• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورت کا اعتکاف گھر میں یا مسجد میں ؟؟؟

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,408
ری ایکشن اسکور
1,103
پوائنٹ
412
حوالہ بمع عربی متن فراہم کردیں شکریہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے او ران سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک برابر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں۔
ملاحظہ فرمائیں: صحيح البخاري » كِتَابُ الِاعْتِكَافِ » بَابُ الِاعْتِكَافِ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالِاعْتِكَافِ فِي المَسَاجِدِ كُلِّهَا
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ»
زہری نے عروہ کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کےآخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد(آخری عشرے میں ) اعتکاف کرتی رہیں۔
ملاحظہ فرمائیں: صحيح مسلم » كِتَابُ الِاعْتِكَافِ » بَابُ اعْتِكَافِ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,408
ری ایکشن اسکور
1,103
پوائنٹ
412
حوالہ بمع عربی متن فراہم کردیں شکریہ
علامہ نووی ؒ (أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي (المتوفى: 676هـ)

شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں :
وَفِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ أَنَّ الِاعْتِكَافَ لَا يَصِحُّ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجَهُ وَأَصْحَابَهُ إِنَّمَا اعْتَكَفُوا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ الْمَشَقَّةِ فِي مُلَازَمَتِهِ فَلَوْ جَازَ فِي الْبَيْتِ لفعلوه ولو مرة لاسيما النِّسَاءُ لِأَنَّ حَاجَتَهُنَّ إِلَيْهِ فِي الْبُيُوتِ أَكْثَرُ وَهَذَا الَّذِي ذَكَرْنَاهُ مِنَ اخْتِصَاصِهِ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَّهُ لَا يَصِحُّ فِي غَيْرِهِ هُوَ مَذْهَبُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَدَاوُدَ وَالْجُمْهُورِ سَوَاءٌ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ يَصِحُّ اعْتِكَافُ الْمَرْأَةِ فِي مَسْجِدِ بَيْتِهَا وَهُوَ الْمَوْضِعُ الْمُهَيَّأُ مِنْ بَيْتِهَا لِصَلَاتِهَا ‘‘
ان احادیث ( جو صحیح مسلم کے باب الاعتکاف میں وارد ہیں )سے ثابت ہوتا ہے کہ اعتکاف صرف مسجد میں صحیح ہوگا ،کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ اور انکی ازواج مطہرات اور صحابہ کرام ؓ نے مسجد میں ہی اعتکاف کیا ہے؛ باوجود اس مشقت کے جو مسجد میں اپنے آپ کو پابند کرنے میں تھی تو اگر گھر میں اعتکاف جائز ہوتا ،تو یقیناً
وہ گھر میں کرتے ۔
خاص کر ازواج مطہرات تو جواز کی صورت میں اپنے گھروں میں اعتکاف کرتیں ،کیونکہ انکی ضروریات اپنے گھر سے وابستہ ہیں؛
اور یہ اعتکاف کا مسجد سے خاص ہونا،مسجد کے علاوہ کہیں اور نہ ہونا ۔۔جو ہم نے بیان کیا،یہ امام مالک ،امام شافعی اور امام احمد ،امام داود ظاہری۔۔اور جمہور کا قول و مذہب ہے
کہ اعتکاف کرنے والا مرد ہو یا عورت اعتکاف صرف مسجد میں شرعاً صحیح ہوگا ؛

اور اس مسئلہ میں سب سے مختلف مذہب ابو حنیفہ کا ہے جو فرماتے ہیں کہ:کہ عورت اپنے گھر ،نماز پڑھنے والی جگہ پر ہی اعتکاف کر سکتی ہے ،
صحیح البخاری ،کتاب الاعتکاف ، باب اعتکاف النساء :
2033 - حدثنا أبو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا يحيى، عن عمرة، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم، يعتكف في العشر الأواخر من رمضان، فكنت أضرب له خباء فيصلي الصبح ثم يدخله، فاستأذنت حفصة عائشة أن تضرب [ص:49] خباء، فأذنت لها، فضربت خباء، فلما رأته زينب ابنة جحش ضربت خباء آخر، فلما أصبح النبي صلى الله عليه وسلم رأى الأخبية، فقال: «ما هذا؟» فأخبر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «ألبر ترون بهن» فترك الاعتكاف ذلك الشهر، ثم اعتكف عشرا من شوال ۔
صحیح البخاری ،کتاب الاعتکاف ،باب الاخبیۃ :
2034 - حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وسلم، أراد أن يعتكف، فلما انصرف إلى المكان الذي أراد أن يعتكف إذا أخبية خباء عائشة، وخباء حفصة، وخباء زينب، فقال: «ألبر تقولون بهن» ثم انصرف، فلم يعتكف حتى اعتكف عشرا من شوال۔
یہ دونوں حدیثیں واضح دلیل ہیں کہ ازواج مطہرات مسجد میں اعتکاف کیا کرتی تھیں ۔ واللہ اعلم ۔
باب اعتكاف النساء:
باب: عورتوں کا اعتکاف کرنا‘‘
صحیح البخاری ، حدیث نمبر: 2033

