• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیرتِ عائشہ (رضی اللہ عنہا)

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
واقعہ تیمم
ایک سفر میں حضرت عائشہؓ ساتھ تھیں ۔ وہی ہار گلے میں تھا۔ قافلہ واپس ہو کر مقام ذات الجیش میں پہنچا تو وہ ٹوٹ کر گر پڑا۔ گزشتہ واقعہ سے ان کو تنبیہ ہو گئی تھی۔ فوراً آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کو خبر دی۔ صبح قریب تھی۔آپؐ نے پڑاؤ ڈال دیا اور ایک آدمی اس کے ڈھونڈنے کو دوڑایا۔ اتفاق یہ کہ جہاں فوج ٹھہری تھی وہاں پانی بالکل نہ تھا۔ نماز کا وقت آگیا ۔لوگ گھبرائے ہوئے حضرت ابو بکرؓ کے پاس پہنچے کہ عائشہؓ نے فوج کو کس مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ وہ سیدھے حضرت عائشہؓ کے پاس پہنچے۔ دیکھا تو حضور انور(صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے زانوں پر سر رکھے آرام فرما رہے ہیں ۔بیٹی کو کہا کہ ہر روز تم نئی مصیبت سب کے سر لاتی ہو اور غصّہ سے ان کے پہلو میں کئی کونچے دیئے اور وہ آپؐکی تکلیف کے خیال سے ہل بھی نہ سکیں ۔
آپؐ صبح کو بیدار ہوئے تو واقعہ معلوم ہوا۔ چنانچہ اس موقع پر قرآن مجید کی حسب ذیل آیت نازل ہوئی ۔ جس میں تیمم کا حکم ہے :
’’اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا حاجت ضروری سے فارغ ہوئے ہو یا عورتوں سے مقاربت کی ہو اور تم پانی نہیں پاتے تو پاک مٹّی کا قصد کرو اور اس سے منھ اور ہاتھ پر پھیر لو۔ اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے۔‘‘
ابھی ابھی مجاہدین کا پر جوش گروہ جو اس مصیبت میں تلملا رہا تھا ۔ اس ابرِ رحمت کو دیکھ کر مسرت سے لبریز ہو گیا۔اسلام کے فرزند اپنی ماں کو دعائیں دینے لگے ۔ حضرت اسیدؓ ایک بڑے پایہ کے صحابی تھے۔ جوش مسرّت میں بول اٹھے ۔ اے صدیقؓ کے گھر والو! اسلام میں یہ تمھاری پہلی برکت نہیں ۔ صدیق اکبر جو ابھی اپنے لخت جگر کی تنبیہ کیلئے بے قرار تھے فخر کے ساتھ صاحب زادی کو خطاب کر کے فرمایا بیٹی! مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اس قدر مبارک ہے۔ تیرے ذریعہ سے خدا نے مسلمانوں کو کتنی آسانی بخشی۔ قافلہ کی روانگی کیلئے جب اونٹ اٹھایا گیا تو وہیں اسی کے نیچے ہار پڑا ملا۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
واقعۂ تحریم

ازواج مطہرات کی دو ٹولیاں تھیں ۔ ایک میں حضرت عائشہؓ ، حضرت حفصہؓ ، حضرت سودہؓ ، حضرت صفیہؓ اور دوسری میں حضرت زینبؓ اور دوسری بیویاں تھیں ۔
آپؐ کا معمول شریف یہ تھا کہ نمازِ عصر کے بعد تھوڑی تھوڑی دیر تمام ازواج کے پاس جا کر بیٹھتے تھے۔ اگر چہ آپؐ کے عدل کا یہ حال تھا کہ ذرا کسی کی طرف پلہ جھک نہیں سکتا تھا، لیکن اتفاقاً حضرت زینب کے یہاں چند روز تک معمول سے زیادہ دیر تک تشریف فرما رہے اس لئے اوقاتِ مقررہ پر تمام ازواج کو آپؐ کی آمد کا انتظار رہتا تھا۔ حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت زینبؓ کی کسی عزیز نے شہد بھیجا ہے۔چونکہ شہد آپؐ کو بے انتہا مرغوب ہے، وہ روز آپ کے سامنے شہد پیش کرتی ہیں اور آپؐ اخلاق سے انکار نہیں فرماتے اس سے روزانہ معمول میں ذرا فرق آگیا ہے۔

