• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورتو ں کے حقوق کے نام پر … ’’فتنہ ٔنازَن‘‘

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
عورتو ں کے حقوق کے نام پر … ’’فتنہ ٔنازَن‘‘

محمد عطاء اللہ صدیقی​
۶ ؍اپریل کو جناجیلانی کے دفتر میں سمیعہ عمران کے قتل کے حوالے سے ’’موت کی دستک‘‘ کے عنوان سے روزنامہ’ دِن‘ میں راقم الحروف کا مضمون شائع ہوا ۔ اس کے جواب میں ۸؍ مئی کے ’دِن‘ میں نبیلہ اکبر صاحبہ کی معروضات شائع ہوئی ہیں ۔ موصوفہ کی طرف سے پیش کردہ بعض اشکالات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے …
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
(۱) نبیلہ اکبر صاحبہ لکھتی ہیں:
’’ کالم پڑھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اسلام کے بارے میں موصوف کا علم وسیع نہیں ہے یا پھر دیگر حضرات کی طرح وہ اسلام کو صرف ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں جو ان کے نظریات سے میل کھاتی ہے ، وہ یاد رکھ لی اور جواسلامی اقدار ان کے نظریات سے میل نہیں کھاتیں، اُنہیں بھلا دیا ۔‘‘
اس سلسلے میں عرض ہے کہ راقم الحروف کسی درسِ نظامی کا فارغ التحصیل تو نہیں ہے البتہ اسلام کے نظامِ حیات اوراعلیٰ اَقدارکا ایک مستقل طالب علم ضرور رہا ہے ۔ قدیم اورجدید معروف علمائے دین اور نامور مذہبی سکالر ز کی اسلام کے متعلق تشریحات اورتعبیرات کابنظر غائر مطالعہ کرنے کا اِسے موقع بھی ملا ہے ۔ گذشتہ چند برسوں سے بالخصوص انسانی حقوق کا اسلام کے تناظر میں مطالعہ راقم الحروف کی دلچسپی کا خاص محور رہا ہے ۔ عورتوں کے حقوق کے متعلق قدیم وجدید آراء کا بے حد تفصیل سے تقابلی جائزہ بھی لینے کا موقع ملا ہے ۔ اخباری کالم کی نوعیت کے پیش نظر قرآن وسنت سے مفصل اقتباسات اور حوالہ جات پیش کرنا مشکل ہوتا ہے، اسی لیے ان کی عدمِ موجودگی میں اگر نبیلہ صاحبہ نے مندرجہ بالا رائے قائم کی ہے تو اس کا ’الاو ٔنس‘ دینے میں راقم کو تامل نہیں ہے ۔البتہ جہاں تک ’’اسلام کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال‘‘کرنے کامعاملہ ہے ،جو بات موصوفہ نے مجھ سے منسوب کی ہے، میں بڑی دیانت داری سے محسوس کرتا ہوں کہ اس الزام کی اصل مصداق ’’روشن خیال‘‘ مغرب زدہ بیگمات ہیں جنہوں نے اسلام کو بازیچہ ٔ اطفال بنار کھا ہے اوراپنے دل کی بات کو اسلام کا نام لے کر اسلام کو بدنام کرنے کے شغل میں مصروف ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے عورتوں کو بہت سے حقوق دئیے ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو بعض اسلامی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے مثلا حق وراثت اورحق مہر وغیرہ… لیکن جن حقوق کا مطالبہ NGOsکی بیگمات کر رہی ہیں،ان کا اسلامی تعلیمات سے دور کاواسطہ نہیں ہے ۔ مثلا عورت کا طلاق میں برابر کا حق ، عشق بازی کے بعد شادی کاحق وغیرہ وغیرہ۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
(۲) نبیلہ اکبر صاحبہ لکھتی ہیں:
’’ قرآ ن وحدیث کو پڑھیں تو کہیں بھی اس با ت کا تذکرہ نہیں ملتا کہ عزت وغیرت کے جوش میں آکر اپنی عورتوں کا قتل کر دیا جائے ۔ رسو ل پاک ﷺ نے غصہ اور خود کشی کوحرام قرار دیا ہے ‘‘
