• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورت کا اعتکاف گھر میں یا مسجد میں ؟؟؟

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
بسم اللہ الرحمن الرحیم

عورت کا اعتکاف گھر میں یا مسجد میں ؟؟؟


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

13445612_636953973109884_5584041041692522651_n (1).jpg
 
Last edited:
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
مسجد میں عورت کا اعتکاف کرنا

کیا عورت رمضان کا آخری عشرہ مسجد میں اعتکاف کرسکتی ہے ؟

Published Date: 2009-09-10

الحمد للہ :

جی ہاں عورت کے لیے رمضان کا آخری عشرہ مسجد میں اعتکاف کرنا جائز ہے ۔

بلکہ مرد اورعورت کےلیے مسجد میں ہی اعتکاف کرنا سنت ہے ، امہات المؤمنین بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں ہی اعتکاف کیا کرتی تھیں اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی مسجد میں ہی اعتکاف کیا کرتی تھیں ۔

اس کی دلیل مندرجہ ذيل حدیث ہے جسے امام بخاری اورامام مسلم رحمہ اللہ تعالی نے اپنی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے ۔

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگي کے آخر تک رمضان المبارک کے مکمل آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے رہے ، پھر ان کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی اعتکاف کرتی رہیں ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2026 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1172 )

صاحب عون المعبود کہتے ہیں :

اس حدیث میں دلیل ہے کہ اعتکاف کے بارہ میں عورتیں بھی مردوں ہی کی طرح ہے ان کا حکم بھی وہی ہے ۔ ا ھـ

شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

مردوں اورعورتوں کےلیے اعتکاف کرنا سنت ہے ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندگي کے آخر تک رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے ، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج مطہرات آپ کے ساتھ اعتکاف کرتی تھیں ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں ۔

اعتکاف کی جگہ وہ مسجد ہے جہاں نماز باجماعت کا اہتمام ہوتا ہو ۔ اھ ۔ یہ اقتاس الشيح ابن باز ویب سائٹ سے لیا گيا ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب

https://islamqa.info/ur/37698
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
عورت کا اپنے گھر میں اعتکاف کرنا صحیح نہیں

کیا عورت کے لیے اپنے گھر میں اعتکاف کرنا جائز ہے ، اور کھانا پکانے کے لیے اسے کیا کرنا ہوگا ؟

Published Date: 2003-11-07

الحمد للہ :

مسجد کےعلاوہ کہیں بھی اعتکاف کرنا صحیح نہيں کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ جب تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں ہو تو عورتوں سے مباشرت نہ کرو } البقرۃ ( 187 ) ۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی نے مغنی میں کہا ہے :

عورت کے لیے ہر مسجد میں اعتکاف کرنا جائز ہے ، اس مسجد میں نماز باجماعت نماز کی شرط نہيں ، کیونکہ اس پر نماز باجماعت واجب نہيں ، امام شافعی رحمہ اللہ تعالی کا مسلک یہی ہے ۔

دیکھیں المغنی لابن قدامہ المقدسی ( 4 / 464 ) ۔

عورت کے لیے گھرمیں اعتکاف کرنا جا‏ئزنہيں کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ مسجدمیں اعتکاف کرنے کی حالت میں } ۔

اوراس لیے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسجد میں اعتکاف کرنے کی اجازت طلب کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ۔ ا ھـ

امام نووی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب " المجموع " میں کہا ہے :

مرد اورعورت کے لیے مسجد کے علاوہ کہیں اوراعتکاف کرنا صحیح نہيں ۔ اھـ

دیکھیں : المجموع للنووی ( 6 / 480 ) ۔

اورشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی نے بھی الشرح الممتع میں یہی قول اختیار کیا ہے ۔ دیکھیں الشرح الممتع ( 6 / 513 ) ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب

https://islamqa.info/ur/37911
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
مسجد کے علاوہ کہیں بھی عورت اورمرد کااعتکاف صحیح نہیں