حضرت عائشہؓ نے حضرت حفصہؓ اور حضرت سودہؓ سے ذکر کیا کہ اس کی کوئی تدبیر کرنی چاہئے۔ آپ نفاست پسند تھے ذرا سی بو بھی نہایت ناگوار ہو تی تھی ۔ حضرت عائشہؓ نے دونوں کو سمجھا دیا کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) جب تشریف لائیں تو پوچھنا چاہئے کہ یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کے منھ سے یہ بو کیسی آتی ہے؟ جب آپؐ یہ فرمائیں کہ شہد کھایا ہے تو کہنا چاہئے کہ شاید مغافیر (ایک قسم کا پھول جس کی بو میں بساند ہوتی ہے) کا شہد ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آپؐ کو شہد سے کراہت پیدا ہوئی اور عہد کیا کہ اب شہد نہ کھاؤں گا۔

اگر یہ عام انسانوں کا واقعہ ہوتا تو کوئی ایسی بات نہ تھی ۔ لیکن یہ ایک شارع اعظم کا فعل تھا جس کی ایک ایک بات پر بڑے بڑے قانون کی بنیاد پڑ جاتی ہے اس لئے خدائے پاک نے اس پر عتاب فرمایا اور سورۂ تحریم کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں :
’’اے پیغمبر خدا نے تیرے لئے جو حلال کیا ہے اپنی بیویوں کی خوشنودی کے لئے اس کو اپنے اوپر حرام کیوں کرتے ہو۔"(سورہ تحریم ۔1)
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
واقعۂ ایلاء

تحریم ہی کے سلسلہ میں ایلاء کا واقعہ پیش آیا۔ یہ تحریم و ایلاء 9 ھ کا واقعہ ہے۔اس وقت عرب کے دور دراز صوبے فتح ہو چکے تھے، مال غنیمت ، فتوحات اور سالانہ محاصل کا بے شمار ذخیرہ وقتاً فوقتاً مدینہ آتا رہتا تھا ۔ پھر بھی آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی خانگی زندگی جس زہد و قناعت کے ساتھ بسر ہوتی تھی اس کا ایک دھند لا سا خاکہ خانہ داری کے عنوان میں گزر چکا ہے۔

فتح خیبر کے بعد غلہ اور کھجوروں کی جو مقدار ازواجِ مطہرات کے لئے مقرر تھی ایک تو وہ خود کم تھی پھر سخاوت اور کشادہ دستی کے سبب سال بھر تک بہ مشکل چل سکتی تھی۔ آئے دن گھر میں فاقہ ہوتا تھا ۔ ازواجِ مطہّرات میں بڑے بڑے سردار قبائل کی بیٹیاں بلکہ شہزادیاں داخل تھیں ۔ جنھوں نے اس سے پہلے خود اپنے یا پہلے شوہروں کے گھروں میں ناز کی زندگیاں بسر کی تھیں اس لئے انہوں نے مال و دولت کی یہ بہتات دیکھ کر آپؐ سے مصارف میں اضافہ کی خواہش کی ۔
ایک دفعہ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ دونوں خدمت نبوی میں حاضر ہوئے ۔ دیکھا کہ بیچ میں آپ ہیں اور اِدھر اُدھر بیویاں بیٹھی ہیں اور مصارف کی مقدار بڑھانے پر اصرار کر رہی ہیں ۔ دونوں اپنی صاحبزادیوں کے مارنے پر آمادہ ہو گئے لیکن انہوں نے عرض کیا ہم آئندہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کو زائد مصارف کی تکلیف نہ دیں گے۔باقی بیویاں اپنے مطالبہ پر قائم رہیں ۔ اتفاقاً اسی زمانہ میں آپؐ گھوڑے سے گر پڑے۔ پہلوئے مبارک میں ایک درخت کی جڑ سے خراش آ گئی۔ حضرت عائشہؓ کے حجرہ سے لگا ہوا ایک بالا خانہ تھا۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہیں قیام فرمایا اور عہد کیا کہ ایک مہینہ تک ازواج مطہرات سے نہ ملیں گے۔ منافقین نے مشہور کر دیا کہ آپؐ نے بیویوں کو طلاق دیدی۔ صحابہؓ مسجد میں جمع ہو گئے ، گھر گھر ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ ازواج مطہرات رو رہی تھیں ۔ صحابہؓ میں سے کسی نے خود آپؐ سے واقعہ کی تحقیق کی جرأت نہ کی۔