اس میں شک نہیں غیر ت کے جوش میں آکر اپنی عورتوں کوقتل کر دینے کااسلام حکم نہیں دیتا۔ لیکن اسلام حمیت کے جوش میں کئے جانے والے قتل اور قتلِ عَمَد میں فرق روا رکھتا ہے ۔ اسلامی فقہا کی عظیم اکثریت غیرت کے فوری اشتعال کے نتیجے میں ہونے والے قتل کوقابل مؤاخذہ نہیںسمجھتی۔ راقم الحروف نے اس موضوع پر ایک ضخیم مضمون تحریر کیا ہے جواپنی ثقیل اصطلاحات کی بنا پر اخبارات میں شائع نہیں ہوسکتاجس میں میں نے مشرقِ وسطیٰ کے اسلامی ممالک اورچند یورپی ممالک کے قوانین ودساتیر کے حوالہ سے ثابت کیا ہے کہ تمام دنیا میں فوری اشتعال (Sudden Provocation)کے نتیجہ میں کئے جانے والے جرائم بالخصوص عزت کے جرائم کو بالکل مختلف تناظر میں رکھ کر دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں ایک باپ یا خاوَند کو اپنی بیٹی یابیوی کو قابل اعتراض حالت میں دیکھ کر قتل کیے جانے والے واقعات میں نرم سزا دیتی یا بری کر دیتی ہیں ، تو یہ اسلام کے جرم وسزا کے نظام کے عین مطابق ہے ۔ ایسے فیصلہ جات کے خلاف NGOsیا عاصمہ جہانگیر کا واویلا بے بنیاد ہے ۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
غیر ت کے جوش میں آکر اپنی عورتوں کوقتل کر دینے کامسئلہ کوئی نیا نہیں ہے ۔ خود حضور ِاکر م ﷺ کی حیات ِطیبہ کے دوران بھی یہ مسئلہ بڑے شد ومد سے زیر بحث رہا ہے ۔ اسلام نے پاکدامن عورتوں پر بے جاالزام تراشی کرنیوالوں پر حد ِقذف جاری کرنے کا حکم دیا ۔ قذف کامسئلہ عام طو ر پر دوسری عورتوں کے لیے تھا ۔ اچانک یہ مسئلہ کھڑا ہوا کہ ایک خاوند اپنی بیوی کو کسی دوسرے شخص کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھے تواس کا کیا حکم ہے ۔ اس وقت تک آیت ِلعان ابھی نازل نہیں ہوئی تھی ۔ جیسا کہ سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒسورہ ٔنور کی آیت نمبر ۱۰کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’حد ِقَذَف کا حکم جب نازل ہو ا تو لوگوں میں یہ سوال پید ہو گیا کہ غیر مرد اورعورت کی بدچلنی دیکھ کر تو آدمی صبر کر سکتا ہے ، گواہ موجود نہ ہوں تو زبان پر قفل چڑھالے اور معاملے کو نظر انداز کر دے ۔ لیکن وہ اگر اپنی بیوی کی بد چلنی دیکھ لے تو کیا کرے ؟ قتل کر دے تو الٹا سزا کا مستوجب ہو ۔ گواہ ڈھونڈنے جائے توان کے آنے تک مجرم کب ٹھہرا رہے گا ۔ صبر کرے تو آخر کیسے کرے ۔طلاق دے کر عورت کو رخصت کر سکتا ہے ،مگر نہ اس عورت کو کسی قسم کی مادی یا اَخلاقی سزا ملی، نہ ا س کے آشنا کو ۔ اوراگر اسے ناجائز حمل ہو تو غیر کابچہ الگ گلے پڑا۔ یہ سوال ابتدائً تو حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے ایک فرضی سوال کی حیثیت میں پیش کیا اوریہاں تک کہہ دیا کہ میں اگرخدانخواستہ اپنے گھر میں یہ معاملہ دیکھوں تو گواہوں کی تلاش میں نہیں جاؤں گا بلکہ تلوار سے اسی وقت معاملہ طے کر دوں گا (بخاری ومسلم ) لیکن تھوڑی ہی مدت گزری تھی کہ بعض ایسے مقدمات عملاً پیش آگئے جن میں شوہروں نے عملاً یہ معاملہ دیکھا… ہلال بن اُمیہ نے آکراپنی بیوی کا معاملہ پیش کیا جسے انہوں نے بچشم خود ملوث دیکھا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ’’ثبوت لاؤ، ورنہ تم پر حد ِقذف جاری ہو گی ‘‘صحابہؓ میں اس پر عام پریشانی پھیل گئی ۔ اورہلال نے کہا :اس خداکی قسم جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے!میں بالکل صحیح واقعہ عرض کر رہاہوں جسے میرے آنکھوں نے دیکھا او رکانوں نے سنا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ میرے معاملے میں ایسا حکم نازل فرمائے گا جومیری پیٹھ بچا دے گا اس پر آیت ’’لِعَان ‘‘ نازل ہوئی …(بخاری ،ابوداود )‘‘