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:‏‏‏‏"كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَكُنْتُ أَضْرِبُ لَهُ خِبَاءً فَيُصَلِّي الصُّبْحَ، ثُمَّ يَدْخُلُهُ، فَاسْتَأْذَنَتْ حَفْصَةُ، عَائِشَةَ أَنْ تَضْرِبَ خِبَاءً، فَأَذِنَتْ لَهَا، فَضَرَبَتْ خِبَاءً، فَلَمَّا رَأَتْهُ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ ضَرَبَتْ خِبَاءً آخَرَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْأَخْبِيَةَ، فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا هَذَا؟ فَأُخْبِرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ آلْبِرَّ تُرَوْنَ بِهِنَّ، فَتَرَكَ الِاعْتِكَافَ ذَلِكَ الشَّهْرَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ".
ام المونین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (مسجد میں) ایک خیمہ لگا دیتی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ کے اس میں چلے جاتے تھے۔ پھر حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا سے خیمہ کھڑا کرنے کی (اپنے اعتکاف کے لیے) اجازت چاہی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی اور انہوں نے ایک خیمہ کھڑا کر لیا جب زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی (اپنے لیے) ایک خیمہ کھڑا کر لیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی خیمے دیکھے تو فرمایا، یہ کیا ہے؟ آپ کو ان کی حقیقت کی خبر دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تم سمجھتے ہو یہ خیمے ثواب کی نیت سے کھڑے کئے گئے ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینہ (رمضان) کا اعتکاف چھوڑ دیا اور شوال کے عشرہ کا اعتکاف کیا۔

Narrated `Amra: Aisha said, "the Prophet used to practice I`tikaf in the last ten days of Ramadan and I used to pitch a tent for him, and after offering the morning prayer, he used to enter the tent." Hafsa asked the permission of `Aisha to pitch a tent for her and she allowed her and she pitched her tent. When Zainab bint Jahsh saw it, she pitched another tent. In the morning the Prophet noticed the tents. He said, 'What is this?" He was told of the whole situation. Then the Prophet said, "Do you think that they intended to do righteousness by doing this?" He therefore abandoned the I`tikaf in that month and practiced I`tikaf for ten days in the month of Shawwal
 
شمولیت
جولائی 20، 2016
پیغامات
116
ری ایکشن اسکور
28
پوائنٹ
56
حوالہ بمع عربی متن فراہم کردیں شکریہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَى المَكَانِ الَّذِي أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ إِذَا أَخْبِيَةٌ خِبَاءُ عَائِشَةَ، وَخِبَاءُ حَفْصَةَ، وَخِبَاءُ زَيْنَبَ، فَقَالَ: «أَلْبِرَّ تَقُولُونَ بِهِنَّ» ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَعْتَكِفْ حَتَّى اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ ”بخاری الاعتکاف:2034“
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْتَكِفُ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَكُنْتُ أَضْرِبُ لَهُ خِبَاءً فَيُصَلِّي الصُّبْحَ ثُمَّ يَدْخُلُهُ، فَاسْتَأْذَنَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَضْرِبَ خِبَاءً، فَأَذِنَتْ لَهَا، فَضَرَبَتْ خِبَاءً، فَلَمَّا رَأَتْهُ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ ضَرَبَتْ خِبَاءً آخَرَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الأَخْبِيَةَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَأُخْبِرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلْبِرَّ تُرَوْنَ بِهِنَّ» فَتَرَكَ الِاعْتِكَافَ ذَلِكَ الشَّهْرَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ
”بخاری الاعتکاف:2033“
 