حضرت عمرؓ کو خبر ہوئی تو وہ مسجد نبوی میں آئے۔ تمام صحابہ مایوس اور چپ تھے ۔حضرت عمر نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں آنے کی اجازت چاہی۔ دوبارہ کوئی جواب نہ ملا۔ تیسری دفعہ اجازت ہوئی۔ دیکھا تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) ایک کھری چارپائی پر لیٹے ہیں ۔ جسم مبارک پر بان سے بدّھیاں پڑ گئی ہیں ۔ اِدھر اُدھر نظر اٹھا کر دیکھا تو رحمتِ عالم(صلی اللہ علیہ وسلم) کے گھر میں چند مٹی کے برتن اور چند سوکھی مشکوں کے سوا کچھ نہ تھا۔یہ دیکھ کر ان کی آنکھیں بھر آئیں اور عرض کی یا رسول اللہ ! کیا آپؐ نے بیویوں کو طلاق دیدی۔ارشاد ہوا، نہیں ۔ عرض کی کیا میں یہ بشارت عام مسلمانوں کو نہ سنا دوں ۔ اجازت پا کر زور سے اللہ اکبر کا نعرہ مارا۔
یہ مہینہ 29 روز کا تھا۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں ’’ میں ایک ایک روز گنتی تھی۔‘‘ 29 دن ہوئے تو آپ بالا خانہ سے اتر آئے۔ سب سے پہلے حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ نے ایک مہینہ کے لئے عہد فرمایا تھا ابھی تو انتیس 29 ہی دن ہوئے ہیں ، ارشاد ہوا مہینہ کبھی 29 دن کا بھی ہوتا ہے۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
اختیار

چونکہ عام ازواج نفقہ بڑھوانا چاہتی تھیں اور پیغمبر صرف اپنی بیویوں کی رضا مندی کے لئے اپنے دامن کو دنیوی تکلفات سے ملوث نہیں کر سکتا تھا اس پر تخییر کی آیت نازل ہوئی۔ یعنی جو بیوی چاہے فقر و فاقہ کو اختیار کر کے آپؐ کی صحبت میں رہے اور دنیا کے بجائے آخرت کی نعمت پائے اور جو چاہے کنارہ کش ہو کر دنیا طلبی کی ہوس پوری کرے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے:
’’اے پیغمبر ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم کو دنیاوی زندگی اور اس کی زینت و آرائش کی ہوس ہے تو آؤ میں تم کو رخصتی جوڑے دیکر رخصت کر دوں اور خدا ور رسول اور آخرت پسند ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک عورتوں کیلئے بڑا ثواب مہیّا کر رکھا ہے‘‘ (احزاب ۔ 4 )
آپ سب سے پہلے حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ عائشہؓ ! میں تمھارے سامنے ایک بات پیش کرنا چاہتا ہوں اس کا جواب اپنے والدین سے مشورہ کر کے دینا۔ عرض کی ۔ ارشاد فرمائیے۔ آپ نے اوپر کی آیتیں پڑھ کر سنائیں ۔ گزارش کی کہ یا رسول اللہ ! میں کس امر میں اپنے والدین سے مشورہ لوں ۔ میں خدا اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں ۔ یہ جواب سن کر آپؐ کے چہرہ پر خوشی کے آثار نمایاں ہو ے ۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کی ’’ یا رسول اللہ! میرا جواب دوسری بیویوں پر ظاہر نہ ہو ۔ ارشاد ہوا کہ۔۔’’ میں معلّم بن کر آیا ہوں جابر بن کر نہیں آیا‘‘۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
بیوگی