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
لِعان اسلامی شریعت میں قانونی اصطلاح ہے جس کی روشنی میں الزام لگانے والے خاوند اور الزام علیہ بیوی کو ،خدا کوگواہ بنا کر پانچ پانچ مرتبہ اپنی بات کے ثبوت میں قسمیں کھانی پڑتی ہیں ۔ اگر دونوں پانچ پانچ قسمیں کھالیں تو ان میں جدائی کرادی جاتی ہے ۔ہلال بن امیہ کی بیوی کے معاملے میں حضور ِاکرم ﷺ نے یہی طریقہ اختیا ر فرمایاتھا ۔ تفریق کے بعد وضع حمل کی صورت میں پیدا ہونے والا بچہ ماں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ۔ ہلال بن امیہ کی بیوی کے وضع حمل کے بعد دیکھا گیا کہ اسکے بچہ کی صورت اس شخص سے ملتی تھی جس کے بارے میں اس پر الزام لگایا گیا تھا ۔ اس پر حضور اکرم ؐنے فرمایا :
’’اگر قسمیں نہ ہوتیں ( یا خداکی کتاب ہی فیصلہ نہ کرچکی ہوتی ) تو میں اس عورت سے بری طرح پیش آتا۔‘‘
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
آیت ِلعان کے ضمن میں شریعت کے اصولوں پر بحث کرتے ہوئے سید ابوالاعلی مودودی ؒلکھتے ہیں:
’’ جو شخص بیوی کی بدکاری دیکھے او رلعان کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے قتل کا مرتکب ہو جائے، اس کے بارے میں اختلا ف ہے ۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ اسے قتل کیا جائے گا کیونکہ ا س کو بطور ِخود حد جاری کرنے کا اختیار نہ تھا ۔دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اسے قتل نہیں کیاجائے گا اورنہ اس کے فعل پر کوئی مؤاخذہ ہوگا بشرطیکہ ا س کی صداقت ثابت ہوجائے ۔ امام احمد ؓ اور اسحق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس اَمر کے دو گواہ لانے ہوں گے کہ قتل کا سبب یہی تھا ۔لعان سے پہلو تہی کرنے والی عورت کے بارے میں ائمہ کی رائے یہ ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے۔‘‘
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
اسلام کے نظامِ عفت وعصمت کامطالعہ کیاجائے تو اسلامی معاشرے میں غیر ت وحمیت کے معاملہ میں جذباتی ردّعمل ایک فطری بات نظر آتی ہے ۔ خاندانی آبرو کی تلافی یا تباہی کا احساس ایک غیورانسان کو اندر سے ہلا کر رکھ دیتا ہے ۔اگر چہ اس معاملہ میں بھی اسلام کی منشا او رترجیح عورتوں کے فوری قتل کی بجائے اسلام کے بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق عمل کرنا ہے ۔ لیکن جذبات کی شدت میں ہرآدمی سے صبر وتحمل کی توقع نہیں رکھی جاسکتی ۔ واقعہ ٔافک کے معاملہ میں رحمت دوعالم ﷺبھی تقریباً ایک ماہ تک شدید متاثر رہے تھے ۔جب تک کہ آیاتِ براء ت نازل نہ ہوئیں حالانکہ آپ کو ان الزامات کے غلط ہونے پر سوفیصد یقین تھا ۔ آپ نے صبر وتحمل فرمایا لیکن ایک عام مسلما ن کا رویہ بالکل وہی ہوتا ہے جس کا اظہار سعد بن عبادہ ؓ نے کیا تھا ۔پاکستان میں غیر ت کے نام پر قتل کی وارداتوں کا ایک اہم سبب شرعی حدود کے نفاذ میںکوتاہی بھی ہے ۔ جب لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ ریاستی مشینری بالکل غیر مؤثر ہے تو وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
