- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہایت تیزی سے چکر کاٹ کر اسلامی لشکر کی پشت پر جا پہنچے۔ اور چند لمحوں میں عبد اللہؓ بن جبیر اور ان کے ساتھیوں کا صفایا کر کے مسلمانوں پر پیچھے سے ٹوٹ پڑے۔ ان کے شہسواروں نے ایک نعرہ بلند کیا جس سے شکست خوردہ مشرکین کو اس نئی تبدیلی کا علم ہو گیا۔ اور وہ بھی مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ ادھر قبیلہ بنو حارث کی ایک عورت عمرہ بنت علقمہ نے لپک کر زمین پر پڑا ہوا مشرکین کا جھنڈا اٹھا لیا، پھر کیا تھا، بکھرے ہوئے مشرکین اس کے گرد سمٹنے لگے اور ایک نے دوسرے کو آواز دی، جس کے نتیجے میں وہ مسلمانوں کے خلاف اکٹھے ہو گئے اور جم کر لڑائی شروع کر دی۔ اب مسلمان آگے اور پیچھے دونوں طرف سے گھیرے میں آ چکے تھے۔ گویا چکی کے دو پاٹوں کے بیج میں پڑ گئے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کا پُر خطر فیصلہ اور دلیرانہ اقدام:
اس وقت رسول اللہ ﷺ صرف نو صحابہؓ (صحیح مسلم (۲/۱۰۷) میں روایت ہے کہ آپ ﷺ احد کے روز صرف سات انصار اور دو قریشی صحابہؓ کے درمیان رہ گئے تھے) کی ذرا سی نفری کے ہمراہ پیچھے (اس کی دلیل اللہ یہ کا ارشاد ہے: یعنی رسول تمہارے پیچھے سے تمہیں بلا رہے تھے) تشریف فرما تھے اور مسلمانوں کی مار دھاڑ اور مشرکین کے کھدیڑے جانے کا منظر دیکھ رہے تھے کہ آپ ﷺ کو ایک دم اچانک خالد بن ولید کے شہسوار دکھائی پڑے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے سامنے دو ہی راستے تھے، یا تو آپ ﷺ اپنے نو رفقاء سمیت بھاگ کر کسی محفوظ جگہ چلے جاتے اور اپنے لشکر کو جو اب نرغے میں آیا ہی چاہتا تھا اس کی قسمت پر چھوڑ دیتے۔ یا اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے صحابہ کو بلاتے۔ اور ان کی معتد بہ تعداد اپنے پاس جمع کر کے ایک مضبوط محاذ تشکیل دیتے اور اس کے ذریعے مشرکین کا گھیرا توڑ کر اپنے لشکر کے لیے احد کی بلندی کی طرف جانے کا راستہ بناتے۔
آزمائش کے اس نازک ترین موقع پر رسول اللہ ﷺ کی عبقریت اور بے نظیر شجاعت نمایاں ہوئی کیونکہ آپ ﷺ نے جان بچا کر بھاگنے کے بجائے اپنی جان خطرہ میں ڈال کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جان بچانے کا فیصلہ کیا۔
چنانچہ آپ ﷺ نے خالد بن ولید کے شہسواروں کو دیکھتے ہی نہایت بلند آواز سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پکارا: اللہ کے بندو! ادھر ...! حالانکہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ یہ آواز مسلمانوں سے پہلے مشرکین تک پہنچ جائے گی۔ اور یہی ہوا بھی۔ چنانچہ یہ آواز سن کر مشرکین کو معلوم ہو گیا کہ آپ ﷺ یہیں موجود ہیں۔ لہٰذا ان کا ایک دستہ مسلمانوں سے پہلے آپ ﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ اور باقی شہسواروں نے تیزی کے ساتھ مسلمانوں کو گھیرنا شروع کر دیا۔ اب ہم دونوں کی تفصیلات الگ الگ ذکرکر رہے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا پُر خطر فیصلہ اور دلیرانہ اقدام:
اس وقت رسول اللہ ﷺ صرف نو صحابہؓ (صحیح مسلم (۲/۱۰۷) میں روایت ہے کہ آپ ﷺ احد کے روز صرف سات انصار اور دو قریشی صحابہؓ کے درمیان رہ گئے تھے) کی ذرا سی نفری کے ہمراہ پیچھے (اس کی دلیل اللہ یہ کا ارشاد ہے: یعنی رسول تمہارے پیچھے سے تمہیں بلا رہے تھے) تشریف فرما تھے اور مسلمانوں کی مار دھاڑ اور مشرکین کے کھدیڑے جانے کا منظر دیکھ رہے تھے کہ آپ ﷺ کو ایک دم اچانک خالد بن ولید کے شہسوار دکھائی پڑے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے سامنے دو ہی راستے تھے، یا تو آپ ﷺ اپنے نو رفقاء سمیت بھاگ کر کسی محفوظ جگہ چلے جاتے اور اپنے لشکر کو جو اب نرغے میں آیا ہی چاہتا تھا اس کی قسمت پر چھوڑ دیتے۔ یا اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے صحابہ کو بلاتے۔ اور ان کی معتد بہ تعداد اپنے پاس جمع کر کے ایک مضبوط محاذ تشکیل دیتے اور اس کے ذریعے مشرکین کا گھیرا توڑ کر اپنے لشکر کے لیے احد کی بلندی کی طرف جانے کا راستہ بناتے۔
آزمائش کے اس نازک ترین موقع پر رسول اللہ ﷺ کی عبقریت اور بے نظیر شجاعت نمایاں ہوئی کیونکہ آپ ﷺ نے جان بچا کر بھاگنے کے بجائے اپنی جان خطرہ میں ڈال کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جان بچانے کا فیصلہ کیا۔
چنانچہ آپ ﷺ نے خالد بن ولید کے شہسواروں کو دیکھتے ہی نہایت بلند آواز سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پکارا: اللہ کے بندو! ادھر ...! حالانکہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ یہ آواز مسلمانوں سے پہلے مشرکین تک پہنچ جائے گی۔ اور یہی ہوا بھی۔ چنانچہ یہ آواز سن کر مشرکین کو معلوم ہو گیا کہ آپ ﷺ یہیں موجود ہیں۔ لہٰذا ان کا ایک دستہ مسلمانوں سے پہلے آپ ﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ اور باقی شہسواروں نے تیزی کے ساتھ مسلمانوں کو گھیرنا شروع کر دیا۔ اب ہم دونوں کی تفصیلات الگ الگ ذکرکر رہے ہیں۔