حضرت عائشہؓ کی عمر 18 سال کی تھی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے آخرت کا سفر اختیار کیا۔ صفر 11ھ کے پچھلے مہینہ کی کوئی تاریخ تھی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) حضرتِ عائشہؓ کے حجرے میں تشریف لائے۔ وہ سر کے درد سے بے قرار تھیں اور ہائے وائے کر رہی تھیں ۔ آپؐ نے فرمایا، اگر تم میرے سامنے مرتیں تو میں اپنے ہاتھ سے تمہاری تجہیز و تکفین کرتا ۔ وہ بے تکلفانہ لہجے میں بول اٹھیں کہ یا رسول اللہ! یہ شاید آپ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ اس حجرے میں کوئی نئی بیوی بیاہ کر آئے۔ آپؐ نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا کہ ’’ہائے میرا سر‘‘ اسی وقت سے درد شروع ہو گیا۔ حضرت میمونہؓ کے گھر جا کر آپ بستر پر لیٹ گئے۔ لیکن ہر روز پوچھتے کل میں کہاں رہوں گا۔ ازواج مطہراتؓ نے سمجھ لیا کہ آپؓ کا مقصود یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ کے یہاں قیام کریں ۔ سب نے اجازت دے دی ۔ اس وقت سے آخری زندگی تک آپؐ حضرت عائشہؓ کے ہی حجرے میں قیام فرما رہے ۔
روز بروز درد کی شدّت بڑھتی جاتی تھی یہاں تک کہ مسجد میں امامت کے لئے بھی آپؐ تشریف نہ لا سکے۔ بیویاں تیمار داری میں مصروف تھیں ، کچھ دعائیں تھیں جن کو پڑھ کر آپؐ بیمار پر دم کیا کرتے تھے، حضرت عائشہؓ بھی وہی دعائیں پڑھ پڑھ کر آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کو دم کیا کرتی تھیں ۔

صبح کی نماز میں لوگ آپؐ کی آمد کے منتظر تھے۔ کئی دفعہ آپؐ نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ہر دفعہ غش آگیا۔ آخر حکم دیا کہ ابو بکر امامت کریں ۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کی ’’ یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) ! ابو بکرؓ بہت نرم دل ہیں ان سے یہ کام نہ بن آئیگا، وہ رو دیں گے۔ کسی اور کو حکم ہو۔‘‘ لیکن آپ نے دوبارہ یہی ارشاد فرمایا۔ حضرت عائشہؓ نے حضرت حفصہؓ سے کہا کہ تم عرض کرو۔ انہوں نے گزارش کی تو فرمایا ۔تم یوسف ؑ والیاں ہو (یعنی تمہیں وہ عورتیں ہو جنہوں نے حضرت یوسفؑ کو بہکانا چاہا تھا) کہہ دو کہ ابو بکرؓ امامت کریں ۔چنانچہ انہوں نے امامت کی۔
آپ بیماری سے پہلے کچھ اشرفیاں حضرت عائشہؓ کے پاس رکھوا کر بھول گئے تھے۔ اس وقت یاد آئیں ۔ فرمایا کہ’’ عائشہ! وہ اشرفیاں کہاں ہیں ؟ ان کو خدا کی راہ میں صرف کر دو۔ کیا محمد خدا سے بد گمان ہو کر ملے گا؟‘‘ چنانچہ اسی وقت خیرات کر دی گئیں ۔
اب وقت آخر تھا۔ حضرت عائشہؓ سرہانے بیٹھیں تھیں ۔ آپؐ ان کے سینہ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ اتنے میں حضرت عائشہؓ کے بھائی حضرت عبد الرحمن مسواک لئے اندر آئے۔ آپ نے مسواک کی طرف دیکھا، سمجھ گئیں کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں ۔ ان سے مسواک لیکر اپنے دانت سے نرم کر کے آپؐ کو دی۔ آپؐ نے صحیح و تندرست آدمی کی طرح مسواک کیا۔ حضرت عائشہؓ فخریہ کہا کرتی تھیں کہ تمام بیویوں میں مجھ ہی کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آخری وقت میں بھی میرا جوٹھا آپ نے منھ میں لگایا۔