کیا عورت گھر میں اعتکاف کرسکتی ہے ؟

Published Date: 2009-09-15

الحمد للہ :

علماء کرام اس پرمتفق ہیں کہ مرد کا مسجد کے علاوہ کہیں اوراعتکاف صحیح نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اورتم عورتوں سے اس وقت مباشرت نہ کرو جب تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں ہو } البقرۃ ( 187 ) ۔

مندرجہ بالاآیت میں اعتکاف کومسجد کےساتھ خاص کیا گیا ہے لھذا یہ ثابت ہوا کہ مسجد کے علاوہ کہیں بھی اعتکاف کرنا صحیح نہيں ہوگا ۔

دیکھیں المغنی لابن قدامہ ( 4 / 461 ) ۔

عورت کے بارہ میں جمہورعلماء کرام کا کہنا ہے مرد کی طرح عورت کا اعتکاف بھی مسجد کے علاوہ کسی جگہ صحیح نہیں ، جس کی دلیل بھی مندرجہ بالا آیت ہے :

{ اورعورتوں سے اس وقت مباشرت نہ کرو جب تم مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ہو } البقرۃ ( 187 ) ۔

اوراس لیے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسجدمیں اعتکاف کرنے کی اجازت طلب کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہيں اجازت دے دی ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی وہ مسجد میں ہی اعتکاف کیا کرتی تھیں ۔

اوراگر عورت کا اپنے گھر میں اعتکاف کرنا جائز ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی راہنمائي فرماتے کیونکہ مسجدمیں جانے سے اس کے اپنے گھرمیں پردہ زيادہ ہے ، اس کے باوجود آپ نے مسجد میں ہی اعتکاف کی اجازت دی ۔

بعض علماء کرام کا کہنا ہے کہ : عورت گھرمیں اپنی نماز والی جگہ پر اعتکاف کرسکتی ہے ، لیکن جمہور علماء کرام نے ایسا کرنے سے منع کرتےہوئے کہا ہے :

اس کے گھرمیں نماز والی جگہ کو مسجد نہيں کہا جاسکتا صرف مجازی طورپر اسے مسجد کا نام دیا جاسکتا اورحقیقتا وہ مسجد کانام حاصل نہیں کرسکتی اس لیے اس کے احکام بھی مسجد والے نہیں ہونگے ، اسی لیے وہاں یعنی گھرمیں نماز والی جگہ پر جنبی اورحائضہ عورت داخل ہوسکتی ہے ۔

دیکھیں المغنی لابن قدامہ المقدسی ( 4 / 464 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب " المجموع " میں کہتے ہيں :

عورت اورمرد کا مسجد کے بغیر اعتکاف صحیح نہیں ، نہ توعورت کا گھرکی مسجد میں اورنہ ہی مرد کا اپنی گھرمیں نمازوالی جگہ پر اعتکاف کرنا صحیح ہے ، یعنی اس جگہ جو گھر کے ایک کونے میں نماز کے لیے تیار کی گئي ہو اسے گھرکی مسجد کہا جاتا ہے ۔

دیکھیں المجموع ( 6 / 505 ) ۔

شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ ذيل سوال پوچھا گيا :

اگرعورت اعتکاف کرنا چاہے تو وہ کس جگہ اعتکاف کرے گی ؟

توشيخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

جب کوئي عورت اعتکاف کرنا چاہے تو اگر اس میں کوئي شرعی محذور نہ پایاجائے تووہ مسجد میں اعتکاف کرے گی ، اوراگراس میں کوئي شرعی محذور ہوتو پھر عورت اعتکاف نہیں کرے گی ۔ ا ھـ

دیکھیں مجموع الفتاوی ابن ‏عثيمین رحمہ اللہ تعالی ( 20 / 264 )

اورالموسوعیۃ الفقھیۃ میں ہے کہ :

