اسلام کے نظامِ عفت وعصمت کامطالعہ کیاجائے تو اسلامی معاشرے میں غیر ت وحمیت کے معاملہ میں جذباتی ردّعمل ایک فطری بات نظر آتی ہے ۔ خاندانی آبرو کی تلافی یا تباہی کا احساس ایک غیورانسان کو اندر سے ہلا کر رکھ دیتا ہے ۔اگر چہ اس معاملہ میں بھی اسلام کی منشا او رترجیح عورتوں کے فوری قتل کی بجائے اسلام کے بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق عمل کرنا ہے ۔ لیکن جذبات کی شدت میں ہرآدمی سے صبر وتحمل کی توقع نہیں رکھی جاسکتی ۔ واقعہ ٔافک کے معاملہ میں رحمت دوعالم ﷺبھی تقریباً ایک ماہ تک شدید متاثر رہے تھے ۔جب تک کہ آیاتِ براء ت نازل نہ ہوئیں حالانکہ آپ کو ان الزامات کے غلط ہونے پر سوفیصد یقین تھا ۔ آپ نے صبر وتحمل فرمایا لیکن ایک عام مسلما ن کا رویہ بالکل وہی ہوتا ہے جس کا اظہار سعد بن عبادہ ؓ نے کیا تھا ۔پاکستان میں غیر ت کے نام پر قتل کی وارداتوں کا ایک اہم سبب شرعی حدود کے نفاذ میںکوتاہی بھی ہے ۔ جب لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ ریاستی مشینری بالکل غیر مؤثر ہے تو وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