حضرت عائشہ ؓآپؐ کی تندرستی کے لئے دعائیں مانگ رہی تھیں ۔ آپ کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں تھا۔ فوراً دستِ مبارک کھینچ لیا اور فرمایا، الّھمّ الرّفیقَ الاعلیٰ ۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ تندرستی کی حالت میں آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ پیغمبر کو مرتے وقت دنیاوی و اخروی زندگی میں ایک کے قبول کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ ان لفظوں کو سن کر میں چونک پڑی کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہم سے کنارہ کشی ہی قبول کی۔ تاہم وہ ابھی کم سن تھیں کسی کو اب تک اپنی آنکھ سے مرتے نہیں دیکھا تھا، عرض کی یا رسول اللہ! آپؐ کو بڑی تکلیف ہے۔ آپ نے فرمایا، ثواب بھی بقدر تکلیف ہی ہے۔
اب تک حضرت عائشہ آپ کو سنبھالے بیٹھی تھیں ۔ کہتی ہیں کہ اچانک مجھ کو آپ کے بدن کا بوجھ معلوم ہوا۔ آنکھوں کی طرف دیکھا تو پھٹ گئی تھیں ۔ آہستہ سے سرِ اقدس تکیہ پر رکھ دیا اور رونے لگیں ۔ حضرت عائشہؓ کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ مرنے کے بعد انھیں کے حجرہ کو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وسلم) کا مدفن بننا نصیب ہوا اور جسم مبارک کو اسی حجرہ کے ایک گوشے میں دفن کیا گیا۔ انّا للہ وانّا الیہ راجعون۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
حضرت عائشہؓ نے خواب دیکھا تھا کہ ان کے حجرے میں 3 چاند ٹوٹ کر گرے ہیں ۔انہوں نے اس کا ذکر حضرت ابو بکرؓ سے کیا تھا۔ حب آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) اسی حجرہ میں مدفون ہوئے تو حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا، ان چاندوں میں سے ایک یہ ہے اور یہ ان میں سب سے بہتر ہے۔بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ دو پچھلے چاند صدیق اکبر اور فاروؓق اعظم تھے۔