عورت کے اعتکاف کی جگہ میں اختلاف ہے ، جمہورعلماء کرام اسے مرد کی طرح قرار دیتے اور کہتے ہیں کہ مسجد کے علاوہ کہیں بھی عورت کا اعتکاف صحیح نہیں ، تواس بنا پر عورت کا اپنے گھرمیں اعتکاف کرنا صحیح نہیں ، اس کی دلیل مندرجہ ذيل حدیث میں ہے :

ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے جب عورت کا اپنے گھرکی مسجدمیں اعتکاف کے بارہ میں سوال کیا گيا تووہ کہنے لگے :

گھرمیں عورت کا اعتکاف کرنا بدعت ہے ، اوراللہ تعالی کے ہاں مبغوض ترین اعمال بدعات ہیں ، اس لیے نماز باجماعت والی مسجد کےعلاوہ کہیں بھی اعتکاف صحیح نہیں ، اس لیے کہ گھرمیں نمازوالی جگہ نہ تو حقیقتا مسجد ہے اورنہ ہی حکما اس کا بدلنا اور اس میں جنبی شخص کا سونا بھی جائز ہے ، اوراگر یہ جائز ہوتا تو سب سے پہلے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن اس پر عمل پیرا ہوتیں ، اس کے جواز کے لیے اگرچہ وہ ایک بارہی عمل کرتیں ۔ا ھـ

دیکھیں الموسوعۃ الفقھیۃ ( 5 / 212 ) ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب

https://islamqa.info/ur/50025
 

محمد عارف

مبتدی
شمولیت
مئی 23، 2016
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
9
Another point of view
Which one is correct?
عورت کا اعتکاف

مولانامقصود احمد

رمضان المبارک تمام مہینوں کا سردار مہینہ ہے اسی وجہ سے اس میں کچھ ایسی زائدعبادتیں بھی آئیں جن سے دوسرے مہینے خالی ہیں۔ مثلاً :قرآن پاک کا نزول، رمضان میں بیس تراویح کا اہتمام،تلاوت، قرآن ،سحری وافطاری نفل کا اجر فرض کے برابر ایک فرض ستر فرائض کے برابر، جنت کے دروازوں کا کھلنا ،جہنم کے دروازوں کا بند ہونا، شیاطین کا قید ہونا وغیرہ ا س میںاللہ رب العزت نے کاخاص اپنی رحمت کو خلقت میں بانٹنا جس کی وجہ سے لو گ آپس میں ہمدردی اورغم خواری کرتے ہیں اس ماہ مبارک میں صفت غفوریت کا بھی ظہور ہوتاہے کہ روزانہ ایک جم غفیر کے لیے جہنم سے چھٹکارے کا پروانہ لکھ دیا جاتا ہے۔

خیر! اس مہینہ کی کس کس عبادت عظیمہ کا تذکرہ کیاجائے اس مبارک مہینے میں کئی عبادتیں ایسی ہیںکہ جن میں تلاش محبوب یعنی اللہ تعالی کے لیے ورافتگی عشق میں بھوک وپیاس سے بے نیاز ہوکرمحبت سے سرشار ادائیںقابل دید ہوتی ہیں۔انہی میں سے ایک اہم عبادت اعتکاف ہے ۔

اعتکاف: ’’روزہ دا ر کاتمام مشاغل دنیا سے خالی ہوکر اپنے اللہ کے حضور سپرد کرکے اعتکاف کی نیت کے ساتھ مسجد میں بیٹھنے کو۔‘‘ رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کرنا سنت موکدۃ علی الکفایۃ ہے۔

یعنی محلے والوں میں سے اگر کچھ نے کر لیاتو تمام سے ساقط ہوجائے گا اگر کسی نے بھی نہ کیا تو تمام کے تمام گناہ گار ہوں گے کیونکہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضورeرمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف بڑے اہتمام اور پابندی کے ساتھ کیاکرتے تھے۔