اِن عمومی اُصولوں کے بعد سمیعہ عمران کے قتل کے واقعہ کو سامنے رکھاجائے تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ سمیعہ عمران کا قتل بلا شبہ ایک غیرقانونی فعل ہے، لیکن جس طرز ِعمل کا مظاہرہ اس نے کیا تھا، اس کا یہ منطقی نتیجہ اور فطری ردّعمل تھا۔ اخبارات میں شائع ہونے والے حقائق کے مطابق سمیعہ عمران کاگھر سے فرار ہونا خاوند کے مبینہ ظلم کی وجہ سے نہیں بلکہ خاور نامی کیپٹن سے دوستی کی وجہ سے تھا۔ وہ ایک شادی شدہ عورت تھی لیکن گمراہی میں مبتلا ہو گئی۔ ایک شادی شدہ عورت جو تین بچوں کی ماں بھی تھی اس کا گھریلو زندگی چھوڑ کراس طرح کی خرافات اور آوارگی میں مبتلا ہونا ایک عزت دار گھرانے کے لیے کس قدر ذلت آمیز تھا، وہ محتاجِ بیان نہیں ۔ سمیعہ کے والدین جب حج پر چلے گئے توپیچھے وہ اس کیپٹن کے ساتھ لاہور آگئی ۔ اخباری رپورٹ کے مطابق کیپٹن لڑکی کوروزانہ ’دَستک‘ میں آکر ملتا اور وہ کئی کئی گھنٹے اکھٹے گزارتے ۔ اسی خبر کی رنجش میں سمیعہ کے اہل خانہ نے اسے قتل کرادیا۔ دریں اثنا سمیعہ عمران کے حوالہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا والد اس سے بڑا پیا ر کرتا تھا، شادی کے بعد اس نے خود بیٹی کا گھر تعمیر کروایا اورگاڑی لے کر دی ۔ اسی طرح اپنی بیٹی کی خواہش پر اس کے والدین نے اسے LLBبھی کروایا مگر اس لاڈ پیار کے باوجود اپنے خاندان سے مخلص نہ ہونے پر اس کے والدین اپنی بیٹی کے رویہ سے عاجز آگئے۔ (نوائے وقت ،۹؍اپریل ) والدین کے اس حسن سلوک او رشفقتوں کا اس بدنصیب لڑکی نے کیاجواب دیا؟ اس طرح کی بدبخت لڑکیاں قتل ہو کر بھی اپنے بارے میں ہمدردی کے جذبات نہیں اُبھار سکتیں۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
سمیعہ عمران کا تعلق مہمند ایجنسی سے تھا ،جہاں قبائلی روایات بہت سخت ہیں ۔ قبائلی روایات کی یہ سختی جہاں معدود ے چند خواتین کے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہے وہاں بے شمار عورتوں کے لیے رحمت اور تحفظ کا ذریعہ بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں عورتوں کے خلاف زنا بالجبر ،اغوا اور آبروریزی کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ یہ غیرت وحمیت مجموعی اعتبار سے ایک مثبت قدر ہے ۔ لیکن سمیعہ عمران کے قتل کی آڑ لے کر عاصمہ جہانگیر نے اس غیر ت وحمیت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ذرائع ابلاغ میں جارحانہ تشہیری مہم کاآغاز کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے تنخواہ دار مضمون نگار مسلسل پاکستانی معاشرے سے غیر ت کے خاتمے کے لیے مضامین لکھ رہے ہیں ۔ عاصمہ جہانگیر کی منفی جدوجہد کا یہ اسلوب رہا ہے کہ وہ ایک وقت میں کسی خاص مسئلہ کوشدت سے اٹھاتی ہے۔کبھی چائلڈ لیبر کبھی نکاح میں وَلی کی رضامندی ، کبھی اسقاطِ حمل اور آجکل ’غیرت‘ کا مسئلہ ان کی جدوجہد کاخاص ہدف بنا ہوا ہے
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
(۳) نبیلہ صاحبہ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا دفاع کس سادگی سے کرتی ہیں:
’’جو عزت اورتحفظ اسلام نے عورت کو دیا ہے وہ دنیا کے کسی اورمذہب میں نہیں دیا گیا ، آزادی او رحقوق بھی عورت کو سب سے پہلے اسلام نے فراہم کیے۔ اب اگر عورتوں کے حقوق کے لیے کچھ تنظیمیں او رادارے کام کر رہے ہیں تو ان کا کام اسلامی تعلیمات اور اسلامی معاشرے کے خلاف کیسے ہوگیا ۔ ہاں البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ایسے اداروں کی سرگرمیاں پاکستانی معاشرے کی سماجی اَقدار اور ثقافتی روایات کے خلاف ضرور ہیں۔‘‘
 
Top