حضرت عائشہؓ اب بیوہ تھیں اور اسی عالم میں انہوں نے عمر کے 40 سال گزارے۔ جب تک زندہ رہیں ۔اسی مزارِ اقدس کی مجاور رہیں ۔ قبر نبوی کے پاس ہی سوتیں تھیں ۔ ایک دن آپؓ کو خواب میں دیکھا اس دن سے وہاں سونا چھوڑ دیا۔
13 برس تک یعنی جب تک حضرت عمر فاروقؓ وہاں مدفون نہیں ہوئے تھے حضرت عائشہ بے حجاب وہاں آتی جاتی تھیں کہ ایک شوہر تھا دوسرا باپ۔ حضرت عمرؓ کی تدفین کے بعد فرماتی تھیں کہ اب وہاں بے پردہ جاتے حجاب آتا ہے۔
ازواج مطہرات کے لئے دوسری شادی خدا نے ممنوع قرار دی تھی۔ عرب کے ایک رئیس نے کہا تھا کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد حضرت عائشہؓ سے میں عقد کرونگا۔ چونکہ یہ بات دینی و سیاسی مصالح اور شان نبوت کے خلاف تھی، اس لئے خدائے پاک نے فرمایا:
’’ پیغمبر مسلمانوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں ۔‘‘ (احزاب ۔ 1)
’’ اور تمہیں مناسب نہیں کہ تم پیغمبر خدا کو اذیت دو اور نہ کبھی اس کی بیوی سے اس کے بعد بیاہ کرو خدا کے نزدیک یہ بڑی بات ہے۔‘‘ (احزاب۔7)
اصل یہ ہے کہ ازواج مطہرات جو ایک مدت تک نبیؐ کی محرم راز رہیں ان کا فرض صرف بیٹوں کی تعلیم و تربیت تھی۔ چنانچہ ان کے فرائض خود خدا نے مقرر کر دئے تھے:
’’ اے پیغمبر کی بیویو!تم میں جو بُرا کرے گی اس کو دو گنا عذاب ملے گا اور خدا کے لئے یہ آسان بات ہے اور تم میں سے جو خدا اور رسول کی فرماں بردار ہو گی اور اچھے کام کرے گی اس کو ثواب بھی دوبارہ ملے گا اور اس کے لئے ہم نے قیامت میں اچھی اور پاک روزی مہیّا کی ہے۔اے پیغمبر کی بیویو! تم عام اور معمولی عورتوں میں نہیں ہو، اگر پرہیز گار بنو، دب کر نہ بولا کرو کہ بیمار دل والے (منافقین) حوصلہ کریں اور اچھی بات بولا کرو اور اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ رہا کرو اور گزشتہ زمانہ جاہلیت کی طرح بن ٹھن کر نہ نکلا کرو، نمازیں پڑھا کرو ، زکوٰۃ دیا کرو اور خدا اور رسول کی فرمانبرداری کیا کرو۔ خدا یہی چاہتا ہے، اے اہل بیتِ نبوت کہ تم سے میل کچیل دور کر دے اور تم کو بالکل پاک صاف کر دے ۔تمہارے گھروں میں خدا کی جو آیتیں اور حکمت کی باتیں پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں انکو یاد کرو بیشک خدا ئے پاک لطف کرنے والا اور دانا ہے۔‘‘ (احزاب۔4)
حضرت عائشہ کی آئندہ زندگی حرف بحرف ان ہی آیات پر عمل کرتے گزری۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
عام حالات

عہد صدیقی​

آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی تدفین اور حضرت عائشہؓ کے والد ابو بکر صدیقؓ کے خلیفہ بن جانے کے بعد ازواجِ مطہرات نے چاہا کہ حضرت عثمانؓ کو سفیر بنا کر حضرت ابو بکرؓ کی خدمت میں بھیجیں اور وراثت کا مطالبہ کریں ۔ حضرت عائشہ نے یاد دلایا کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی زندگی میں فرمایا تھا کہ میرا کوئی وارث نہ ہو گا، میرے تمام متروکات (چھوڑی ہوئی جائداد) صدقہ ہونگے۔ یہ سن کر سب خاموش ہو گئیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ بنی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے پاس رکھتے ہی کیا تھے جو ترکہ میں چھوڑتے سوا اس کے کہ مختلف مقاصد کے لئے چند باغ آپ کے قبضہ میں تھے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی زندگی میں جس طرح اور جن مصارف میں ان کی آمدنی خرچ کرتے تھے وہ خلافت راشدہ میں ٹھیک اسی طرح اور اسی حیثیت سے قائم رہے اور اپنی زندگی میں بیویوں کے سالانہ مصارف اسی جائداد سے جس طرح ادا فرماتے تھے حضرت ابو بکرؓ نے اپنے زمانہ میں بھی ان مصارف کو اسی طرح برقرار رکھا۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
باپ کی جدائی