فضیلت اعتکاف: ترجمان القرآن،صحابی رسول e حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور eنے اعتکاف کرنے والے کی فضیلت کے بارے میں فرمایا کہ اس کے گناہ روک دیے جاتے ہیں اور تمام نیکیاں(یعنی تمام اچھے کام جن کو وہ اعتکاف کی وجہ سے نہیں کر سکتاان کا اجر)نیکی کرنے والے کی طرح جاری کردیا جاتا ہے ۔

اسی لیے تو امی عائشہ ؓ فرماتی ہیں اعتکاف کرنے والے پر نہ مریض کی عیادت ہے اورنہ نماز جنازہ وغیر ہ پڑھنا سنت ہے ۔ اعتکاف کاوقت: جوآدمی اعتکاف کرنا چاہے تو وہ بیس رمضان المبارک کے دن نماز عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے سے پہلے اپنی اعتکاف کی جگہ میں بیٹھ جائے اور انتیس یا تیس رمضان کو(یعنی عید کا چاند دیکھنے کے بعد)بعد از مغرب اعتکاف سے نکلے اور دوران اعتکاف آدمی بغیر کسی شرعی ضرورت کے(مثلا قضائے حاجت وغیرہ)اعتکاف کی جگہ سے نہ نکلے۔

اعتکاف کہاں کرے ؟ مرد کے لیے اپنے محلے کی مسجد میں اعتکاف کرنا اور عورت کے لیے اپنے گھر کی مخصوص جگہ میں ہی اعتکاف کرنا افضل ہے اور عورت کا گھر میںاعتکاف کرنا یہی حنفیہ کا مذہب ہے عقل انسانی کا تقاضا بھی یہ کہ جب عورت کے لیے نما زگھر میں پڑھنا افضل ہے تو پھر اعتکاف بھی گھر میں ہی کرنا افضل ہوگا۔

عورت کی مسجد: مذکورہ بالاحوالہ جات سے معلوم ہواکہ مرد کا مسجد اور عورت کا اپنے گھر میں اعتکاف کرنا افضل ہے اور عورت کے نماز پڑھنے کی مخصوص جگہ کو حضور e نے بھی مسجد ہی قرار دیا ہے دیکھئے حضرت ام المومنین ام سلمہؓ نے نبی علیہ السلام سے نقل کیاہے کہ عورتوں کی بہترین مسجدیں ان کے اپنے گھروں کے تہہ خانے ہیں۔

اسی طرح ام حمید الساعدیۃ ؓنے نبی علیہ السلام کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنے کی درخواست کی تو حضور eنے فرمایا : ’’ اگر تو میرے ساتھ نماز پڑھنے کی کو پسند کرتی ہے تو پھر تیرا اپنے گھر میں نمازپڑھنا افضل ہے اور اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا یہ میری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔‘‘ یہ سن کرحضرت ام حمید ؓ نے اپنے گھر والوں کو گھر میں مسجد بنانے کا حکم دیا تو ان کیلئے گھر کے ایک کونے میں مسجد تیار کی گئی اور آپ آخر دم تک اسی مسجد میں ہی نماز پڑھتی رہیں(نہ کہ مسجد نبوی میں)

ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ عورت کی مسجد اس کا گھر (مخصوص جگہ) ہے تو اللہ رب العزت نے بھی مسجد میں اعتکاف کرنے کا ذکر فرمایا وانتم عاکفون فی المساجد اسی وجہ سے مرد مسجد عرفی میں اور عورت اپنے گھر والی مسجد میں ہی اعتکاف کرے لیکن آج کے اس دور میں عورتوں کو اصل تعلیمات اسلامیہ سے ہٹاکرنام نہاد اسلام کے ’’شیوخ ‘‘نے عورتوں کو مردوں کی ہم نشینی میں کھلے آسمان تلے اعتکاف کروا کے مزید اس بدعت اور اخلاق باختگی کو فروغ دیا اور اپنے اس عمل یعنی مسجد میں عورت کے اعتکاف کوقرآن وحدیث سے ثابت کرنے کی ناکام وبے فائدہ کوشش کی ہے ۔مثلاً: قرآن میں ہے وانتم عاکفون فی المساجد(البقرہ)