شمولیت
جولائی 20، 2016
پیغامات
116
ری ایکشن اسکور
28
پوائنٹ
56
حوالہ بمع عربی متن فراہم کردیں شکریہ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ» صحیح مسلم کتاب الاعتکاف 2784
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
نبی ﷺ کی وفات کے بعد ازواج مطہرات کے اعتکاف کو آپ کیا کہیں گے ؟نبی ﷺ کے منع کرنے کے بعد انہوں نے مسجد میں اعتکاف کیوں کیا؟ کیا انہوں نے جان بوجھ کر نبیﷺکی مخالفت کی؟
حوالہ بمع عربی متن فراہم کردیں شکریہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ إِلَى المَكَانِ الَّذِي أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ إِذَا أَخْبِيَةٌ خِبَاءُ عَائِشَةَ، وَخِبَاءُ حَفْصَةَ، وَخِبَاءُ زَيْنَبَ، فَقَالَ: «أَلْبِرَّ تَقُولُونَ بِهِنَّ» ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَعْتَكِفْ حَتَّى اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ ”بخاری الاعتکاف:2034“
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ» صحیح مسلم کتاب الاعتکاف 2784
پہلی حدیث جو صحیح بخاری کی ہے یہ تو وہی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو یہ کہتے ہوئے ”آلْبِرَّ تُرَوْنَ بِهِنَّ“ خیمے اکھڑوا دیئے۔
اس حدیث میں ازواج النبی رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے اعتکاف کا ذکر ہے کسی صحابیہ کے بارے کوئی خبر نہیں ۔ دوسرے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی ختم کروا دیا۔
دوسری حدیث جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ازواج مطہرات کے اعتکاف کرنے کا ذکر ہے۔
اس میں بھی پہلی بات یہ کہ مسجد کی صراحت نہیں۔ دوسری یہ کہ اس میں بھی ازواج مطہرات کے اعتکاف کا ذکر ہے کسی صحابیہ کے اعتکاف کی بات نہیں۔
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
سوچنے کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ازواج مطہرات کے علاوہ کسی صحابیہ نے اعتکاف نہیں کیا اور نہ ہی خلفاء راشدین کے دور کی کوئی مثال ملتی ہے۔
 
شمولیت
جولائی 20، 2016
پیغامات
116
ری ایکشن اسکور
28
پوائنٹ
56
اس میں بھی پہلی بات یہ کہ مسجد کی صراحت نہیں۔ دوسری یہ کہ اس میں بھی ازواج مطہرات کے اعتکاف کا ذکر ہے کسی صحابیہ کے اعتکاف کی بات نہیں۔
خلفائے راشدین کے زمانے میں کسی صحابیہ نے گھر میں اعتکاف کیا ہو؟؟؟
 
شمولیت
جولائی 20، 2016
پیغامات
116
ری ایکشن اسکور
28
پوائنٹ
56
اس میں بھی پہلی بات یہ کہ مسجد کی صراحت نہیں۔ دوسری یہ کہ اس میں بھی ازواج مطہرات کے اعتکاف کا ذکر ہے کسی صحابیہ کے اعتکاف کی بات نہیں۔
ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے جب عورت کا اپنے گھرکی مسجدمیں اعتکاف کے بارہ میں سوال کیا گيا تووہ کہنے لگے :
گھرمیں عورت کا اعتکاف کرنا بدعت ہے ، اوراللہ تعالی کے ہاں مبغوض ترین اعمال بدعات ہیں ، اس لیے نماز باجماعت والی مسجد کےعلاوہ کہیں بھی اعتکاف صحیح نہیں ، اس لیے کہ گھرمیں نمازوالی جگہ نہ تو حقیقتا مسجد ہے اورنہ ہی حکما اس کا بدلنا اور اس میں جنبی شخص کا سونا بھی جائز ہے ، اوراگر یہ جائز ہوتا تو سب سے پہلے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن اس پر عمل پیرا ہوتیں ، اس کے جواز کے لیے اگرچہ وہ ایک بارہی عمل کرتیں ۔ا ھـ
دیکھیں الموسوعۃ الفقھیۃ ( 5 / 212 ) ۔
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے جب عورت کا اپنے گھرکی مسجدمیں اعتکاف کے بارہ میں سوال کیا گيا تووہ کہنے لگے :
گھرمیں عورت کا اعتکاف کرنا بدعت ہے ، اوراللہ تعالی کے ہاں مبغوض ترین اعمال بدعات ہیں ، اس لیے نماز باجماعت والی مسجد کےعلاوہ کہیں بھی اعتکاف صحیح نہیں ، اس لیے کہ گھرمیں نمازوالی جگہ نہ تو حقیقتا مسجد ہے اورنہ ہی حکما اس کا بدلنا اور اس میں جنبی شخص کا سونا بھی جائز ہے ، اوراگر یہ جائز ہوتا تو سب سے پہلے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن اس پر عمل پیرا ہوتیں ، اس کے جواز کے لیے اگرچہ وہ ایک بارہی عمل کرتیں ۔ا ھـ
دیکھیں الموسوعۃ الفقھیۃ ( 5 / 212 ) ۔
کسی صحابیہ کا مسجد میں اعتکاف ثابت نہ ہؤا۔
 
Top