13 ھ میں حضرت ابو بکرؓ نے وفات پائی۔ نزع کے وقت صاحبزادی (حضرت عائشہؓ) خدمت میں حاضر تھیں ۔ باپ نے کچھ جائداد بیٹی کو دے دی تھی،پوچھا کہ’’ بیٹی ! کیا تم وہ جائداد اپنے اور بھائی بہنوں کو د ے دو گی‘‘ عرض کی ’’بسر و چشم‘‘ پھر دریافت کیا ’’ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کفن میں کتنے کپڑے تھے‘‘ عرض کی ’’تین سفید کپڑے‘‘ پوچھا ’’کس دن وفات پائی‘‘ عرض کی ’’پیرکے روز‘‘ دریافت کیا ’’ آج کون دن ہے ‘‘ بتایا ’’پیر ہے‘‘ فرمایا ’’ تو آج رات تک میرا بھی چل چلاؤ ہے۔‘‘ پھر اپنی چادر دیکھی ، اس میں زعفران کے دھبّے تھے، فرمایا ’’ اسی کپڑے کو دھوکر اس کے اوپر دو اور کپڑے بڑھا کر مجھ کو کفن دیا جائے ‘‘ عرض کی ’’ یہ پرانا ہے‘‘ ارشاد ہوا کہ ’’مردوں سے زیادہ زندوں کو نئے کپڑوں کی ضرورت ہے‘‘ اس کے بعد اسی دن منگل کی رات وفات پائی اور حضرت عائشہؓ ہی کے حجرے میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پہلو میں ادباً آپ کے مزار مبارک سے کسی قدر پیچھے ہٹ کر دفن کئے گئے۔ حضرت عائشہ کو بیوگی کے ساتھ اسی کم عمری میں دو ہی برس کے اندر یتیمی کا داغ بھی اٹھانا پڑا۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
عہد فاروقی

ابو بکرؓ صدیق کے بعد عمرؓ بن خطاب خلیفہ بنے۔ ان کے دور میں دیگر ازواج کے لئے 10، 10 ہزار اور حضرت عائشہؓ کے لئے 12 ہزار سالانہ وظیفہ تھا ۔اس ترجیح کا سبب خود حضرت عمرؓ نے بیان فرمایا تھا کہ ’’ان کو میں2 ہزار اس لئے زیادہ دیتا ہوں کہ وہ آنخصرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کو محبوب تھیں ‘‘

ازواجِ مطہرات کی تعداد کے مطابق حضرت عمرؓ نے 9 پیالے تیار کرائے تھے۔ جب کوئی چیز آتی ۔ ایک ایک پیالہ میں کر کے ایک ایک کی خدمت میں بھیجتے۔ تحفوں کی تقسیم میں یہاں تک خیال رکھتے کہ اگر کوئی جانور ذبح ہوتا تو بقول حضرت عائشہؓ کے سری اور پایہ ان کے پاس بھیج دیتے تھے۔ عراق کی فتوحات میں موتیوں کی ایک ڈبیہ ہاتھ آئی تھی مالِ غنیمت کے ساتھ وہ بھی بارگاہ خلافت میں بھیجی گئی۔ سب کو موتیوں کی تقسیم مشکل تھی اس لئے حضرت عمرؓ نے کہا آپ لوگ اجازت دیں تو میں ماں عائشہؓ کو بھیج دوں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کو وہ زیادہ محبوب تھیں ۔ سب نے بخوشی اجازت دی ، چنانچہ وہ ڈبیہ حضرت عائشہ کی خدمت میں بھیج دی گئی ۔ کھول کر دیکھا تو فرمایا ’’ابن خطاب نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد مجھ پر بڑے بڑے احسانات کئے ہیں ،خدایا مجھے آیندہ ان کے عطیوں کے لئے زندہ نہ رکھنا‘‘۔