تم مسجدوں میں بیٹھنے والے ہو،اس سے یہ سمجھا کہ مرد وعورت مسجد میں ہی اعتکاف کریں جب کہ ہم نے مندرجہ بالا سطور میں مرد اور عورت کی الگ الگ مسجدکو دلائل کی روشنی سے ثابت کردیاکہ حضور e نے عورت کے گھر کو ہی عورت کی مسجد بتلایا ہے مزید برآں اسی آیت کے ذیل میں مفسرِقرآن ابوبکر الجصاصؒ (وفات ۳۷۰؁ھ) نے فرمایا ہے کہ مسجد میں اعتکاف کرنے کا حکم فقط مردوں کیلئے ہے نہ کہ عورتوں کے لیے۔ احادیث رسول e میں بھی کسی عورت کا عملاً مسجد میںاعتکاف کرنا یا پیغمبر e کا حکم دیناکہ عورت مسجد میں اعتکاف کرے کسی صحیح ،صریح حدیث سے ثابت نہیںہے ۔

وساوس وشبہات : لیکن اس کے باوجو د عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لیے بخاری ج۱ص۲۷۱،۲۷۳سے دو حدیثیں دکھاتے ہیں کہ (۱)حضور کے بعد آپ کی گھر والیوں نے اعتکاف کیا(۲)حضرات امہات المومنین نے مسجد نبوی میں اعتکاف کے لیے خیمے لگائے۔

کاش!!! یہ لوگ ضداور تعصب سے بالا تر ہو کر حدیث کو پڑھیں توبات بہت آسان ہے حدیث میں ہے حضور eہر رمضان میں مسجد نبوی میں مخصوص جگہ بنا کر اعتکاف کرتے تو حضرت عائشہؓ نے بھی اجازت لی تو حضورe نے اعتکاف کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ انہوںنے بھی اپنا خیمہ لگایا پھر ان کی دیکھا دیکھی حضرت حفصہ ؓ ،حضرت زینب ؓ نے بھی اپنا اپناخیمہ لگا لیا ۔ آپ e نے جب مسجدمیںخیمے دیکھے تو تعجباً سوال کیایہ کیوں لگائے گئے ہیں؟ اور کس چیز نے ان(یعنی ازواج مطہراتؓ)کواس نیکی(یعنی مسجد نبوی میں اعتکاف)پر اُبھارا ہے اور دوسری روایت میں ہے کہ یہ خیمے لگا کر اعتکاف کو تم نیکی سمجھتی ہو؟اس کے بعد حضور eنے ان خیموں کے اکھاڑنے کا حکم ارشاد فرمایا۔تو مسجد نبوی سے ازواج مطہرات کے خیمے (دوران اعتکاف ہی) اکھاڑ دیے گئے اور اس ناراضگی کی وجہ سے حضور eنے اپنا اعتکاف بھی توڑ دیا پھر شوال میں اس قضا ء فرمائی ۔

محترم قارئین!

اگر عورت کے لیے بھی اعتکاف مسجد میں کرنا ضروری ہوتا تو اجازت کے باوجود حضورeنے اپنے اہل بیت کو مسجد میںاعتکاف کیوں نہ کرنے دیا؟اور خیمے لگ جانے کے بعد اکھاڑنے کاحکم کیوں دیا ؟اور اس نیکی پر ان کو کس نے اُبھارا ہے؟ اپنے اہل بیت کو عتاب کیوں فرمایا؟اور اپنے اعتکاف کو بھی آخر ختم کیوں کردیا؟اتنی عام فہم حدیث کے باوجو دبھی عورتوں کو مسجد میں اعتکاف کی دعوت دینا یہ ا طاعت مصطفیeنہیں بلکہ صرف اور صرف نفسانی خواہشات کی اتباع ہے اور حضورeکے عمل کی خلاف ورزی ہے ۔

