ۔
آپؐ صبح کو بیدار ہوئے تو واقعہ معلوم ہوا۔ چنانچہ اس موقع پر قرآن مجید کی حسب ذیل آیت نازل ہوئی ۔ جس میں تیمم کا حکم ہے :
ابھی ابھی مجاہدین کا پر جوش گروہ جو اس مصیبت میں تلملا رہا تھا ۔ اس ابرِ رحمت کو دیکھ کر مسرت سے لبریز ہو گیا۔اسلام کے فرزند اپنی ماں کو دعائیں دینے لگے ۔ حضرت اسیدؓ ایک بڑے پایہ کے صحابی تھے۔ جوش مسرّت میں بول اٹھے ۔ اے صدیقؓ کے گھر والو! اسلام میں یہ تمھاری پہلی برکت نہیں ۔ صدیق اکبر جو ابھی اپنے لخت جگر کی تنبیہ کیلئے بے قرار تھے فخر کے ساتھ صاحب زادی کو خطاب کر کے فرمایا بیٹی! مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اس قدر مبارک ہے۔ تیرے ذریعہ سے خدا نے مسلمانوں کو کتنی آسانی بخشی۔ قافلہ کی روانگی کیلئے جب اونٹ اٹھایا گیا تو وہیں اسی کے نیچے ہار پڑا ملا۔’’اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا حاجت ضروری سے فارغ ہوئے ہو یا عورتوں سے مقاربت کی ہو اور تم پانی نہیں پاتے تو پاک مٹّی کا قصد کرو اور اس سے منھ اور ہاتھ پر پھیر لو۔ اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے۔‘‘