حضرت عمرؓ کی تمنّا تھی کہ وہ بھی حضرت عائشہ کے حجرہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قدموں کے نیچے دفن ہوں ۔ آخری وقت میں اپنے صاحبزادے کو بھیجا کہ ام المومنین کو میری طرف سے سلام کہو اور عرض کرو کہ عمرؓ کی تمنا ہے کہ وہ اپنے رفیقوں کے پہلو میں دفن ہو۔ فرمایا ’’ اگر چہ وہ جگہ میں نے خود اپنے لئے رکھی تھی مگر عمرؓ کے لئے خوشی سے یہ گوارا کرتی ہوں ‘‘۔اس اجازت کے بعد بھی حضرت عمرؓ نے وصیت کی کہ میرا جنازہ آستانہ تک لے جا کر پھر اجازت لینا۔ اگر ام المومنین اجازت دیں تو اندر دفن کر دینا، ورنہ عام مسلمانوں کے قبرستان میں لے جانا ۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور حضرت عائشہ نے دوبارہ اجازت دی اور جنازہ اندر لے جا کر دفن کیا گیا۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
حضرت عثمان کا عہد

حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد حضرت عثمانؓ خلیفہ مقرر ہوئے۔یہ تیسرے خلیفہ تھے۔ انہوں نے 12برس خلافت کی جس میں تقریباً چھ برس تو سکون کا زمانہ تھا لیکن اس کے بعد چند غلط فہمیوں کی بنا پر کچھ لوگوں میں خلیفہ کی طرف سے بد گمانی پھیل گئی ۔

حضرت عثمان اموی تھے اور انکو اپنے خاندان ہی کے لوگوں پر بھروسہ تھا اس بنا پر بنو امیہ کے نوجوان انتخاب میں سب سے آگے ہوتے تھے اور بڑے بڑے منصبوں پر ممتا ز ہوئے ۔ اس سے قریش کے دوسرے بلند حوصلہ نوجوانوں میں اشتعال پیدا ہوا ۔ انہیں نوجوانوں میں محمد بن ابی بکر بھی تھے جنہوں نے حضرت عثمان کے خلاف شورش میں حصہ لیا ۔محمد بن ابی بکر اور محمد بن ابی حذیفہ وغیرہ نے حضرت عثمانؓ کے خلاف علانیہ تحریک شروع کر دی اور مصر میں جدید پولٹیکل فرقہ کے لیڈر بن گئے ۔ حضرت عثمان کی جانب سے مروان نے مصر کے گورنر کے پاس ایک خط لکھا کہ مصری باغیوں کے سرغناؤں کو قتل کر دو یا قید کر دو ۔ جب ان لوگوں کو معلوم ہوا تو ن سب نے مل کر حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور 2 شرطیں پیش کیں ، مروان کو حوالہ کر دیجیئے یا خلافت سے دست بردار ہو جائیے ، حضرت عثمان نے دونوں شرطیں نا منظور کیں ۔ حضرت عائشہؓ نے محمد بن ابوبکر اپنے بھائی کو بلا کر سمجھایا کہ تم اس ضد سے باز آ جاؤ لیکن وہ کسی طرح نہ مانے، سال کے دستور کے مطابق حضرت عائشہؓ اسی اثنا میں حج کے ارادہ سے مکہ معظمہ چلی گئیں ، محمد بن ابی بکر کو بھی ساتھ لے جانا چاہا ، مگر وہ آمادہ نہ ہوئے اس کے بعد حضرت عثمان 3،2 ہفتہ تک محاصرہ میں رہے اور بالآخر باغیوں کے ہاتھ سے انہوں نے شہادت پائی ۔
 
Top