علامہ ابن حجر ؒشارح بخاری حضرت ابراھیم بن علیۃؒ کا قول نقل کرتے ہیں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کے لیے مسجد میں اعتکاف کرنا ضروری نہیںاور مزید لکھتے ہیں:’’ عورت کے لیے افضل بات یہ ہے کہ مسجد میں اعتکاف نہ کرے اور امام شافعیؒ کے ہاں عورت کا مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہ ہے ۔





Sent from my ZUK Z1 using Tapatalk
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,408
ری ایکشن اسکور
1,103
پوائنٹ
412
اور عورت کے لیے اپنے گھر کی مخصوص جگہ میں ہی اعتکاف کرنا افضل ہے اور عورت کا گھر میںاعتکاف کرنا یہی حنفیہ کا مذہب ہے عقل انسانی کا تقاضا بھی یہ کہ جب عورت کے لیے نما زگھر میں پڑھنا افضل ہے تو پھر اعتکاف بھی گھر میں ہی کرنا افضل ہوگا۔
اس افضلیت کی دلیل نقل فرما کر شکریہ کا موقع دیں
اور اسکو نماز پر قیاس نہ کریں. دلیل ہو تو دعوی کریں.
عقل انسانی بہت کچھ تقاضہ کرتی ہے. عقل کے پیچھے نہ چلیں حدیث کے پیچھے چلیں. اور حدیث میں عورتوں کے مسجد میں اعتکاف کا بیان ہے. کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذباللہ سوجھ بوجھ نہیں تھی جو ایسی بات کہ دی؟؟؟
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ عورت کی مسجد اس کا گھر (مخصوص جگہ) ہے تو اللہ رب العزت نے بھی مسجد میں اعتکاف کرنے کا ذکر فرمایا وانتم عاکفون فی المساجد اسی وجہ سے مرد مسجد عرفی میں اور عورت اپنے گھر والی مسجد میں ہی اعتکاف کرے
کیا خوب فرمایا جناب نے. یہ کونسا قیاس ہوا محترم؟؟؟.دلیل ہوتے ہوۓ عقلی گھوڑے دوڑانا؟؟؟
دلیل ہوتے ہوۓ قیاس کرنا درست نہیں.
لیکن آج کے اس دور میں عورتوں کو اصل تعلیمات اسلامیہ سے ہٹاکرنام نہاد اسلام کے ’’شیوخ ‘‘نے عورتوں کو مردوں کی ہم نشینی میں کھلے آسمان تلے اعتکاف کروا کے مزید اس بدعت اور اخلاق باختگی کو فروغ دیا اور اپنے اس عمل یعنی مسجد میں عورت کے اعتکاف کوقرآن وحدیث سے ثابت کرنے کی ناکام وبے فائدہ کوشش کی ہے ۔مثلاً: قرآن میں ہے وانتم عاکفون فی المساجد(البقرہ)
استغفراللہ!
کیا سب ایسے ہی ہیں؟؟؟
قرآن وحدیث سے ثابت امر کو بدعت کا نام دیتے ہوۓ دل نہیں کانپتا؟؟؟
گھر میں اعتکاف کرنے پر کوئ نص نہیں تو وہ افضل ہے اور جس پر دلیل وہ بدعت؟؟؟ فتدبر
کاش!!! یہ لوگ ضداور تعصب سے بالا تر ہو کر حدیث کو پڑھیں توبات بہت آسان ہے حدیث میں ہے حضور eہر رمضان میں مسجد نبوی میں مخصوص جگہ بنا کر اعتکاف کرتے تو حضرت عائشہؓ نے بھی اجازت لی تو حضورe نے اعتکاف کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ انہوںنے بھی اپنا خیمہ لگایا پھر ان کی دیکھا دیکھی حضرت حفصہ ؓ ،حضرت زینب ؓ نے بھی اپنا اپناخیمہ لگا لیا ۔ آپ e نے جب مسجدمیںخیمے دیکھے تو تعجباً سوال کیایہ کیوں لگائے گئے ہیں؟ اور کس چیز نے ان(یعنی ازواج مطہراتؓ)کواس نیکی(یعنی مسجد نبوی میں اعتکاف)پر اُبھارا ہے اور دوسری روایت میں ہے کہ یہ خیمے لگا کر اعتکاف کو تم نیکی سمجھتی ہو؟اس کے بعد حضور eنے ان خیموں کے اکھاڑنے کا حکم ارشاد فرمایا۔تو مسجد نبوی سے ازواج مطہرات کے خیمے (دوران اعتکاف ہی) اکھاڑ دیے گئے اور اس ناراضگی کی وجہ سے حضور eنے اپنا اعتکاف بھی توڑ دیا پھر شوال میں اس قضا ء فرمائی ۔
کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسجد میں اعتکاف عورتوں کا بدعت ہے؟؟؟
اس میں تو صاف دلیل ہے کہ عورتیں مسجد میں ہی اعتکاف کریں.... افلا تعقلون؟؟؟
اگر عورت کے لیے بھی اعتکاف مسجد میں کرنا ضروری ہوتا تو اجازت کے باوجود حضورeنے اپنے اہل بیت کو مسجد میںاعتکاف کیوں نہ کرنے دیا؟اور خیمے لگ جانے کے بعد اکھاڑنے کاحکم کیوں دیا ؟
حدیث پڑھیں سمجھ جائیں گے. بشرطیکہ تعصب کو پرے رکھ دیں.
 

