• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورت کا اعتکاف گھر میں یا مسجد میں ؟؟؟

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,381
ری ایکشن اسکور
2,696
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اعتکاف کہاں کرے ؟ مرد کے لیے اپنے محلے کی مسجد میں اعتکاف کرنا اور عورت کے لیے اپنے گھر کی مخصوص جگہ میں ہی اعتکاف کرنا افضل ہے اور عورت کا گھر میںاعتکاف کرنا یہی حنفیہ کا مذہب ہے عقل انسانی کا تقاضا بھی یہ کہ جب عورت کے لیے نما زگھر میں پڑھنا افضل ہے تو پھر اعتکاف بھی گھر میں ہی کرنا افضل ہوگا۔
یہ دوسرا نکتہ نظر صرف عقل کے اٹکل پچو اور علم حدیث سے یتیم و مسکین ہونے کی بنا پر ہے۔
اگر عورت کے لیے بھی اعتکاف مسجد میں کرنا ضروری ہوتا تو اجازت کے باوجود حضورeنے اپنے اہل بیت کو مسجد میںاعتکاف کیوں نہ کرنے دیا؟اور خیمے لگ جانے کے بعد اکھاڑنے کاحکم کیوں دیا ؟اور اس نیکی پر ان کو کس نے اُبھارا ہے؟ اپنے اہل بیت کو عتاب کیوں فرمایا؟اور اپنے اعتکاف کو بھی آخر ختم کیوں کردیا؟اتنی عام فہم حدیث کے باوجو دبھی عورتوں کو مسجد میں اعتکاف کی دعوت دینا یہ ا طاعت مصطفیeنہیں بلکہ صرف اور صرف نفسانی خواہشات کی اتباع ہے اور حضورeکے عمل کی خلاف ورزی ہے ۔
اب علم الحدیث سے جہالت کا یہ عالم ہو اور معلوم ہی نہ ہو کہ ام المومنین نے مسجد میں اعتکاف کیا ہے نہ کہ گھر میں، گو کہ اس واقعہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ اٹھوا دیئے تھے۔ تو انسان اس جہالت کا کیا کرے!
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی مخالفت یہ خود کریں، خواہ اپنی جہالت میں یا خواہ اپنی عقل پرستی میں اور الزام دوسروں کو دینا!

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ , ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ , ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ التُّبَّعِيُّ , ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ , ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ , ثُمَّ اعْتَكَفَهُنَّ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ , وَأَنَّ السُّنَّةَ لِلْمُعْتَكِفِ أَنْ لا يَخْرُجَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ , وَلا يَتْبَعُ جِنَازَةً , وَلا يَعُودُ مَرِيضًا , وَلا يَمَسُّ امْرَأَةً , وَلا يُبَاشِرُهَا , وَلا اعْتِكَافَ إِلا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ , وَيَأْمُرُ مَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ " . يُقَالُ : إِنَّ قَوْلَهُ : وَأَنَّ السُّنَّةَ لِلْمُعْتَكِفِ إِلَى آخِرِهِ , لَيْسَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَّهُ مِنْ كَلامِ الزُّهْرِيِّ وَمَنْ أَدْرَجَهُ فِي الْحَدِيثِ فَقَدْ وَهِمَ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ , وَهِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ لَمْ يَذْكُرْهُ .
ملاحظہ فرمائیں: سنن الدارقطني » كِتَابُ الصِّيَامِ » بَابُ الاعْتِكَافِ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنِ الاعْتِكَافِ وَكَيْفَ سُنَّتِهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُمَا , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ , ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ , وَأَنَّ السُّنَّةَ فِي الْمُعْتَكِفِ أَنْ لا يَخْرُجَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ , وَلا يَتْبَعُ جِنَازَةً , وَلا يَعُودُ مَرِيضًا , وَلا يَمَسُّ امْرَأَةً , وَلا يُبَاشِرُهَا , وَلا اعْتِكَافَ إِلا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ , وَسُنَّةُ مَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ " .
ملاحظہ فرمائیں: سنن الدارقطني » كِتَابُ الصِّيَامِ » بَابُ الاعْتِكَافِ
اس دوسرے نکتہ نظر کے بطلان کے لئے اتنا ہی کافی ہے!
 
Last edited:

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,381
ری ایکشن اسکور
2,696
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے او ران سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک برابر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں۔
ملاحظہ فرمائیں: صحيح البخاري » كِتَابُ الِاعْتِكَافِ » بَابُ الِاعْتِكَافِ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالِاعْتِكَافِ فِي المَسَاجِدِ كُلِّهَا


وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ»

زہری نے عروہ کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کےآخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد(آخری عشرے میں ) اعتکاف کرتی رہیں۔
ملاحظہ فرمائیں: صحيح مسلم » كِتَابُ الِاعْتِكَافِ » بَابُ اعْتِكَافِ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ


حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ , ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ , ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ التُّبَّعِيُّ , ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ , ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ , ثُمَّ اعْتَكَفَهُنَّ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ , وَأَنَّ السُّنَّةَ لِلْمُعْتَكِفِ أَنْ لا يَخْرُجَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ , وَلا يَتْبَعُ جِنَازَةً , وَلا يَعُودُ مَرِيضًا , وَلا يَمَسُّ امْرَأَةً , وَلا يُبَاشِرُهَا , وَلا اعْتِكَافَ إِلا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ , وَيَأْمُرُ مَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ " .
يُقَالُ : إِنَّ قَوْلَهُ : وَأَنَّ السُّنَّةَ لِلْمُعْتَكِفِ إِلَى آخِرِهِ , لَيْسَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَّهُ مِنْ كَلامِ الزُّهْرِيِّ وَمَنْ أَدْرَجَهُ فِي الْحَدِيثِ فَقَدْ وَهِمَ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ , وَهِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ لَمْ يَذْكُرْهُ .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات سے ہمکنار کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کے بعد آپ کی ازاوج نے ان ہی دنوں میں اعتکاف کیا۔ اعتکاف کرنے والے لے لئے مسنون احکام یہ ہیں کہ وہ انسانی ضرورت کے علاوہ مسجد سے باہر نہنکلے، نہ وہ جنازے میں شریک ہو، نہ مریض کی عیادت کرنے، نہ عورت (بیوی) کو چھوئے اور نہ اس سے مباشرت کرے۔ اعتکاف صرف جامع مسجد میں ہی ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے کہ جو اعتکاف کرے وہ روزہ بھی رکھے۔
ایک قول کے مطابق: اعتکاف کرنے والے کے لئے مسنون احکام یہ ہیں ۔۔۔۔ سے لے کر آکر تک کی تمام باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا حصہ نہیں بلکہ امام زہری رحمہ اللہ کی باتیں ہیں، اور جس نے اسے حدیث میں شامل کردیا اس سے یقیناً غلطی ہوئی ہے۔ واللہ اعلم۔ ہشام بن سلیمان نے اس کو بیان نہیں کیا۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 256 جلد 02 سنن الدارقطني مع ترجمه اردو » كِتَابُ الصِّيَامِ » بَابُ الاعْتِكَافِ – ادارہ اسلامیات لاہور

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنِ الاعْتِكَافِ وَكَيْفَ سُنَّتِهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُمَا , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ , ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ , وَأَنَّ السُّنَّةَ فِي الْمُعْتَكِفِ أَنْ لا يَخْرُجَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ , وَلا يَتْبَعُ جِنَازَةً , وَلا يَعُودُ مَرِيضًا , وَلا يَمَسُّ امْرَأَةً , وَلا يُبَاشِرُهَا , وَلا اعْتِكَافَ إِلا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ , وَسُنَّةُ مَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ رمضان کے آکری دس دنوں کا اعتکاف کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آ پ کی ازواج نے اعتکاف کیا۔ اعتکاف کرنے والے کے لئے سنت یہ ہے کہ وہ انسانی ضرورت کے علاوہ مسجد سے باہر نہ نکلے، نہ وہ جنازے میں شریک ہو، نہ مریض کی عیادت کرے، نہ عورت (بیوی) کو شھوئے اور نہ اس سے مباشرت کرے۔ اعتکاف صرف جامع مسجد میں ہی ہوتا ہے اور سنت یہ ہے کہ جو اعتکاف کرے وہ روزے بھی رکھے۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 257 جلد 02 سنن الدارقطني مع ترجمه اردو » كِتَابُ الصِّيَامِ » بَابُ الاعْتِكَافِ – ادارہ اسلامیات لاہور
 
Last edited:
شمولیت
جولائی 20، 2016
پیغامات
116
ری ایکشن اسکور
28
پوائنٹ
56
یہ جواب مفتی مبشر احمد ربانی صاحب نے دیا ہے۔
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ”مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ“۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ازواج مطہرات کے علاوہ کسی صحابیہ نے اعتکاف نہیں کیا اور نہ ہی خلفاء راشدین کے دور کی کوئی مثال ملتی ہے۔
لہٰذا خواتین کے لئے یا تو اعتکاف مشروع ہی نہیں اگر ہے تو وہ اپنے گھروں میں ہی اعتکاف کریں۔ فرض نماز خواتین کے لئے گھر میں پڑھنا مشروع ہے تو ایک سنت بدرجہ اولیٰ گھر میں مشروع ہوگی۔
 
شمولیت
جولائی 20، 2016
پیغامات
116
ری ایکشن اسکور
28
پوائنٹ
56
عورت کا گھر میں اعتکاف کرنا غیر مشروع ہے اور مسجد میں اعتکاف کتاب و سنت کے عین مطابق ہے ۔قرآن پاک میں اللہ نے اعتکاف کو مسا جد سے معلق کیا ہے
وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ البقرہ 187
اور ازواج مطهرات كا اعتكاف بھی مسجد میں ہوتا تھا ۔
 
شمولیت
جولائی 20، 2016
پیغامات
116
ری ایکشن اسکور
28
پوائنٹ
56
عورت کا اعتکاف مشروع نھیں اگرہے تو گھر میں ہی اعتکاف کریں کتاب و سنت سے اسکی دلیل بتادیں ۔
 
Top