محمد عارف

مبتدی
شمولیت
مئی 23، 2016
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
9
محترم عمر صاحب میں نے تو ایک دوسرا پوائنٹ آف ویو رکھا تھا اور علماء کی رائے مانگی تھی.... آپ نے مجھ پر ھی گھوڑے دوڑا دیے. کیا علمی جواب ایسے دیا جاتا ھے. شکر ھے آپ نے میرے بارے میں کوئی فتوی نہیں لگایا

Sent from my ZUK Z1 using Tapatalk
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,408
ری ایکشن اسکور
1,103
پوائنٹ
412
محترم عمر صاحب میں نے تو ایک دوسرا پوائنٹ آف ویو رکھا تھا اور علماء کی رائے مانگی تھی...
ابتسامہ.....
پیارے بھائ یہ صاحب تحریر سے مخاطب تھا.
کوئ بات بری لگی ہو تو معافی چاہتا ہوں. ایک طالب علم ہوں بس. اس لۓ علم کم ہے. براہ کرم معاف فرما دیں.
آپ نے مجھ پر ھی گھوڑے دوڑا دیے. کیا علمی جواب ایسے دیا جاتا ھے. شکر ھے آپ نے میرے بارے میں کوئی فتوی نہیں لگایا
آپ اسکو اپنے اوپر نہ لیں. صاحب تحریر کے اوپر لیں
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,662
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
محترم عمر صاحب میں نے تو ایک دوسرا پوائنٹ آف ویو رکھا تھا اور علماء کی رائے مانگی تھی.... آپ نے مجھ پر ھی گھوڑے دوڑا دیے. کیا علمی جواب ایسے دیا جاتا ھے. شکر ھے آپ نے میرے بارے میں کوئی فتوی نہیں لگایا

Sent from my ZUK Z1 using Tapatalk
طہ بهائی تحریر پر رائے تو آپ نے ہی مانگی تهی !
 

محمد عارف

مبتدی
شمولیت
مئی 23، 2016
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
9
پیارے بھائی عمر کوئی بات بری نہیں لگی. کوئی کیسی بھی تحریر لکھے ھم نے اپنے پیارے نبی صل اللہ علیہ و سلم کے طریقے کو نہیں چھوڑنا

Sent from my ZUK Z1 using Tapatalk
 
Top